شمع زندگی

211۔ عمل

اَوْضَعُ الْعِلْمِ مَا وُقِفَ عَلَى اللِّسَانِ وَ اَرْفَعُهٗ مَا ظَهَرَ فِى الْجَوَارِحِ وَ الْارْكَانِ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۹۲)
وہ علم بہت بے قدر و قیمت ہےجو زبان تک رہ جائے اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضاء و جوارح سے نمودار ہو۔

انسان کی سربلندی و کمال کا اہم معیار علم ہے۔ امیرالمومنینؑ یہاں علم کے ساتھ عمل کی اہمیت کو اجا گر فرما رہے ہیں۔ آپؑ نے علم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک وہ جو زبان و گفتگو تک منحصر ہے، اسے بے قدر و قیمت قرار دیا اور دوسرا وہ جو عمل میں ظاہر ہوتا ہے، اسے باوقار ٹھہرایا۔

علم کی دو قسمیں ہیں تو علم رکھنے والوں کی بھی دو قسمیں ہوں گی۔ ایک وہ جو علم تو رکھتا ہے مگر عمل نہیں کرتا تو علم رکھنے کے باوجود وہ بےتوقیر ہوگا اور حقیقی قدر و قیمت علم پر عمل کرنے سے ہوگی۔ کلمات یاد کرلینا، کسی موضوع کی چند کتابیں پڑھ لینا یا ڈگری حاصل کر لینا معیار نہیں ہوگا۔ یہ تقسیم دنیوی و اخروی دونوں قسم کے علوم پر صادق آئے گی۔ ایک حکیم جانتا ہے کہ یہ زہر ہے اور زہر کے اثر کو بھی جانتا ہے کہ وہ قاتل ہوتی ہے پھر بھی کھا لیتا ہے تو اس کو جاہل سے بھی بدتر تصور کیا جائے گا کہ زہر کے نقصانات کو جانتا تھا پھر بھی اسےکھا لیا۔ اگر نہ جاننے والا کھائے گا تو اس کے لیے کہا جائے گا بیچارہ نہیں جانتا تھا۔

انسانیت کے لئے راہنما علوم بھی اگر جاننے کے باوجود کوئی نہیں اپنائے گا تو یہی کہا جائے گا کہ جانتا تھا پھر بھی عمل نہیں کیا۔ اس لیے اگر کوئی علم رکھتا ہے تو اس سے حلم و صبر کی توقع رکھی جاتی ہے اگر وہ غصہ و بےصبری کرے گا تو کہا جائے گا کہ جانتا بھی تھا مگر اپنایا نہیں۔ جاننے کے باوجود عمل نہ کرنے والوں کے لئے قرآن نے بھی کہاہے: ’’لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔‘‘ جو کرتے نہیں وہ کہتے کیوں ہو۔ کسی حکیم سے کہا جاتا کہ نصیحت کریں تو وہ اکثرفرماتے: جسے جانتے ہو اس پر عمل کر لو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button