
خلاصہ
یہ تحقیقی مقالہ نہج البلاغہ کی روشنی میں اولاد کی تربیت کے بنیادی اصول پر مشتمل ہے۔ نہج البلاغہ، امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا قیمتی مجموعہ ہے جو قرآن مجید کے بعد اسلامی تعلیمات کا سب سے بڑا ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ اولاد کی صحیح تربیت نہ صرف والدین کے لیے محبت کا تقاضا ہے بلکہ معاشرتی ذمہ داری بھی ہے، کیونکہ بے تربیت اولاد پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس مقالے میں تربیت اولاد کے چار بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ پہلا اصل والدین کی خود سازی ہے، کیونکہ بچے والدین کے عمل کو دیکھ کر سیکھتے ہیں، نہ کہ صرف ان کے قول کو سن کر۔ دوسرا اصل اولاد کے ساتھ محبت کا اظہار ہے، جو بچوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے، والدین اور اولاد کے درمیان مضبوط رشتہ قائم کرتا ہے اور نصیحت کو مؤثر بناتا ہے۔ تیسرا اصل بہترین معاشرتی فضا فراہم کرنا ہے، کیونکہ بچوں کے دل خالی زمین کی مانند ہوتے ہیں اور ماحول کے اثرات کو فوری قبول کر لیتے ہیں۔ چوتھا اصل معاشی استح ہے، کیونکہ فقر دین و عقل دونوں کے لیے نقصان دہ ہے اور انسان کو ذہنی و اخلاقی مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔
ان اصول پر عمل پیرا ہو کر والدین اپنی اولاد کی دنیا و آخرت کو سنوار سکتے ہیں اور ایک پرسکون اور باعزت معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مقدمہ
نہج البلاغہ، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے خطبات، خطوط اور حکمت آمیز اقوال کا وہ قیمتی مجموعہ ہے جو شیعہ نقطہ نظر سے قرآن مجید کے بعد اسلامی تعلیمات کا سب سے بڑا ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ اس کتاب میں زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے رہنما اصول موجود ہیں امیر المؤمنین عل نے نہ صرف اپنے زمانے میں عملی طور پر بہترین نمونہ پیش کیا بلکہ اپنے بیانات میں ایسے اصول بیان فرمائے جو آج کے جدید دور میں بھی اسی طرح کارآمد اور روشن ہیں۔ اور دوسری طرف اولاد نہ صرف ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہے بلکہ معاشرے کی تعمیر و ترقی کا ذریعہ بھی ہے۔ اس لیے ایک صحیح اور مستحکم معاشرے کی تشکیل کے لیے اولاد کی صحیح تربیت نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ ان باتوں کی اساس پر اس تحقیقی مقالے میں تربیت اولاد کے وہ سنہری اصول بیان کریں گے جو عظیم کتاب نہج البلاغہ میں امیر المؤمنین علیہ السلام نے بیان فرمائے ہیں۔ یہاں پر اصول سے مراد وہ بنیادی قانون ہیں جن کو اپنائے بغیر والدین اپنے بچوں کے اچھے مربی نہیں بن سکتے۔ ان اصول کو توصیفی تحلیلی روش سے قارئین کی خدمت میں آسان کر کہ بیان کریں گے۔ اس تحقیق کا ہدف فوق العادہ کتاب نہج البلاغہ کے ان پہلوؤں کو واضح کرنا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر بچوں کی تربیت سے متعلق ہیں تاکہ انہیں عملی جامہ پہنایا جائے۔
کلیدی الفاظ: تربیت، نہج البلاغہ، اولاد، معاشرہ، محبت، والدین
اولاد کی نیک تربیت کرنے کی اہمیت
خداوند متعال کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک اولاد ہے، جو نہ صرف ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہے بلکہ معاشرے کی تعمیر و ترقی کا ذریعہ بھی ہے۔ قرآن مجید میں اولاد کو ”قُرَّۃُ اَعْیُنٍ“ یعنی آنکھوں کی ٹھنڈک (سورہ فرقان آیہ 74) قرار دیا گیا ہے، جو اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ نیک اولاد والدین کے لیے دنیا میں باعثِ سکون اور آخرت میں باعثِ نجات ہے۔
اولاد کی تربیت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے چند بنیادی پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہے:
اول: اولاد اللہ کی امانت ہے، والدین پر فرض ہے کہ وہ اس امانت کی حفاظت کریں اور اسے صحیح طریقے سے پروان چڑھائیں ورنہ خدا کے حضور جوابدہ ہوں گے۔
دوم: خداوند متعال فرماتا ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَہۡلِیۡکُمۡ نَارًا وَّ قُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الۡحِجَارَۃُ ”اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے“۔ (سورہ تحریم آیہ 6) والدین کی حقیقی محبت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو دنیا کے ساتھ آخرت کے عذاب سے بھی بچائیں۔ اور یے اولاد کی صحیح تربیت کی صورت میں ہی ممکن ہے۔
سوم: نیک اولاد نہ صرف والدین کے لیے باعثِ نجات ہے بلکہ معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بھی ہے۔ بے تربیت نوجوان معاشرے میں چوری، منشیات اور بداخلاقی جیسی برائیوں کا سبب بنتے ہیں، اس لیے پرامن معاشرے کے لیے اولاد کی صحیح تربیت ناگزیر ہے۔
چنانچہ اولاد کی تربیت کی اہمیت مسلمہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ والدین اس ذمہ داری کو کیسے نبھائیں؟ نہج البلاغہ میں امیر المؤمنین علیہ السلام نے تربیت اولاد کے حوالے سے چند ایسے اصول بیان فرمائے ہیں جو والدین کے لیے مشعل راہ ہیں:
پہلا اصل: والدین کی خود سازی
مَنْ نَّصَبَ نَفْسَهٗ لِلنَّاسِ اِمَامًا، فَلْیَبْدَاْ بِتَعْلِیْمِ نَفْسِهٖ قَبْلَ۔۔۔
تربیت اولاد کی پہلی بنیاد یے ہے کہ والدین اگر چاہتے ہیں کہ اپنی اولاد کی نیک تربیت کریں تو انہیں سب سے پہلے اپنا کردار اچھا بنانا ہوگا بدکردار والدین کبھی بھی بچوں کے کردار کو اچھا نہیں بنا سکتے کیوں کہ بچے جو سیکھتے ہیں وہ کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ وہ سیکھتے ہیں جو کسی کو کرتے دیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ غالبا نمازی کی اولاد نمازی، روزہ دار کی اولاد روزہ دار اور جواری کی اولاد بھی جواری ہوتی۔
اس لیے امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ نَّصَبَ نَفْسَهٗ لِلنَّاسِ اِمَامًا، فَلْیَبْدَاْ بِتَعْلِیْمِ نَفْسِهٖ قَبْلَ تَعْلِیْمِ غَیْرِهٖ، وَ لْیَكُنْ تَاْدِیْبُهٗ بِسِیْرَتِهٖ قَبْلَ تَاْدِیْبِهٖ بِلِسَانِهٖ، ”جو لوگوں کا پیشوا بنتا ہے تو اسے دوسروں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنے کو تعلیم دینا چاہیے، اور زبان سے درس اخلاق دینے سے پہلے اپنی سیرت و کردار سے تعلیم دینا چاہیے“۔
(نہج البلاغہ حکمت 73)
گرچہ ظاہرا یہ قول حاکم کے لیے ہے لیکن ہر مربی (تربیت کرنے والے) کو بھی شامل ہے کیوں کہ والدین بچوں کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں اور بچے ان کو دیکھ کر عمل کرتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: نفسیات میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اسی شخص کی بات قبول کرتے ہیں جو خود اپنی بات پر یقین رکھتا ہو۔ اور معروف تعبیر کے مطابق: جب تک بات دل سے نہ نکلے، دل پر اثر نہیں کرتی۔ اور اس یقین کی روشن علامت یہ ہے کہ انسان خود اپنی کہی ہوئی بات پر عمل بھی کرے۔
(پیام امیر المؤمنین علیہ السلام ج 12 ص 438)
خداوند متعال نے مؤمنین کو توبیخ کرکے فرمایا: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ”اے ایمان والو! تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو؟“ (سورہ صف آیہ 2) واقعا کتنا قبیح ہے کہ انسان اس صفت بد کی دوسروں پر تنقید کرے جو خود میں ہو اور اس عمل خوب کی ترغیب کرے جو خود میں نہ ہو!
امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: إِنْ سَمَتْ هِمَّتُكَ لِإِصْلَاحِ النَّاسِ فَابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَإِنَّ تَعَاطِيَكَ صَلَاحَ غَيْرِكَ وَ أَنْتَ فَاسِدٌ أَكْبَرُ الْعَيْب ”اگر تمہاری ہمت لوگوں کی اصلاح کے لیے بلند ہو تو سب سے پہلے اپنی اصلاح سے آغاز کرو، کیونکہ جب تم خود فاسد ہو اور دوسروں کی اصلاح میں لگ جاؤ تو یہ سب سے بڑا عیب ہے۔“
(غرر الحکم، ص 259)
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: كُونُوا دُعَاةً لِلنَّاسِ بِغَيْرِ أَلْسِنَتِكُمْ لِيَرَوْا مِنْكُمُ الْوَرَعَ وَ الِاجْتِهَادَ وَ الصَّلَاةَ وَ الْخَيْرَ فَإِنَّ ذَلِكَ دَاعِيَةٌ. ”لوگوں کو اپنی زبانوں کے بغیر (یعنی عمل سے) دعوت دینے والے بنو، تاکہ وہ تم میں پرہیزگاری، کوشش و محنت، نماز اور نیکی کو دیکھیں؛ کیونکہ یہی چیز (حقیقی) دعوت دینے والی ہے۔“
(کافی، ج 2 ص 78)
اس لیے بچوں کی نیک تربیت کرنے کے لیے والدین پر ضروری ہے کہ سب سے پہلے اپنے کردار کو اچھا بنائیں، اپنے اندر چھپی برائیوں کو نکال کر دور پھینکیں اور خود نیک عمل کر کہ بچوں سے وہی نیک عمل کروائیں پھر ہوگی اثر انداز تربیت۔
دوسرا اصل: اولاد کے ساتھ محبت اور شفقت کا عملی اظہار
وَ وَجَدْتُّكَ بَعْضِیْ، بَلْ وَجَدْتُّكَ كُلِّیْ،۔۔۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ اولاد سے والدین کی محبت ایک فطری چیز ہے خدا نے انسان کی خلقت میں ہی اولاد کی محبت کو رکھا ہے لیکن تربیت کے لیے اس محبت کا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ اولاد کے سامنے اس محبت کا اظہار کرنا بھی ضروری ہے۔ پیغمبر اسلام ص فرماتے ہیں: إذا أحَبَّ أحَدُكُم أخاهُ فَليُعلِمهُ ؛ فَإِنَّهُ أصلَحُ لِذاتِ البَينِ ”جو بھی تم میں سے اپنے بھائی سے محبت کرتا ہے ضروری ہے کہ اس کو بتائے کیوں کہ یے (اظہار محبت) افراد کو آپس میں ملاتی ہے“۔ (النوادر ص12)
کیوں کہ تربیت کے لیے دوطرفہ تعلق ہونا ضروری ہے اور تعلق محبت کے بغیر ممکن نہیں ہے اس لیے بچوں کی شخصیت سازی میں اظہار محبت کا بنیادی کردار ہے امیر المؤمنین علیہ السلام نہج البلاغہ میں اپنے پیارے بیٹے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے ساتھ اوج محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وَ وَجَدْتُّكَ بَعْضِیْ، بَلْ وَجَدْتُّكَ كُلِّیْ، حَتّٰى كَاَنَّ شَیْئًا لَّوْ اَصَابَكَ اَصَابَنِیْ، وَ كَاَنَّ الْمَوْتَ لَوْ اَتَاكَ اَتَانِیْ، فَعَنَانِیْ مِنْ اَمْرِكَ مَا یَعْنِیْنِیْ مِنْ اَمْرِ نَفْسِیْ ”میں نے دیکھا کہ تم میرا ہی ایک ٹکڑا ہو، بلکہ جو میں ہوں وہی تم ہو، یہاں تک کہ اگر تم پر کوئی آفت آئے تو گویا مجھ پر آئی ہے اور تمہیں موت آئے تو گویا مجھے آئی ہے، اس سے مجھے تمہارا اتنا ہی خیال ہوا جتنا اپنا ہو سکتا ہے“۔
(نہج البلاغہ مکتوب 31)
اللہ رب العزت نے اس محبت کا اجر بھی بہت بڑا رکھا ہے پیغمبر اسلام ص فرماتے ہیں: مَنْ قَبَّلَ وَلَدَهُ كَتَبَ اَللَّهُ لَهُ حَسَنَةً وَ مَنْ فَرَّحَهُ فَرَّحَهُ اَللَّهُ يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ ”جو شخص اپنی اولاد کو بوسہ دے گا، خدا اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا، اور جو شخص اسے خوشحال کرے گا، اللہ قیامت کے دن اسے خوشحال کرے گا“۔
(ابن ابی جمہور، عوالی اللئالی، ج3، ص283)
محبت کا اظہار کیسے کریں؟
محبت کے اظہار کے لیے فقط الفاظ سے بتانا نہیں ہوتا بلکہ ایسا رویہ اپنانا پڑتا ہے کہ سامنے والا سمجھے کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ چیزیں جن سے اظہار محبت کیا جا سکتا ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں:
الف۔ گشادہ روئی اور خوش اخلاقی: خوش اخلاقی، نرم مزاجی، آہستہ بات کرنا، مسکرانا محبتی معاشرے میں بڑا کردار رکھتا ہے۔ امیر مؤمنان ع نہج البلاغہ میں فرماتے: وَ الْبَشَاشَةُ حِبَالَةُ الْمَوَدَّةِ ”اور کشادہ روئی محبت و دوستی کا پھندا ہے“۔ (نہج البلاغه حکمت 5) یعنی خوش روئی سامنے والے کو محبت پر مجبور کر دیتی۔
غرر الحکم میں مولا امیر المؤمنین ع کا ارشاد گرامی ہے: منْ لانَتْ كَلِمَتُهُ وَجَبَتْ مُحبَّتُهُ ”جس کا کلام نرم ہو اس کی محبت واجب ہو جاتی ہے“۔
(غرر الحكم، ص587)
ب۔ ہدیہ دینا: پیغمبر اسلام ص فرماتے ہیں: الهَدِيَّةُ تُورِثُ المَوَدَّةَ ، وتَجدُرُ الاُخُوَّةَ ، وتُذهِبُ الضَّغينَةَ ، تَهادُوا تَحابُّوا. ”ہدیہ محبت پیدا کرتا ہے، بھائی چارے کو مضبوط کرتا ہے اور کینے کو ختم کرتا ہے۔ ایک دوسرے کو ہدیہ دو تاکہ آپس میں محبت کرو“۔
(بحار الانوار، ج77، ص168)
ج۔ تواضع اور انکساری: امیر المؤمنین ع فرماتے ہیں: ثَمَرَةُ التّواضُعِ المحَبَّةُ ”تواضع کا ثمرہ محبت ہے“۔ (غرر الحكم ص:327)
یہ تینوں طریقے محبت کے اظہار کے ایسے عملی ذرائع ہیں جو نہ صرف والدین اور اولاد کے درمیان محبت کو فروغ دیتے ہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے میں الفت و یگانگت کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔
تربیت اولاد میں اظہار محبت کی تاثیر
محبت کا اظہار تربیت اولاد کا بنیادی ستون ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: فَبِمَا رَحۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنۡتَ لَہُمۡ ۚ وَ لَوۡ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِکَ ”(اے رسول) یہ مہر الٰہی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپ تندخو اور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے”۔ (سورہ آل عمران آیہ 159)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نرم مزاجی اور محبت ہی وہ عناصر ہیں جو دلوں کو اکٹھا رکھتے ہیں۔ والدین اور اولاد کے درمیان تعلق بھی اسی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ اظہار محبت کے چند اہم تربیتی اثرات درج ذیل ہیں:
اول: محبت والدین اور اولاد کے درمیان مضبوط تعلق قائم کرتی ہے۔ جب بچے والدین کی محبت کو محسوس کرتے ہیں تو وہ ان سے قریب ہوتے ہیں اور ان کی موجودگی میں سکون پاتے ہیں۔
دوم: محبت خوف کی جگہ اعتماد پیدا کرتی ہے۔ محبت سے سیراب بچوں میں خود اعتمادی ہوتی ہے اور وہ اپنی شخصیت کو نکھارنے کے قابل ہوتے ہیں۔
سوم: محبت نصیحت کو دل نشین بناتی ہے۔ بچہ جب محسوس کرتا ہے کہ والدین سچی محبت کرتے ہیں تو ان کی نصیحتیں اس کے دل میں اتر جاتی ہیں اور وہ انہیں خیرخواہی سمجھ کر قبول کرتا ہے۔
چہارم: محبت بچوں میں والدین کا حقیقی احترام پیدا کرتی ہے۔ یہ احترام خوف کی بجائے قدر دانی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
پنجم: محبت بچوں کو احساس کمتری سے بچاتی ہے۔ جو بچے محبت کے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں، وہ خود کو قابل قدر سمجھتے ہیں اور مثبت خود شناسی رکھتے ہیں۔
ششم: محبت بچوں کو ضدی اور باغی ہونے سے بچاتی ہے۔ محبت بھرا ماحول بچوں کو نرم اور قابل تربیت بناتا ہے، جبکہ ڈانٹ ڈپٹ اور محبت کی کمی بچوں کو منحرف کر دیتی ہے۔
تیسرا اصل: اولاد کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی
اِنَّمَا قَلْبُ الْحَدَثِ كَالْاَرْضِ الْخَالِیَةِ، مَاۤ اُلْقِیَ۔۔۔
نوجوانوں کے دل فطرتا پاک اور آمادہ ہیں اب والدین کے اوپر ڈپینڈ کرتاہے کہ وہ اس کے دل میں کیا ڈالتے ہیں، کونسا ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اور معاشرتی فضا مطلب گھر کا ماحول، ہمسایہ ماحول، اسکول کا ماحول، دوست وغیرہ جہاں جہاں پر بچوں کا آنا جانا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے۔ امیر المؤمنین صلوات اللہ علیہ فرماتے ہیں: اِنَّمَا قَلْبُ الْحَدَثِ كَالْاَرْضِ الْخَالِیَةِ، مَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا مِنْ شَیْءٍ قَبِلَتْهٗ ”کمسن کا دل اس خالی زمین کی مانند ہوتا ہے، جس میں جو بیج ڈالا جاتا ہے اسے قبول کر لیتی ہے”۔
(نہج البلاغه مکتوب 31)
یاد رہے کہ نوجوان فقط والدین سے متاثر نہیں ہوتے معاشرتی فضا بھی ان کے اوپر خوب اثر انداز ہوتی ہے کیوں کہ ان کے دلوں میں کچھ ہے ہی نہیں بالکل خالی ہیں جو چیز جہان سے بھی آئے گی ان پر اثر ڈالے گی۔ پیغمبر اسلام ص فرماتے ہیں: الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ ”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، پس تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کرتا ہے”۔
(طوسی، امالی، دار الثقافه، 1414ق قم، ص 518)
انسان زندگی کے ہر مرحلے میں ہمنشینی اور رفاقت کا محتاج ہوتا ہے۔ اچھا اور ہم فکر دوست دل کو خوشی اور سکون بخشتا ہے۔ لیکن دوستوں کی صحبت صرف انس اور خوشی کا سبب نہیں بنتی بلکہ وہ ایک دوسرے کے عقائد، اخلاق، کردار اور گفتار پر گہرا اثر بھی ڈالتی ہے۔ اس لیے مذکورہ حدیث براہِ راست اس اصول کی تائید کرتی ہے کہ بچے کے دوست اس کی شخصیت کے معمار ہوتے ہیں۔
امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: إِذَا خَبُثَ الزَّمَانُ كَسَدَتْ الْفَضَائِلُ وَ ضَرَّتْ وَ نَفَقَتِ الرَّذَائِلُ وَ نَفْعَتْ وَ كَانَ خَوْفُ الْمُوسِرِ أَشَدَّ مِنْ خَوْفِ الْمُعْسِرِ. جب زمانہ (معاشرہ) خراب ہو جائے تو نیکیاں بے کار اور نقصان دہ ہو جاتی ہیں، اور برائیاں، فائدہ مند ہو جاتی ہیں، اور (ایسے وقت میں) مالدار کا ڈر غریب کے ڈر سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔
(شرحِ نہج البلاغه ابن ابی الحدید، ج 20 ص 270)
لہذا والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے گھر میں ایک پاکیزہ اور صالح ماحول فراہم کریں، بچوں کو بری صحبت اور سے دور رکھیں اور اسکول اور محلے کے ماحول سے آگاہ رہیں تاکہ بچوں کو نیک بنا سکیں۔
چوتھا اصل: معاشی استحکام
اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكَ الْفَقْرَ، فَاسْتَعِذْ بِاللهِ مِنْهُ۔۔۔
اسلام میں دنیا پرستی اور مال و دولت کی محبت کی شدید مذمت کی گئی ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان اپنی ضروریاتِ زندگی سے بے نیاز ہو کر فقیری اختیار کر لے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے خود اپنے فرزند محمد بن حنفیہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: یَا بُنَیَّ! اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكَ الْفَقْرَ، فَاسْتَعِذْ بِاللهِ مِنْهُ، فَاِنَّ الْفَقْرَ مَنْقَصَةٌ لِّلدِّیْنِ، مَدْهَشَةٌ لِّلْعَقْلِ، دَاعِیَةٌ لِّلْمَقْتِ۔ ”اے فرزند! میں تمہارے لئے فقر و تنگدستی سے ڈرتا ہوں، لہٰذا فقر و ناداری سے اللہ کی پناہ مانگو۔ کیونکہ یہ دین کے نقص، عقل کی پریشانی اور لوگوں کی نفرت کا باعث ہے”۔
(نہج البلاغه حکمت 319).
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امام ع نے فقر کو صرف معاشی مسئلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے دین و ایمان کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا: اَلْفَقْرُ الْمَوْتُ الْاَكْبَرُ. ”فقیری سب سے بڑی موت ہے”۔
(نہج البلاغه حکمت 163)
فقیر انسان اکثر مجبوریوں کے شکنجے میں جکڑ جاتا ہے۔ جب انسان کے پاس اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وسائل نہیں ہوتے تو وہ ذہنی تناؤ اور پریشانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ ذہنی پریشانی عقل سلیم پر پردہ ڈال دیتی ہے اور انسان صحیح فیصلے کرنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔
مزید برآں، فقر کی شدت انسان کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنے اصول اور اقدار سے دستبردار ہو جائے۔ امام علی علیہ السلام نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا: وَ اِذَا بَخِلَ الْغَنِیُّ بِمَعْرُوْفِهٖ بَاعَ الْفَقِیْرُ اٰخِرَتَهٗ بِدُنْیَاهُ. ”جب دولت مند نیکی و احسان میں بخل کرے گا تو فقیر اپنی آخرت دنیا کے بدلے بیچ ڈالے گا”
(نہج البلاغه حکمت 372)
یعنی معاشی مجبوریاں انسان کو مجبور کر سکتی ہیں کہ وہ اپنے ایمان و اخلاق سے سمجھوتہ کرے، حرام کما کر کھائے، جھوٹ بولے، دیانت داری چھوڑے، اور آخرت کو دنیا کے بدلے بیچ ڈالے۔ معاشی استحکام کی اہمیت صرف انفرادی سطح پر نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ہے۔ جو شخص معاشی طور پر مضبوط ہوتا ہے، وہ نہ صرف اپنی اولاد کی بہتر طریقے سے تربیت کر سکتا ہے بلکہ معاشرے کی بھلائی کے لیے بھی وقت اور وسائل خرچ کر سکتا ہے۔ ایک مصنف اگر معاشی پریشانیوں میں گھرا ہو تو وہ اپنی صلاحیتوں کے باوجود علمی کام نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کا زیادہ تر وقت روزی روٹی کی جدوجہد میں صرف ہو جاتا ہے۔
اولاد کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ والدین انہیں ایک محفوظ اور مستحکم معاشی ماحول فراہم کریں، جہاں بچے تعلیم و تربیت پر توجہ دے سکیں، احساس کمتری کا شکار نہ ہوں، اور اپنی شخصیت کو مکمل طور پر نکھار سکیں۔ معاشی پریشانیاں نہ صرف والدین کی تربیتی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہیں بلکہ بچوں کی نفسیات پر بھی گہرے منفی اثرات ڈالتی ہیں۔ لہٰذا اولاد کی بہترین تربیت کے لیے ضروری ہے کہ والدین معاشی استحکام پر توجہ دیں، حلال روزی کمائیں، اور اپنی اولاد کو نہ صرف روحانی و اخلاقی تعلیم دیں بلکہ ان کی دنیاوی ضروریات کو بھی پورا کریں تاکہ وہ بے فکری کے ساتھ اپنی شخصیت کو نکھار سکیں۔
نتیجہ
نہج البلاغہ میں اولاد کی تربیت کے لیے جو اصول بیان کیے گئے ہیں، وہ ایک مکمل اور جامع نظام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ والدین کی خود سازی اس نظام کی بنیاد ہے کیونکہ بچے عمل سے سیکھتے ہیں، قول سے نہیں۔ اولاد کے ساتھ محبت کا اظہار دوسرا اہم اصول ہے جو بچوں میں اعتماد پیدا کرتا ہے اور والدین کے ساتھ ان کے رشتے کو مضبوط بناتا ہے۔ تیسرا اصول بہترین معاشرتی فضا فراہم کرنا ہے، کیونکہ بچوں کے دل خالی زمین کی مانند ہوتے ہیں اور ماحول کے اثرات کو فوری قبول کرتے ہیں۔ چوتھا اصول اقتصادی بندوبست ہے، کیونکہ فقر دین و عقل دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان چاروں اصولوں پر عمل پیرا ہو کر والدین نہ صرف اپنی اولاد کی دنیا و آخرت سنوار سکتے ہیں بلکہ ایک پرسکون اور باعزت معاشرے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
منابع
[1] قرآن مجید۔[2] نہج البلاغہ، ترجمہ مفتی جعفر حسینؒ۔
[3] مکارم شیرازی، آیت اللہ ناصر، پیام امیر المؤمنین ع (شرح نہج البلاغہ)، ناشر: انتشارات امام علی ابن ابی طالب ع، چاپ اول 1390ش۔
[4] تميمى آمدى، عبد الواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم، دار الکتاب الاسلامی قم 1410ق، تحقیق: رجائی، سید مہدی۔
[5] کلینیؒ، محمد بن یعقوب، الکافی، دار الکتب الاسلامی۔
[6] رواندی کاشانی، سید فضل اللہ، النوادر، دار الکتب قم۔
[7] ابن ابی جمہور، عوالی اللئالی العزیزیہ فی الاحادیث الدینیہ، چ 1404ق۔
[8] مجلسیؒ، محمد باقر، بحار الانوار، مؤسسۃ الوفاء 1403ق۔
[9] طوسیؒ، شیخ محمد بن حسن، امالی، دار الثقافہ، 1414ق قم۔
[10] ابن ابی الحدید، عبد الحمید بن ہبۃ اللہ، شرح نہج البلاغہ، ناشر: مکتبۃ آیت اللہ مرعشی نجفیؒ۔




