شمع زندگی

235۔ دنیا اولیاء کی مسجد

اِنَّ الدُّنْیَا مَسْجِدُ اَحِبَّاءِ اللهِ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۱۳۱)
بلا شبہ دنیا اللہ کے محبوب لوگوں کے لیے عبادت کی جگہ ہے۔

انسان دنیا کو کبھی ہدف سمجھتا ہے اور کبھی وسیلہ۔ جب ہدف سمجھتا ہے تو پھر اس دنیا میں کھو جاتا ہے۔ دنیا کی زینتوں کو جمع کرنے میں لگا رہتا ہے ۔نہ یاد خدا رہتی ہے نہ بندگان خدا کی فکر ہوتی ہے۔ اکثر لوگ اسی دنیا کو ہدف سمجھ لیتے ہیں۔ اس لیے امیرالمؤمنینؑ نے اس اکثریت کو غفلت سے جگانے کے لیے اور دنیا کی حقیقت بتانے کے لیے نہج البلاغہ میں اکثر مقامات پر دنیا کی کمزوریاں بیان کیں اور مذمت کی۔ مگراس فرمان میں آپ نے اپنے کمال علمی کو پیش فرمایا۔ وہ شخص جو ساری زندگی دنیا کی مذمت کرتا رہا یہاں اس نے دنیا کے مثبت پہلوؤں کو بیان کیا تو دنیا اور رنگ میں نظر آنے لگی۔ آپ ؑنے فرمایا بلا شبہ دنیا اس شخص کے لیے جو دنیا کی حقیقت کو جانے، سچائی کا گھر ہے، جو دنیا کی باتوں کو سمجھے اس کے لیے امن و عافیت کی جگہ ہے، جو اس سے زاد راہ حاصل کرے اس کے لیے دولت مندی کی منزل ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے اس کے لیے وعظ و نصیحت کا محل ہے۔ وہ اللہ کے محبوب لوگوں کے لیے عبادت کی جگہ ہے، اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کے لیے نماز پڑھنے کا مقام ہے، اللہ تعالیٰ کی وحی کے اترنے کا مقام ہے اور اولیاء اللہ کے لیے تجارت گاہ ہے۔ ہر ایک جملہ دنیا کے فوائد کو واضح کر رہا ہے۔ آپؑ کا یہ فرمان کہ دنیا اللہ تعالیٰ کے محبوب لوگوں کے لیے مسجد ہے، اگر انسان اس فرمان کو مدنظر رکھے اور دنیا کو اس نگاہ سے دیکھے کہ یہ مسجد ہے تو باقی دنیا کے انسان اسے اپنے ساتھ کھڑے نمازی اور سجدہ گزارنظر آئیں گے۔ زمین بھی قابل احترام بن جائے گی۔ انہی سجدہ گزاروں کی خدمت انجام دے کر ان کی مشکلوں کو حل کر کے، ان کے دکھوں کا مداوا کر کے خود کو اس مسجد کا عبادت گزار بنا سکتا ہے۔ اگر دنیا کو مسجد سمجھ کر زندگی گزارے تو کسی کو ضرر کاسوچے گا بھی نہیں اور یوں اس دنیا سے نیک نامی لے کر اور اچھی یادیں چھوڑ کر جائے گا اور آخرت میں بھی نیک اجر پائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button