شمع زندگی

188۔ عقل

لَاغِنٰى كَالْعَقْلِ وَلَافَقْرَ كَالْجَهْلِ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۵۴)
عقل سے بڑھ کر کوئی ثروت نہیں اور جہالت سے بڑھ کر کوئی فقر نہیں۔

انسان کو حیوان سے بلند کر نے والی نعمت کا نام عقل ہے۔ عقل ہی انسان کو اعلیٰ مدارج پر پہنچاتی ہے اور اگر اسی طرح اس عقل کو استعمال نہ کیا جائے اور سوچ بچار سے کام نہ لیا جائے تو انسان حیوان کے مقام سے بھی گر جاتا ہے۔ عقل یعنی اشیاء و امور کو ان کی حقیقت کے مطابق جاننا۔

امیرالمومنینؑ یہاں عقل کو بڑی دولت قرار دیتے ہیں کیونکہ اسی عقل و تدبیر سے مال و دولت اور مقام و عہدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آرام و سکون اور سعادت مندی و خوش بختی اسی تدبر و تفکر سے حاصل ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سخاوت مال سے اور حکمرانی عقل سے ہوتی ہے۔ عقل علم و مال اور عزت و شرف بلکہ دنیا و آخرت کی ہر اچھائی کا مرکز ہے۔ عقل کے مقابلے میں جہل و نادانی کو بدترین فقر و تنگدستی قرار دیاگیا ہے کیونکہ جاہل و نادان آدمی بنی بنائی دولت اور مقام کو جہالت کی وجہ سے ضائع کر دیتا ہے۔ عقل کی اہمیت و عظمت پر بہت کچھ کہا گیا ہے۔ عقل مند کی پہچان کے بارے میں بھی بہت سے اصول بیان کئے گئےہیں۔ مثلاً یہ کہ عقل مند لوگوں کی عقل کے مطابق بات کرتا ہے کسی نے بہت خوب کہا، عقل مند وہ بات نہیں کہتا جس کے جھٹلائے جانے کا خوف ہو، اس شخص سے کچھ نہیں طلب کرتا جس کے نہ دینے کا ڈر ہو، اس پر اعتماد نہیں کرتا جس سے دھوکا دینے کا احتمال ہو اوراس سے امید نہیں رکھتا جس پر مکمل بھروسا نہ ہو۔ جس میں یہ باتیں پائی جائیں وہ عقل مند ہے اور سب سے بڑی دولت کا مالک ہے اور جس میں یہ علامات و صفات نہ ہوں وہ جہالت کا حامل ہے اور یہ سب سے بڑا فقر ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button