شمع زندگی

292۔ خوش رفتاری

بِالسِّيْرَةِ الْعَادِلَةِ يُقْهَرُ الْمُنَاوِئُ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۲۲۴)
خوش رفتاری سے کینہ ور دُشمن مغلوب ہو جاتا ہے۔

انسان کو زندگی میں کئی قسم کے مخالفین کا سامنا ہوتا ہے اور مختلف طریقوں سے وہ دُشمنی و مخالفت کرتے ہیں۔ لوگ ان دشمنوں کو شکست دینے کے لئے بہت کچھ خرچ کرتے ہیں اور اکثر تو انسان کی جان تک اس میں چلی جاتی ہے۔ امیرالمومنینؑ اس فرمان میں دشمن پر غلبہ کا اصول بیان فرما رہے ہیں۔ وہ کامیاب انسان کے لئے بڑا مضبوط ہتھیار ہے۔ یہ ہتھیار کوئی بندوق یا زخم لگانے والا آلہ نہیں بلکہ فرمایا: دشمن کے ساتھ عدالت و حسن سلوک سے اور انصاف و خوش اخلاقی سے پیش آؤ اسے یقیناً شکست ہوگی۔

خوش رفتاری سے یا تو دشمن اگر عقل رکھتا ہے تو خود متأثر ہوگا کہ جس سے میں دشمنی کر رہا ہوں وہ مجھ سے اتنے انصاف سے برتاؤ کر رہا ہے اس طرح وہ دشمنی چھوڑ دے گا یا عام افراد سے عدل و انصاف کا برتاؤ ہوگا تو ان کے دل اس کی طرف راغب ہوں گے اور اس سے ان کی دوستی بڑھے گی اور یوں مخالف تنہا رہ جائے گا اور یہ اس کی شکست ہے۔ غالب ہونے کی ایک خوبی یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ غلبہ پانے والا غلبہ پا کر سکون و اطمینان حاصل کرتا ہے مگر امامؑ کے اس اصول کے مطابق عادل ظاہری طور پر مغلوب بھی ہو تو وہ مطمئن و پر سکون ہوتا ہے کہ اس نے کوئی کام خلاف عقل نہیں کیا۔ یہ سکون حقیقی غلبہ ہے اس لئے دشمن کو شکست دو حق کی اچھے انداز سے ادائیگی سے اور حسن سیرت و کردار سے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button