
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
امیرالمومنین علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں متعدد مقامات پر اپنی شجاعت کا اظہار فرمایا۔ خطبہ 195 میں ارشاد فرمایا:
میں نے اس جواں مردی کے بل بوتے پر کہ جس سے اللہ نے مجھے سرفراز کیا ہے پیغمبر ﷺ کی دل و جان سے مدد ان موقعوں پر کی کہ جن موقعوں سے بہادر (جی چرا کر) بھاگ کھڑے ہوتے تھے اور قدم (آگے بڑھنے کی بجائے) پیچھے ہٹ جاتے تھے۔
اس سے کس کو انکار ہو سکتا ہے کہ اسد اللہ الغالب علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہر معرکہ اور جان جوکھوں کے موقعہ پر پیغمبر ﷺ کے سینہ سپر رہے اور اپنی خدا داد جرأت و ہمت سے ان کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ چنانچہ: پہلا جانثاری کا موقعہ وہ ہے کہ جب قریش نے قتل پیغمبر ﷺ کا عزم بالجزم کر لیا تو آپؑ تلواروں کے نرغہ اور دشمنوں کے ہجوم میں بستر نبوت پر سو گئے جس سے دشمنوں کو اپنے ارادوں میں ناکام و نامراد ہونا پڑا۔ پھر ان جنگوں میں کہ جہاں دشمن ہجوم کر کے پیغمبر ﷺ پر ٹوٹ پڑتے تھے اور اچھے اچھے بہادروں کے قدم ڈگمگا جاتے تھے، آپؑ علم لشکر کو لئے ہوئے پامردی سے جمے رہتے تھے۔
چنانچہ ابن عبد البر تحریر کرتے ہیں:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لِعَلِیٍّ ؑ اَرْبَعُ خِصَالٍ لَّيْسَتْ لِاَحَدٍ غَيْرِهٖ: هُوَ اَوَّلُ عَرَبِیٍّ وَّ عَجَمِیٍّ صَلّٰى مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ، وَ هُوَ الَّذِیْ كَانَ لِوَآئُهٗ مَعَهٗ فِیْ كُلِّ زَحْفٍ وَّ هُوَ الَّذِیْ صَبَرَ مَعَهٗ يَوْمَ فَرَّ عَنْهُ غَيْرُهٗ وَ هُوَ الَّذِیْ غَسَّلَهٗ وَ اَدْخَلَهٗ قَبْرَهٗ.
ابن عباس کہتے ہیں کہ: امیر المومنین علیہ السلام میں چار خصوصیتیں ایسی تھیں جو ان کے علاوہ کسی کو حاصل نہ تھیں: ایک یہ کہ آپؑ نے ہر عربی و غیر عربی سے پہلے رسول ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور دوسرے ہر معرکۂ دار و گیر میں علمبردار ہوتے رہے اور تیسرے جب لوگ پیغمبر ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے تھے تو آپؑ صبر و استقامت سے جمے رہتے تھے اور چوتھے یہ کہ آپؑ ہی نے پیغمبر ﷺ کو غسل دیا اور قبر میں اتارا۔
(استیعاب، ج2، ص 470)
اسلامی غزوات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ جنگ تبوک کے علاوہ کہ جس میں بحکم پیغمبرؐ امیر المومنین علیہ السلام شرکت نہ کر سکے، تمام جنگیں آپؑ کی حسن کارکردگی کی آئینہ دار اور تمام فتوحات آپؑ کے قوت بازو کی مرہون منت ہیں۔ چنانچہ:
جنگ بدر میں ستر کفار قتل ہوئے جن میں سے نصف امیر المومنین علیہ السلام کی تلوار سے مارے گئے۔
جنگ اُحد میں جب مسلمانوں کے مال غنیمت پر ٹوٹ پڑنے کی وجہ سے فتح شکست کی صورت اختیار کر گئی اور دشمنوں کے اچانک حملہ سے مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے تو امیر المومنین علیہ السلام جہاد کو فریضہ ایمانی سمجھتے ہوئے ثابت قدمی سے جمے رہے اور پیغمبر ﷺ کی ہمدردی و جان نثاری میں وہ کار نمایاں کیا کہ جس کا پیغمبر ﷺ نے بھی اعتراف کیا اور مَلَک نے بھی اقرار کیا۔
جنگ احزاب میں پیغمبر ﷺ کے ہمراہ تین ہزار نبرد آزما تھے، مگر عمرو ابن عبدود کے مقابلہ میں بڑھنے کی کسی ایک کو بھی جرأت نہ ہوئی۔ آخر امیر المومنین علیہ السلام نے اسے قتل کر کے مسلمانوں کو رسوائی سے بچا لیا۔
جنگ خیبر میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر علم لے کر گئے مگر پلٹ آئے اس موقع پر بھی امیر المومنین علیہ السلام نے اس مہم کو سر کیا۔
جنگ حنین میں مسلمانوں کو اپنی کثرت پر بڑا گھمنڈ تھا چونکہ ان کی تعداد دس ہزار تھی اور کفار کی گنتی چار ہزار تھی، مگر یہاں بھی مال غنیمت پر لپک پڑے جس کی وجہ سے کفار کو موقع مل گیا کہ وہ ان پر ٹوٹ پڑیں۔ چنانچہ اس اچانک حملہ سے مسلمان گھبرا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿لَـقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِىْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَـتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْـًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّـيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَۚ ﴾
اللہ نے بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد کی اور حنین کے دن بھی کہ جب تم اپنی کثرت پر اتراتے تھے اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر چلتے بنے۔ [1]
اس موقع پر بھی امیر المومنین علیہ السلام پہاڑ کی طرح جمے رہے اور آخر تائید خداوندی سے فتح و کامرانی حاصل ہوئی۔
[1] سورۂ توبہ، آیت 25




