خطبات

خطبہ (۱۳۲)

(۱٣۱) وَ مِنْ خُطْبَةٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ

خطبہ (۱۳۱)

وَ انْقَادَتْ لَهُ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةُ بِاَزِمَّتِهَا، وَ قَذَفَتْ اِلَیْهِ السَّمٰوَاتُ وَ الْاَرَضُوْنَ مَقَالِیْدَهَا، وَ سَجَدَتْ لَهٗ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ الْاَشْجَارُ النَّاضِرَةُ، وَ قَدَحَتْ لَهٗ مِنْ قُضْبَانِهَا النِّیْرَانَ الْمُضِیْٓئَةَ، وَ اٰتَتْ اُكُلَهَا بِكَلِمَاتِهِ الثِّمَارُ الْیَانِعَةُ.

دنیا و آخرت اپنی باگ ڈور اللہ کو سونپے ہوئے اس کے زیر ِفرمان ہے اور آسمان و زمین نے اپنی کنجیاں اس کے آگے ڈال دی ہیں اور تر و تازہ و شاداب درخت صبح و شام اس کے آگے سر بسجود ہیں اور اپنی شاخوں سے چمکتی ہوئی آگ (کے شعلے) بھڑکاتے ہیں اور اس کے حکم سے (پھل پھول کر) پکے ہوئے میووں (کی ڈالیاں) پیش کرتے ہیں۔

[مِنْهَا]

[اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے]

وَ كِتَابُ اللهِ بَیْنَ اَظْهُرِكُمْ، نَاطِقٌ لَّا یَعْیَا لِسَانُهٗ، وَ بَیْتٌ لَّا تُهْدَمُ اَرْكَانُهٗ، وَ عِزٌّ لَّا تُهْزَمُ اَعْوَانُهٗ.

اللہ کی کتاب تمہارے سامنے اس طرح (کھل کر) بولنے والی ہے کہ اس کی زبان کہیں لڑکھڑاتی نہیں اور ایسا گھر ہے جس کے کھمبے سرنگوں نہیں ہوتے اور ایسی عزت ہے کہ اس کے معاون شکست نہیں کھاتے۔

[مِنْهَا]

[اسی خطبہ کے ذیل میں فرمایا]

اَرْسَلَهٗ عَلٰی حِیْنِ فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ، وَ تَنَازُعٍ مِّنَ الْاَلْسُنِ، فَقَفّٰی بِهِ الرُّسُلَ، وَ خَتَمَ بِهِ الْوَحْیَ، فَجَاهَدَ فِی اللهِ الْمُدْبِرِیْنَ عَنْهُ، وَ الْعَادِلِیْنَ بِهٖ.

اللہ نے آپؐ کو اس وقت بھیجا جب کہ رسولوں کی بعثت کا سلسلہ رکا پڑا تھا اور لوگوں میں جتنے منہ تھے اتنی باتیں تھیں۔ چنانچہ آپؐ کو سب رسولوں سے آخر میں بھیجا اور آپؐ کے ذریعہ سے وحی کا سلسلہ ختم کیا۔ آپؐ نے اللہ کى راہ میں ان لوگوں سے جہاد کیا جو اس سے پیٹھ پھرائے ہوئے تھے اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرا رہے تھے۔

[مِنْهَا]

[اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے]

وَ اِنَّمَا الدُّنْیَا مَنْتَهٰی بَصَرِ الْاَعْمٰی، لَا یُبْصِرُ مِمَّا وَرَآءَهَا شَیْئًا، وَ الْبَصِیْرُ یَنْفُذُهَا بَصَرُهٗ، وَ یَعْلَمُ اَنَّ الدَّارَ وَرَآءَهَا. فَالْبَصِیْرُ مِنْهَا شَاخِصٌ، وَ الْاَعْمٰۤی اِلَیْهَا شَاخِصٌ، وَ الْبَصِیْرُ مِنْهَا مُتَزَوِّدٌ، وَ الْاَعْمٰی لَهَا مُتَزَوِّدٌ.

(دل کے) اندھے کا منتہائے نظر یہی دنیا ہوتی ہے کہ اسے اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور نظر رکھنے والے کی نگاہیں اس سے پار چلی جاتی ہیں اور وہ اس امر کا یقین رکھتا ہے کہ اس کے بعد بھی ایک گھر ہے۔ نگاہ رکھنے والا اس سے نکلنا چاہتا ہے اور اندھا اسی پر نظریں جمائے رہتا ہے۔ بابصیرت اس سے (آخرت کیلئے) زاد حاصل کرتا ہے اور بے بصیرت اسی کے سرو سامان میں لگا رہتا ہے۔

[مِنْهَا]

[اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے]

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ لَیْسَ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا وَ یَكَادُ صَاحِبُهٗ یَشْبَعُ مِنْهُ وَ یَمَلُّهٗ، اِلَّا الْحَیَاةَ فَاِنَّهٗ لَا یَجِدُ لَهٗ فِی الْمَوْتِ رَاحَةً. وَ اِنَّمَا ذٰلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْحِكْمَةِ الَّتِیْ هِیَ حَیَاةٌ لِّلْقَلْبِ الْمَیِّتِ، وَ بَصَرٌ لِّلْعَیْنِ الْعَمْیَآءِ، وَ سَمْعٌ لِّلْاُذُنِ الصَّمَّآءِ، وَ رِیٌّ لِّلظَّمْاٰنِ، وَ فِیْهَا الْغِنٰی كُلُّهٗ وَ السَّلَامَةُ.

تمہیں جاننا چاہیے کہ ہر شے سے آدمی کبھی کبھی سیر ہو جاتا ہے اور اُکتا جاتا ہے سوا زند گی کے کہ وہ کبھی مرنے میں راحت نہیں محسوس کرتا اور یہ اس حکمت کی طرح ہے کہ جو قلب مردہ کیلئے حیات، اندھی آنکھوں کیلئے بینائی، بہرے کانوں کیلئے شنوائی اور تشنہ کام کیلئے سیرابی ہے اور اسی میں پورا پورا سامان کفایت و سرو سامان حفاظت ہے۔

كِتَابُ اللهِ تُبْصِرُوْنَ بِهٖ، وَ تَنْطِقُوْنَ بِهٖ، وَ تَسْمَعُوْنَ بِهٖ، وَ یَنْطِقُ بَعْضُهٗ بِبَعْضٍ، وَ یَشْهَدُ بَعْضُهٗ عَلٰی بَعْضٍ، لَا یَخْتَلِفُ فِی اللهِ، وَ لَا یُخَالِفُ بِصَاحِبِهٖ عَنِ اللهِ. قَدِ اصْطَلَحْتُمْ عَلَی الْغِلِّ فِیْمَا بَیْنَكُمْ، وَ نَبْتِ الْمَرْعٰی عَلٰی دِمَنِكُمْ، وَ تَصَافَیْتُمْ عَلٰی حُبِّ الْاٰمَالِ، وَ تَعَادَیْتُمْ فِیْ كَسْبِ الْاَمْوَالِ.

یہ اللہ کی کتاب ہے کہ جس کے ذریعہ تمہیں سجھائی دیتا ہے اور تمہاری زبان میں گویائی آتی ہے اور (حق کی آواز) سنتے ہو۔ اس کے کچھ حصے کچھ حصوں کی وضاحت کرتے ہیں اور بعض بعض کی (صداقت کی) گواہی دیتے ہیں۔ یہ ذاتِ الٰہی کے متعلق الگ الگ نظریئے نہیں پیش کرتا اور نہ اپنے ساتھی کو اس کی راہ سے ہٹا کر کسی اور راہ پر لگا دیتا ہے۔ (مگر) تم نے دلی کدورتوں اور گھورے پر اُگے ہوئے سبزہ کی خواہش پر ایکا کر لیا ہے۔ امیدوں کی چاہت پر تو تم میں صلح صفائی ہے اور مال کے کمانے پر ایک دوسرے سے دشمنی رکھتے ہو۔

لَقَدِ اسْتَهَامَ بِكُمُ الْخَبِیْثُ، وَ تَاهَ بِكُمُ الْغُرُوْرُ، وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی نَفْسِیْ وَ اَنْفُسِكُمْ.

تمہیں (شیطان ) خبیث نے بھٹکا دیا ہے اور فریبوں نے تمہیں بہکا رکھا ہے۔ میرے اور تمہارے نفسوں کے مقابل میں اللہ ہی مدد گار ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button