
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
اُمم سابقہ کے عروج و زوال اور وقائع و حالات پر اگر نظر کی جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قوموں کا بننا بگڑنا صرف بخت و اتفاق کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ اس میں بڑی حد تک ان کے افعال و اعمال کا دخل ہوتا ہے اور وہ اعمال جس نوعیت کے ہوتے ہیں ویسا ہی ان کا نتیجہ و ثمرہ ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ گزشتہ قوموں کے حالات و واقعات اس کے آئینہ دار ہیں کہ ظلم و بد عملی کا نتیجہ ہمیشہ تباہی و ہلاکت اور نیکی و سلامت روی کا ثمرہ ہمیشہ خوش بختی و کامرانی رہا ہے اور چونکہ زمانوں اور قوموں کے اختلاف سے نتائج میں کوئی فرق نہیں پڑتا، لہٰذا ویسے حالات اگر پھر پیدا ہوں اور ویسے واقعات اگر پھر دہرائے جائیں تو وہی نتائج ابھر کر سامنے آئیں گے جو پہلے حالات کے نتیجہ میں سامنے آ چکے ہیں۔ کیونکہ ہر چیز کے خواص و نتائج کی طرح اچھے اور برے عملوں کے نتائج کا ظہور بھی قطعی اور یقینی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو گزشتہ واقعات اور ان کے نتائج کو پیش کر کے مظلوموں اور بے بس لوگوں کو پُر امید نہ بنایا جا سکتا اور ظالموں اور ستمرانوں کو ان کی پاداش عمل سے خائف و ترساں نہ کیا جا سکتا۔ اس بنا پر کہ کیا ضروری ہے کہ وہی نتائج اب بھی ظاہر ہوں جو ان جیسے واقعات سے ظاہر ہو چکے ہیں، لیکن نتائج کی یک رنگی ہی وہ چیز ہے جو گزشتہ واقعات کو بعد والوں کیلئے مرقع عبرت بنا کر پیش کرتی ہے۔ چنانچہ اسی مقصد کے پیش نظر امیر المومنین علیہ السلام نے بنی اسماعیل و بنی اسحٰق و بنی اسرائیل کے مختلف حالات و اَدوار اور شاہان عجم و روم کے ہاتھوں ان کی ابتلا و مشقت اور تباہی و بربادی کا تذکرہ کر کے دعوت فکر و بصیرت دی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد بنی اسماعیل اور چھوٹے بیٹے حضرت اسحٰق علیہ السلام کی اولاد بنی اسحٰق کہلاتی ہے جو بعد میں شاخ در شاخ ہو کر مختلف قبیلوں میں بٹتی اور مختلف ناموں سے موسوم ہوتی گئی۔ ان کا ابتدائی مسکن فلسطین کے علاقے میں مقام کنعان تھا جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سرزمین دجلہ و فرات سے ہجرت کر کے مقیم ہو گئے تھے۔ ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی منزل سرزمین حجاز تھی جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو چھوڑ گئے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے انہی اطراف میں بسنے والے قبیلہ جرہم کی ایک خاتون السیدہ بنت مضاض سے شادی کی جن سے ان کی اولاد پھلی پھولی اور اطراف و اکناف عالم میں پھیل گئی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے فرزند حضرت اسحٰق علیہ السلام کنعان ہی میں مقیم رہے اور ان کے فرزند حضرت یعقوب (اسرائیل) علیہ السلام تھے جنہوں نے اپنے ماموں لبان ابن ناہر کی دختر لیا سے عقد کیا اور اس کے مرنے کے بعد ان کی دوسری صاحبزادی راحیل سے شادی کی اور ان دونوں سے ان کی اولاد ہوئی جو بنی اسرائیل کہلاتی ہے۔ ان فرزندوں میں سے ایک فرزند حضرت یوسف علیہ السلام تھے جو اپنے ہمسایہ ملک مصر میں ایک ناگہانی صورت سے پہنچ گئے اور غلامی و اسیری کی کڑیاں جھیلنے کے بعد مصر کے تخت و تاج کے مالک ہو گئے۔ اس انقلاب کے بعد انہوں نے اپنے تمام عزیزوں اور کنبہ والوں کو بھی وہیں بلا لیا اور اس طرح مصر بنی اسرائیل کا مستقر قرار پا گیا۔ یہ لوگ کچھ عرصہ تک امن چین سے رہتے سہتے اور عزت و احترام کی زندگی گزارتے رہے مگر رفتہ رفتہ وہاں کے باشندے انہیں ذلت و حقارت کی نظروں سے دیکھنے لگے اور انہیں ہر طرح کے مظالم کا نشانہ بنا لیا، یہاں تک کہ لڑکوں کو ذبح اور ان کی عورتوں کو کنیزی کیلئے رکھ لیتے تھے، جس سے ان کی عزم و ہمت پامال اور روح آزادی مضمحل ہو کر رہ گئی۔
آخر حالات نے پلٹا کھایا اور چار سو برس تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہنے کے بعد نکبت و مصیبت کا دور کٹا اور فرعونی حکومت کے مظالم سے نجات دلانے کیلئے قدرت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیج دیا جو انہیں لے کر مصر سے نکل کھڑے ہوئے، لیکن قدرت نے فرعون کو تباہ کرنے کیلئے اسرائیلیوں کا رخ دریائے نیل کی طرف موڑ دیا، جہاں آگے پانی کی طغیا نیاں تھیں اور پیچھے فرعون کی دَل بادَل فوجیں جس سے یہ لوگ سخت پریشان ہوئے۔ مگر قدرت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ بے کھٹکے دریا کے اندر اتر جائیں۔ چنانچہ جب وہ بڑھے تو دریا میں ایک چھوڑ کئی راستے پیدا ہو گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اسرائیلیوں کو لے کر دریا کے اس پار اتر گئے۔ فرعون عقب سے آ ہی رہا تھا۔ جب اس نے ان کو گزرتے ہوئے دیکھا تو لشکر کے ساتھ آگے بڑھا اور جب وسط دریا میں پہنچا تو رُکے ہوئے پانی میں حرکت پیدا ہوئی اور فرعون اور اس کے لشکر کو اپنی لپیٹ میں لے کر فنا کے گھاٹ اتار دیا۔
چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے:
﴿وَاِذْ نَجَّيْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَآءَكُمْؕ وَفِىْ ذٰلِكُمْ بَلَاۤءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ﴾
اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں برے سے برا عذاب دیتے تھے، تمہارے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی کٹھن آزمائش تھی۔ [1]
بہر صورت جب یہ حدود مصر سے نکل کر اپنے آبائی وطن فلسطین و شام میں پہنچے تو اپنی سلطنت و حکومت کی بنیاد رکھ کر آزادی کی فضا میں سانس لینے لگے اور قدرت نے ان کی پستی و ذلت کو فرمانروائی کی بلندی و رفعت سے بدل دیا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَاَوْرَثْنَا الْـقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِىْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ؕ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِىْۤ اِسْرَاۤءِيْلَۙ بِمَا صَبَرُوْا ؕ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ﴾
ہم نے اس جماعت کو جو کمزور و ناتواں سمجھی جاتی تھی، زمین کے پورب و پچھم کے ان حصوں کا وارث بنایا جنہیں ہم نے اپنی برکتوں سے مالا مال کیا ہے۔ اے پیغمبر! تمہارے پروردگار کا خوشگوار وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں پورا ہوا، چونکہ وہ (فرعون کے مظالم پر) صبر و استقامت سے جمے رہے اور جو کچھ فرعون اور اس کی قوم بناتی اور جو عمارتیں بلند کرتی تھی ہم نے سب برباد کر دیں۔ [2]
اسرائیلیوں نے تخت فرما نروائی پر قدم رکھنے اور خوشحال و فارغ البالی حاصل کرنے کے بعد دور غلامی کی تمام ذلتوں اور رسوائیوں کو فراموش کر دیا اور اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں پر شکر گزار ہونے کی بجائے سرکشی و بغاوت پر اتر آئے۔ چنانچہ وہ بد کرداری و بد اخلاقی کی طرف بے جھجک بڑھتے، شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے، حیلے حوالوں سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرانے میں کوئی باک نہ کرتے، خدا کی طرف سے تبلیغ و دعوت کے فرائض انجام دینے والے انبیاء علیہم السلام کو ستاتے اور ان کے خونِ ناحق سے ہاتھ رنگتے۔
اب ان کی بد اعمالیوں کا تقاضا یہی تھا کہ انہیں ان کی پاداشِ عمل کی گرفت میں جکڑ لیا جائے، چنانچہ بخت نصر کہ جو 600 ق م میں بابل (عراق ) پر اپنا پرچم حکومت لہرا رہا تھا، شام و فلسطین پر حملہ کرنے کیلئے اٹھا اور اپنی خونچکاں تلواروں سے ستر (70) ہزار اسرائیلیوں کو قتل اور ان کی بستیوں کو تباہ و برباد کر دیا اور بقیتہ السیف کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہنکا کر کے اپنے ساتھ لے لیا اور انہیں غلامی کے بندھنوں میں کس کر قعر مذلت میں لا پھینکا۔ اگرچہ اس تباہی و بربادی کے بعد کوئی ایسی صورت نظر نہ آتی تھی کہ وہ پھر اوج و عروج حاصل کر سکیں گے مگر قدرت نے انہیں سنبھلنے کا ایک اور موقع دیا۔
چنانچہ جب بخت نصر کے مرنے کے بعد حکومت کا نظم و نسق بیل شازار کے سپرد ہوا تو اس نے رعیت پر طرح طرح کے مظالم شروع کر دیئے جس سے تنگ آ کر وہاں کے باشندوں نے شہنشاہ فارس (سائرس) کو پیغام بھجوایا کہ ہم اپنے فرمانروا کے ظلم وجور سہتے سہتے عاجز آ گئے ہیں۔ آپ ہماری دستگیری کیجئے اور بیل شازار کے مظالم سے چھٹکارا دلایئے۔ سائرس جو عدل گستر و انصاف پرور حکمران تھا اس آواز پر لبیک کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں کے لوگوں کے تعاون سے اس نے بابل کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جس کے نتیجہ میں بنی اسرائیل کی گردنوں سے غلامی کا جوا اترا اور انہیں فلسطین کی طرف پلٹ جانے کی اجازت مل گئی۔ چنانچہ انہوں نے ستر برس غلامی میں گزارنے کے بعد دوبارہ اپنے ملک میں قدم رکھا اور حکومت کی باگ سنبھال لی۔
اب اگر وہ گزشتہ واقعات سے عبرت حاصل کرتے تو ان بد اعمالیوں کے مرتکب نہ ہوتے کہ جن کے نتیجہ میں انہیں غلامی کی ذلت سے دوچار ہونا پڑا تھا، مگر اس ناہنجار قوم کے مزاج کی ساخت ہی کچھ اس طرح کی تھی کہ جب بھی انہیں آسائش و فارغ البالی حاصل ہوتی تو دولت کی سر مستیوں میں کھو جاتے اور عیش پرستیوں میں پڑ جاتے، احکام شریعت کا تمسخر اڑاتے اور انبیاء علیہم السلام کا استہزاء کرتے، بلکہ ان کے قتل سے بھی ان کی جبیں پر شکن نہ آتی تھی۔ چنانچہ جب ان کے فرمانروا ہیرو دیس نے اپنی محبوبہ کے کہنے سے حضرت یحی ٰ علیہ السلام کا سر قلم کر کے اسے بطور تحفہ پیش کیا تو کسی ایک سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ وہ اس ظلم کے خلاف کوئی آواز بلند کرتا یا اس سے کوئی اثر لیتا۔
ان کی سرکشیوں اور منہ زوریوں کا یہی عالم تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ظہور فرمایا جو انہیں بے راہ رویوں سے روکتے اور نیکی و خوش اطواری کی تلقین فرماتے تھے، لیکن انہوں نے ان کی بھی مخالفت کی اور طرح طرح کے دکھ پہنچائے یہاں تک کہ ان کی زندگی کا خاتمہ کر دینے کے درپے ہو گئے، لیکن قدرت نے ان کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے دستبرد سے محفوظ کر دیا۔
جب ان کی طغیانیاں اس حد تک بڑھ گئیں اور قبول ہدایت کی صلاحیتیں دم توڑ چکیں تو تقدیر نے ان کی ہلاکت و بربادی کا سامان مکمل کر کے ان کی تباہی کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ قیصر روم اسنبانوس نے اپنے لڑکے طیطوس (ٹیٹس) کو شام پر حملہ کرنے کیلئے بھیجا۔ جس نے بیت المقدس کے گرد گھیرا ڈال دیا، مکانوں کو مسمار اور ہیکل کی دیواروں کو توڑ دیا، جس سے ہزاروں اسرائیلی گھروں کو چھوڑ کر منتشر ہو گئے اور ہزاروں بھوک سے تڑپ تڑپ کر مر گئے اور جو رہ گئے وہ تلواروں کی نذر ہو گئے اور وہ اسرائیلی جو حصار کے زمانہ میں بھاگ کھڑے ہوئے تھے ان میں سے بیشتر حجاز و یثرب میں آ کر آباد ہو گئے۔ مگر پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے انکار سے ان کی قومیت کا شیرازہ اس طرح بکھرا کہ پھر کسی مرکز عزت پر جمع نہ ہو سکے اور ذلت و رسوائی کے سوا عزت و سرفرازی کی زندگی انہیں نصیب نہ ہوئی۔
اسی طرح شاہان عجم نے بھی عرب پر شدید حملے کئے اور وہاں کے باشندوں کو مقہور و مغلوب بنا لیا۔ چنانچہ سابور ابن ہر مزنے سولہ برس کی عمر میں چار ہزار جنگجوؤں کو اپنے ساتھ لے کر ان عربوں پر حملہ کيا جو حدود فارس میں آباد تھے اور پھر بحرين، قطيف اور حجر کی طرف چڑھائی کی اور بنی تمیم و بنی بکر بن وائل و بنی عبد قیس کو تباہ و برباد کیا اور ستر ہزار عربوں کے شانے چیر ڈالے جس سے اس کا لقب ’’ذو الاکناف‘‘ پڑ گیا۔ اس نے عربوں کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ صرف بالوں کی جھونپڑیوں میں رہیں، اپنے سر کے بالوں کو بڑھا لیں، سفید لباس نہ پہنیں اور بغیر زین کے گھوڑوں پر سواری کریں اور پھر عراق و شام کے درمیان نصیبین میں بارہ ہزار اصفہان اور فارس کے دوسرے شہروں کے باشندے بسائے اور اس طرح وہاں کے رہنے والوں کو سر سبز و شاداب جگہوں سے صحراؤں اور بے آب و گیاہ جنگلوں کی طرف دھکیل دیا جہاں نہ زندگی و راحت کا کوئی سامان تھا اور نہ معیشت کا کوئی ذریعہ اور یہ آپس کے تفرقہ و انتشار کے نتیجہ میں مدتوں تک دوسروں کی قہر سامانیوں کا نشانہ بنتے رہے۔ آخر قدرت نے سرور کائنات ﷺ کو مبعوث فرما کر انہیں ذلت سے عروج و رفعت کی بلند سے بلند منزل پر پہنچا دیا۔
[1] سورۂ بقرہ، آیت 49[2] سورۂ اعراف، آیت 137



