شمع زندگی

212۔ عقل

لَامَالَ اَعْوَدُ مِنَ الْعَقْلِ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۱۱۳)
عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند نہیں۔

انسان کو حیوانات سے افضل بنانے والی نعمت کا نام عقل ہے۔ انسان مال کماتا ہے تاکہ اسے زندگی میں راحت و سکون اور عزت و احترام ملے۔ مال سے یہ فوائد تبھی حاصل ہوں گے جب مال کے ساتھ عقل کا استعمال ہوگا۔ کئی بار دیکھا گیا ہے کہ کسی کے پاس مال کی فراوانی ہے مگر اس مال کو عقل کے مطابق استعمال نہیں کرتا تو وہی مال اس کے سکون کے چھن جانے اور ذلت و رسوائی کا باعث بنتا ہے۔ مال کا نشہ ایسے کام کروا دیتا ہے کہ ساری زندگی دکھوں میں گھری رہتی ہے۔ ویسے بھی اگر مال ہو اور عقل نہ ہو تو بہت جلد وہ مال ضائع کر دیا جاتا ہے۔

کئی افراد ایسے دیکھے ہیں جنھیں میراث میں بہت بڑی جائیداد ملی مگر اپنی کم عقلی کی وجہ سے اسے جلدی ضائع کر بیٹھے اور فقیروں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ اگر کسی عقل مند کے پاس میراث کا مال نہیں آتا تو وہ اپنے شعور کو استعمال کرکے مالدار بن جاتا ہے۔ یہی صورت اخلاقیات میں بھی ہے، مالدار ہے اور مال ہی کی وجہ سے مغرور ہے تو معاشرے میں اس کے لیے کوئی عزت و احترام نہیں ہوگا۔ لوگوں کو اس کے مال سے کوئی سروکار نہیں اور اگر مال نہیں مگر عقل و شعور سے کام لیتا ہے اور اخلاقیات پر عمل پیرا ہے تو اس کے وجود سے لوگوں کو زیادہ سکون و راحت میسر ہے۔ یہ سب عقل ہی کے سود مند ہونے کی نشانی ہے۔

امیرالمومنینؑ یہاں مال کا عقل سے تقابل کرکے عقل کی اہمیت اور عقل کے استعمال کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں اگر عقل سے انسان کام نہ لے تو وہ سراسر حیوان ہے اور اگر عقل کو شر و فساد کے لئے استعمال کرے تو یہ بھی قساوت قلبی اور درندگی کے زمرے میں آئے گا۔ اس لئے زندگی کی کامیابی کے لئے مال ہو یا نہ ہو عقل کے صحیح استعمال سے کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button