مقالات

مرکے جینا اور جی کے مرنا

حیاۃ کی دو قسم ہے: حیات دنیوی و حیات اخروی۔

        حیات دنیوی: انسان کا اس دنیا میں خداوند کی وحدانیت کو قبول کرنا اور ایمانداری سے دنیا میں لوگوں کی خدمت کو اپنا مشن بناکر زندگی گذارے اور اس کا عمل عین حکم خداوند و روایت معصومین (ع) کے مطابق ہو۔ وخداوند تعالیٰ سورہ الرعدآیۂ ۲۶ میں فرماتے ہیں: ’’وما الحیاۃ الدّنیا فی الآخرۃ الاّ متاعٌ‘‘

        حیات اخروی: حیات اخروی سے مراد، انسان جس ہدف کے لیے خلق ہواتھا، اپنے مقصود پر پہنچ جائے۔ یعنی دنیا میں و رضایت الہی کو کسب کرکے دنیای اخروی کو خرید لیاہو۔

        امّا وہ لوگ جو خداوند عالم کی وحدانیت کے قائل نہیں اور خداوند کو رازق و خالق جبّار و قہار کے قائل نہیں۔ یہ لوگ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، جب ان کے سامنے موت نظر آتی ہے تو حاضر ہوتے ہیں ساری دنیا کو دیکر ایک لحظہ کے لیے چند نفسیں خداوند زیاد دیں۔ موت کو اور نزدیک دیکھ کر بلک بلک کر رونا شروع کردیتے ہیں۔ کیونکہ وہ لوگ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ دنیا کی زرق و برق چیزیں ان پر غالب آتی ہے۔ خداوند فرماتے ہیں: ’’فأمّا مَن طغیٰ و آثر الحیاۃ الدّنیا‘‘ (نازعات؍۳۸)

        امام (ع) موت کی تعریف خطبہ ۵۱ میں اس طرح فرماتے ہیں :

                         ’’فالموت فی حیاتکم مقھورین‘‘ تمہارا ان سے دب جانا، جیتے جی موت ہے۔

                                        ’’والحیاۃُ فی موتکم‘‘ اور غالب آکر مرنا بھی جینے کے برابر ہے۔

        مرکے جینا اور جی کے مرنا:

        کبھی حقیقی معنا انسانوں کے لیے زندگی اور موت سے بڑھ کر دوسری چیز نہیں۔ قضیہ فقط یہ نہیں کہ موت اور زندگی کو جاننا صحیح رابطہ جو ان کے درمیان ہے جانا، یہ نہیں ، بلکہ یوں کہا جاسکتاہے رابطہ زندگی اس دنیا میں اور حیات ابدی اس دنیا میں شبیہ رابط علت و معلول ہے۔ پس جب تک انسان علت کو حقیقی معنوں میں شناخت نہ ہو تو معلول کی شناخت بی معناہے۔ علاوہ اس کے، مسامحہ اور بی اعتنائی کرنااس دنیا، یہ موجب بنتے ہیں کہ انسان بہت بڑی اہمیت والی چیز کو ہاتھ سے دھو بیٹھناہے۔ وہ موضوع جو مشیت الہی سے اس جہان ہستی میں آنے کا شرف ہمیں حاصل ہوئی۔

        خداوند عالم نے اپنی روح ہم میں پھونک کر ہمیں اس جہان ہستی میں بھجا، ’’نفختُ فیہ من روحی‘‘ ۔ انسان کا خسارت میں ہونا فقط یہ نہیں کہ سعادت ابدی کو شقاوت میں تبدیل کرنا۔ بلکہ وہ عظمت و جلالت انسان نے اپنی نااہل کی وجہ سے ہاتھ دھوبیٹھا۔ و سرمایہ گراں قیمت جس کی محصول خداوند عالم مطلق کمال سے رابطہ تھا۔

        یہ شخص کہہ گا: بالغر ض اگر خداوند اتنارحیم و غفور و کریم ہے لذا، آخرت میں عذاب سے صرف نظر کریں گے۔ یہ شخص متوجہ نہیں ہواہے کہ انسان نے کامل رشدکی ہے، دوسروں سے زیادہ رحمت، کرامت، محبّت خداوند پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود اپنی زندگی میں پوری کوشش و تلاش و سعی کرتے ہیں، تا کہ اس راہ پر اصول عالی انسانی اور دستورات خداوندی پر بطور أحسن عمل ہو۔

        ان کی کوشش و تلاش فقط اس لیے نہیں کہ کل سعادت ابدی کے بجائے شقاوت ابدی میں مبدل ہو جائے۔ بلکہ اپنی قدرت حیات سے زیادہ سے زیادہ نفع لینا ہے۔ اگر بی اعتنائی ہو تو عالیترین امتیازات الہی ہاتھ سے کھوبیٹھے گا۔

        پس اس مقدمہ سے امیرالمؤمنین (ع) کی اس فرمان کہ حیات مقہور اور شکست کھانا دشمنی کے مقابلہ میں بطور عام یہ عوامل مزاحم حیات معنوی

  

مرگ ہے اور بالعکس۔ وہ لوگ جو اپنی زندگی کی انتہا معنوی ہو۔ حقیقی حیات و زندگی ہے ، یہ حیات معنوی ارزشمندترین و عظیمترین نعمت الہی ہے۔ کہ اس کی شیطان ملعون کے مقابلے میں حفاظت و نگہداری ہو۔

        دوسری عبارت میں:

        امام (ع) اس خطبہ میں دو مہم نکتہ کی طرف اشارہ فرماتے ہیں:دشمن کا مقابلہ نہ کرنا ، یعنی ذلت کی موت کو سینہ سے لگانا ہے۔ اس لیے ہر قسم کے دشمن کے مقابلے میں ضعیفترین حیوان بھی اس کے مقابلے میں اٹھ کھڑا ہوتا ہے، کہ اپنے حق سے دفاع کر سکیں۔

        خداوند عالم بھی مظلوموں کی دفاع کا عہد کیا ہے۔ کیونکہ مورد ظلم و ستم واقع ہوا ہے، جنگ کی اجازت دی ہے۔ یہ وہی غریزہ دفاعی ہے ، کہ جو حیوانات میں بھی پائی جاتی ہے۔ اسلام میں مظلوموں کو جنگ کی اجازت دینا، ایک ایسا امتیاز ہے جو کلیسا اس غریزہ کو سرکوب کرتی ہے۔ اور لڑکیوں و لڑکوں کو رہبانیت کی صورت میں جنگ و دفاع سے مبارزہ کرتی ہے۔

        امام (ع) نے زندگی کو جو ذلت کے ساتھ جامعہ میں بی اثر رہنے کو موت۔اور موت جو با عزت ہو، سعادت بخش اور افتخار آفرین ہے۔ کوئی اگر مظلومانہ مارا جائے تو خداوند عالم اس کے خون کا بدلہ لیگا۔ اگر چہ ظاہراً شہید ہواہے، مگر حقیقت میں وہ لوگ زندہ ہے اور خداوند کے پاس رزق کھا رہے ہیں،  ’’اولئک ہم یُرزقون‘‘۔

تحریر: ’’آغا محمد محسن عادلی پاکستان‘‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button