شمع زندگی

220۔ شبہات میں ذمہ داری

لَاوَرَعَ كَالْوُقُوْفِ عِنْدَ الشُّبْهَةِ۔ (حکمت ۱۱۳)
شبہات میں رُک جانے سے بہتر کوئی ورع و پرہیزگاری نہیں۔

ورع: یعنی خواہشات کی پیروی سے بچنا اور انسانیت کو نقصان و ضرر پہنچانے والے کاموں سے دور رہنا۔ جس عمل کا ضرر واضح ہو اس سے بچنا بھی پرہیزگاری ہی کہلاتا ہے مگر ورع اس پرہیزگاری کو کہتے ہیں کہ شک ہوکہ یہ کام میرے لئے مفید ہے یا نہیں تو اس صورت میں خود کو اس کی انجام دہی سے روک لینا۔ فقیر و مسکین کو بھی کھانے اور لباس کی ضرورت ہے، اسےچھوڑ کر خود عیش و عشرت کے لیے اچھے کھانے اور اعلیٰ لباس استعمال کرنا اور سمجھنا کہ یہ میرے لیے صحیح ہے ورع کے تصور کے خلاف ہے۔ یہاں خود سے ہاتھ روک کر اس فقیر کا ہاتھ تھام لینا ورع ہے۔

نہج البلاغہ میں خط ۴۵ میں اس حقیقت کو مفصل بیان کیا گیا ہے اس خط میں ہے کہ امام علی ؑکا بصرہ کا گورنر کسی دعوت میں جاتا ہے جہاں غریبوں کو نہیں بلایا گیا اور امیروں کے لئے رنگ برنگے کھانے سجائے جاتے ہیں اس پر امامؑ تنبیہ آمیز خط لکھتے ہیں اس میں لکھتے ہیں کہ تم مجھ جیسے تو نہیں بن سکتے مگر پرہیزگاری کے ذریعہ میری مدد تو کر سکتے ہو۔ اس خط میں آپ نے لکھا۔’’جو لقمے چباتے ہو انہیں دیکھ لیا کرو اور جس کے متعلق شک و شبہ ہو اسے پھینک دیا کرو۔‘‘دوسروں کو نقصان پہنچانے یا ان کے حق سے صرف نظر کر کے گزر جانے سے امامؑ ڈرا رہے ہیں۔ دوسروں کو محروم رکھنا حقیقت میں اپنی انسانیت کو کمال سے گرانے کے برابر ہے۔ اس لیے انسان کو کمال کی خاطر ایسے مشکوک اعمال سے بھی دور رہنا ہوگا جو اس کی انسانیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button