شمع زندگی

249۔ عبرت

قَدْ بُصِّرْتُمْ اِنْ اَ بْصَرْتُمْ۔ (نہج البلاغ حکمت ۱۵۷)
اگر تم دیکھو تو تمھیں دکھایا جا چکا ہے۔

انسان کو خلقت کے ساتھ ساتھ نجات و سعادت کی راہیں بتا دی گئیں۔ کبھی فطرت کی صورت میں اور کبھی اللہ کے پیغمبر کے ذریعے اسے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انسان نے ہوش سنبھالا تو تاریخ کے اوراق نے، قوموں کے حالات نے، عبرتوں کے اسباق نے اُسے بہت کچھ دکھایا، سنایا اور صحیح راستے کا پتا بتایا۔ اس کے باوجود انسان کئی بار غفلت میں پڑا ہوتا ہے۔ امیرالمؤمنینؑ نے ان جملات سے اسے جگایا ’’اگر تم دیکھو تو تمہیں دکھایا جا چکا ہے اور اگر ہدایت حاصل کرو تو تمہیں ہدایت کی جا چکی ہے اور اگر سننا چاہو تو سنایا جا چکا ہے۔‘‘

آپ نے گزشتگان سے عبرتیں، نصیحتیں اور دلیلیں حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ کامیاب لوگ وہ ہوتے ہیں کہ جس راہ سے گزر کر کوئی منزل پر پہنچ گیا ہو اس سے سیکھ کر اور اسی راہ کو استعمال کر کے منزل پاتے ہیں اگر کہیں سے کوئی ٹھوکر کھا کر گرا تو وہ اس گرنے والے سے سیکھ کر اس ٹھوکر سے خبردار ہو جاتے ہیں اور راہ بدل لیتے ہیں یا احتیاط برت لیتے ہیں۔ سیکھنے کے لئے بصیرت افروز آنکھوں سے ٹوٹے ہوئے محلات، سر پر تاج پہننے والے سروں پر خاک کو دیکھا جا سکتا ہے اور تجربوں سے گزر کر راہ بتانے والوں کی خاموش صداؤں کو سنا جا سکتا ہے۔

قائد اعظم کی صدا ’’کام کام کام‘‘ اور علامہ اقبال کی ’’اپنی پہچان اور خودی‘‘ جیسی ہدایات کو سنا جا سکتا ہے۔ یہی نظریں اور صدائیں، عبرتیں اور تجربات کامیابی کا ذریعہ ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button