خطبات

خطبہ (۷۰)

(٦٩) وَ مِنْ خُطْبَةٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ

خطبہ (۶۹)

فِیْ ذَمِّ اَهْلِ الْعِرَاقِ

اہل عراق کی مذمت میں فرمایا

اَمَّا بَعْدُ، یَاۤ اَهْلَ الْعِرَاقِ! فَاِنَّمَا اَنْتُمْ كَالْمَرْاَةِ الْحَامِلِ، حَمَلَتْ فَلَمَّا اَتَمَّتْ اَمْلَصَتْ، وَ مَاتَ قَیِّمُهَا، وَ طَالَ تَاَیُّمُهَا، وَ وَرِثَهَا اَبْعَدُهَا.

اے اہل عراق! [۱] تم اس حاملہ عورت کے مانند ہو جو حاملہ ہونے کے بعد جب حمل کے دن پورے کرے تو مرا ہوا بچہ گرا دے اور اس کا شوہر بھی مر چکا ہو اور رنڈاپے کی مدت بھی دراز ہو چکی ہو اور (قریبی نہ ہونے کی وجہ سے) دور کے عزیز ہی اس کے وارث ہوں۔

اَمَا وَاللهِ! مَاۤ اَتَیْتُكُمُ اخْتِیَارًا، وَ لٰكِنْ جِئْتُ اِلَیْكُمْ سَوْقًا، وَ لَقَدْ بَلَغَنِیْۤ اَنَّكُمْ تَقُوْلُوْنَ: عَلِیٌّ یَّكْذِبُ، قَاتَلَكُمُ اللهُ! فَعَلٰی مَنْ اَكْذِبُ؟ اَ عَلَی اللهِ؟ فَاَنَا اَوَّلُ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ! اَمْ عَلٰی نَبِیِّهٖ؟ فَاَنَا اَوَّلُ مَنْ صَدَّقَهٗ! كَلَّا وَ اللهِ! وَ لٰكِنَّهَا لَهْجَةٌ غِبْتُمْ عَنْهَا، وَ لَمْ تَكُوْنُوْا مِنْ اَهْلِهَا، وَیْلُمِّهٖ، كَیْلًۢا بِغَیْرِ ثَمَنٍ! لَوْ كَانَ لَهٗ وِعَآءٌ، ﴿وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ﴾.

بخدا! میں تمہاری طرف بخوشی نہیں آیا، بلکہ حالات سے مجبور ہو کر آ گیا۔ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم کہتے ہو کہ: علیؑ کذب بیانی کرتے ہیں۔ خدا تمہیں ہلاک کرے! (بتاؤ) میں کس پر جھوٹ باندھ سکتا ہوں؟ کیا اللہ پر؟ تو میں سب سے پہلے اس پر ایمان لانے والا ہوں، یا اس کے نبیؐ پر؟ تو میں سب سے پہلے ان کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ خدا کی قسم! ایسا ہرگز نہیں! بلکہ وہ ایک ایسا اندازِ کلام تھا جو تمہارے سمجھنے کا نہ تھا اور نہ تم میں اس کے سمجھنے کی اہلیت تھی۔ خدا تمہیں سمجھے! میں تو بغیر کسی عوض کے (علمی جواہر ریزے) ناپ ناپ کر دے رہا ہوں۔ کاش کہ ان کیلئے کسی کے ظرف میں سمائی ہوتی۔ ’’(ٹھہرو) کچھ دیر بعد تم بھی اس کی حقیقت کو جان لو گے‘‘۔

۱؂تحکیم کے بعد جب عراقیوں نے معاویہ کے تابڑ توڑ حملوں کا جواب دینے میں سستی و بد دلی کا مظاہرہ کیا تو ان کی مذمت و توبیخ کے سلسلے میں یہ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں صفین کے موقعہ پر ان کی فریب خوردگی اور جنگ سے دستبرداری کی طرف اشارہ کیا ہے اور ان کی حالت کو اس عورت سے تشبیہ دی ہے جس میں یہ پانچ وصف ہوں:

۱۔ وہ حاملہ ہو:

اس سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ لڑنے بھڑنے کی پوری پوری صلاحیت و استعداد رکھتے تھے۔ اس بانجھ عورت کے مانند نہ تھے کہ جس سے کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔

۲۔ مدت حمل پوری کر چکی ہو:

یعنی تمام کٹھن اور دشوار گزار منزلوں کو طے کر کے فتح و کامرانی کے قریب پہنچ چکے تھے۔

۳۔ از خود حمل کو ساقط کر دیا ہو:

یعنی فتح کے قریب پہنچ کر صلح پر اتر آئے اور دامن مراد بھرنے کے بجائے نامرادیوں کو سمیٹ لیا۔

۴۔ اس کے رنڈاپے کی مدت دراز ہو:

یعنی ان کی حالت ایسی ہو گئی جیسے ان کا کوئی سرپرست و نگران نہ ہو اور وہ بے والی و وارث بھٹک رہے ہوں۔

۵۔ بیگانے اس کے وارث ہوں:

یعنی اہلِ شام ان کے املاک پر قبضہ و تسلط جما رہے ہیں کہ جو ان سے کوئی لگاؤ نہیں رکھتے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button