
﷽
(تلخیص) Abstract
نہج البلاغہ اسلامی ادب اور فکر کی ایک اہم کتاب ہے جس میں حضرت امام علی ابن ابی طالبؑ کے خطبات، خطوط اور کلماتِ قصار کو جمع کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اسلامی تعلیمات کی گہرائی کو بیان کرتی ہے بلکہ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے بھی جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس مقالے کا مقصد نہج البلاغہ کی روشنی میں تربیتِ اولاد کے بنیادی اصولوں کا جائزہ لینا ہے۔ اگرچہ نہج البلاغہ میں تربیتِ اولاد کے اصول کسی ایک باب کے تحت منظم صورت میں بیان نہیں کیے گئے، تاہم اس کے مختلف خطبات، خطوط اور حکمتوں میں ان اصولوں کی واضح جھلک ملتی ہے۔ خصوصاً خط نمبر 31، جو حضرت امام علیؑ نے اپنے فرزند امام حسنؑ کے نام تحریر فرمایا، تربیتِ اولاد کے حوالے سے ایک جامع تربیتی منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خط میں بچوں کی ابتدائی تربیت کی اہمیت، علم کے حصول کی ترغیب، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے، تاریخ اور تجربات سے سبق لینے اور اخلاقی کردار کی تعمیر جیسے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اسی طرح بعض خطبات اور کلماتِ قصار میں تقویٰ، حسنِ اخلاق، اعتدال اور علم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اس مقالے میں انہی تعلیمات کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر نہج البلاغہ کے تربیتی اصولوں کو عملی زندگی میں اپنایا جائے تو نئی نسل کی اخلاقی اور فکری تربیت کو بہتر انداز میں ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
کلیدی الفاظ: Keywords
نہج البلاغہ، تربیتِ اولاد، امام علیؑ، اخلاقی تربیت، کردار سازی، اسلامی تعلیمات، تربیتی اصول
تمہید
نہج البلاغہ ایک ایسی جامع کتاب ہے جو حضرت امام علی ابن ابی طالبؑ کے خطبات، خطوط اور کلماتِ قصار پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی تدوین و جمع آوری چوتھی صدی ہجری کے معروف عالم سید رضیؒ نے کی۔ یہ کتاب قرآن مجید کے بعد اسلامی معارف اور انسانی زندگی کے لیے ایک عظیم منشور کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں امام علیؑ نے آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے ایسے اصول بیان فرمائے ہیں جو انسانی زندگی کے لیے رہنمائی کا ایک مکمل سرچشمہ سمجھے جاتے ہیں۔ نہج البلاغہ میں امام علیؑ نے انسانی زندگی کی بنیادوں، اصولوں اور اساسی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے ارشادات بیان فرمائے ہیں جو انسان کو غور و فکر پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اگر اس کتاب کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کیا جائے تو انسان کی زندگی حقیقی معنوں میں بامقصد، متوازن اور پُرسکون بن سکتی ہے۔ درحقیقت یہ کتاب قرآن مجید کے پیغام کی عملی تشریح اور اس کے اطلاق کا ایک عظیم فکری خزانہ ہے۔
اس کتاب میں توحید کے اسرار و معارف، کائنات کے اسرار و رموز، انسان اور خدا کے تعلق، زمانے کے تغیرات، زندگی گزارنے کے آداب، انسانی کردار سازی، عدل و انصاف، تقویٰ، اخلاقی اقدار، اجتماعی زندگی کے اصول، حکمرانی اور سیاست کے بنیادی ضوابط، علم و حکمت کی اہمیت اور انسانی معاشرے کی اصلاح جیسے بے شمار اہم موضوعات نہایت جامع اور بلیغ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہج البلاغہ کو صرف ایک ادبی یا تاریخی کتاب نہیں بلکہ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے ایک ہمہ گیر رہنما اور فکری سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔ البتہ اس مخصوص مقالے میں ہمارا مقصد نہج البلاغہ کی روشنی میں تربیتِ اولاد کے اصول کو واضح کرنا ہے۔ ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ امام علیؑ نے اولاد کی تربیت کے حوالے سے کون سا لائحۂ عمل اور تربیتی منشور پیش کیا ہے۔ اگر ان اصولوں کو عملی زندگی میں اختیار کیا جائے تو یقیناً نئی نسل کی بہتر تربیت ممکن ہو سکتی ہے اور ہم اپنی اولاد کو ایک باکردار، باشعور اور باصلاحیت انسان بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
جہاں تک نہج البلاغہ میں تربیتِ اولاد کے اصول کا تعلق ہے تو یہ اصول کسی ایک باب یا عنوان کے تحت منظم صورت میں بیان نہیں کیے گئے۔ تاہم جب اس کتاب کا گہرائی سے مطالعہ کیا جاتا ہے تو مختلف خطبات، خطوط اور کلماتِ قصار میں ان اصولوں کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر مفتی جعفر حسین کے ترجمہ شدہ نہج البلاغہ میں خطبہ نمبر 79 (بعض نسخوں میں 86 کے قریب) میں انسانی کردار سازی اور اخلاقی تربیت کے ایسے اصول بیان کیے گئے ہیں جو بالواسطہ طور پر بچوں کی تربیت کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح کلماتِ قصار میں حکمت نمبر 399 اور اس کے قریب کے بعض اقوال میں بچوں کی تربیت میں محبت، اعتدال اور حسنِ اخلاق کے اصول کی طرف اشارہ ملتا ہے اور والدین کو اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ادب، علم اور اچھے کردار کی تعلیم دیں۔ تاہم اگر نہج البلاغہ میں تربیتِ اولاد کے اصول کو زیادہ جامع اور واضح انداز میں دیکھا جائے تو اس کا سب سے نمایاں اظہار خط نمبر 31 میں ملتا ہے۔ یہ وہ خط ہے جو حضرت امام علیؑ نے اپنے فرزند امام حسنؑ کے نام بطور نصیحت تحریر فرمایا۔ یہ ایک نہایت جامع اور مفصل خط ہے جو تقریباً بارہ صفحات پر مشتمل ہے۔ اسی لیے اس مقالے میں بنیادی طور پر اسی خط کی روشنی میں تربیتِ اولاد کے اہم اصول کو بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ بعض عمومی اصول کو نہج البلاغہ کے دیگر خطبات اور حکمتوں کی روشنی میں بھی واضح کیا جائے گا۔
اسی پس منظر میں اس مقالے کے چند بنیادی مقاصد بھی ہیں، جن میں نہج البلاغہ کی روشنی میں تربیتِ اولاد کے اصولوں کی نشاندہی کرنا، حضرت امام علیؑ کے خطبات، خطوط اور کلماتِ قصار میں بیان کردہ تربیتی افکار کو واضح کرنا، خصوصاً خط نمبر 31 میں موجود نصائح کا تجزیہ پیش کرنا اور ان اصولوں کا جدید تعلیمی نظریات اور عصرِ حاضر کی تعلیمی ضروریات کے ساتھ تقابلی جائزہ لینا شامل ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ نہج البلاغہ میں بیان کردہ تربیتی تعلیمات نئی نسل کی متوازن، باکردار اور باشعور شخصیت سازی میں کس حد تک مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
نہج البلاغہ کی روشنی میں تربیتِ اولاد کے اصول
نہج البلاغہ میں موجود مختلف خطبات، خطوط اور کلماتِ قصار میں انسانی زندگی کے بے شمار اصول بیان کیے گئے ہیں۔ ان تعلیمات میں جہاں انسان کی روحانی، اخلاقی اور سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی رہنمائی کی گئی ہے، وہیں اولاد کی تربیت کے متعلق بھی اہم اصول ملتے ہیں۔ اگرچہ نہج البلاغہ میں تربیتِ اولاد کے اصول کسی ایک باب یا عنوان کے تحت منظم صورت میں بیان نہیں کیے گئے، تاہم جب اس کتاب کا گہرائی سے مطالعہ کیا جاتا ہے تو مختلف خطبات، خطوط اور حکمتوں میں اس حوالے سے اہم رہنمائی سامنے آتی ہے۔ بالخصوص تربیتِ اولاد کے بنیادی اور تفصیلی اصول نہج البلاغہ کے خط نمبر 31 میں بیان ہوئے ہیں، جو حضرت امام علیؑ نے اپنے فرزند امام حسنؑ کے نام بطور نصیحت تحریر فرمایا۔ اس خط میں امام علیؑ نے اپنی زندگی کے تجربات، اخلاقی تعلیمات اور فکری رہنمائی کو اس انداز میں بیان کیا ہے کہ وہ اولاد کی ہمہ جہتی تربیت کے لیے ایک جامع منشور کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ اسی وجہ سے اس مقالے میں بنیادی طور پر تربیتِ اولاد کے اصول اسی خط کے متن سے اخذ کیے گئے ہیں۔
تاہم نہج البلاغہ کے دیگر مقامات پر بھی بعض عمومی تربیتی اصول کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ مثال کے طور پر خطبہ نمبر 79 میں تقویٰ، اخلاقِ حسنہ اور دنیا کی عارضی حقیقت جیسے اصول بیان کیے گئے ہیں جو بالواسطہ طور پر انسان کی اخلاقی اور روحانی تربیت کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح کلماتِ قصار میں حکمت نمبر 399 اور اس کے قریب کے بعض اقوال میں محبت، اعتدال اور حسنِ اخلاق کی تعلیم کو اجاگر کیا گیا ہے اور والدین کو اس بات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو علم، ادب اور اچھے کردار کی تربیت دیں۔ لہٰذا اس مقالے میں تربیتِ اولاد کے اصولوں کو بیان کرتے ہوئے بنیادی طور پر خط نمبر 31 کو بنیاد بنایا گیا ہے جبکہ چند عمومی اصول کو خطبہ نمبر 79 اور بعض حکمتوں کی روشنی میں بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
1۔ بچپن میں تربیت کی اہمیت
حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں کہ نوجوان کا دل خالی زمین کی مانند ہوتا ہے جس میں جو بیج بویا جائے وہی اگتا ہے۔ اس ارشاد سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسان کی ابتدائی عمر میں کی جانے والی تربیت اس کی پوری زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ بچپن وہ مرحلہ ہوتا ہے جب انسان کا ذہن، دل اور شخصیت تشکیل کے ابتدائی مراحل میں ہوتے ہیں، اس لیے اس دور میں دی جانے والی تعلیم اور تربیت اس کے مستقبل کی بنیاد بن جاتی ہے۔
عصرِ حاضر میں بھی ابتدائی تعلیم اور تربیت کی اہمیت کو خاص طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان کی قومی تعلیمی پالیسی 2020 (National Education Policy 2020) میں ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور تعلیم (Early Childhood Care and Education) کو تعلیمی نظام کی بنیادی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے مطابق ابتدائی برسوں میں بچوں کی ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما پر خصوصی توجہ دینا نہایت ضروری ہے۔
اسی طرح تعلیم کے میدان کے کئی معروف مفکرین اور ماہرینِ تعلیم نے بھی ابتدائی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ مثال کے طور پر فریڈرک فروبل (Friedrich Froebel)، جو کنڈرگارٹن نظامِ تعلیم کے بانی ہیں، بچوں کی فطری نشوونما اور ابتدائی تربیت کو نہایت اہم قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح ماریا مونٹیسوری (Maria Montessori) نے بھی اپنی تعلیمی فکر میں اس بات پر زور دیا کہ بچپن کا دور شخصیت سازی کا سب سے حساس اور اہم مرحلہ ہوتا ہے، اس لیے اس عمر میں مناسب تعلیمی ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔اس طرح امام علیؑ کی تعلیمات اور جدید تعلیمی نظریات دونوں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ابتدائی عمر میں دی جانے والی تربیت انسان کی شخصیت، اخلاق اور کردار کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ لہذا بچوں کی تربیت کم عمری ہی سے شروع کرنا ضروری ہے کیونکہ اس وقت ان کا ذہن اور دل نئی باتوں کو زیادہ آسانی سے قبول کرتے ہیں۔
2۔ اخلاق اور ادب کی تعلیم
تربیتِ اولاد کا ایک بنیادی مقصد بچوں میں اچھے اخلاق اور عمدہ کردار پیدا کرنا ہے۔ دراصل کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام کا انحصار اس کے افراد کے اخلاق اور کردار پر ہوتا ہے۔ دورِ جدید میں اخلاقی تربیت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ اگرچہ آج انسان تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ چکا ہے، لیکن اخلاقی اقدار کے لحاظ سے معاشرہ کئی مشکلات اور کمزوریوں کا شکار نظر آتا ہے۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت امام علیؑ نے آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے ہی اپنی تعلیمات میں اخلاق اور ادب کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ آپؑ نے اپنی اولاد کو نصیحت کرتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ انسان اپنے حسنِ اخلاق اور اچھے آداب کے ذریعے معاشرے میں مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے اور دوسروں کے لیے ایک بہترین نمونہ بن سکتا ہے۔لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب تک بچوں کو اخلاق، ادب اور اچھے کردار کی تعلیم نہ دی جائے، اس وقت تک ان کی شخصیت مکمل طور پر نشوونما نہیں پا سکتی۔ اس لیے والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی علمی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی اور کرداری تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں۔اس ضمن میں والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو سچائی، ادب، احترام اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیں تاکہ وہ ایک باکردار شخصیت کے طور پر معاشرے میں اپنا مقام بنا سکیں۔
3۔ علم حاصل کرنے کی ترغیب
حضرت امام علیؑ کی تعلیمات میں علم کو ہدایت اور بصیرت کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ امام علیؑ کے اس نقطۂ نظر پر جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ علم انسان کی فکری اور عملی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ خصوصاً موجودہ دور میں، جسے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور جدید ٹیکنالوجی کا زمانہ کہا جاتا ہے، علم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ آج کے مسابقتی ماحول میں وہی معاشرے ترقی کر سکتے ہیں جو علم، تحقیق اور فکری صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں۔ اسلام نے بھی علم کے حصول کو خاص اہمیت دی ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی کا آغاز ہی لفظ "اقرأ” (پڑھو) سے ہوتا ہے، جو علم اور تعلیم کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب مسلمان علم و حکمت کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ بغداد، قرطبہ اور اندلس جیسے علمی مراکز میں سائنس، فلسفہ، طب اور ریاضیات کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دی گئیں۔ بعد ازاں یورپی دنیا نے بھی اسلامی دنیا کے علمی ذخیرے اور تحقیق سے بہت استفادہ کیا۔لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں میں مسلمانوں نے اس عظیم علمی ورثے سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کیا، جس کے نتیجے میں وہ علمی اور فکری میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ لہٰذا اگر مسلمان اپنی کھوئی ہوئی علمی اور فکری حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دیں اور انہیں تحقیق، مطالعہ اور فکری جستجو کی طرف راغب کریں۔ اس طرح علم نہ صرف ان کے لیے ہدایت اور بصیرت کا ذریعہ بنے گا بلکہ معاشرے کی ترقی اور بہتری کا سبب بھی بنے گا۔ اسی لئے ہمیں بچوں کو علم اور حکمت کی طرف راغب کرنا چاہیے تاکہ وہ زندگی کے مختلف معاملات میں صحیح اور غلط کے درمیان فرق کر سکیں۔
4۔ اچھے دوستوں اور ماحول کا انتخاب
انسان کی شخصیت کی تشکیل میں اس کے ماحول اور صحبت کا نہایت اہم کردار ہوتا ہے۔ حضرت امام علیؑ کی تعلیمات میں بھی اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ ملتا ہے کہ انسان اپنے معاشرتی تعلقات اور صحبت سے گہرے اثرات قبول کرتا ہے۔ اسی تناظر میں رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان بھی مشہور ہے کہ انسان اپنے دوست کے دین اور طریقے پر ہوتا ہے، لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ وہ کس کو اپنا دوست بناتا ہے۔ اس ارشاد سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اچھے دوست انسان کی شخصیت اور کردار کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں بھی انسان کو صالح لوگوں کی پیروی اور نیک راستے کو اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ سورۂ الفاتحہ میں مسلمان روزانہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں: ”اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ“ یعنی ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تو نے انعام فرمایا۔ اس آیت میں بھی صالح لوگوں کے راستے کی پیروی کی طرف رہنمائی ملتی ہے۔جدید سماجی علوم میں بھی ماحول اور صحبت کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ روسی ماہرِ نفسیات Lev Vygotsky کے مطابق انسان کی ذہنی اور سماجی نشوونما بڑی حد تک اس کے سماجی ماحول اور تعاملات سے متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو مثبت اور نیک ماحول فراہم کریں۔ لہٰذا اس اصول کے مطابق ضروری ہے کہ بچوں کو نیک اور صالح افراد کی صحبت میں رکھا جائے تاکہ وہ اچھے کردار، مثبت عادات اور معاشرتی ذمہ داریوں کو اپنانے کے قابل بن سکیں۔
5۔ تجربات اور تاریخ سے سبق لینا
حضرت امام علیؑ نے اپنے خط میں گزشتہ اقوام اور لوگوں کے حالات و واقعات سے سبق حاصل کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ آپؑ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کو چاہیے کہ وہ ماضی کے تجربات سے سیکھے تاکہ وہ انہی غلطیوں کو دوبارہ نہ دہرائے۔ اگر انسان تاریخ کے تجربات سے سبق نہ لے تو اس کا وقت، توانائی اور وسائل ضائع ہو سکتے ہیں۔قرآن مجید میں بھی مختلف اقوام کے واقعات بار بار بیان کیے گئے ہیں۔ حضرت نوحؑ، عاد، ثمود اور دیگر اقوام کے حالات کو ذکر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ انسان ان واقعات سے نصیحت حاصل کرے اور اپنی زندگی کو درست راستے پر گامزن کرے۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے کہ ان واقعات میں اہلِ عقل کے لیے عبرت موجود ہے۔ تعلیم کے میدان میں بھی تجربات سے سیکھنے کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ امریکی فلسفی اور ماہرِ تعلیم John Dewey نے تجرباتی تعلیم (Experiential Learning) کے نظریے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان اپنے تجربات اور مشاہدات کے ذریعے بہتر طور پر سیکھتا ہے۔ لہٰذا تربیتِ اولاد کے تناظر میں ضروری ہے کہ بچوں کو تاریخ، تہذیب اور بزرگوں کے تجربات سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ ماضی سے سبق لے کر اپنے حال کو بہتر بنا سکیں اور مستقبل میں دانشمندانہ فیصلے کرنے کے قابل بن سکیں۔
6۔ خود احتسابی اور فکر کی عادت
انسانی تربیت کا ایک اہم پہلو غور و فکر اور خود احتسابی کی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔ حضرت امام علیؑ کی تعلیمات میں تدبر اور فکر کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ آپؑ انسان کو اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ وہ اپنے اعمال کا جائزہ لے اور اپنی زندگی کے فیصلوں پر غور کرے۔ درحقیقت خود احتسابی انسان کو اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور انہیں درست کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ قرآن مجید میں بھی غور و فکر اور تدبر پر بار بار زور دیا گیا ہے۔ مختلف آیات میں انسان کو کائنات کے نظام، زندگی کے واقعات اور اپنے اعمال پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات میں فکری بیداری اور خود احتسابی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
جدید نفسیات بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ بچوں میں تنقیدی اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینا ضروری ہے۔ سوئس ماہرِ نفسیات Jean Piaget کے مطابق بچوں کی ذہنی نشوونما اس وقت بہتر ہوتی ہے جب انہیں سوچنے، سوال کرنے اور مسائل کے حل تلاش کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ لہٰذا والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں خود احتسابی اور غور و فکر کی عادت پیدا کریں تاکہ وہ مختلف مسائل کو سمجھ سکیں اور ان کے حل کے لیے مثبت اور تعمیری سوچ اپنائیں۔ اس طرح بچے ایک ذمہ دار، باشعور اور تخلیقی شخصیت کے طور پر معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
7۔ دنیا کی حقیقت سے آگاہی
حضرت امام علیؑ اپنی تعلیمات میں دنیا کی عارضی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے انسان کو اس کے دھوکے سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ آپؑ اپنے فرزند کو نصیحت کرتے ہیں کہ دنیا ایک عارضی منزل ہے اور اس کی ظاہری چمک دمک انسان کو حقیقت سے غافل نہ کر دے۔ اسی لیے آپؑ انسان کو اس بات کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کو اس طرح گزارے کہ اس کے اعمال آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بن سکیں۔ اسلامی تعلیمات میں بھی دنیا کی حقیقت کو عارضی قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دنیا کی زندگی کو ایک آزمائش قرار دیا گیا ہے، جبکہ اصل اور دائمی زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ اس تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ انسان دنیاوی خواہشات میں اس قدر نہ ڈوب جائے کہ وہ اپنی اخلاقی اور روحانی ذمہ داریوں کو فراموش کر دے۔ تربیتِ اولاد کے تناظر میں یہ اصول نہایت اہم ہے کہ بچوں کو دنیا کی حقیقت اور زندگی کے اصل مقصد سے آگاہ کیا جائے۔ اس سے بچوں میں اعتدال، قناعت اور ذمہ داری کا شعور پیدا ہوتا ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ بچوں کو یہ سمجھایا جائے کہ دنیا کی کامیابی صرف مادی ترقی میں نہیں بلکہ نیک اعمال، اچھے کردار اور اللہ کی رضا حاصل کرنے میں مضمر ہے۔
7۔ نصیحت کو قبول کرنے کی صلاحیت
حضرت امام علیؑ نصیحت اور خیرخواہی کو انسانی اصلاح کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ آپؑ کی تعلیمات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تربیت کے عمل میں حکمت، محبت اور نرمی کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ بچوں کے ساتھ سختی، غصے اور مسلسل تنقید کا رویہ اکثر منفی نتائج پیدا کرتا ہے، جبکہ نرم اور محبت بھرا انداز بچوں کو نصیحت قبول کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔اسلامی تعلیمات میں بھی نصیحت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کی دعوت کو خیرخواہی اور نصیحت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کی اصلاح کے لیے نصیحت ایک بنیادی ذریعہ ہے۔
جدید نفسیات بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ بچوں کی تربیت میں مثبت اور محبت بھرے انداز کو اپنانا چاہیے۔ اطالوی ماہرِ تعلیم Maria Montessori کے مطابق بچوں کے ساتھ احترام اور محبت کا رویہ ان کی شخصیت کی مثبت نشوونما میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ لہٰذا والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کی غلطیوں پر سخت ردعمل کے بجائے حکمت، صبر اور محبت کے ساتھ رہنمائی کریں تاکہ بچے نصیحت کو خوش دلی سے قبول کریں اور اپنی اصلاح کے لیے آمادہ ہوں۔
9۔ تقویٰ اور خدا شناسی کی تعلیم
اسلامی تعلیمات میں تقویٰ اور خدا شناسی کو انسانی تربیت کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ حضرت امام علیؑ کی تعلیمات میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان کی حقیقی کامیابی اس وقت ممکن ہے جب وہ اپنے رب کو پہچانے اور اس کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے۔ اسی لیے آپؑ نے اپنی اولاد کو نصیحت کرتے ہوئے سب سے پہلے تقویٰ اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کی تاکید فرمائی۔ قرآن مجید میں بھی تقویٰ کو انسان کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ متعدد آیات میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں اخلاقی اور روحانی تربیت کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔
تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی روحانی اور اخلاقی اقدار کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ جدید ماہرین تعلیم کے مطابق اگر تعلیم کے ساتھ اخلاقی اور روحانی تربیت شامل نہ ہو تو انسان کی شخصیت نامکمل رہ جاتی ہے۔ امریکی ماہر تعلیم John Dewey بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ انسان کی شخصیت کو اخلاقی اور سماجی طور پر بہتر بنانا بھی ہے۔ لہٰذا والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو اللہ کی معرفت، تقویٰ اور اخلاقی اقدار کی تعلیم دیں تاکہ ان کی شخصیت ایک مضبوط روحانی بنیاد پر استوار ہو سکے۔
10۔ والدین کا عملی نمونہ ہونا
بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ بچے اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں اپنے والدین کو ہی اپنا سب سے بڑا نمونہ اور رہنما سمجھتے ہیں۔ حضرت امام علیؑ کی تعلیمات سے بھی یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی عملی زندگی کے ذریعے بچوں کے لیے ایک اچھا نمونہ پیش کریں۔
تربیت کے عمل میں صرف نصیحت کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ عملی مثال پیش کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اگر والدین خود سچائی، دیانت اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں تو بچے فطری طور پر انہی صفات کو اختیار کرنے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر والدین کے قول و فعل میں تضاد ہو تو بچوں کی شخصیت میں بھی الجھن اور تضاد پیدا ہو سکتا ہے۔
جدید نفسیات میں بھی مشاہداتی سیکھنے (Observational Learning) کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ معروف ماہر نفسیات Albert Bandura کے مطابق بچے دوسروں کے رویوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں اور اکثر اپنے قریبی افراد کی نقل کرتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق والدین کا کردار بچوں کی شخصیت سازی میں نہایت مؤثر ہوتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ والدین اپنے کردار، طرزِ گفتگو اور طرزِ عمل کے ذریعے بچوں کے لیے ایک مثبت اور مثالی نمونہ پیش کریں تاکہ بچے عملی طور پر اچھے اخلاق اور اعلیٰ اقدار کو اپنانے کے قابل بن سکیں۔
11۔ اعتدال اور نظم و ضبط کی تعلیم
انسانی زندگی میں اعتدال اور نظم و ضبط کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ حضرت امام علیؑ کی تعلیمات میں بھی میانہ روی اور توازن کو ایک اہم اخلاقی اصول کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آپؑ انسان کو اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال اور نظم و ضبط کو اختیار کرے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی اعتدال کو ایک بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں امتِ مسلمہ کو “امتِ وسط” یعنی اعتدال پسند امت کہا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں توازن اور میانہ روی اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
تربیتِ اولاد کے تناظر میں بھی نظم و ضبط کی تعلیم نہایت ضروری ہے۔ اگر بچوں کو ابتدا ہی سے وقت کی پابندی، ذمہ داری اور نظم و ضبط کی عادت سکھائی جائے تو وہ مستقبل میں ایک منظم اور ذمہ دار شخصیت کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔تعلیم کے میدان میں بھی نظم و ضبط کو اہمیت دی گئی ہے۔ معروف ماہر تعلیم Maria Montessori کے مطابق بچوں کی صحیح نشوونما کے لیے ایسا تعلیمی ماحول ضروری ہے جس میں آزادی کے ساتھ نظم و ضبط بھی موجود ہو۔ ان کے مطابق متوازن تربیت بچوں میں خود نظم و ضبط (Self-discipline) پیدا کرتی ہے۔ لہٰذا والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت میں اعتدال، ذمہ داری اور نظم و ضبط کی عادت پیدا کریں تاکہ وہ ایک متوازن اور باکردار شخصیت کے طور پر پروان چڑھ سکیں۔
12۔ علم اور حکمت کی طرف رہنمائی
اسلامی تعلیمات میں علم کے ساتھ حکمت کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے۔ حضرت امام علیؑ کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ علم انسان کو بصیرت عطا کرتا ہے جبکہ حکمت اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنے کا شعور فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے آپؑ نے اپنی نصیحتوں میں علم کے حصول کے ساتھ ساتھ حکمت اور دانائی کو بھی ضروری قرار دیا۔ قرآن مجید میں بھی علم اور حکمت کو اللہ کی بڑی نعمت قرار دیا گیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے کہ جسے حکمت عطا کی گئی اسے بہت بڑی بھلائی عطا کی گئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان کو نہ صرف علم فراہم کرے بلکہ اسے صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی عطا کرے۔
جدید تعلیمی نظریات میں بھی تنقیدی سوچ اور حکمت پر زور دیا گیا ہے۔ امریکی ماہر تعلیم John Dewey کے مطابق تعلیم کا مقصد صرف معلومات کا حصول نہیں بلکہ انسان میں تنقیدی سوچ، فہم اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بچوں کو صرف معلومات فراہم کرنے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں حکمت، بصیرت اور دانش مندی کے ساتھ زندگی کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی تربیت بھی دی جائے تاکہ وہ ایک باشعور اور ذمہ دار فرد کے طور پر معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
خلاصہ
مندرجہ بالا بحث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نہج البلاغہ میں حضرت امام علیؑ کی تعلیمات صرف مذہبی یا اخلاقی نصیحتوں تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے ایک جامع تربیتی نظام پیش کرتی ہیں۔ نہج البلاغہ کے خطبات، خطوط اور کلماتِ قصار میں بیان کیے گئے اصول انسان کی روحانی، اخلاقی، فکری اور سماجی تربیت کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ خصوصاً خط نمبر 31 میں امام علیؑ نے اپنی اولاد کو مخاطب کرتے ہوئے جو نصائح بیان فرمائی ہیں، وہ دراصل ایک مکمل تربیتی منشور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان تعلیمات میں تقویٰ اور خدا شناسی، علم اور حکمت کا حصول، اخلاق و ادب کی تربیت، اچھے ماحول اور صالح صحبت کا انتخاب، والدین کا عملی نمونہ بننا، اعتدال اور نظم و ضبط کی پابندی اور ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرنے جیسے بنیادی اصول شامل ہیں۔ یہ اصول نہ صرف اسلامی تعلیمات کی روح کے عین مطابق ہیں بلکہ جدید تعلیمی نظریات سے بھی گہری مطابقت رکھتے ہیں۔
جدید ماہرینِ تعلیم اور مفکرین جیسے فروبل، مونٹیسوری، ڈیوئی اور پیاجے نے بھی بچوں کی ابتدائی تربیت، تجرباتی تعلیم، اخلاقی نشوونما اور مثبت سماجی ماحول کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اسی طرح جدید تعلیمی نظریات جیسے Character Education اور Moral Development بھی بچوں میں اخلاقی اقدار، سماجی ذمہ داری اور مثبت کردار کی تشکیل کو بنیادی مقصد قرار دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو نہج البلاغہ میں بیان کیے گئے اصول نہ صرف ان نظریات سے ہم آہنگ ہیں بلکہ کئی اعتبار سے ان سے زیادہ جامع اور ہمہ گیر نظر آتے ہیں، کیونکہ ان میں روحانی، اخلاقی اور سماجی تربیت کو ایک متوازن انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح اگر موجودہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بھی ابتدائی تعلیم، اخلاقی اقدار، تنقیدی سوچ اور ہمہ جہتی شخصیت کی تشکیل پر خاص زور دیا گیا ہے۔ یہ تمام پہلو نہج البلاغہ کی تعلیمات میں پہلے ہی موجود نظر آتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ نہج البلاغہ میں بیان کردہ تربیتی اصول نہ صرف اسلامی تعلیمات کا عکاس ہیں بلکہ جدید تعلیمی نظریات اور پالیسیوں کے لیے بھی ایک مؤثر فکری بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اگر ان اصولوں کو عملی زندگی اور تعلیمی نظام میں اپنایا جائے تو نئی نسل کی اخلاقی، فکری اور سماجی تربیت کو بہتر انداز میں ممکن بنایا جا سکتا ہے اور ایک متوازن، باکردار اور باشعور معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
اختتامیہ
خلاصہ یہ کہ نہج البلاغہ میں حضرت امام علیؑ کی تعلیمات انسان کی ہمہ جہتی تربیت کے لیے ایک جامع اور متوازن نظام پیش کرتی ہیں۔ ان تعلیمات میں روحانیت، اخلاقیات، علم، حکمت اور سماجی ذمہ داری کو یکجا کر کے ایک ایسے انسان کی تشکیل کی طرف رہنمائی کی گئی ہے جو نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کرے بلکہ معاشرے کی بہتری میں بھی مثبت کردار ادا کرے۔ تربیتِ اولاد کے حوالے سے نہج البلاغہ میں بیان کیے گئے اصول اس قدر جامع اور دور رس ہیں کہ وہ ہر زمانے اور ہر معاشرے کے لیے قابلِ عمل رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اگر ان اصولوں کا تقابل جدید تعلیمی نظریات اور فلسفیانہ افکار سے کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ نہج البلاغہ کی تعلیمات نہ صرف ان نظریات سے ہم آہنگ ہیں بلکہ کئی پہلوؤں میں ان سے زیادہ وسیع اور جامع نظر آتی ہیں، کیونکہ ان میں اخلاقی اور روحانی پہلو کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسی طرح موجودہ تعلیمی پالیسیوں، خصوصاً قومی تعلیمی پالیسی 2020، میں بھی ہمہ جہتی شخصیت سازی، اخلاقی اقدار اور ابتدائی تربیت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، جو نہج البلاغہ کے تربیتی اصولوں سے نمایاں مماثلت رکھتی ہے۔ لہٰذا اگر والدین، اساتذہ اور تعلیمی ادارے نہج البلاغہ کی تعلیمات کو اپنی تربیتی حکمت عملی کا حصہ بنائیں تو نہ صرف بچوں کی شخصیت متوازن اور باکردار بن سکتی ہے بلکہ ایک ایسا معاشرہ بھی تشکیل پا سکتا ہے جو علم، اخلاق اور انسانیت کی اعلیٰ اقدار پر قائم ہو۔
حوالہ جات
[1] سید رضی، نہج البلاغہ، ترجمہ: مفتی جعفر حسین، لاہور: ادارہ ترجمان القرآن[2] سید رضی، نہج البلاغہ، خط نمبر 31
[3] سید رضی، نہج البلاغہ، خطبہ نمبر 79
[4] مطہری، مرتضیٰ، تعلیم و تربیت در اسلام
مقالہ نگار: ڈاکٹر برکت حسین پرہ
اسسٹنٹ پروفیسر، ایجوکیشن، کرگل کیمپس، یونیورسٹی آف لداخ




