مقالاتنهج البلاغه مقالات

حقیقت موت

آغا محمد محسن عادلی

’’کیف تکفرون باللہ وکنتم أمواتاً فأحیاکم ثمّ یمیتکم ثمّ یحییکم ثمّ الیہ ترجعون‘‘ بقرۃ، ۲۸
کیونکہ تم خدا کا انکار کرسکتے ہو حال آنکہ تم (ماؤں کے پیٹ میں) بے جان تھے تو اسی نے تم کو زندہ کیا پھر وہی تم کو مار ڈالے گا پھر وہی تم کو (دوبارہ قیامت میں) زندہ کریگا پھر اسی کی طرف لوٹا نے جاؤگے۔

موت کا معنا لغت میں: مرنا ،یعنی فوت ہونا، فا تا یفوت فوتاََ و افواتاً گذرنا، کام کرنے کا وقت جا تا رہنا۔
اقسام موت:
انواع الموت بحسب أنواع الحیاۃ، موت کے حداقل پانچ معنا ہے:
۱۔ موت قوّۃ نامیہ کے مقابلے میں جو انسان و حیوان اور نباتات میں پائی جاتی ہے۔
’’یحیی الأرض بعد موتھا ‘‘
روم، ۱۹
۲۔ قوّۃ حاسیہ کی زوال کو بھی موت کہا جاتا ہے۔
’’ یا لیتنی مِتّ قبل ھذا‘‘
مریم، ۲۳
۳۔ قوّۃ عاقلہ کی زوال کو بھی موت کہا جاتا ہے، یعنی جہالت۔
’’أو من کان میتاً فأحییناہُ‘‘
انعام، ۱۲۲
۴۔حُزن جو مکدّر ہے حیاۃ کے لیے کو موت کہا جاتا ہے۔
’’و یأتیہ الموتُ من کلّ مکانٍ وما ھو بمیّت‘‘
ابراہیم، ۱۷
۵۔نیند موت کا چھوٹا بھائی ہے، اور موت بڑھی نیند ہے۔ دونوں کو خداوند عالم نے تَوَفّیاًکہا ہے۔
’’و ھو الّذی یتوَفّاکم باللّیل‘‘
انعام، ۶۰
موت کا معنا اصطلاح میں: سلب حیاۃ
موت کے مقابلے میں حیاۃ ہے، حیات کے چھے معنا ہے لیکن موضوع ہماری حیات نہیں کہ تمام معنوں کو ذکر کروں اور تحلیل کروں۔ صرف ایک معنا جو موت کا پہلا معناہے۔ یعنی وہ موت جو قوۃ نامیہ کے مقابلے میں ہے جو انسان، حیوان اور نباتات میں پائی جاتی ہے۔
اوّل مرحلہ:
تمام مخلوقات الہی چاہے وحدانیت پروردگار کا قائل ہو، یا وحدانیت خداوند کا قائل نہ ہو۔ ہر صورت میں سب مخلوقات اس بات پر متفق ہے کہ اس جہان سے گذرناہے۔ ہم اس دنیا میں، ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آئے ہے ۔ ہر چیز کی انتہاء ہوتی ہے، فقط وہ ذات باریتعالیٰ ہے جسکی نہ ابتداء اور نہ انتہا ، ابد سے ہے اور ابد تک رہیگا۔
دوسرا مرحلہ:
جب انسان قائل اور قبول ہے کہ اس جہان میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آئے۔ اس مرحلہ میں انسان عقیدے کے لحاظ سے دو حصّوں میں تقسیم ہوتا ہے۔
خداوند عالم کی وحدانیت کے قائل، وہ لوگ ہے جو خداوند عالم کو خالق کائنات جانتے ہیں اور اس دنیا کو مثل پُل اور گذرگاہ سمجھتے ہیں۔ ’’الدّنیا مزرعۃ الآخرۃ‘‘
حیاۃ کی دو قسم ہے: حیات دنیوی و حیات اخروی۔
حیات دنیوی: انسان کا اس دنیا میں خداوند کی وحدانیت کو قبول کرنا اور ایمانداری سے دنیا میں لوگوں کی خدمت کو اپنا مشن بناکر زندگی گذارے اور اس کا عمل عین حکم خداوند و روایت معصومین (ع) کے مطابق ہو۔ خداوند تعالیٰ سورہ الرعدآیۂ ۲۶ میں فرماتے ہیں: ’’وما الحیاۃ الدّنیا فی الآخرۃ الاّ متاعٌ‘‘
حیات اخروی: حیات اخروی سے مراد، انسان جس ہدف کے لیے خلق ہواتھا، اپنے مقصود پر پہنچ جائے۔ یعنی دنیا میں و رضایت الہی کو کسب کرکے دنیای اخروی کو خرید لیاہو۔
امّا وہ لوگ جو خداوند عالم کی وحدانیت کے قائل نہیں اور خداوند کو رازق و خالق جبّار و قہار کے قائل نہیں۔ یہ لوگ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، جب ان کے سامنے موت نظر آتی ہے تو حاضر ہوتے ہیں ساری دنیا کو دیکر ایک لحظہ کے لیے چند نفسیں خداوند زیاد دیں۔ موت کو اور نزدیک دیکھ کر بلک بلک کر رونا شروع کردیتے ہیں۔ کیونکہ وہ لوگ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ دنیا کی زرق و برق چیزیں ان پر غالب آتی ہے۔ خداوند فرماتے ہیں: ’’فأمّا مَن طغیٰ و آثر الحیاۃ الدّنیا‘‘ (نازعات، ۳۸)
امام (ع) موت کی تعریف خطبہ ۵۱ میں اس طرح فرماتے ہیں :
’’فالموت فی حیاتکم مقھورین‘‘ تمہارا ان سے دب جانا، جیتے جی موت ہے۔
’’والحیاۃُ فی موتکم‘‘ اور غالب آکر مرنا بھی جینے کے برابر ہے۔
مرکے جینا اور جی کے مرنا:
کبھی حقیقی معنا انسانوں کے لیے زندگی اور موت سے بڑھ کر دوسری چیز نہیں۔ قضیہ فقط یہ نہیں کہ موت اور زندگی کو جاننا صحیح رابطہ جو ان کے درمیان ہے جانا، یہ نہیں ، بلکہ یوں کہا جاسکتاہے رابطہ زندگی اس دنیا میں اور حیات ابدی اس دنیا میں شبیہ رابط علت و معلول ہے۔ پس جب تک انسان علت کو حقیقی معنوں میں شناخت نہ ہو تو معلول کی شناخت بی معناہے۔ علاوہ اس کے، مسامحہ اور بی اعتنائی کرنااس دنیا، یہ موجب بنتے ہیں کہ انسان بہت بڑی اہمیت والی چیز کو ہاتھ سے دھو بیٹھناہے۔ وہ موضوع جو مشیت الہی سے اس جہان ہستی میں آنے کا شرف ہمیں حاصل ہوئی۔
خداوند عالم نے اپنی روح ہم میں پھونک کر ہمیں اس جہان ہستی میں بھجا، ’’نفختُ فیہ من روحی‘‘ ۔ انسان کا خسارت میں ہونا فقط یہ نہیں کہ سعادت ابدی کو شقاوت میں تبدیل کرنا۔ بلکہ وہ عظمت و جلالت انسان نے اپنی نااہل کی وجہ سے ہاتھ دھوبیٹھا۔ و سرمایہ گراں قیمت جس کی محصول خداوند عالم مطلق کمال سے رابطہ تھا۔
یہ شخص کہہ گا: بالغرض اگر خداوند اتنا رحیم و غفور و کریم ہے لذا، آخرت میں عذاب سے صرف نظر کریں گے۔ یہ شخص متوجہ نہیں ہواہے کہ انسان نے کامل رشدکی ہے، دوسروں سے زیادہ رحمت، کرامت، محبّت خداوند پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود اپنی زندگی میں پوری کوشش و تلاش و سعی کرتے ہیں، تا کہ اس راہ پر اصول عالی انسانی اور دستورات خداوندی پر بطور أحسن عمل ہو۔
ان کی کوشش و تلاش فقط اس لیے نہیں کہ کل سعادت ابدی کے بجائے شقاوت ابدی میں مبدل ہو جائے۔ بلکہ اپنی قدرت حیات سے زیادہ سے زیادہ نفع لینا ہے۔ اگر بی اعتنائی ہو تو عالیترین امتیازات الہی ہاتھ سے کھوبیٹھے گا۔
پس اس مقدمہ سے امیرالمؤمنین (ع) کی اس فرمان کہ حیات مقہور اور شکست کھانا دشمنی کے مقابلہ میں بطور عام یہ عوامل مزاحم حیات معنوی مرگ ہے اور بالعکس۔ وہ لوگ جو اپنی زندگی کی انتہا معنوی ہو۔ حقیقی حیات و زندگی ہے، یہ حیات معنوی ارزش مند ترین و عظیم ترین نعمت الہی ہے۔ کہ اس کی شیطان ملعون کے مقابلے میں حفاظت و نگہداری ہو۔
دوسری عبارت میں:
امام (ع) اس خطبہ میں دو مہم نکتہ کی طرف اشارہ فرماتے ہیں: دشمن کا مقابلہ نہ کرنا ، یعنی ذلت کی موت کو سینہ سے لگانا ہے۔ اس لیے ہر قسم کے دشمن کے مقابلے میں ضعیفترین حیوان بھی اس کے مقابلے میں اٹھ کھڑا ہوتا ہے، کہ اپنے حق سے دفاع کر سکیں۔
خداوند عالم بھی مظلوموں کی دفاع کا عہد کیا ہے۔ کیونکہ مورد ظلم و ستم واقع ہوا ہے، جنگ کی اجازت دی ہے۔ یہ وہی غریزہ دفاعی ہے، کہ جو حیوانات میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسلام میں مظلوموں کو جنگ کی اجازت دینا، ایک ایسا امتیاز ہے جو کلیسا اس غریزہ کو سرکوب کرتی ہے۔ اور لڑکیوں و لڑکوں کو رہبانیت کی صورت میں جنگ و دفاع سے مبارزہ کرتی ہے۔
امام (ع) نے زندگی کو جو ذلت کے ساتھ جامعہ میں بی اثر رہنے کو موت۔اور موت جو با عزت ہو، سعادت بخش اور افتخار آفرین ہے۔ کوئی اگر مظلومانہ مارا جائے تو خداوند عالم اس کے خون کا بدلہ لیگا۔ اگر چہ ظاہراً شہید ہواہے، مگر حقیقت میں وہ لوگ زندہ ہے اور خداوند کے پاس رزق کھا رہے ہیں، ’’اولئک ہم یُرزقون‘‘۔

فلسفۂ خلقت
امام (ع) خطبہ ۶۳ میں فرماتے ہیں:
’’واتقوا اللہ عباداللہ۔۔۔ و استعدوا للموتِ بما یزول عنکم‘‘
امام (ع) کے اس خطبہ میں دو مطلب کی طرف انسان کی نظر جلب کر لیتے ہیں:
مطلب اوّل: امام (ع) انسان کو متوجہ کررہاہے کہ انسان بی جہت خلق نہیں ہوا۔ بلکہ خدا کی عنایت انسان پر ہے ، ’’لقد خلقنا عبثاً۔۔۔، آیا گمان کرتے ہو ہم نے تمھیں بیہودہ خلق کیا ہے۔ ہماری طرف پلٹ کر نہیں آؤ گے‘‘۔
کوئی اپنی خلقت اور خلق کرنے کی علت جو جانتیں تونہ خدا کو فراموش کریگااورنہ قیامت اور سب سے اہم اپنے وظیفہ کو۔
دوسرا مطلب: انسان کے اعمال کا گواہ اس کی عمر ہے اور یہ بہت ہی اہم اور حساس نکتہ ہے۔ روایات میں بھی صریحاً ذکر ہوا ہے اور خداوند نے قرآن مجید کے مختلف آیتوں میں اس کا ذکر فرمایاہے۔ خصوصاً اس آیہ میں روشن و واضح بیان فرمایاہے: ’’ قیامت کے دن زمین خداکی نور سے روشن ہوگی، نامہ اعمال رکھے جاینگے۔ پیامبران الہی اور گواہوں کو لایاجائے گا اور کسی پر ظلم ہوئے بغیر حق کی بنا بر قضاوت ہوگی‘‘۔
اور گواہوں میں سے ایک دن رات ہے جو اچھے اور بُرے اعمال کی گواہی دے گی۔ قیامت کی ناموں میں سے یوم الحسرۃ (روز حسرت) ہے ۔ کیوں؟ اس لیے جب انسان اپنے نامہ اعمال کو دیکھتے ہیں تو حسرت سے دل بھر جاتاہے۔ اور ناچار کہہ اُٹھتے ہیں کاش میرے اور اعمال کے درمیان زیادہ فاصلہ ہوتا۔ کیونکہ روز قیامت ہر انسان اپنے اچھے اور بُرے اعمال کو سب دیکھیں گے۔
واقعاً اگر کسی کو ایسے ناخوشگوار دن کی فکرمند ہو تو گناہوں سے پرہیز اور واجبات کو انجام دیں گے۔ یعنی در واقع موت اور اچھے اعمال کے درمیان مقابلہ و مقایسہ ہے۔ اگر انسان اور اس کی اعمال صالحہ جیت جائیں اور انجام پائے، تو اس نے اپنی دنیا عارضی و فانی کے ذریعے دنیای اخروی و جاویدانی کو خرید لیا۔ امّا اگر موت جیت تو پھر انسان کی پشیمانی انسان کو کچھ بھی فایدہ نہیں دے سکتی۔ کیونکہ اس دنیا میں انسان کو اعمال کے مناسبت سے پاداش دینا ہے۔
اعمال صالح و نیک ہو تو، ثواب و نعمتہای الہی سے ہزار بلکہ اصلاً قابل قیاس نہیں۔ ان نعمتوں سے جو اس دنیا میں اس کو ملی ہے میلے گی۔ اما اگر گناہوں سے اس کے نامہ اعمال پُر ہو تو، عذاب الہی میں گرفتار ہو جائیں گے۔

’’فاتقوا اللہ۔۔۔ و استعدوا للموت فقد اظلکم۔۔۔‘‘
’’اے بندے خدا، خدا کے لیے تقویٰ اختیار کرو، اعمال کے ذریعے سے اپنی حیات کی انتہا کرو‘‘
ہر وہ چیز جو تمہارے لیے ہمیشہ رہے گی اس کو اپنااس کو مقابلہ میں جو جلد ہی فنا ہونے والی سے جتنی جلدی ہو سکے اعمال خیر انجام دو تمہاری عمر کی انتہاء پہنچنے سے پہلے۔ اور ہمیشہ اپنے آپ کو مرنے کے لیے آمادہ رکھو، کیونکہ موت ہمیشہ تم پر سایہ کیے ہوئے ہیں۔
اگر ہم اس خطبہ کی شروع اور انتہاء تک ایک سرسری نگاہ ڈالی جائے تو مولای کائنات ، ابتداء تقویٰ سے شروع فرماتے ہیں۔ پھر انسان کو آمادہ اور ہوشیار کررہے ہیں ۔ کہ اے انسانوں جاگے رہو! یہ دنیاابدی نہیں، گذرنے وال ہے۔ جانتا ہوں یہ توجہ اور تنبہ فقط اس لیے نہیں کہ موت آئے گی۔ یہ تو سب کو معلوم ہے، کیونکہ یہ تو واضح اور روشن ہے ، توضیح کی محتاج نہیں۔
بلکہ توجہ کرناضرورت ہے، اس لیے کہ انسان کو اصلی اور واقعی زندگی سے آگاہ کرناہے۔ تاکہ ان کی زندگی دنیای ہوس پرست کی آگ میں جل رہی ہے۔ اس کی دلیل دہ ہا آیات و روایات ہے جسمیں ہم پایان حیات اور عمل نیک کی طرف ترغیب دیتی ہے۔
پس اس زندگی کی اہمیت، قیمت و عظمت جانیں۔عقل اور وجدان سے زندگی موقت سے زندگی ابدی کو سنواریں۔ کیونکہ اس زندگی و دنیا سے گذرجانے کے بعد پلٹ کی راہ نہیں، بلکہ فقط افسوس ہی افسوس ہے اور وہ بھی سودمند نہیں۔
فانّ اللہ سبحانہ: ’’یخلقکم عبثاً و لم یترککم سدیً‘‘
’’ قطعاً خداوند عالم تمھیں عبث خلق نہیں کیا، اور تمھیں بیہودہ آزاد نہیں چھوڑا‘‘

بیہودگی کا احساس
انسان بیہودگی کا احساس کرنا اپنی زندگی میں یہ روانی اختلالات کی وجہ سے یا حقایق کو درک کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ جو اتنی گستردہ انسان کی آنکھوں کے سامنے سے گذرتی ہے۔
خداوند عالم ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لیے فرماتے ہیں:
’’انّہم یرونہ بعیداً و نراہ قریباً‘‘
ہاں! وہ لوگ جو اپنے آپ کوکشش زمان میں ڈھبودیا ہے اور زمان کا جزء بنا ہے۔ یہ لوگ فقط قیامت، بہشت و دوزخ کو بہت بہت ہی دور سمجھتے ہیں۔ ’’و ما اظن الساعۃ قائمۃ‘‘، گمان نہیں کرتا ہوں قیامت برپاہو۔
امّا وہ لوگ جو رشد فکری رکھتے ہیں، کامل موفق ہواہے۔ جو اپنے آپ کو زمان سے جدا کیا۔ اور تمام واقعیات کو زنجیر کی طرح تمام علل و عوامل اور عمل و عکس العمل کو اپنی نظر سے دیکھا، تو ان کی نظر میں موت، قیامت، بہشت و جہنم کو بہت نزدیک دیکھا۔ ایسے لوگ متقین میں سے ہے جن کی صفت مولای کائنات نے صفات متقین میں فرمایا:
ان کی گفتگو بے ہدف و لغو نہیں۔ ان چیزوں سے آنکھ بند کرتے جن کو خدا نے ان کے لیے حرام قرار دیا۔ کان دھرتے ہیں ان علم پر جو ان کے لیے منافع بخش ہے۔ جب ان پر بلا نازل ہوتے ہیں ،تو بھی اس طرح رہتے ہیں، گویا در حال آرام و راحت میں ہوتی۔خداوند کی عظمت ان کی دلوں میں بیٹھی ہے اور جنّت کی نعمتوں سے سرفراز ہو رہا ہے۔
’’و تحدوا بالموت جیرانَھا۔۔۔‘‘
امام (ع) خطبہ ۵۲ میں کلاً تین بخش سے صحبت فرماتے ہیں:
اوّل: اس بخش میں زہد اور ارزش زہد، یعنی وابستہ نہ ہونا دنیا سے، اور توجہ اس سے کہ یہ دنیا جلدہی گذر جانے والی ہے۔ اور انسان متقی اپنی زندگی کو
ایک بہت بڑی اور طولانی پایان نیافتنی کے لیے آمادہ کرنا۔ اور راہ طولانی کیلئے اعمال صالح کا ذخیرہ کرنا۔
بخش دوم: پاداش اور ثواب بی پایان جو زاہد ان کے منتظر ہے بیان فرماتے ہیں۔
بخش سوم: اس بخش میں ایسے واقعیت کو بیان فرماتے ہیں کہ انسان اصلاً قدرت نہیں رکھتا کہ شکر منعم کریں۔ شکر نعمتوں جو خداوند عالم نے انسان کی وجود کو مملو کیا ہوا ہے، مخصوصاً بالا ترین نعمت ایمان کا۔
خلاصہ ترجمہ: آگاہ ہو جاؤ دنیا کی انتہاء کا اعلام کیا ہے۔ اس کی خوبصورتی اور بدی بہت جلد ہی ختم ہوجائیگی ۔ شاید کہیں بھی افراد عاقل نہیں ملتا، جو یہ سوچے کہ دنیا جاویدان اور ابدی ہے اور مرگ و موت کی نام کی کوئی چیز نہیں۔ بلکہ سب جانتے ہیں کہ دنیا فانی ہونے والی چیز ہے۔ تمام أنبیاء الہی و تمام آسمانی کتابوں میں احادیث اور مخصوصاً کتاب مقدس نہج البلاغہ میں امام (ع) فرمایا ہے: انسان کی حیاۃ اور زوال دنیا کی علت کیا ہے؟
اساسی ترین علت یہ اسرار اور تأکید و تذکر قطعاً توضیح کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک بہت بڑی حکمت منظورہے۔ کہ دنیا کی وجود اس حکمت بغیر تصور ممکن نہیں۔
مطلب کو بیان کرنے سے پہلے ایک مقدمہ بیان کرتاہوں۔ تمام انسان اس بات کو قبول کرتے ہیں، کہ یہ زندگی جاویدانی نہیں ،بلکہ یہ زمین جس پر ہم چلتے ہیںکل کو اس کے اندر بصورت کی صورت میں وہ ہمارے لیے لباس اور آرامگاہ ہوگی۔ اور ایک ایسا وقت آئیگی کہ ہمارا بدن خاک میں تبدیل ہوگا۔ اس کے باوجود انسان اس دنیا کی ظاہری اور جلدہی گذرنے والی اشیاء کو دیکھکر موت کو بھول جاتے ہیں۔ انسان اپنی زندگی میں یقین اور محکم ترین موجود کا انکار کرتے ہیں۔
’’ما أشبہ الیقین بالشک، کیا یقین جو شبہ بہ شک‘‘
جب تک انسان کی آنکھ پر حیات کی عینک ہوگی تو، فقط دنیا اور دنیا کی رنگین زندگی ہی کاتصور ذہن میں رہتاہے۔ جب قبرستان سے گذرتے ہیں تو ایک حالت روانی پیدا ہوتی ہے۔ اس حالت پر دقت کروگے تو بڑی آسانی سے سمجھوگے کہ تمہاری وہ نگاہ جو فقط حیات کی تھی تبدیل ہوگئی ہے۔
بلکہ دوسری نگاہ میں دنیا کو تصور کررہے ہو۔ کیونکہ مطلق خاموشی اور خاک میں دفن ہونے والوں کی حالت ظاہری ایک جیسے ہے۔ اور یہ حالت، حالت حیات کو کم رنگ بلکہ نہ ہونے کے برابر کردیتی ہے۔ دل سے ٹھنڈک آہ نکلتی ہے اوردل و عقل کسی اور سوچ میں مبتلا ہوتے ہیں۔
سوچنے میں مجبور ہوتے ہیں کہ یہ زندگی کتنی بی اعتبار و بی اساس اور سست ہے۔ واقعاً یہ دنیا کتنی بی وفا و بی رحم ہے۔ اما جیسے ہی قبرستان سے باہر نکل آؤ گے یا ایک احضار ہونے والے شخص کے سرانے سے اٹھ جاوگے، دوبارہ زندگی عادی میں پلٹ آتے ہیں۔ اور وہی عینک عادی آنکھ پر لگا کر دوبارہ مرنااور فنا ہونے کو بھلا دیتے ہو۔
امّا بہت ساری حکمت آمیز جو موجب اصرار شدید قرآن و نہج البلاغہ اور دوسری احادیث معتبرہ میں مرنے کی یاد تازہ کردیتی ہے۔ بہت ساری مسائل کو بیان کی ہے۔ یہاں پر چند کو مختصراً بیان کرتے ہیں:
۱۔ ایک واقعیت ہے کہ تمام فرزندان آدم کوموت کا ذائقہ چکناہے، ’’کلّ نفس ذائقۃ الموت‘‘۔ اس میں سُوی کے برابر بھی تفاوت نہیں۔ سب کو اس وسیع وعریض زمین پر دو میٹرکی زمین نصیب ہوگی۔ اور دنیامیں ہمیشہ رہنے والی عقیدہ فقط خواب اور خیال تھا اور اپنی پوری زندگی کو ہوسرانی اور لذت میں گذاردی، یہ اشتباہ تھا۔
۲۔ انسان جب سوچتے ہیں کہ یہ زندگی گذر جانے والی ہے اور یہ مال و دولت ،مقام و منزلت، سب فنا ہونے والی چیز ہے ۔ اس کی نصیب مال و منال دنیا میں محدود ہے، جتنا بھی دولت و مقام وہ حاصل کروگے۔ بالآخرہ ایک دن ہاتھ سے جانا ہے فقط و فقط دو گز میٹر کپڑا اس کی قسمت میں ہوگا۔
یہ حکمت عالی اصرار اور توجہ کے ساتھ انسان عاقل کیلئے بس، کہ یہ دنیاانقراض ہونے والی شیء ہے اور اعتبار نہیں رکھتی۔
۳۔ امّا شخص عاقل کی یہ کوشش ہوتی ہے، جتنا بھی ہوسکے اس دنیای فانی سے زیادہ سے زیادہ آخرت کے لیے کسب و جمع کی جائے۔جب انسان جان لیے کہ یہ دنیامحدود ہے اورواپسی بھی نہیں، تو مسامحہ کے بغیر فرصت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اور ہرگز اپنی عمر کو رایگان جنے نہیں دیتا۔
’’وقد أمر فیھا ماکان حلوا و کدر منھا ما کان صفواً‘‘
’’دنیانے اپنی میٹھاس کو کڑوا اور صاف کو دُھندلا بنادی ہے‘‘
’’اوصیکم بتقوی اللہ۔۔۔ أو لدفع الموت سبیلاً لکان ذلک سلیمان بن داودؑ‘‘
خطبہ ۱۸۱
امام (ع) اس خطبہ میں دنیا کی بی ارزش کی طرف توجہ دے رہے ہیں ۔قدرت ہاتھ سے اور عظمت نابود ہو جائیگی۔ امام (ع) ہمیں قبول وانے کے لیے مثال دے رہے ہیں۔ دنیا کی قدرتمندترین شخص جہان حضرت سلیمان بن داودؑ تھے امّا پھر بھی موت کی منہ سے اپنے آپ کو نہ بچاسکا۔
جب کہ اپنی قدرت کو اسلام دین اور حکم خدا کے خلاف استعمال نہیں کرتے تھے، پھر بھی موت نے ان کو آلیا۔ قدرت کا اندازہ اس سے کرسکتے ہوو حتّیٰ جنیّاں بھی خدا کی حکم سے حضرت سلیمان کے لیے کام کرتے تھے، عبادتگاہ بناتے تھے،اور دوسری ساختمان۔ امّا پھر بھی اتنی قدرت نہ تھی کہ موت کو آنے سے روک لے سلیمانؑ اور ان کے تمام نوکر اور کارگزار سب موت کی منہ میں چلے گئے۔ حتّیٰ حضرت سلیمانؑ اپنے محل کے چھت پر عصا کو ٹیک لگاکر حکم خدا سے لبیّک کہہ چکے تھے۔ امّا حضرت کے کارگزاروں کو معلوم نہ تھا پھر بھی ان کی اطاعت کرتے تھے ۔ کسی کی جرأت نہ تھی ان کے حکم کی خلاف عمل کریں۔ یہاں تک کہ موریانہ نے عصا کو کھائی تو حضرت سلیمانؑ گِرپڑے۔ تو سمجھے کہ سلیمان نبیؑ پر موت آچکی۔
ابن ابی الحدید، عمالقہ کے بارے میں لکھتے ہیں : ’’وہ یمن اور حجاز کی سرزمین پر حکومت کرتے تھے۔ ظلم اور فساد کی اتنی حدّ کو پہنچادی تھی کہ کوئی بھی امان میں نہ تھا‘‘۔
حتّیٰ عروسان عاد و ثمود کے بارے میں لکھتے ہیں : ’’یہ لوگ حضرت نوحؑ کے اولاد سے اور ان سے شدّاد ہے۔ سرزمین احقاق (منطقہ عمان) میں زندگی کرتے تھے‘‘۔ خداوند عالم احقاف اور عاد کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ہود پیامبرؑ ان سے تھے جتنا ان کو سیدھے راستے پر ہدایت کرتے امّا ان پر اثری نہیں ہوتا تھا‘‘۔
فرعون اور فرعونیان، بہت پہلے سے چلے آرہی تھی ان کل نسل مصر پر حکومت کرتے تھے۔ داستان حضرت یوسفؑ اور حضرت موسیٰؑ اسی سلسلہ سے ہیں۔ سورہ یوسف اور قصص نمونہ اور مثال ہے فرعونیوں کی۔
خداوند عالم قرآن کریم میں اصحاب رس کے بارے میں دو جگہ پر فرمایا: ’’ اصحاب رس کے بارے میں حتمی ہے ۔ وہ لوگ اپنے پیامبروں کو کنویں میں گلہ گونڈ کر شہید کیا۔ امّا کس زمان میں اور کہاں تھے محل اختلاف ہے۔امّا یہ کہ خاورمیانہ میں ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔ شام میں تھے یا یونان میں معلوم نہیں۔
ابن ابی الحدید مطلبی بیان کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتاہے کہ یونان اور ترکیہ سے نزدیک تھے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’رس ایک نھر (یا نالہ) کا نام ہے جو دریای خزر میں گرتے ہیں۔ اس کی بات تا حدود قابل تائید ہے ، ارس جو فعلاً دریای خزر میں گرتے ہیں ہمزہ شاید کثرت استعمال سے گراہوگا۔
امام (ع) فرماتے تھے یہ لوگ اتنی قدرت رکھتے ہوئے بھی موت سے جان نہیں چھڑا سکے ۔ تو ہم بھی اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آئے۔
’’ألستم فی مساکن من کان قبلکم اطول اعماراً، و أبقی آثاراٌ و أبعد آمالاً۔۔۔‘‘
خطبہ۱۱۰
امام (ع)فرماتے ہیں: کیا تم ان کے گھروں میں نہیں ہو، جو تم سے پہلے طویل عمر، پائیدار آثار اور دور رس امیدواروں والے تھے۔۔۔
اگر کوئی دنیا سے عبرت حاصل کرناچاہو تو خود دنیا کی تاریخ سے عبرت حاصل کرو ۔ اس کی تاریخ کے اوراق الٹوگے تو اس کے بے وفائی آپ پر عیاں ہوگی۔ اس کا پیسہ بھی کل کو کام نہیں آئیگا۔ معصومیں (ع) کامشہور فرمان ہے : تین چیز دنیا میں انسان اس کو اپنا تے ہیں:
’’ مال ، خانوادہ، عمل‘‘
مال: کہتے ہیں جب تک تم زندہ ہو میں تمہارا ساتھ ہوں۔ جب مرجاؤگے تو تمہارا اور میرا رابط کٹ جائیگا۔

خانوادہ: تمہارا اہل خانہ، بیوی، بچے، بھائی۔۔۔ سب تمہارے ساتھ ہے۔ جب تک تم زندہ ہو اور قبرمیں دفن ہونے تک تمھارے ساتھ ہے۔ اور جب تمھیں قبر میں آرام سے دفن کرنے کے بعد واپس پلٹ کر تمھارے مال و منال کو تقسیم کرکے اپنی زندگی کی طرف پلٹ جائیگا۔
عمل: سب کارآمد تمھارے لیے نامہ اعمال ہے۔ نامہ اعمال جیسا بھی تمھارے ساتھ قبر اور نکیر و منکر کے سؤالات کا جواب دینے سے لیکر کل جنّت اور جہنم میں جانے تک تمھارے ساتھ ہوگا۔
پس گذشتہ لوگوں کی تاریخ سے عبرت حاصل کرلو۔ لوگ زندگی کی عیش عشرت کو ہر چیز پر مقدم کرتے تھے۔ امّا جب دنیا سے آنکھ بند کرلی تو نہ زاد و توشہ تھی ، آخرت کی لمبی اور طولانی سفر کے لیے اور نہ کوئی سواری۔
پس ایسے حالات میں تاریخی حوادث سے آنکھ بندکرلینا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے ، اور صاحب علم و عقل وہی ہے جو ماضی کے تجربات سے فائدہ اٹھائے۔ انسان کو ایسے چیز پر تکیہ کرناچائے جو ہمیں نجات دے سکیں۔

منابع
۱۔ شرح و ترجمہ نہج البلاغہ، زمانی۔
۲۔شرح و ترجمہ نہج البلاغہ، جعفری، علامہ محمد تقی ۔
۳۔ترجمہ نہج البلاغہ، مولانا مفتی جعفر حسین صاحب قبلہ۔
۴۔شرح نہج البلاغہ، معتزلی مدائنی، عز الدین عبدالحمیدبن ہبۃاللہ بن ابی الحدید۔
۵۔توضیح نہج البلاغہ، الحسینی الشیرازی، السید محمد۔
۶۔شرح و ترجمہ نہج البلاغہ، آملی، عزالدین جعفر بن شمس الدین۔
۷۔المنجد۔
۸۔منھاج البراعۃ فی شرح نھج البلاغہ، الھا شمی الخوئی، العلامۃمیرزا حبیب اللہ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button