شمع زندگی

335۔ جھگڑے سے پرہیز

مَنْ ضَنَّ بِعِرْضِهٖ فَلْيَدَعِ الْمِرَاءَ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۳۶۲)
جو اپنی عزت بچانا چاہتا ہے اُسے چاہیے کہ جھگڑے سے پرہیز کرے۔

انسان کی اجتماعی زندگی اور علم نفسیات کا ایک اہم نکتہ اس فرمان میں بیان ہوا ہے۔ کوئی شخص زندگی کا بڑا حصہ خرچ کر کے عزت و آبرو حاصل کرتا ہے۔ وہ جس طرح محنت سے یہ شرف و بزرگی حاصل کرتا ہے اس سے بڑھ کر اس کی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔

معاشرے میں مقام و منزلت کے حصول اور کامیابی کے اصول بڑی وضاحت کے ساتھ امیر المؤمنینؑ نے بیان فرمائے ہیں۔ اس فرمان میں آپؑ نے اس کی حفاظت کا طریقہ بیان فرمایا ہے کہ اگر اپنی عزت بچانا چاہتے ہو اور اچھا نام باقی رکھنا چاہتے ہو تو کسی کے جھگڑے سے دور رہو۔

جھگڑے میں مد مقابل تمھیں جھوٹا اور غلط ثابت کرنے کے لیے تمھارے عیب بیان کرے گا اگر نہیں ہوں گے تو اپنے پاس سے عیب بنالے گا اور جائز و نا جائز ہر طریقے سےتمھیں خاموش کرنے کی کوشش کرے گا۔ اپنی کمزور سی دلیل کو مضبوط دلیل کے طور پر بیان کرے گا اور مد مقابل کی مضبوط ترین دلیل کو بھی کم اہمیت جانے گا۔

ایک مقام پر امیر المؤمنینؑ فرماتے ہیں کہ حقیقت ایمان تب مکمل ہوتی ہے جب انسان جھگڑے سے دور رہے، خواہ حق اسی کا ہو۔ جہاں بات جھگڑے پر پہنچے وہاں اپنی بات کو خود کاٹ لے اور بحث کو چھوڑ دے۔ قرآن مجید کے فرمان کے مطابق سلام کہ کر گزر جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button