شمع زندگی

289۔ لطف و کرم

بِالْاِفْضَالِ تَعْظُمُ الْاَقْدَارُ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۲۲۴)
لطف و کرم سے قدر و منزلت بلند ہوتی ہے۔

انسان محنت کرتا ہے تو اس کا پھل پاتا ہے۔ مزدوری کرتا ہے تو اس کا اجر ملتا ہے مگر معمول سے اور مقرر شدہ سے زیادہ مل جائے تو اسے فضل کہتے ہیں۔ اب حق و استعداد سے جتنا زیادہ ملتا ہے اتنا وہ فضل زیادہ ہے۔ اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ مانگنے سے پہلے ضرورت کو جان کر دے دیتا ہے یہ اس کا فضل ہے اور جب کوئی اچھا کام کرتا ہے تو کئی گنا زیادہ دیتا ہے۔

امیرالمومنینؑ انسان کی کامیابی کے لیے اسے اس فضل کی عظمت بتا رہے ہیں اور واضح فرما رہے ہیں کہ اگر انسان بھی دوسرے انسانوں پر فضل کرنا شروع کر دے تو انسانوں میں اس کی قدر و عظمت بڑھے گی۔ علم نفسیات کا ایک مشہور اصول ہے کہ آپ کے پاس جو ہے اسے بانٹ دیں۔ یوں لوگوں کے دل آپ کی طرف جذب ہوں گے اور لوگوں کی محبت کا چشمہ آپ کی طرف موجزن ہوگا۔ یہی چیز انسان کی عظمت و شخصیت کا سبب بنے گی، اسی احسان و انعام سے تعظیم سے گردنیں جھکیں گی اور اگر محسن میں کچھ عیب بھی ہوں گے تو احسان ان عیبوں کے لیے پردہ بن جائے گا۔ یہ احسان و انعام اور یہ عطا و بخشش فقط مال سے نہیں ہوتی بلکہ جو کسی کے غموں اور دکھوں کو کم کر دے، لوگوں کے کندھوں سے مشکلات کے بار کو اٹھانے میں مدد گار بن جائے، تو یہ بھی احسان ہے۔

امیرالمومنینؑ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ مجھے تعجب ہوتا ہے ان لوگوں پر جو مال سے جاگیریں تو خرید لیتے ہیں، مگر نیکیوں سے لوگوں کے دل نہیں خریدتے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button