امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت اور ظہور

ہمارے پاس مستند حدیثوں اور معتبر روایتوں کے ذریعہ یہ مسلم ہے کہ ہادیوں میں سے ایک ہادی کافی عرصہ تک لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہنے کے بعد ظہور کریں گے۔ جن کا نام رسول ﷺ کے نام پر ہوگا اور جن کی سیرت بھی رسول کریم ﷺ کی سیرت ہوگی۔
وہ اس وقت ظہور کریں گے جب یہ دنیا ظلم و جور سے بھری ہوگی اور اس وقت آپ اسے عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ جیسا کہ حضرت حذیفہؓ روایت بیان کرتے ہیں کہ
نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں ”اگرچہ دنیا کے تمام ہونے میں ایک ہی دن باقی کیوں نہ ہو، خدا اسی روز کو اتنا طولانی کر دے گا یہاں تک کہ خدا میری اولاد میں سے ایک مرد کو بھیجے گا، جس کا نام میرا نام ہوگا“، جناب سلمانؓ نے دریافت کیا: ”اے رسول خداؐ! وہ آپ کے کون سے بیٹے کی نسل سے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے امام حسینؑ کے شانے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ’’اس کی نسل سے‘‘۔
ذخائر العقبیٰ:ص،۱۳۶، بحوالہ ٔ فضائل الخمسۃ فی الصحاح الستۃج۳ص۳۸۹
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام، امام آخرؑ کے بارے میں فرماتے ہیں:”تم لوگ یہ جان لو …کہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) طولانی عرصہ تک لوگوں سے پوشیدہ طور پر اس طرح زندگی بسر کریں گے کہ ماہرین آثار بھی ان کے آثار تک نہیں پہنچ پائیں گے اگرچہ وہ اس راہ میں بے پناہ کوشش کر ڈالیں۔
نہج البلاغہ ،خطبہ، ۱۵۰
عقل و خرد رکھنے والا ہر آدمی اس حقیقت کو ضرور تسلیم کر ے گا کہ زمانہ دن بہ دن، روز بہ روز خراب سے خراب تر اور بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے، اقوام اسیر ہو رہی ہیں، تہذیبیں برباد ہو رہی ہیں، اچھا اخلاق رخصت ہو رہا ہے، عوام بھوکوں مر رہی ہے اور قومیں ناامنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف مکاتب فکر نے انسان کے لئے منجی بشریت کا نظریہ پیش کیا ہے، لیکن دین اسلام نے اس مسئلہ کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے اور اسلام کے احکام کا دوسرا گراں قدر منبع (احادیث) منجی بشریت کے ظہور کے نوید سے مالامال ہے۔ ہمارے پاس اس کی دلیل موجود ہے جو قرآن سے بھی ثابت ہے اور قول رسولؐ سے بھی۔ ہمارے مذ ہب کا بھی یہ ماننا ہے کہ ایک روشن زمانہ آئے گا جب کوئی کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور سب ہی امن و چین کی زندگی گذاریں گے۔
خدائے واحد کی پرستش کریں گے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ جیسا کہ امیر المومنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وہ پیغمبر اسلام ﷺ اور ائمہ علیہم السلام کی روش پر عمل کریں گے، یہاں تک کہ پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔ وہ غلام اور اسیر اقوام کو آزاد کریں گے، گمراہ اور ظالم لوگوں کو تتر بتر اور حق کے متلاشی افراد کو ایک جگہ جمع کر دیں گے۔ (ان شاءاللہ)
نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۰




