شمع زندگی

250۔ احسان

عَاتِبْ اَخَاكَ بِالْاِحْسَانِ اِلَيْهِ، وَارْدُدْ شَرَّهٗ بِالاِنْعَامِ عَلَيْهِ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۱۵۸)
اپنے بھائی کو سزا دینی ہو تو اس پر احسان کرو اور اس کے شر سے بچنا چاہو تو اس پر لطف و انعام کرو۔

امامؑ نےانسانی برتاؤ اور علم اخلاق کے طویل باب کا خلاصہ اس فرمان میں بیان فرما دیا ۔حقیقت میں یہ قرآنی اصول کی تفسیر اور پیغمبر اکرمؐ کی سیرت کی تشریح ہے۔ قرآن کہتا ہے۔ ’’بُرائی کو بہترین اچھائی کے ساتھ پلٹا دو‘‘ اور پیغمبر اکرم ؐکا فتح مکہ کےدن کا مشہور فرمان ہے جب آپ کے کانوں تک یہ آواز پہنچی کہ مکہ والے کہہ رہے ہیں ’’آج انتقام کا دن ہے، فرمایا نہیں آج رحمت کا دن ہے۔‘‘حضرت یوسفؑ کے قصے میں کنویں میں ڈالنے والے بھائیوں کو جب آپ کی ضرورت پڑی تو اس قصے کو دہرانا اور بھائیوں کا معافی مانگنا بھی گوارا نہ کیا بلکہ فرمایا چھوڑو ان باتوں کو ۔
انسانی رشتے کو نبھانے کے لئے امیرالمومنینؑ نے بہترین اصول مہیا فرمایا :اگر کسی نے تمہارے ساتھ زیادتی کی اور وہ واقعا سزا کا حقدار ہے تو سزا کے بجائے احسان کرو۔ آپ کو شدت سے قرض کی ضرورت تھی سامنے والے نے مانگنے پر بھی نہ دیا اور کسی وقت آپ کو معلوم ہوا کہ اس کو قرض کی ضرورت ہےتو آپ نے اس کے مانگے بغیر جا کر اسے قرض پیش کر دیا تو اسے گزشتہ کی سزا بھی مل گئی، آئندہ وہ حتی الامکان آپ سے زیادتی بھی نہیں کرے گا اور انسانیت کا رشتہ بھی مضبوط ہو جائے گا۔کسی نے خوب کہا: برائی کا برائی کے ساتھ جواب دینا بڑا آسان ہے تو اگر با کمال ہے تو برائی کرنے والے سے بھلائی کر۔اور کسی حکیم کا کہنا ہے کہ احسان کرنے کا لطف وہاں آتا ہے جہاں سامنے والے کو شکریہ کہنے کا بھی شعور نہ ہو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button