شمع زندگیمیڈیا گیلری

358۔ نا شکری

مَنْ عَظَّمَ صِغَارَ الْمَصَائِبِ، ابْتَلَاهُ اللّٰهُ بِكِبَارِهَا۔ (نہج البلاغہ حکمت ۴۴۸)
جو شخص ذرا سی مصیبت کو بڑی اہمیت دیتا ہے اللہ اسے بڑی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔

دنیا میں کسی انسان کی زندگی مصائب و مشکلات سے خالی نہیں ہوتی۔ کسی کے لیے یہ مشکلات کم تو کسی کے لیے زیادہ ہوتی ہیں، کبھی یہ تکالیف چھوٹی اور کبھی بڑی ہوتی ہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی آدمی ساری زندگی دکھ نہ دیکھے۔ کبھی مرض تو کبھی قرض، کبھی پیاروں کی جدائی تو کبھی اپنوں کی زیادتیاں، کبھی قحط سالی کا سامنا تو کبھی زلزلے اور سیلاب۔ انسان اگر ان مصائب کے دیکھتے ہی شکوہ و شکایت اور نالہ ونفریاد کرنا شروع کر دے تو نہ مشکلیں حل ہوں گی اور نہ مصیبتوں سے چھٹکارا ہوگا۔

انسان کو چاہیے کہ خود کو حقائق سے ہم آہنگ کرے اور جو پریشانیاں لاحق ہوں انھیں زندگی کا حصہ سمجھ کر برداشت کرے۔ بڑا انسان وہی ہوتا ہے جو بڑی بڑی مشکلیں سہ جاتا ہے چہ جائیکہ چھوٹی چھوٹی پریشانیوں پر شکایت کرے۔ اگر کسی نے چھوٹی چھوٹی مشکلات پر پریشان ہونا شروع کر دیا اور چیخ پکار کرنے لگا تو پریشانی کئی بیماریوں کا سبب بن جاتی ہے۔ آج سائنس واضح کر چکی ہے کہ شوگر اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کا اہم سبب یہی پریشانی ہے۔ خود امیرالمومنینؑ نے فرمایا: کہ ’’غم آدھا بڑھاپا ہے‘‘ چھوٹی مشکلیں بڑی مشکلوں کا سبب بن جاتی ہیں۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button