
﷽
ملخص:
زیرِ نظر مقالہ "نہج البلاغہ میں علماء کا مقام و ذمہ داریاں” کے موضوع پر ایک فکری و تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے، جس میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے خطبات، مکتوبات اور اقوال کی روشنی میں علم، عالم اور علمائے حقہ کے تصور کو واضح کیا گیا ہے۔ نہج البلاغہ کے مطابق علم محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ ہدایت، بصیرت اور ذمہ داری کا نام ہے، اور عالم وہ ہے جو علم و عمل کا حسین امتزاج پیش کرے۔ مقالے میں واضح کیا گیا ہے کہ علماء انبیاء کے وارث، دین کے محافظ اور معاشرتی اصلاح کے علمبردار ہیں، اسی لیے ان کا مقام بلند ہونے کے ساتھ ساتھ ان پر عائد ذمہ داریاں بھی عام انسانوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
اس تحقیق میں حضرت علیؑ کے اقوال کی روشنی میں عالم ربانی، متعلمِ نجات اور عالم نما افراد کے مابین امتیاز کو نمایاں کیا گیا ہے۔ خاص طور پر ان علمائے سوء اور منافق عالموں کی نشان دہی کی گئی ہے جو علم کو ذاتی مفادات، خواہشاتِ نفس اور دنیاوی اغراض کے تابع کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرہ فکری و اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ مقالے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ علمائے حقہ کی بنیادی ذمہ داری علم کی ترویج، جاہلوں کی تعلیم، خوف و رجا میں توازن، عمل بالعلم، بدعت و شبہات سے اجتناب اور حق کو جرأت و حکمت کے ساتھ پیش کرنا ہے۔ یہ مطالعہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ نہج البلاغہ میں علماء کا تصور محض علمی نہیں بلکہ عملی، اخلاقی اور سماجی اصلاح سے جڑا ہوا ہے، جو ایک صالح اور متوازن معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
کلیدی الفاظ: نہج البلاغہ، علماء کا مقام، علمائے حقہ، علم و عمل، علمائے سوء، عالم ربانی، سماجی ذمہ داریاں، تعلیم و تربیت، خوف و رجا، فکری و اخلاقی اصلاح، ہدایت و گمراہی، اسلامی معاشرت
علماء کا مقام بہت بلند ہے کیوں کہ وہ انبیاء کے وارث، دین کے محافظ اور علم و حکمت کے سرچشمے ہیں، جو لوگوں کو ہدایت کی روشنی دکھاتے ہیں، ان کے دم سے علم باقی رہتا ہے، اور اللہ نے انھیں اپنی وحدانیت پر گواہ بنایا ہے، لہٰذا ان کا احترام واجب اور ان کی رہنمائی سے استفادہ ضروری ہے۔ علماء کی قدر و منزلت اور عزت و وقار، الہی اور قرانی حکم ہے (1) چونکہ قرآن میں ہے کہ جاننے والے اور نہ جانے والے برابر نہیں ہو سکتے یہ محض استفہامیہ لہجہ نہیں بلکہ سوال میں جواب ہے کہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک عالم اور جاہل برابر ہوں۔ ظاہر ہے جہاں علماء کو اللہ تعالی نے بلندی و رفعت عطا کی ہے وہی ان پر ذمہ داریوں کا بوجھ بھی ہے جس طرح وہ قدر و منزلت میں برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح حسنات، سیات میں وہ ایک دوسرے کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے۔ ہمارے پیش نظر موضوع "نہج البلاغہ میں علماء کا مقام اور ذمہ داریاں” ہیں اس مختصر مقالے میں علماء کے مقام اور ان کی ذمہ داریوں کو ممکن الحصول معلومات سے پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
علمائے حق کس عظمت و رتبے کے مالک ہو سکتے ہیں اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرتؑ نے اپنے کلام میں خود اپنے لیے اور نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے لفظ عالم و دانا کا استعمال کیا ہے اسی طرح اپنے خطبے میں فرمایا کہ عالم ربانی آپ سے مخاطب ہے دل کھول کر اس کی بات سنو۔ اس کائنات کے عظیم ترین انسان کے لیے لفظ عالم کا انتخاب اس اصطلاح اور لفظ کے معنی مزید بڑھا دیتا ہے حضرت کے خطبات میں سے اقتباس پیش خدمت ہیں:
فَاسْتَمِعُوْا مِنْ رَّبَّانِیِّكُمْ، وَ اَحْضِرُوْا قُلُوْبَكُمْ، وَ اسْتَیْقِظُوْا اِنْ هَتَفَ بِكُمْ
اپنے عالم ربانی سے سنو۔ اپنے دلوں کو حاضر کرو۔ اگر تمہیں پکارے تو جاگ اٹھو۔ (2)
حُمِّلَ كُلُّ امْرِئٍ مَّجْهُوْدَهٗ، وَ خُفِّفَ عَنِ الْجَهَلَةِ، رَبٌّ رَّحِیْمٌ، وَ دِیْنٌ قَوِیْمٌ، وَ اِمَامٌ عَلِیْمٌ.
تم میں سے ہر شخص اپنی وسعت بھر بوجھ اٹھائے۔ نہ جاننے والوں کا بوجھ بھی ہلکا رکھا گیا ہے۔ (کیوں کہ) اللہ رحم کرنے والا، دین سیدھا (کہ جس میں کوئی الجھاؤ نہیں) اور پیغمبرؐ عالم و دانا ہے۔ (3)
ان اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ عالم ہونا کوئی عام رتبہ یا فضیلت نہیں ہے بلکہ بہت بلند مقام و مرتبہ ہے جس طرح یہ عظمت اور فضیلت کا باعث ہے اسی طرح ایسی شخصیات کی ذمہ داریاں عام انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔
اس کائنات میں زندگی گزارنے والوں کے لیے بہت ساری نجات کی راہیں ہیں لیکن ہر میدان میں سرخرو ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان جاہل نہ ہو یا کم از کم جاننے کی جستجو میں رہے کیوں کہ علم سے بڑا منجی کوئی نہیں۔ جو لوگ نہ تو خود عالم ہوتے ہیں اور نہ علماء سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ بے سمت اور بے راہبر و رہنما ہوتے ہیں۔ایسے ہی لوگ منزل تو دور ایسی ایسی بے راہ گھاٹیوں میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں جہاں سے منزل تک پہنچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔حضرتؑ نے عالم اور متعلم دونوں کو نجات پانے والوں میں سے قرار دیا ہے۔ لہذا ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ نجات کے لیے ادھر ادھر سرگرداں رہنے کی بجائے علم کے دیگر فوائد کے ساتھ ساتھ اپنی نجات کو بھی یقینی بنائے۔
امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
"اَلنَّاسُ ثَلَاثَةٌ: فَعَالِمٌ رَّبَّانِیٌّ، وَ مُتَعَلِّمٌ عَلٰى سَبِیْلِ نَجَاةٍ، وَ هَمَجٌ رَّعَاعٌ، اَتْبَاعُ كُلِّ نَاعِقٍ، یَمِیْلُوْنَ مَعَ كُلِّ رِیْحٍ، لَمْ یَسْتَضِیْٓئُوْا بِنُوْرِ الْعِلْمِ، وَ لَمْ یَلْجَؤُوْا اِلٰى رُكْنٍ وَّثِیْقٍ.
دیکھو! تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں: ایک عالم ربانی، دوسرا متعلم کہ جو نجات کی راہ پر برقرار رہے اور تیسرا عوام الناس کا وہ پست گروہ ہے کہ جو ہر پکارنے والے کے پیچھے ہو لیتا ہے اور ہر ہوا کے رخ پر مڑ جاتا ہے، نہ انہوں نے نور علم سے کسب ضیاء کیا، نہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لی۔” (4)
علماء کی عظمت اس حوالے سے بھی ہے کہ وہ لوگوں کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہیں باطل اور ناحق قوتوں کے سرنگوں کرنے میں معاونت کرتے ہیں یہی وجہ ہے اگر حق پرست عالم کی نافرمانی اور پیروی نہ کی جائے تو اس کے نتائج سوائے ندامت و پشیمانی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتے کیوں کہ جب لوگ کم علمی یا ہٹ دھرمی کی وجہ سے کسی چیز کی مخالفت کرتے ہیں تو اس کے نتائج سامنے آتے ہی سوائے پچھتاوے کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ حضرت امیرالمومنینؑ نے اس طرف متوجہ کیا ہے:
فَاِنَّ مَعْصِیَةَ النَّاصِحِ الشَّفِیْقِ الْعَالِمِ الْمُجَرِّبِ تُوْرِثُ الْحَسْرَةَ
(تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ) مہربان، باخبر اور تجربہ کار ناصح کی مخالفت کا ثمرہ، حسرت و ندامت ہوتا ہے۔ (5)
حضرت ؑنے اپنے عاملین کے بہت سارے خطوط میں انھیں ریاستی فرائض سے آگاہ کیا اور ان کی ادائیگی کا سختی سے حکم دیا۔جہاں حضرت امیر المومنین علیہ الصلوۃ والسلام نے دیگر فرائض کی انجام دی کا حکم دیا وہیں ناخواندہ اور جاہل لوگوں کی تعلیم کے انتظام کو ضروری گردانا۔ دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کسی ریاست کی لوگوں کے لیے کتنی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور صاحبان علم کس عظمت اور رتبے کے مالک ہوا کرتے ہیں۔ تعلیم جیسے اہم فرض کے ساتھ ساتھ تمام وزراء کو ریاستی امور میں علماء کے ساتھ مشورے کا حکم دیا حضرتؑ کے اس اقتباس سے بڑا واضح ہے کہ علماء کی فکری اور منطقی نہج عام اور سطحی نہیں ہوا کرتی یعنی علماء اس قدر قابل عزت اور قابل احترام ہیں کہ حکومتی امور کی انجام دہی میں ان سے مشاورت حکومتی اور ریاستی فلاح کا باعث بنتی ہے:
وَ عَلِّمِ الْجَاهِلَ، وَ ذَاكِرِ الْعَالِمَ
جاہل کو تعلیم دو اور عالم سے تبادلہ خیالات کرو۔ (6)
اللہ تعالی نے علماء کو ایک عظیم مقام و مرتبے سے نوازا ہے۔علم ایک ایسی نورانی نعمت ہے جو عام انسان کو پست درجے سے بلندیوں تک پہنچاتی ہے لیکن بلندیوں پر پہنچنے پر اگر کوئی شخص اپنی علمیت کے اظہار کو غیر واضح اور مبہم انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں الجھاؤ پیدا کرتا ہے تاکہ رعب و دبدبہ بٹھا سکے تو اس کا یہ رویہ اس سے پستیوں میں جا گراتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
سَلْ تَفَقُّهًا وَّ لَا تَسْئَلْ تَعَنُّتًا، فَاِنَّ الْجَاهِلَ الْمُتَعَلِّمَ شَبِیْهٌۢ بِالْعَالِمِ، وَ اِنَّ الْعَالِمَ الْمُتَعَسِّفَ شَبِیْهٌۢ بِالْجَاهِلِ الْمُتَعَنِّتِ.
سمجھنے کیلئے پوچھو، الجھنے کیلئے نہ پوچھو، کیوں کہ وہ جاہل جو سیکھنا چاہتا ہے مثل عالم کے ہے اور وہ عالم جو الجھنا چاہتا ہے وہ مثل جاہل کے ہے۔ (7)
اسی طرح علمائے حقہ کے خصائص میں حضرت علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ہر شخص بردبار، دانشمند عالم نہیں ہو سکتا بلکہ جس کے شب و روز خدا کی یاد میں گزرتے ہوں تو وہ دن میں ایک برگزیدہ عالم کے روپ میں نمودار ہوتا ہے یعنی عالم وہی ہے جو ہر وقت اللہ کریم کی اطاعت میں گزار ے۔ فرمان عالی شان:
وَ اَمَّا النَّهَارَ فَحُلَمَآءُ عُلَمَآءُ دن ہوتا ہے تو وہ (بردبار) دانشمند عالم،۔۔۔ نظر آتے ہیں۔ (8)
علماء کی ذمہ داریوں میں سے بنیادی ترین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے علوم کی ترویج اور فروغ کے لیے کوشاں رہیں اگر وہ اپنے علم کو بروئے کار لائیں گے تو اس سے سیکھنے والوں کے لیے آسانی ہوگی اور ان کے لیے کسی قسم کی عار نہیں ہوگی کیوں کہ اگر عالم ہی سکھانے میں کوتاہی برتے یا علم وہ کام میں لانے کی طرف توجہ نہ دے تو ایسے عالم سے لوگ استفادہ کرنے کی بجائے دوری اختیار کرتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ علماء تمام علوم کو کام میں لاتے ہوئے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور اپنے علمیت میں اضافہ کرے۔ اگر متضاد روش اختیار کرے گا تو کوتاہی کا مرتکب ٹھہرے گا:
یَا جَابِرُ! قِوَامُ الدِّیْنِ وَ الدُّنْیَا بِاَرْبَعَةٍ: عَالِمٍ مُّسْتَعْمِلٍ عِلْمَهٗ، وَ جَاهِلٍ لَّا یَسْتَنْكِفُ اَنْ یَّتَعَلَّمَ، وَ جَوَادٍ لَّا یَبْخَلُ بِمَعْرُوْفِهٖ، وَ فَقِیْرٍ لَّا یَبِیْعُ اٰخِرَتَهٗ بِدُنْیَاهُ؛ فَاِذَا ضَیَّعَ الْعَالِمُ عِلْمَهُ اسْتَنْكَفَ الْجَاهِلُ اَنْ یَّتَعَلَّمَ، وَ اِذَا بَخِلَ الْغَنِیُّ بِمَعْرُوْفِهٖ بَاعَ الْفَقِیْرُ اٰخِرَتَهٗ بِدُنْیَاهُ.
اے جابر! چار قسم کے آدمیوں سے دین و دنیا کا قیام ہے: ’’عالم‘‘ جو اپنے علم کو کام میں لاتا ہو، ’’جاہل‘‘ جو علم کے حاصل کرنے میں عار نہ کرتا ہو، ’’سخی‘‘ جو داد و دہش میں بخل نہ کرتا ہو اور ’’فقیر‘‘ جو آخرت کو دنیا کے عوض نہ بیچتا ہو۔ تو جب عالم اپنے علم کو برباد کرے گا تو جاہل اس کے سیکھنے میں عار سمجھے گا، اور جب دولت مند نیکی و احسان میں بخل کرے گا تو فقیر اپنی آخرت دنیا کے بدلے بیچ ڈالے گا۔ (9)
جہاں حضرتؑ نے اپنے کلام میں علماء کے مقام و مرتبے کا بیان فرمایا ہے وہیں اس ستم ظریفی کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ ہمارے معاشرے میں حقیقی علماء کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ اہل ہوتے ہیں۔ فرمایا:
جَاهِلُكُمْ مُزْدَادٌ، وَ عَالِمُكُمْ مُسَوِّفٌ.
تمہارے جاہل دولت زیادہ پا جاتے ہیں اور عالم آئندہ کے توقعات میں مبتلا رکھے جاتے ہیں۔ (10)
اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں تمام روحوں سے اپنی ربوبیت کا عہد لیا تھا۔ (11) حضرتؑ کے فرمان کے مطابق علماء سے بھی اور سیکھنے والوں سے بھی یہ عہد لیا گیا تھا کہ علماء سکھانے میں دریغ نہیں کریں گے تو سیکھنے والے علم کے حصول کا وعدہ وفا کریں گے۔ بنیادی طور پر یہ ایک ایسا الہی وعدہ ہے جس پر عمل پیرا ہونا ہر عالم کے لیے ضروری ہے چونکہ قران میں ایفائے عہد کی بڑی تاکید وارد ہوئی ہےلیکن جو خدا سے وعدہ کر کے پورا نہ کرے اس کی صورتحال کیا ہوگی۔ ضروری ہے کہ علماء سیکھنے والوں پر ذرہ نوازی فرماتے ہوئے اپنے الہی وعدے کو پورا کریں تاکہ سیکھنے والے عہد کو پورا کرسکیں۔ اگر وہ اس وعدے کو پورا نہیں کرتے تو خود تو گنہگار ہیں ساتھ میں سیکھنے والوں کے گناہ انھی علماء کے ذمہ ہوں گے۔
علم و جہالت کے باہمی رشتے اور سماجی ذمہ داری کا ایک نہایت بنیادی اصول یہ ہے کہ عالم دوسرے کو سکھانے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کرے۔ اسلام کی فکری روایت میں علم محض ذاتی فضیلت نہیں بلکہ ایک امانت اور فرضِ اجتماعی ہے، جس کی ادائیگی اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک صاحبِ علم اسے دوسروں تک منتقل نہ کرے۔ زیرِ نظر قول اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ معاشرے میں جہالت کا خاتمہ صرف سیکھنے والوں کی کوشش سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے اہلِ علم پر لازم ہے کہ وہ تعلیم و تربیت کے فریضے میں کوتاہی نہ کریں۔ یہی تصور ایک صالح، باشعور اور متوازن معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جہاں علم کا چراغ ایک فرد سے دوسرے فرد تک منتقل ہو کر اجتماعی روشنی میں بدل جاتا ہے:
"مَاۤ اَخَذَ اللهُ عَلٰۤى اَهْلِ الْجَهْلِ اَنْ یَّتَعَلَّمُوْا حَتّٰۤى اَخَذَ عَلٰۤى اَهْلِ الْعِلْمِ اَنْ یُّعَلِّمُوْا.
خداوند عالم نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کریں۔” (12)
علماء عمومی طور پر خوف و رجا کا موضوع شد و مد سے بیان کرتے ہیں حالاں کہ دینی رہنمائی کا یہ نازک اور متوازن اصول جو خوف اور امید کے درمیان اعتدال کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک حقیقی عالمِ دین کا منصب محض احکام بیان کرنا نہیں بلکہ انسان کی روحانی کیفیت کی درست تشکیل بھی ہے۔ اگر عالم رحمتِ الٰہی کا تصور اس انداز میں پیش کرے کہ انسان بے عملی اور غفلت کا شکار ہو جائے، یا عذابِ الٰہی کا ذکر اس شدت سے کرے کہ مایوسی اور نااُمیدی دلوں میں گھر کر لے، تو یہ دونوں رویّے ہدایت کے بجائے گمراہی کا سبب بن جاتے ہیں۔ زیرِ نظر قول اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ کامل فقیہ وہی ہے جو بندوں کے دلوں میں امید کی شمع روشن رکھے، مگر ساتھ ہی اللہ کی گرفت سے غافل بھی نہ ہونے دے، تاکہ انسان خوف و رجا کے توازن کے ساتھ ذمہ دارانہ اور بامقصد زندگی اختیار کرے۔
"اَلْفَقِیْهُ كُلُّ الْفَقِیْهِ مَنْ لَّمْ یُقَنِّطِ النَّاسَ مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ، وَ لَمْ یُؤْیِسْهُمْ مِنْ رَّوْحِ اللهِ، وَ لَمْ یُؤْمِنْهُمْ مِنْ مَّكْرِ اللهِ.
پورا عالم و دانا وہ ہے جو لوگوں کو رحمت خدا سے مایوس اور اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے اور نہ انھیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے۔” (13)
علمِ دین کی بنیادی شرط اُس پر عمل پیرا ہونا ہے جس کے بغیر علم محض الفاظ کا انبار بن کر رہ جاتا ہے۔ اسلام کی اخلاقی و فکری روایت میں عالم کی پہچان صرف اس کے علم، حافظے یا گفتار سے نہیں بلکہ اس کے عمل، کردار اور طرزِ زندگی سے ہوتی ہے۔ اگر علم عمل سے خالی ہو تو نہ صرف اس کی تاثیر ختم ہو جاتی ہے بلکہ ایسے عالم اور ایک جاہل یا نام نہاد عالم کے درمیان فرق بھی دھندلا جاتا ہے۔ زیرِ نظر قول اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ علم کا اصل مقصد اصلاحِ نفس اور اصلاحِ معاشرہ ہے، اور یہ مقصد اسی وقت پورا ہوتا ہے جب عالم خود اپنے علم کا عملی نمونہ بنے، ورنہ بے عمل علم نہ ہدایت دیتا ہے اور نہ دلوں میں اثر پیدا کرتا ہے:
فَاِنَّ الْعَالِمَ الْعَامِلَ بِغَیْرِ عِلْمِهٖ كَالْجَاهِلِ الْحَآئِرِ الَّذِیْ لَا یَسْتَفِیْقُ مِنْ جَهْلِهٖ، بَلِ الْحُجَّةُ عَلَیْهِ اَعْظَمُ، وَ الْحَسْرَةُ لَهٗۤ اَلْزَمُ، وَ هُوَ عِنْدَ اللهِ اَلْوَمُ.
وہ عالم جو اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتا اس سرگرداں جاہل کے مانند ہے جو جہالت کی سر مستیوں سے ہوش میں نہیں آتا، بلکہ اس پر (اللہ کی) حجت زیادہ ہے اور حسرت و افسوس اس کیلئے لازم و ضروری ہے اور اللہ کے نزدیک وہ زیادہ قابل ملامت ہے۔ (14)
عالم با عمل کے بارے میں مزید فرمایا:
وَ لٰكِنِّیْ اَخَافُ عَلَیْكُمْ كُلَّ مُنَافِقِ الْجَنَانِ، عَالِمِ اللِّسَانِ، یَقُوْلُ مَا تَعْرِفُوْنَ، وَ یَفْعَلُ مَا تُنْكِرُوْنَ.
بلکہ مجھے تمہارے لئے ہر اس شخص سے اندیشہ ہے کہ جو دل سے منافق اور زبان سے عالم ہے، کہتا وہ ہے جسے تم اچھا سمجھتے ہو اور کرتا وہ ہے جسے تم برا جانتے ہو۔ (15)
حضرتؑ نے بے عمل اور باتونی لوگوں کے بارے میں ایک مقام پر فرمایا جس کی شرح کلام امیرالمومنینؑ میں کچھ یوں درج ہوئی ہے کہ وَقَدْ أَرْعَدُوا وَأَبْرَقُوا وَمَعَ هَذَيْنِ الْأَمْرَيْنِ الْفَشَلُ وَلَسْنَا نُرْ عِدُ حَتَّى نُوقِعَ وَلَا نُسِيلُ حَتَّى نوقع ولا نسیل حتی تمطر (یہ لوگ بہت گرجے اور بہت چمکے لیکن آخرمیں ناکام ہی رہے، جبکہ ہم اس وقت تک گرجتے نہیں جب تک دشمن پر ٹوٹ نہ پڑیں اور اس وقت تک لفظوں کی روانی نہیں دکھلاتے جب تک کہ برس نہ پڑیں۔)حقیقت یہ ہے کہ دونوں کی توضیح تھوڑے سے غور و فکر سے واضح ہو جاتی ہے، جس چیز کی ممانعت کی گئی ہے وہ صرف باتیں بنانا اور عمل نہ کرنا ہے، جس طرح ایسی بجلی جو چمکتی تو بہت ہے لیکن گرجتی نہیں اور ایسا بادل جس میں گرج تو بہت ہو لیکن کبھی نہ برسے گفتگوہی سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان تمام باتوں پر عمل کا کوئی امکان نہیں ،زمین و آسمان کی قلا بیں ملا نا شیاطین اور ان کے پیروکاروں کا محبوب مشغلہ ہے لیکن ان کے مقابلے میں ایسی جرات مندانہ اور حق پر مبنی دھمکیاں، جو باغیوں اور سرکشوں کو اہل حق کی طرف سے دی جائیں، جن پر وہ عمل بھی کرنے کے لیے تیار ہوں اور یہ سب حقیقت پسندانہ ہو تو یہ نہ صرف مذموم نہیں ہیں، بلکہ دشمنوں سے جنگ کا ایک حصہ ہیں۔ البتہ یہ کہ واضح رہے کہ جنگ و نبرد کے دوران رجز خوانی اور دشمنوں کو دھمکانے میں پھر تیلے انسان کی توانائیاں صرف ہوتی ہیں جس کی وجہ سے دشمن پر حملہ کرنے کی طاقت اور توانائی میں کمی واقع ہوتی ہے، اس بنا پر ان کاموں سے منع کیا گیا ہے۔ (16)
علماء کے لبادے میں بے عمل اور ریاکاروں کے بارے میں حضرت علیؑ نے فرمایا:
الْعَظَآئِمِ، وَ یُهَوِّنُ كَبِیْرَ الْجَرَآئِمِ، یَقُوْلُ: اَقِفُ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ، وَ فِیْهَا وَقَعَ، وَ یَقُوْلُ: اَعْتَزِلُ الْبِدَعَ، وَ بَیْنَهَا اضْطَجَعَ، فَالصُّوْرَةُ صُوْرَةُ اِنْسَانٍ، وَ الْقَلْبُ قَلْبُ حَیَوَانٍ، لَا یَعْرِفُ بَابَ الْهُدٰی فَیَتَّبِعَهٗ، وَ لَا بَابَ الْعَمٰی فیَصُدَّ عَنْهُ، وَ ذٰلِكَ مَیِّتُ الْاَحْیَآءَ!.
(اس کے علاوہ) ایک دوسرا شخص ہوتا ہے جس نے (زبردستی) اپنا نام عالم رکھ لیا ہے، حالانکہ وہ عالم نہیں۔ اس نے جاہلوں اور گمراہوں سے جہالتوں اور گمراہیوں کو بٹور لیا ہے اور لوگوں کیلئے مکرو فریب کے پھندے اور غلط سلط باتوں کے جال بچھا رکھے ہیں۔ قرآن کو اپنی رائے پر اور حق کو اپنی خواہشوں پر ڈھالتا ہے۔ بڑے سے بڑے جرموں کا خوف لوگوں کے دلوں سے نکال دیتا ہے اور کبیرہ گناہوں کی اہمیت کو کم کرتا ہے۔ کہتا تو یہ ہے کہ: میں شبہات میں توقف کرتا ہوں حالانکہ انہی میں پڑا ہوا ہے۔ اس کا قول یہ ہے کہ: میں بدعتوں سے الگ تھلگ رہتا ہوں، حالانکہ انہی میں اس کا اٹھنا بیٹھنا ہے۔ صورت تو اس کی انسانوں کی سی ہے اور دل حیوانوں کا سا۔ نہ اسے ہدایت کا دروازہ معلوم ہے کہ وہاں تک آ سکے اور نہ گمراہی کا دروازہ پہچانتا ہے کہ اس سے اپنا رخ موڑ سکے۔ یہ تو زندوں میں (چلتی پھرتی ہوئی) لاش ہے۔ (17)
زیرِ نظر اقتباس میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے ان عالم نما افراد کی نہایت گہری اور دردناک تصویر کھینچی ہے جو علم کا لبادہ اوڑھ کر دراصل جہالت، فریب اور خواہشِ نفس کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ خود ہدایت پر ہوتے ہیں اور نہ دوسروں کو راہِ راست دکھا سکتے ہیں، بلکہ بڑے گناہوں کو معمولی بنا کر اور دین کو ذاتی خواہشات کے تابع کر کے معاشرے کو فکری و اخلاقی زوال کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ اس پس منظر میں علماے حقہ کی ذمہ داریاں اور بھی زیادہ اہم اور واضح ہو جاتی ہیں۔
علماء کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ مخالفین اور مخاطبین کو سوچنے پر مجبور کریں کہ حقائق کیا ہیں؟ اگر کسی کی غلطی کو دیکھ کر فورا ہی اسے ٹوک دیا جائے تو شاید کبھی اصلاح قبول نہ کرے لیکن اگر اس انداز میں تربیت کی جائے کہ وہ سوچنے پر مجبور ہو جائے تو یقینا وہ راہ راست پر آجائے گا۔ حضرتؑ پر جب مخالفین کو مہلت دینے کے بارے میں سوال کیا گیا تو اپ نے اس کی وضاحت کچھ یوں فرمائی:
"فَاِنَّمَا فَعَلْتُ ذٰلِكَ لِیَتَبَیَّنَ الْجَاهِلُ وَ یَتَثَبَّتَ الْعَالِمُ، وَ لَعَلَّ اللهَ اَنْ یُّصْلِحَ فِیْ هٰذِهِ الْهُدْنَةِ اَمْرَ هٰذِهِ الْاُمَّةِ، وَ لَا تُؤْخَذَ بِاَكْظَامِهَا فَتَعْجَلَ عَنْ تَبَیُّنِ الْحَقِّ وَ تَنْقَادَ لِاَوَّلِ الْغَیِّ.
تو یہ میں نے اس لئے کیا کہ (اس عرصہ میں) نہ جاننے والا تحقیق کر لے اور جاننے والا اپنے مسلک پر جم جائے اور شاید کہ اللہ تعالیٰ اس صلح کی وجہ سے اس اُمت کے حالات درست کر دے اور وہ (بے خبری میں) گلا گھونٹ کر تیار نہ کی جائے کہ حق کے واضح ہونے سے پہلے جلدی میں کوئی قدم اٹھا بیٹھے اور پہلی ہی گمراہی کے پیچھے لگ جائے۔” (18)
اسی طرح علماء کی دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ شیطان مردود سے خود کو محفوظ رکھیں اور اس کی چال کا شکار نہ بنیں بصورت دیگر ان کی ساری علمی حیثیت بیکار جائے گی اس طرف حضرتؑ نے بھرپور توجہ دلائی:
وَ مَكِیْدَتُهُ الْكُبْرٰی، الَّتِیْ تُسَاوِرُ قُلُوْبَ الرِّجَالِ مُسَاوَرَةَ السُّمُوْمِ الْقَاتِلَةِ، فَمَا تُكْدِیْۤ اَبَدًا، وَ لَا تُشْوِیْۤ اَحَدًا، لَا عَالِمًا لِّعِلْمِهٖ، وَ لَا مُقِلًّا فِیْ طِمْرِهٖ.
(سرکشی، ظلم او رغرور و تکبر) شیطان کا بہت بڑا جال اور بہت بڑا ہتھکنڈا ہے کہ جو لوگوں کے دلوں میں زہر قاتل کی طرح اتر جاتا ہے۔ نہ اس کا اثر کبھی رائیگاں جاتا ہے نہ اس کا وار کسی سے خطا کرتا ہے، نہ عالم سے اس کے علم کے باوجود اور نہ پھٹے پرانے چیتھڑوں میں کسی فقیر بے نوا سے (19)
ایک طبقے اور قبیلے کے علماء کے خصائص بد اور قبائح کو حضرتؑ نے اپنے کلام میں موضوع بنایا ہے اور فرمایا کہ اس قبیلے کا علماء منافق اور چاپلوس ہیں۔لہذا ضروری ہے کہ عالم نہ تو منافقت کے لیے لبادے میں ہو اور نہ چاپلوس اور خوشامدی ہو۔ اگرچہ یہ طور طریقہ ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے کہنے اور کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے کہا تو کچھ جاتا ہے لیکن اس پہ عمل نہیں کیا جاتا ۔اسی طرح داد و تحسین اور نیاز کے حصول کے لیے بانیان اور منتظمین کی چاپلوسی کرنا ایک عام روش ہے ۔حضرتؑ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے ضروری ہے کہ ان بداعمالیوں سے پرہیز کیا جائے:
فَتَاهُمْ عَارِمٌ، وَ شَآئِبُهُمْ اٰثِمٌ، وَ عَالِمُهُمْ مُّنَافِقٌ، وَ قَارِئُهُمْ مُّمَاذِقٌ، لَا یُعَظِّمُ صَغِیْرُهُمْ كَبِیْرَهُمْ، وَ لَا یَعُوْلُ غَنِیُّهُمْ فَقِیْرَهُمْ.
ان کے جوان بدخو، ان کے بوڑھے گنہگار، ان کے عالم منافق اور ان کے واعظ چاپلوس ہیں۔ (20)
حضرت امیرؑ نے اعلانیہ سرکشوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ عمومی طور پر مال کو جمع کرنے ،کسی جماعت کی قیادت کو سنبھالنے یا پھر منبر پر بلند ہونے کے لیے اپنے نفسوں کو وقف کر دیتے ہیں اور دین کو تباہ کر دیتے ہیں یعنی اعلانیہ سرکشوں میں سے ایک طبقہ علماء کا ہے جو اپنی تقاریر اور خطابات سے شہرت اور دنیا کا خواہش مند ہوتا ہے۔لہذا ضروری ہے کہ علماء شہرت اور دنیا پرستی سے دور رہتے ہوئے دین کی تبلیغ کا فریضہ انجام دیں نہ کہ اس کی بربادی میں اپنا حصہ ڈالیں:
وَ مِنْهُمُ الْمُصْلِتُ لِسَیْفِهٖ، وَ الْمُعْلِنُ بِشَرِّهٖ، وَ الْمُجْلِبُ بِخَیْلِهٖ وَ رَجْلِهٖ، قَدْ اَشْرَطَ نَفْسَهٗ وَ اَوْبَقَ دِیْنَهٗ لِحُطَامٍ یَنْتَهِزُهٗ اَوْ مِقْنَبٍ یَّقُوْدُهٗ، اَوْ مِنْۢبَرٍیَفْرَعُهٗ وَ لَبِئْسَ الْمَتْجَرُ اَنْ تَرَى الدُّنْیَا لِنَفْسِكَ ثَمَنًا، وَ مِمَّا لَكَ عِنْدَ اللهِ عِوَضًا!
اور کچھ لوگ وہ ہیں جو تلواریں سونتے ہوئے علانیہ شر پھیلا رہے ہیں اور انہوں نے اپنے سوار اور پیادے جمع کر رکھے ہیں۔ صرف کچھ مال بٹورنے، یا کسی دستہ کی قیادت کرنے، یا منبر پر بلند ہونے کیلئے انہوں نے اپنے نفسوں کو وقف کر دیا ہے اور دین کو تباہ و برباد کر ڈالا ہے۔ کتنا ہی بُرا سودا ہے کہ تم دنیا کو اپنے نفس کی قیمت اور اللہ کے یہاں کی نعمتوں کا بدل قرار دے لو۔ (21)
علماء کی اہم ذمہ داریوں میں سےیہ بھی ہے کہ وہ اپنی خواہشات نفسانی کی پیروی نہ کریں ورنہ وہ ایسے احکامات ایجاد کر بیٹھتے ہیں جس میں قران کی مخالفت ہوتی ہے اور تمام دین مخالف لوگ یکجا ہو جاتے ہیں اور دین کو بھرپور نقصان پہنچاتے ہیں۔مزید برآں حضرت امیر علیہ السلام نے فرمایا کہ علماء کو چاہیے کہ حق میں باطل کی آمیزش نہ کریں کیوں کہ اگر حق اور باطل کی آمیزش نہ ہوتی تو کبھی بھی لوگ ان کی باتوں کا اعتبار نہ کرتے حق کو جب بھی نقصان پہنچایا جاتا ہے اسی صورت میں پہنچتا ہے کہ حق اور باطل کی آمیزش کر کے لوگوں کو حق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جب حق اور باطل کی آمیزش کی جاتی ہے تو شیطان کا مدد گارمعاون بن جاتا ہے لیکن الہی نمائندے اور علمائے حق اس طرح کی آمیزش سے بچے رہتے ہیں اور شیطانی حملے ان پر اثر انداز نہیں ہوتے:
اِنَّمَا بَدْءُ وُقُوْعِ الْفِتَنِ اَهْوَآءٌ تُتَّبَعُ، وَ اَحْكَامٌ تُبْتَدَعُ، یُخَالَفُ فِیْهَا كِتَابُ اللهِ، وَ یَتَوَلّٰی عَلَیْهَا رِجَالٌ رِّجَالًا، عَلٰی غَیْرِ دِیْنِ اللهِ، فَلَوْ اَنَّ الْبَاطِلَ خَلَصَ مِنْ مِّزَاجِ الْحَقِّ لَمْ یَخْفَ عَلَی الْمُرْتَادِیْنَ، وَ لَوْ اَنَّ الْحَقَّ خَلَصَ مِنْ لَّبْسِ الْبَاطِلِ لَانْقَطَعَتْ عَنْهُ اَلْسُنُ الْمُعَانِدِیْنَ، وَ لٰكِنْ یُّؤْخَذُ مِنْ هٰذَا ضِغْثٌ، وَ مِنْ هٰذَا ضِغْثٌ، فَیُمْزَجَانِ! فَهُنَالِكَ یَسْتَوْلِی الشَّیْطٰنُ عَلٰۤی اَوْلِیَآئِهٖ، وَ یَنْجُوْ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَ اللهِ الْحُسْنٰی.
فتنوں کے وقوع کا آغاز وہ نفسانی خواہشیں ہوتی ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے اور وہ نئے ایجاد کردہ احکام کہ جن میں قرآن کی مخالفت کی جاتی ہے اور جنہیں فروغ دینے کیلئے کچھ لوگ دین الٰہی کے خلاف باہم ایک دوسرے کے مدد گار ہو جاتے ہیں۔ تو اگر باطل حق کی آمیزش سے خالی ہوتا تو وہ ڈھونڈنے والوں سے پوشیدہ نہ رہتا اور اگر حق باطل کے شائبہ سے پاک و صاف سامنے آتا تو عناد رکھنے والی زبانیں بھی بند ہو جاتیں، لیکن ہوتا یہ ہے کہ کچھ ادھر سے لیا جاتا ہے اور کچھ ادھر سے اور دونوں کو آپس میں خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ اس موقعہ پر شیطان اپنے دوستوں پر چھا جاتا ہے اور صرف وہی لوگ بچے رہتے ہیں جن کیلئے توفیق الٰہی اور عنایت خداوندی پہلے سے موجود ہو۔ (22)
علمائے حقہ پر پہلی ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے کہ وہ علم اور عمل کا حسین امتزاج پیش کریں، تاکہ ان کی زندگی خود دین کی عملی تفسیر بن جائے۔ دوسری بڑی ذمہ داری حق کو خواہشِ نفس پر مقدم رکھنا ہے، نہ کہ قرآن و سنت کو ذاتی آرا کے تابع کرنا۔ اسی طرح انھیں کبیرہ گناہوں کی سنگینی واضح کرنے کے ساتھ ساتھ خوف و رجا کا متوازن تصور پیش کرنا چاہیے، تاکہ نہ بے خوفی پیدا ہو اور نہ مایوسی۔ علماے حقہ کا فرض ہے کہ وہ بدعت اور شبہات میں خود کو بچا کر عوام کی رہنمائی کریں، اور واضح طور پر ہدایت و ضلالت کے راستوں کی نشاندہی کریں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ دین کو ذریعۂ مفاد بنانے کے بجائے اصلاحِ فرد و معاشرہ کو اپنا مقصد بنائیں، کیوں کہ یہی حقیقی عالم کی پہچان اور اس کے علم کی زندگی ہے:
وَ رَجُلٌ قَمَشَ جَهْلًا مُّوْضِعٌ فِیْ جُهَّالِ الْاُمَّةِ، عَادٍ فِیْۤ اَغْبَاشِ الْفِتْنَةِ، عَمٍۭ بِمَا فِیْ عَقْدِ الْهُدْنَةِ، قَدْ سَمَّاهُ اَشْبَاهُ النَّاسِ عَالِمًا وَّ لَیْسَ بِهٖ، بَكَّرَ فَاسْتَكْثَرَ مِنْ جَمْعٍ، مَا قَلَّ مِنْهُ خَیْرٌ مِّمَّا كَثُرَ، حَتّٰۤى اِذَا ارْتَوٰى مِنْ مَّآءٍ اٰجِنٍ، وَ اكْتَنَزَ مِن غَیْرِ طَآئِلٍ. جَلَسَ بَیْنَ النَّاسِ قَاضِیًا ضَامِنًا لِّتَخْلِیْصِ مَا الْتَبَسَ عَلٰى غیْرِهٖ، فَاِنْ نَزَلَتْ بِهٖۤ اِحْدَى الْمُبْهَمَاتِ هَیَّاَ لَهَا حَشْوًا رَّثًّا مِّنْ رَّاْیِهٖ، ثُمَّ قَطَعَ بِهٖ، فَهُوَ مِنْ لَّبْسِ الشُّبُهَاتِ فِیْ مِثْلِ نَسْجِ الْعَنْكَبُوْتِ، لَا یَدْرِیْۤ اَصَابَ اَمْ اَخْطَاَ، فَاِنْ اَصَابَ خَافَ اَنْ یَّكُوْنَ قَدْ اَخْطَاَ، وَ اِنْ اَخْطَاَ رَجَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ قَدْ اَصَابَ. جَاهِلٌ خَبَّاطُ جَهَالَاتٍ، عَاشٍ رَّكَّابُ عَشَوَاتٍ، لَمْ یَعَضَّ عَلَى الْعِلْمِ بِضِرْسٍ قَاطِعٍ، یُذْرِی الرِّوَایَاتِ اِذْرَآءَ الرِّیْحِ الْهَشِیْمَ. لَا مَلِیٌّ وَاللهِ! بِاِصْدَارِ مَا وَرَدَ عَلَیْهِ، وَ لَا هُوَ اَهْلٌ لِّمَا فُوِّضَ اِلَیْهِ، لَا یَحْسَبُ الْعِلْمَ فِیْ شیْءٍ مِّمَّاۤ اَنْكَرَهٗ، وَ لَا یَرٰى اَنَّ مِنْ وَّرَآءِ مَا بَلَغَ مَذْهَبًا لِّغَیْرهٖ، وَ اِنْ اَظْلَمَ عَلَیْهِ اَمْرٌ اكْتَتَمَ بِهٖ لِمَا یَعْلَمُ مِنْ جَهْلِ نَفْسِهٖ، تَصْرُخُ مِنْ جَوْرِ قَضَآئِهِ الدِّمَآءُ، وَ تَعِجُّ مِنْهُ الْمَوَارِیْثُ.
اور دوسرا شخص وہ ہے جس نے جہالت کی باتوں کو (اِدھر اُدھر سے) بٹور لیا ہے۔ وہ اُمت کے جاہل افراد میں دوڑ دھوپ کیا کرتا ہے اور فتنوں کی تاریکیوں میں غافل و مدہوش پڑا رہتا ہے اور امن و آشتی کے فائدوں سے آنکھ بند کر لیتا ہے۔ چند انسانی شکل و صورت سے ملتے جلتے ہوئے لوگوں نے اسے عالم کا لقب دے رکھا ہے، حالانکہ وہ عالم نہیں۔ وہ ایسی (بے سود) باتوں کے سمیٹنے کیلئے منہ اندھیرے نکل پڑتا ہے جن کا نہ ہونا ہونے سے بہتر ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس گندے پانی سے سیراب ہو لیتا ہے اور لا یعنی باتوں کو جمع کر لیتا ہے تو لوگوں میں قاضی بن کر بیٹھ جاتا ہے اور دوسروں پر مشتبہ رہنے والے مسائل کے حل کرنے کا ذمہ لے لیتا ہے۔ اگر کوئی الجھا ہوا مسئلہ اس کے سامنے پیش ہوتا ہے تو اپنی رائے سے اس کیلئے بھرتی کی فرسودہ دلیلیں مہیا کر لیتا ہے اور پھر اس پر یقین بھی کر لیتا ہے۔ اس طرح وہ شبہات کے الجھاؤ میں پھنسا ہوا ہے جس طرح مکڑی خود اپنے ہی جالے کے اندر۔ وہ خود یہ نہیں جانتا کہ اس نے صحیح حکم دیا ہے یا غلط۔ اگر صحیح بات بھی کہی ہو تو اسے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں غلط نہ ہو اور غلط جواب ہو تو اسے یہ توقع رہتی ہے کہ شاید یہی صحیح ہو۔ وہ جہالتوں میں بھٹکنے والا جاہل اور اپنی نظر کے دھندلا پن کے ساتھ تاریکیوں میں بھٹکنے والی سواریوں پر سوار ہے۔ نہ اس نے حقیقت علم کو پرکھا نہ اس کی تہ تک پہنچا۔ وہ روایات کو اس طرح درہم و برہم کرتا ہے جس طرح ہوا سوکھے ہوئے تنکوں کو۔ خدا کی قسم! وہ ان مسائل کے حل کرنے کا اہل نہیں جو اس سے پوچھے جاتے ہیں۔ اور نہ اس منصب کے قابل ہے جو اسے سپرد کیا گیا ہے۔ جس چیز کو وہ نہیں جانتا اس چیز کو وہ کوئی قابلِ اعتنا علم ہی نہیں قرار دیتا اور جہاں تک وہ پہنچ سکتا ہے اس کے آگے یہ سمجھتا ہی نہیں کہ کوئی دوسرا پہنچ سکتا ہے اور جو بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی اسے پی جاتا ہے، کیوں کہ وہ اپنی جہالت کو خود جانتا ہے۔ (ناحق بہائے ہوئے) خون اس کے ناروا فیصلوں کی وجہ سے چیخ رہے ہیں اور غیر مستحق افراد کو پہنچی ہوئی میراثیں چلا رہی ہیں۔ (23)
مرحوم علامہ خوئی "اس کلام کی شرح میں فرماتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا شخص جو زبانی طور پر اور غیر معتبر روایات اور قیاس کے ذریعے کچھ ایسی بے بنیاد باتیں جمع کر لیتا ہے کہ جن کا حجم تو بہت زیادہ ہوتا ہے مگر اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔ مُوضِع فِي جُهَّالِ الْأُمَّةِ وہ نادان لوگوں کے درمیان بڑی تیزی سے ادھر ادھر بھاگتا پھرتا ہے ۔” (تا کہ اپنے جیسے ہم خیال ساتھی بنا کر ظاہری بات ہے کہ ایسے افراد کے دوست احباب سوائے ان کے اپنے جیسے لوگوں کے اور کون ہو سکتے ہیں اور ان سب کی اچھے لوگوں کے درمیان کوئی جگہ نہیں۔ ان کا مقصد جاہلوں کو اپنی طرف راغب کرنا اور ان کے درمیان نفوذ پانا ہے کیوں کہ وہ اچھوں کی محفلوں میں شریک ہونے سے مایوس ہو چکے ہیں۔
عَادٍ عَافِي أَعْبَاشِ الْفِتْنَةِ (وہ فتنوں کے اندھیروں میں آگے بڑھتا چلا جارہا ہے۔)
ایسے افراد ہمیشہ ہی اس چکر میں لگے ہوتے ہیں کہ فتنوں کے ماحول میں اپنے مفادات حاصل کریں، ہمیشہ روشنی سے دور بھاگتے ہیں اور تاریکیوں اور ظلمتوں کی پناہ لیتے ہیں جو کہ نادان لوگوں کو فریب دینے کے لیے بہترین جگہ ہوا کرتی ہے، کیوں کہ اگر فتنے کی تار یکی تھم جائے اور علم و آگاہی کی روشنی پھیل جائے تو ان کا واقعی چہرہ کھل کر سامنے آجاتا ہے اور وہ لوگ خاص و عام کی نظرمیں رسوا ہو جائیں گے۔
عَمْ بِمَا فِي عَقْدِ الْهُدْنَةِ.
لوگوں کے درمیان صلح کے مفادات کو دیکھنے سے نا بینا ہے۔
یہ بات تو واضح ہے کہ "آرام سکون سے مراد یہاں پر مسلمانوں اور غیر مسلم لوگوں کے درمیان صلح مراد نہیں ہے، کیوں کہ یہ ساری گفتگو ایسے شخص کے بارے میں ہو رہی ہے کہ جو لوگوں کے درمیان قاضی بنا ہوا ہے، اس بنا پر اس لفظ سے مراد لوگوں کے گروہوں میں صلح و مصالحت کرانا اور تنازعے حل کرانا ہے۔ اصولاً ایسے افراد ہمیشہ اس بات کے خواہاں رہتے ہیں کہ اختلاف کی آگ بھڑکتی رہے تا کہ وہ اس طرح اپنی پلید نیتوں اور نا پاک عزائم تک پہنچ سکیں۔ (24)
قَدْ سَتَمَاهُ أَشْبَاهُ النَّاسِ عَالِماً وَلَيْسَ بِهِ
انسان نما لوگ اسے عالم اور دانشور کہتے ہیں، جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔“
یہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ ان عالم نما حضرات کی خدمت میں ہر وقت کچھ انسان نما حضرات موجود رہتے ہیں جن کے خود ساختہ اور جھوٹے چہرے ہوتے ہیں۔ یہ بات ایک امر بدیہی ہے کہ اُن کی انسانوں سے شباہت بالکل ایسی ہے کہ جیسے اُن کے پیشواؤں کی شباہت علماء اور دانشوروں سے ہے اور یہ شباہت محض ایک ظاہری شباہت ہے اور ایسی تعبیر صرف ایسے ہی مقامات پر استعمال ہوا کرتی ہے، جہاں صرف ظاہری شباہت مراد ہو، جیسے- يَا أَشْيَاءَ الرِّجَالِ ولا رجال جو کہ نہج البلاغہ کے خطبہ ۲۸ میں بیان ہوئی ہے۔
یہ پانچ صفات بیان کرنے کے بعد مولا علی یا کچھ ایسے برے کاموں کا ذکر فرماتے ہیں جو کہ اس گروہ سے سرزد ہوتے ہیں جو کہ کھلم کھلا ان کی ان برائیوں کا لازمہ ہیں، فرماتے ہیں:
بكر فَاسْتَكْثَرَ مِنْ جَمْعِ مَا قَلَّ مِنْهُ خَيْرٌ مِنَا كَثُرَ
صبح جب اٹھتا ہے تو سوائے اُن چیزوں کو جمع کرنے کے اس کا اور کوئی کام نہیں ہوتا، جن کی تھوڑی مقدار ان کے زیادہ مقدار سے بہتر ہے۔”
ممکن ہے کہ یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ مادیات اور دنیاوی مال و متاع جب حد سے زیادہ جمع ہو جائے تو انسان غفلت، تکبر وغیرہ جیسی چیزوں کا شکار ہو جاتا ہے یا مادیات میں زیادہ مصروف ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ معنویات سے دور رہ جاتا ہے اور ہمیشہ اُس کی کم مقدار اس کے زیادہ ہونے سے بہتر ہوتی ہے اور کم کھانا پینا اور کم آرام کرنا اور سوتا ہمیشہ سلامتی اور سعادت سے نزدیک تر کرتا ہے یا ہو سکتا ہے کہ فضول باتیں کرنے یا بیہودہ اور بے فائدہ کاموں اور مصروفیات میں پڑنا مراد ہو جس کے نتیجے میں آدمی اصل کاموں کو بھول جایا کرتا ہے۔ پھر فرماتے ہیں:
حَتَّى إِذَا ارْتَوَى مِنْ مَاءٍ أَجِنٍ وَالْتَثَرَ مِن غَيْرِ طَائِلٍ جَلَسَ بَيْنَ النَّاسِ قَاضِياضَامِنًا لِتَخْلِيْصِ مَا الْتَبَسَ عَلَى غَيْرِهِ
یہی حالت برقرار رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ گندگیوں اور غلاظتوں کا پانی پی کر سیراب ہوتا ہے اور ڈھیر سارے بیہودہ مسائل کو اپنے دل و دماغ میں جمع کر لیتا ہے، پھر لوگوں کے درمیان قضاوت کی مسند پر بیٹھ جاتا ہے اور تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ یہ نالائق اور بے نوا انسان اس بات کی ضمانت بھی دیتا ہے کہ ان حقائق کو روشن کرے گا جو دوسروں پر مشتبہ ہیں۔ (25)
اس مقالے کے مطالعے سے یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ نہج البلاغہ میں علماء کا مقام غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، مگر یہ مقام محض فضیلت نہیں بلکہ بھاری ذمہ داریوں کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے نزدیک عالم کی پہچان اس کے علم سے زیادہ اس کے عمل، تقویٰ، اخلاص اور سماجی کردار سے ہوتی ہے۔ علم اگر عمل سے خالی ہو تو وہ ہدایت کے بجائے گمراہی کا سبب بن جاتا ہے، اور ایسا عالم معاشرے کے لیے فائدہ کے بجائے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
نہج البلاغہ علمائے حقہ کو یہ ذمہ داری سونپتا ہے کہ وہ علم کو امانت سمجھ کر آگے منتقل کریں، جاہلوں کی تعلیم میں کوتاہی نہ کریں، خوف و رجا کے درمیان اعتدال قائم رکھیں، اور دین کو ذاتی خواہشات یا دنیاوی مفادات کے تابع نہ بنائیں۔ اس کے برعکس، عالم نما، ریاکار اور بے عمل افراد کو حضرت علیؑ نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، کیوں کہ ایسے لوگ معاشرتی بگاڑ، فکری انتشار اور اخلاقی زوال کا سبب بنتے ہیں۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ نہج البلاغہ میں علماء کا تصور ایک زندہ، متحرک اور ذمہ دار کردار کا حامل ہے، جو فرد کی اصلاح سے لے کر معاشرے کی تعمیر تک اپنا اثر رکھتا ہے۔ اگر علماے حقہ اپنے علم کو عمل، اخلاص اور حکمت کے ساتھ بروئے کار لائیں تو معاشرہ فکری گمراہی، اخلاقی انحطاط اور سماجی انتشار سے محفوظ رہ سکتا ہے، اور یہی نہج البلاغہ کی تعلیمات کا اصل مقصد ہے۔
حوالہ جات
[1] القرآن،سورۃ زمر، آیت 9۔[2] نہج البلاغہ، خطبہ 106، ص 336۔
[3] نہج البلاغہ، خطبہ 147، ص 418۔
[4] نہج البلاغہ، حکمت 147، ص 868۔
[5] نہج البلاغہ، خطبہ 35، ص 203۔
[6] نہج البلاغہ، مکتوب 67، ص 810۔
[7] نہج البلاغہ، حکمت 320، ص 929۔
[8] نہج البلاغہ، خطبہ 191، ص 568۔
[9] نہج البلاغہ، حکمت 372، ص 944،
[10] نہج البلاغہ، حکمت 283، ص 91۔
[11] قرآن مجید، سورۃ الاعراف، آیت 172۔
[12] نہج البلاغہ، حکمت 478، ص 972۔
[13] نہج البلاغہ، حکمت 90، ص 850۔
[14] نہج البلاغہ، خطبہ 108، ص 344۔
[15] نہج البلاغہ، مکتوب 27، ص 701۔
[16] آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، کلام امیرالمومنینؑ (شرح نہج البلاغہ)، جلد1، کراچی: باب العلم، دارالتحقیق، 2016ء ص 374۔
[17] نہج البلاغہ، خطبہ 85، ص277۔
[18] نہج البلاغہ، خطبہ 123، ص 376۔
[19] نہج البلاغہ، خطبہ 190، ص 547۔
[20] نہج البلاغہ، خطبہ 230، ص 646۔
[21] نہج البلاغہ، خطبہ 32 صفحہ 197۔
[22] نہج البلاغہ، خطبہ 50 صفحہ 220 تا 221۔
[23] نہج البلاغہ، خطبہ 17، ص 158۔
[24] کلام امیرالمومنینؑ (شرح نہج البلاغہ)، ص 474 تا 492۔
[25] کلام امیرالمومنینؑ (شرح نہج البلاغہ)، ص 477 تا 481۔
کتابیات
[1] آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی، کلام امیرالمومنینؑ (شرح نہج البلاغہ)، جلد 1-9،کراچی: بْاب العلم، دارالتحقیق، 2016ء۔[2] ذیشان حیدر جوادیؒ، علامہ، انوارالقرآن، قم: انصاریان پبلشرز، 2000ء۔
[3] ذیشان حیدر جوادیؒ، علامہ، نقوشِ عصت، کراچی: رحمت اللہ بک ایجنسی، 1996ء۔
[4] فصلنامہ پژوہش نہج البلاغہ، آن لائن۔ https://www.nahjmagz.ir/
[5] شیخ محسن علی نجفیؒ، الکوثر فی تفسیرالقرآن ،لاہور: مصباح القرآن، 2013ء۔
[6] مفتی جعفر حسینؒ، علامہ (مترجم)، نہج البلاغہ،برطانیہ: ورلڈ فیڈریشن، 2022ء۔
[7] مفتی جعفر حسینؒ، علامہ ،سیرت امیرالمومنینؑ، لاہور: امامیہ پبلیکیشنز، 1992ء۔




