خطبات

خطبہ (۱۹)

(۱٩) وَ مِنْ كَلَامٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ

خطبہ (۱۹)

قَالَهٗ لِلْاَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَّ هُوَ عَلٰى مِنْۢبَرِ الْكُوْفَةِ يَخْطُبُ، فَمَضٰى فِیْ بَعْضِ كَلَامِهٖ شَیْءٌ اعْتَرَضَهُ الْاَشْعَثُ فَقَالَ: يَاۤ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! هٰذِهٖ عَلَيْكَ لَا لَكَ، فَخَفَضَ عَلَيْهِ السَّلَامُ اِلَيْهِ بَصَرَهٗ ثُمَّ قَالَ:

امیر المومنین علیہ السلام منبرِ کوفہ پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اشعث ابنِ قیس [۱] نے آپؑ کے کلام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ: یا امیر المومنینؑ! یہ بات تو آپؑ کے حق میں نہیں، بلکہ آپؑ کے خلاف پڑتی ہے تو حضرتؑ نے اسے نگاہِ غضب سے دیکھا اور فرمایا:

مَا یُدْرِیْكَ مَا عَلَیَّ مِمَّا لِیْ؟ عَلَیْكَ لَعْنَةُ اللهِ وَ لَعْنَةُ اللَّاعِنِیْنَ! حَآئِكُ ابْنُ حَآئِكٍ! مُنَافِقُ ابْنُ كَافِرٍ! وَاللهِ! لَقَدْ اَسَرَكَ الْكُفْرُ مَرَّةً وَّ الْاِسْلَامُ اُخْرٰى، فَمَا فَدَاكَ مِنْ وَّاحِدَةٍ مِّنْهُمَا مَالُكَ وَ لَا حَسَبُكَ. وَ اِنَّ امْرَاً دَلَّ عَلٰى قَوْمِهِ السَّیْفَ، وَ سَاقَ اِلَیْهِمُ الْحَتْفَ، لَحَرِیٌّ اَنْ یَّمْقُتَهُ الْاَقْرَبُ، وَ لَا یَاْمَنَهُ الْاَبْعَدُ.

تجھے کیا معلوم کہ کون سی چیز میرے حق میں ہے اور کون سی چیز میرے خلاف جاتی ہے۔ تجھ پر اللہ کی پھٹکار اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو! تو جولاہے کا بیٹا جو لاہا اور کافر کی گود میں پلنے والا منافق ہے۔ تو ایک دفعہ کافروں کے ہاتھوں میں اور ایک دفعہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں اسیر ہوا۔ لیکن تجھ کو تیرا مال اور حسب اس عار سے نہ بچا سکا اور جو شخص اپنی قوم پر تلوار چلوا دے اور اس کی طرف موت کو دعوت اور ہلاکت کا بلاوا دے، وہ اسی قابل ہے کہ قریبی اس سے نفرت کریں اور دور والے بھی اس پر بھروسا نہ کریں۔

اَقُوْلُ: يُرِيْدُ ؑ اَنَّهٗۤ اُسِرَ فِی الْكُفْرِ مَرَةً، وَ فِی الْاِسْلَامِ مَرَّةً. وَ اَمَّا قَوْلُهٗ ؑ »دَلَّ عَلٰى قَوْمِهِ السَّيْفَ« فَاَرَادَ بِهٖ حَدِيْثًا كَانَ لِلْاَشْعَثِ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيْدِ بِالْيَمَامَةِ، غَرَّ فِيْهِ قَوْمَهٗ، وَ مَكَرَ بِهِمْ حَتّٰى اَوْقَعَ بِهِمْ خَالِدٌ، وَ كَانَ قَوْمُهٗ بَعْدَ ذٰلِكَ يُسَمُّوْنَهٗ «عُرْفَ النَّارِ»، وَ هُوَ اسْمٌ لِّلْغَادِرِ عِنْدَهُمْ.

سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: یہ ایک دفعہ کفر کے زمانہ میں اور ایک دفعہ اسلام کے زمانہ میں اسیر کیا گیا تھا۔ رہا حضرتؑ کا یہ ارشاد کہ: ’’جو شخص اپنی قوم پر تلوار چلوا دے‘‘ تو اس سے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جو اشعث کو خالد ابنِ ولید کے مقابلہ میں یمامہ میں پیش آیا تھا کہ جہاں اس نے اپنی قوم کو فریب دیا تھا اور ان سے چال چلی تھی، یہاں تک کہ خالد نے ان پر حملہ کردیا اور اس واقعہ کے بعد اس کی قوم والوں نے اس کا لقب ’’عرف النار‘‘ رکھ دیا اور یہ ان کے محاورہ میں غدار کیلئے بولا جاتا ہے۔

۱؂اشعث ابن قیس کندی

اس کا اصل نام ’’معدیکرب‘‘ اور کنیت ’’ابو محمد‘‘ ہے، مگر اپنے بالوں کی پراگندگی کی وجہ سے ’’اشعث‘‘ (پراگندہ مُو) کے لقب سے زیادہ مشہور ہے۔ جب بعثت کے بعد یہ اپنے قبیلہ سمیت مکہ آیا تو پیغمبر ﷺ نے اسے اور اس کے قبیلہ کو اسلام کی دعوت دی، لیکن یہ سب منہ موڑ کر چلتے ہوئے اور ایک بھی اسلام قبول کرنے کیلئے آمادہ نہ ہوا۔ اور جب ہجرت کے بعد اسلام کے قدم جم گئے اور اس کا پرچم لہرانے لگا اور اطراف و جوانب کے وفد جوق در جوق مدینہ آنا شروع ہوئے تو یہ بھی بنی کندہ کے ایک وفد کے ہمراہ پیغمبر ﷺ کی خدمت میں آیا اور اسلام قبول کیا۔ صاحبِ استیعاب لکھتے ہیں کہ یہ پیغمبر اسلام ﷺ کے بعد مرتد ہو گیا اور حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں کہ جب اسے اسیر کر کے مدینہ لایا گیا تو پھر سے اسلام قبول کیا مگر اس وقت بھی اس کا اسلام صرف دکھاوے کا تھا۔ چنانچہ شیخ محمد عبدہ نے حاشیہ نہج البلاغہ پر تحریر کیا ہے کہ:

کَانَ الْاَشْعَثُ فِیْۤ اَصْحَابِ عَلِیٍّ ؑ کَعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اُبَىِّ ابْنِ سَلُوْلَ فِیْۤ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ، کُلٌّ مِّنْھُمَا رَاْسُ النِّفَاقِ فِیْ زَمَنِہٖ.

جس طرح عبداللہ ابنِ ابی ابنِ سلول اصحاب ِرسولؐ میں تھا ویسا ہی اشعث، علی ابنِ ابی طالب کی جماعت میں تھا اور یہ دونوں اپنے اپنے عہد میں چوٹی کے منافق تھے۔[۱]

جنگِ یرموک میں اس کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی۔ چنانچہ ابن قتیبہ نے المعارف میں اسے کانوں کی فہرست میں درج کیا ہے اور حضرت ابو بکر کی بہن اُم فروہ بنتِ ابی قحافہ جو پہلے ایک ازدی کے نکاح میں اور پھر تیم دارمی کے عقد میں تھیں تیسری دفعہ اسی اشعث سے بیاہی گئیں جن سے تین لڑکے محمد، اسماعیل اور اسحاق پیدا ہوئے۔ کتب رجال میں درج ہے کہ یہ بھی ایک آنکھ سے معذور تھیں۔

ابن ابی الحدید نے ابو الفرج سے یہ عبارت نقل کی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قتل امیر المومنینؑ کی سازش میں برابر کا شریک تھا:

وَ قَدْ كَانَ ابْنُ مُلْجَمٍ اَتَى الْاَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ فِیْ هٰذِهِ اللَّيْلَةِ فَخَلَا بِهٖ فِیْ بَعْضِ نَوَاحِی الْمَسْجِدِ وَ مَرَّ بِهِمَا حُجْرُ بْنُ عَدِیٍّ، فَسَمِعَ الْاَشْعَثَ وَ هُوَ يَقُوْلُ لِابْنِ مُلْجَمٍ: النَّجَآءَ النَّجَآءَ بِحَاجَتِكَ فَقَدْ فَضَحَكَ الصُّبْحُ، قَالَ لَهٗ حُجْرُ: قَتَلْتَهٗ يَاۤ اَعْوَرُ! وَ خَرَجَ مُبَادِرًا اِلٰى عَلِیٍّ ؑ وَ قَدْ سَبَقَهُ ابْنُ مُلْجَمٍ فَضَرَبَهٗ فَاَقْبَلَ حُجْرٌ وَّ النَّاسُ يَقُوْلُوْنَ: قُتِلَ اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَؑ.

شبِِ ضربت ابن ملجم، اشعث ابنِ قیس کے پاس آیا اور دونوں علٰیحدگی میں مسجد کے ایک گوشہ میں جا کر بیٹھ گئے کہ اُدھر سے حجر ابن عدی کا گزر ہوا، تو انہوں نے سنا کہ اشعث، ابن ملجم سے کہہ رہا ہے کہ: بس اب جلدی کرو، ورنہ پو پھوٹ کر تمہیں رسوا کر دے گی۔ حجر نے یہ سنا تو اشعث سے کہا کہ: اے کانے! تو علی علیہ السلام کے قتل کا سر و سامان کر رہا ہے اور پھر تیزی سے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف گئے، مگر جب امیر المومنین علیہ السلام کو نہ پا کر پلٹے تو ابنِ ملجم اپنا کام کر چکا تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ امیر المومنین علیہ السلام قتل کر دیئے گئے۔ (شرح ابن ابی الحدید، ج۶، ص۴۳)

اس کی بیٹی جعدہ نے حضرت امام حسن علیہ السلام کو زہر دے کر ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ چنانچہ مسعودی نے لکھا ہے کہ:

اِنَّ امْرَاَتَهٗ جَعْدَةَ بِنْتَ الْاَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِیِّ سَقَتْهُ السَّمَّ، وَ قَدْ كَانَ مُعَاوِيَةُ دَسَّ اِلَيْهَا: اِنَّكِ اِنِ احْتَلْتِ فِیْ قَتْلِ الْحَسَنِ وَجَّهْتُ اِلَيْكِ بِمَائَةِ اَلْفِ دِرْهَمٍ وَ زَوَّجْتُكِ مِنْ يَزِيْدَ.

آپؑ کی زوجہ جعدہ بنت اشعث کندی نے آپؑ کو زہر دیا اور معاویہ نے اس سے یہ سازباز کی تھی کہ اگر تم کسی طریقہ سے حسن علیہ السلام کو زہر دے دو تو میں تمہیں ایک لاکھ درہم دوں گا اور یزید سے تمہارا عقد کر دوں گا۔ (مروج الذہب، ج۲، ص۵۰)

اس کا بیٹا محمد ابن اشعث کوفہ میں حضرت مسلم کو فریب دینے اور کربلا میں خون سید الشہداؑ بہانے میں شریک تھا مگر ان سب باتوں کے باوجود بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابنِ ماجہ کے راویان حدیث میں سے ہے۔

۲؂جنگِ نہروان کے بعد مسجد کوفہ میں تحکیم کی بد عنوانیوں کے سلسلہ میں حضرتؑ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ: یا امیرالمومنینؑ! آپؑ نے پہلے تو ہمیں اس تحکیم سے روکا اور پھر اس کا حکم بھی دے دیا، ہمیں نہیں معلوم کہ ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات زیادہ صحیح اور مناسب تھی۔ حضرتؑ نے یہ سن کر ہاتھ پر ہاتھ مارا اور فرمایا: «هٰذَا جَزَاءُ مَنْ تَرَكَ الْعُقْدَةَ» [۲]: ’’جو ٹھوس رائے کو چھوڑ دیتا ہے اسے ایسا ہی خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے‘‘۔ یعنی یہ تمہارے کرتوت کا پھل ہے جو تم نے حزم و احتیاط کا دامن چھوڑ کر تحکیم کے مان لینے پر اصرار کیا تھا، مگر اشعث اس سے یہ سمجھا کہ حضرتؑ اپنے بارے میں فرما رہے ہیں کہ میری یہ حیرانی و سرگرادانی تحکیم کے مان لینے کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا بول اٹھا کہ: یا امیر المومنینؑ! اس سے تو آپؑ ہی کی ذات پر حرف آتا ہے، جس پر حضرتؑ نے طیش میں آ کر فرمایا کہ: تمہیں کیا معلوم کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور تم کیا جانو کہ کون سی چیز میرے حق میں ہے اور کون سی چیز میرے خلاف پڑتی ہے، تم جو لا ہے اور جولاہے کے بیٹے اور کافر کی گود میں پروان چڑھنے والے منافق ہو، تم پر اللہ کی اور ساری دنیا کی لعنت ہو۔

شارحین نے امیر المومنین علیہ السلام کے اشعث کو ’’حائک‘‘ (جولاہا) کہنے کی چند وجہیں لکھی ہیں:

پہلی وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ اور اس کا باپ اپنے اکثر اہلِ وطن کی طرح کپڑا بننے کا دھندا کرتے تھے، اس لئے اس کے پیشہ کی پستی و دنایت کی طرف اشارہ کرنے کیلئے اسے جولاہا کہا ہے۔ یوں تو یمنیوں کے پیشے اور بھی کئی تھے، مگر زیادہ دھندا ان کے ہاں یہی ہوتا تھا۔ چنانچہ خالد ابنِ صفوان نے ان کے پیشوں کا تعارف کراتے ہوئے پہلے اسی پیشے کا ذکر کیا ہے:

مَا عَسٰۤى اَنْ اَقُوْلَ لِقَوْمٍ كَانُوْا بَيْنَ نَاسِجِ بُرْدٍ وَّ دَابِـغِ جِلْدٍ وَّ سَآئِسِ قِرَدٍ وَّ رَاكِبِ عَرْدٍ، دَلَّ عَلَيْهِمْ هُدْهُدُ وَ غَرَّقَتْهُمْ فَاْرَةٌ وَّ مَلَّكَتْهُمُ امْرَاَةٌ.

میں اس قوم کے بارے میں کیا کہوں کہ جن میں صرف کپڑا بننے والے، چمڑا رنگنے والے، بندر نچانے والے اور گدھے پر سوار ہونے والے ہی ہوتے ہیں۔ ہُد ہُد نے ان کا ٹھکانا بتایا، ایک چوہیا نے انہیں غرق کر دیا اور ایک عورت نے ان پر حکومت کی۔ (البیان و التبیین، ج۱، ص۱۳۰)

دوسری وجہ یہ ہے کہ ’’حیاکت‘‘ کے معنی جھوم کر اور بل کھا کر چلنے کے ہیں اور یہ چونکہ غرور اور تکبر کی وجہ سے شانے مٹکا کر اور بل کھا کر چلتا تھا، اس بنا پر اسے حائک‘‘ فرمایا۔

تیسری وجہ یہ ہے اور یہی زیادہ نمایاں اور واضح ہے کہ اس کی حماقت و دنانیت ظاہر کرنے کیلئے اسے جولاہا کہا ہے، چونکہ ہر دنی و فرومایہ کو مثل کے طور پر جولاہا کہہ دیا جاتا ہے۔ ان کے فہم و فراست کا یہی عروج کیا کم تھا کہ ان کی حماقتیں ضرب المثل بن چکی تھیں جب کہ کسی خصوصی امتیاز کے بغیر کوئی چیز ضرب المثل کی حیثیت حاصل نہیں کیا کرتی کہ امیر المومنین علیہ السلام نے بھی اس کی توثیق فرما دی کہ جس کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔

چوتھی وجہ یہ ہے کہ اس سے مراد وہ ہے کہ جو اللہ و رسول ﷺ کے خلاف جوڑ توڑ کرے اور افترا پردازیوں کے جال بنے کہ جو صرف منافق ہی کا شیوہ ہوتا ہے۔ چنانچہ وسائل الشیعہ میں ہے کہ:

ذُكِرَ الْحَآئِكُ عِنْدَ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰهِ ؑ اَنَّهٗ مَلْعُونٌ، فَقَالَ: اِنَّمَا ذٰلِكَ الَّذِیْ يَحُوْكُ الْكَذِبَ عَلَى اللّٰهِ وَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ ﷺ.

امام جعفر صادق علیہ السلام کے سامنے حائک کے ملعون ہونے کا ذکر ہوا تو آپؑ نے فرمایا کہ: اس سے مراد وہ ہے جو اللہ و رسول ﷺ پر افترا باندھتا ہے۔[۳]

(حضرتؑ نے اس خطبے میں) لفظِ ’’حائک‘‘ کے بعد لفظ ’’منافق‘‘ ارشاد فرمایا ہے اور دونوں میں واو عطف کا بھی فاصلہ نہیں رکھا تا کہ دونوں کے قریب المعنی ہونے پر روشنی پڑے اور پھر اس نفاق و حق پوشی کی بنا پر اسے اللہ اور لعنت کرنے والوں کی لعنت کا مستحق ٹھہرایا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:

﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِى الْكِتٰبِۙ اُولٰٓٮِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ﴾

وہ لوگ جو ہماری اتاری ہوئی نشانیوں اور رہنمائیوں کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم نے کتاب میں انہیں کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا ہے تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔[۴]

اس کے بعد فرماتے ہیں کہ: تم کفر میں بھی اسیری کی ذلت سے نہ بچ سکے اور اسلام لانے کے بعد بھی ان رسوائیوں نے تمہارا پیچھا نہ چھوڑا اور تمہیں اسیر بنا لیا گیا۔

چنانچہ کفر کی حالت میں اس کی اسیری کی صورت یہ ہوئی کہ جب اس کے باپ قیس کو قبیلہ بنی مراد نے قتل کر ڈالا تو اس نے بنی کندہ کے جنگ آزماؤں کو جمع کیا اور انہیں تین ٹولیوں میں بانٹ دیا۔ ایک ٹولی کی باگ ڈور خود سنبھالی اور دوسری دو ٹولیوں پر کبش ابن ہانی اور قشعم ابن ارقم کو سردار مقرر کیا اور بنی مراد پر حملہ کرنے کیلئے چل کھڑا ہوا۔ مگر بد بختی جو آئی تو بنی مراد کے بجائے بنی حارث ابنِ کعب پر حملہ کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کبش ابن ہانی اور قشعم ابنِ ارقم قتل کر دیئے گئے اور اسے زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ آخر تین ہزار اونٹ فدیہ کے دے کر ان سے جان چھڑائی۔ امیر المومنین علیہ السلام کے ارشاد: فَمَا فَدَاكَ مِنْ وَّاحِدَةٍ مِّنْهُمَا مَالُكَ وَ لَا حَسَبُكَ : (تجھے تیرا مال و حسب ان دونوں گرفتاریوں میں سے کسی ایک سے بھی نہ چھڑا سکا) میں فدیہ سے مراد حقیقی فدیہ نہیں ہے، کیونکہ وہ فدیہ دے کر ہی آزاد ہوا تھا، بلکہ مقصد یہ ہے کہ اسے مال کی فراوانی اور کنبہ میں توقیر و سر بلندی اس عار سے نہ بچا سکی اور وہ اسیری کی ذلتوں سے اپنا دامن محفوظ نہ رکھ سکا۔

اس کی دوسری اسیری کا واقعہ یہ ہے کہ جب پیغمبر اسلام ﷺ نے دنیا سے رحلت فرمائی تو حضرموت کے علاقہ میں بغاوت پھیل گئی جسے فرو کرنے کیلئے حضرت ابو بکر نے وہاں کے حاکم زیاد ابن لبید کو لکھا کہ وہ ان لوگوں سے بیعت لے اور ان سے زکوٰة و صدقات وصول کرے۔ چنانچہ جب زیاد ابن لبید قبیلہ بنی عمرو ابنِ معاویہ کے ہاں زکوٰة جمع کرنے کیلئے گیا تو شیطان ابنِ حجر کی ایک اونٹنی جو بڑی خوبصورت اور مضبوط ڈیل ڈول کی تھی اسے پسند آ گئی۔ اس نے بڑھ کر اس پر قبضہ کر لیا۔ شیطان اسے دینے پر رضامند نہ ہوا اور کہا کہ اسے رہنے دیجئے اور اس کے بدلہ میں کوئی اور اونٹنی لے لیجئے، مگر زیاد نہ مانا۔ شیطان نے اپنے بھائی عداء ابنِ حجر کو اپنی حمایت کیلئے بلا لیا۔ اس نے بھی آ کر کہا سنا، مگر زیاد اپنی ضد پر اڑا رہا اور کسی صورت میں اونٹنی سے ہاتھ اٹھانے کیلئے آمادہ نہ ہوا۔ آخر ان دونوں بھائیوں نے مسروق ابن معدیکرب سے فریاد کی۔ چنانچہ مسروق نے بھی اپنا زور لگایا کہ کسی طرح زیاد اس اونٹنی کو چھوڑ دے مگر اس نے صاف صاف انکار کر دیا جس پر مسروق کو جوش آیا اور اس نے بڑھ کر اونٹنی کھول لی اور شیطان کے حوالے کر دی۔

زیاد اس پر بھڑک اٹھا اور اپنے آدمیوں کو جمع کیا اور مرنے مارنے کیلئے تل گیا۔ ادھر بنی لبید بھی مقابلہ کیلئے اکٹھا ہو گئے، مگر زیاد کو شکست نہ دے سکے، بلکہ بُری طرح اس کے ہاتھوں پٹے۔ عورتیں چھنوائیں اور مال و متاع لٹوایا۔ آخر جو بچے کچے رہ گئے تھے وہ اشعث کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اشعث نے اس شرط پر کمک کا وعدہ کیا کہ اسے اس علاقہ کا حکمران مان لیا جائے۔ ان لوگوں نے اس شرط کو تسلیم کر لیا اور باقاعدہ اس کی رسمِ تاجپوشی بھی ادا کر دی۔ جب یہ اپنا اقتدار منوا چکا تو ایک فوج کو ترتیب دے کر زیاد سے لڑنے کیلئے نکل کھڑا ہوا۔

ادھر حضرت ابو بکر نے مہاجر ابن امیہ والی یمن کو لکھ رکھا تھا کہ وہ ایک دستہ لے کر زیاد کی مدد کیلئے پہنچ جائے۔ چنانچہ مہاجر فوجی دستہ لئے آ رہا تھا کہ اس کا سامنا ہو گیا اور دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر تلواریں سونت لیں اور مقام زرقان میں معرکہ کار زار گرم کر دیا۔ مگر نتیجہ میں اشعث میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا اور باقی ماندہ لوگوں کے ساتھ قلعہ نجیر میں قلعہ بند ہو گیا۔ دشمن ایسے نہ تھے جو پیچھا چھوڑ دیتے۔ انہوں نے قلعہ کے گرد محاصرہ ڈال دیا۔

اشعث نے سوچا کہ وہ اس بے سروسامانی کے عالم میں کب تک قلعہ میں محصور رہ سکتا ہے، رہائی کی کوئی ترتیب کرنا چاہیے۔ چنانچہ وہ چپکے سے ایک رات قلعہ سے باہر نکلا، زیاد اور مہاجر سے جا کر ملا اور ان سے یہ سازباز کی کہ اگر اسے اور اس کے گھر کے نو آدمیوں کو امان دے دی جائے تو قلعہ کا دروازہ کھلوا دے گا۔ انہوں نے اس شرط کو مان لیا اور اس سے کہا کہ ان کے نام لکھ کر ہمیں دے دو۔ اس نے نو نام لکھ کر ان کے حوالے کر دیئے اور اپنی روایتی دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنا نام اس فہرست میں لکھنا بھول گیا۔ ادھر یہ طے کرنے کے بعد اپنی قوم سے جا کر یہ کہا کہ میں تمہارے لئے امان حاصل کر چکا ہوں، اب قلعہ کا دروازہ کھول دیا جائے۔ جب دروازہ کھولا گیا تو زیاد کی فوج ان پر ٹوٹ پڑی۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم سے تو امان کا وعدہ کیا گیا تھا۔ زیاد کی سپاہ نے کہا کہ غلط، اشعث نے صرف اپنے گھر کے دس آدمیوں کیلئے امان چاہی تھی جن کے نام ہمارے پاس محفوظ ہیں۔ غرض کہ آٹھ سو آدمیوں کو تہ تیغ کر دیا گیا اور کئی عورتوں کے ہاتھ قلم کئے گئے اور حسبِ معاہدہ نو آدمیوں کو چھوڑ دیا گیا، مگر اشعث کا معاملہ پیچیدہ ہو گیا اور آخر یہ طے پایا کہ اسے حضرت ابو بکر کے پاس بھیج دیا جائے وہی اس کا فیصلہ کریں گے۔آخر ایک ہزار قیدی عورتوں کے ساتھ اسے بیڑیوں میں جکڑ کر مدینہ روانہ کر دیا گیا۔ راستے میں اپنے، بیگانے، عورتیں، مرد سب اس پر لعنت کرتے جاتے تھے اور عورتیں اسے غدار کہہ کر پکار رہی تھیں۔ اور جو اپنی قوم پر تلوار چلا دے اس سے زیادہ غدار ہو بھی کون سکتا ہے۔ بہر صورت جب یہ مدینہ پہنچا تو حضرت ابو بکر نے اسے رہا کر دیا اور اسی موقع پر اُمّ فروہ سے اس کا عقد ہوا۔

[۱]۔ نہج البلاغہ، حاشیہ شیخ محمد عبدہ، ص ۵۶۔

[۲]۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۱۹۔

[۳]۔ وسائل الشیعہ، ج ۱۲، ص ۲۴۸، مطبوعہ ناشر موسسۃ آل البیت، قم ، ۱۴۰۹ ھ۔

[۴]۔ سورۂ بقرہ، آیت ۱۵۹۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button