مقالات

دوستی کی اہمیت اور دوستوں کی قسمیں

دوستی کی اہمیت:

        دوست اور دوستی کی اہمیت کے لئے اتنا ہی کہنا کافی ہو گا کہ مو لا امیر المومنین علیںنے دوست کے لئے ’’بھا ئی‘‘(اخ) کا  لفظ استعمال کیا ہے آپ ؑ اپنے اس عزیز ، زاہد اور پارسا ،دوست کی تعریف کرتے ہو ئے فرما تے ہیںکہ ’’…کان لی فیما مضی اخ فی اللہ…‘‘ گذشتہ زمانہ میں میرا ایک بھائی تھا ۔ گو یا یہ جملہ فرما کر آپؑ اپنے اس دوست کی کمی کا احساس کر تے ہیں ۔ ایک جگہ آپؑ دوست سے بچھڑجا نے کا اظہا ر ان الفا ظ میں کرتے ہیں ’’ فقد الاحبۃ غربۃ ‘‘ دوستوں کو کھونا غریب الوطنی ہے۷؎ ۔ 

        دوستی کا اثر انسانی زندگی پر کافی حد تک ہوتا ہے لہٰذا امام علیں  صرف اپنے فرزندوں کو ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتے ہیں آپ ؑ اپنے ایک مکتوب میں حارث ہمدانی کو مختلف نصیحتوں اور تعلیمات کے ساتھ دوست اور دوستی کی طرف بھی اشارہ فرماتے ہیں۔آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’ ایسے آدمی سے دوستی مت کرو جس کی رائے اور نظریات کمزور ہوں اورافعال برے ہوں کیونکہ انسان کی زندگی اپنے دوست سے متاثر ہو تی ہے ‘‘  ۸؎۔۱گر دوست اچھا ہو گا تو اس کا اچھا اثر پڑ ے گا ،لیکن اگر خدا نخواستہ دوست برا ہوتو اس کا برا اثر بھی پڑے گا ۔ ہاں اس کا مطلب یہ نہیں کہ اچھا انسان برے کے ساتھ رہ کر برا ہی ہو جا ئے ،نہیں۔ بلکہ بہت ممکن ہے کہ وہ برے کے ساتھ رہ کر  خود کو پوری طرح سے بچا ئے رکھے البتہ اس برے دوست  کے ساتھ دوستی کے سبب اس کی شخصیت پر ضرور اثر پڑے گا۔

        جس طرح اچھے سے دوستی کرکے انسان کی اچھا ئی اور عزت میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح برے سے دوستی کرکے اس کی شخصیت پر برا اثر ہوتا ہے  ۔ لہٰذا دوستی کرتے وقت اس کا خاص خیا ل رکھنا چاہئے کہ کس سے دوستی کی جائے۔  

        دوستوں کی قسمیں  :

        یہ سوال اکثر جوا نوں کے ذہن میں اٹھتا ہے کہ دوست کتنے طرح کے ہوتے ہیں ؟ کیو نکہ سا رے دوست ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ دوستوں کے درمیان کا فی فرق پایاجاتاہے۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو اپنے دوست کے دشمن سے بھی دوستی کرلیتے ہیں  اور دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا تے رہتے ہیں ۔تو کیا انہیں بھی دوست کہا جا سکتا ہے،یا نہیں؟ ۔  مشکل کشا ؑ نے اس مشکل کو بھی اپنے نایاب کلمات کے ذریعہ حل فرمایا ہے ۔ آپؑ فرما تے ہیں کہ ’’

تمہارے تین قسم کے دوست ہیں، (۱)تمہارا دوست، (۲)تمہارے دوست کا دوست اور (۳) تمہارے دشمن کا دشمن اور اسی طرح تمہارے دشمن بھی تین ہی طرح کے ہوتے ہیں ۔(۱) تمہا را دشمن ،(۲) تمہارے دوست کا دشمن اور(۳) تمہارے دشمن کا دوست ۔ ۹؎ اس کلمہ سے آسانی سے دوستوں اور دشمنوں کی قسمیں سمجھ میں آتی ہیں ۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ دوست ہر کوئی نہیں ہو سکتا ہے بلکہ جو دوستی کے شرائط پر پورا اترے وہی اچھا اور سچا دوست ہے

تحریر:  سید محمد مجتبیٰ علی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button