مقالاتنهج البلاغه

مقدمۂ نہج البلاغہ حصہ دوم

استاد شیخ محمد عبدہ مفتی دیار مصریہ

ترجمہ: ڈاکٹر سید تلمیذ حسنین رضوی

نہج البلاغہ سے انس و محبت رکھنے والے افراد مفتی مصر شیخ محمد عبدہ سے نہج البلاغہ ہی کے تعلق سے آشنا ہیں۔
شیخ عبدہ کی شرح نہج البلاغہ سے بھی زیادہ ان کے اس شرح کے مقدمہ کو اہمیت دی جاتی ہے۔
مرکز افکار اسلامی کی طرف سے اس مقدمہ کا دقیق ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے:

حَمدِ بے کَراں اور ثَنائے بے پایاں اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمتوں کی باڑ ہے جس نے اطراف و جوانب سے اس کی نعمتوں کا احاطہ کر رکھا ہے۔ اور نبی مکرم پر درود و سلام  اِیفَائےِعہد ہے اور بَارانِ رحمت ہو، ان کی آلِ (اطہار) پر جو اَولِیاء ہیں۔ اور اُن کے اَصحابِ (اَمجاد) پر جو منتخبِ روزگار ہیں۔ جنھیں (حسین) و جمیل کا عِرفان اور راہ حق (وصداقت) کی پہچان ہے۔

 امّابعد مَشیتِ خداوندی اور قَضا و قَدَر کے فیصلے نے مجھے کتاب نہج البلاغہ سے مُطّلَع اور آگاہ کیا اور بغیر کسی تگ و دو اور کوشش وکاوش کے مجھے یہ کتاب میسّر آ گئی۔ جب اس تک میری رسائی ہوئی تو میری حالت دِگرگُوں تھی اور میرا دل پریشان تھا مَشَاغِل کی رکاوٹیں تھیں،  کاروبارمُعَطّل تھا۔ ایسے عالم میں کتابِ نہج البلاغہ کو مَیں نے اپنے لیے تَسْلِیَتْ کا سامان جانا اور تنہائی کی تدبیر گردانا۔ میں نے اس کے بعض صَفَحَات میں جستجو کی اور عبارتوں کے جملوں پر غَور و خَوض کیا اور مختلف مَقامات اور مُتَفَرِّق موضوعات کا مُطَالعہ کیا تو ہر مقام پر مجھے یہ دکھائی دیا کہ جنگ و جدال پورے شباب پر ہے اور دشمن پر حملے جاری و ساری ہیں ۔ اور بلاغَت کی حُکومت ہے اور فَصاحت کا غلبہ ہے، شکوک و شبہات کے ہجوم پر خیالات کا حملہ ہے۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ خِطَابَت کا ایک عظیم لشکر ہے اور سپاہی دستے تلوار سونتے ہوئے ہیں، گویا کہ موتی ہوں اک لڑی میں پروئے ہوئے اور مُنظّم صَف بندی کئے ہوئے شمشیر بَرّاں ہوں اورگندم گوں نیزوں سے گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے، دلائلِ وَاضِحہ بَراہینِ سَاطِعہ اور حُجَجِ قَاطِعہ کا ایک ہجوم ہے جنہوں نے وسوسوں اور شیطانی جنگجوؤں کی تلواروں کو کُند کر دیا ہے، باطل شکست سے دوچار ہے شک وشبہے کی آگ بجھ چکی ہے اور فتنہ و فساد پر سنّاٹا چھایا ہوا ہے اور اس سلطنت کا رُوحِ رَواں اور اس غلبہ کا سُورما حَامِلِ پرچم ِغَالب امیر المومنین علی ابن ابی طالب ہے۔

 میں نہج البلاغہ کی سیر کرتا ہوا جب بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہوں تو میرے مُشَاہدات میں تَغیُّر رونما ہوتا ہے اور میرے عہد و پَیماں میں ایک ہَیجَان برپا ہوتا ہے تو کبھی میں خود کو ایسے عالم میں پاتا ہوں کہ بلندوبالا اَرْوَاح مَعانی و مَطالِب کے سمندر میں تہہ تک پہنچ گئی ہیں اور عبارتیں خوبصورت زیورات سے آراستہ  وپیراستہ ہیں اور وہ پاک و پاکیزہ ذواتِ مُقَدَّسَہ کا طواف کر رہی ہیں اور صاف و شفّاف دلوں کی قُربت حاصل کر رہی ہیں ان کی جانب رہنمائی کی وحی ہو رہی ہے اور ان کے ذریعہ سے منزلِ مُراد کی راہ ہموار ہو رہی ہے جن کے ذریعہ سے فضل و کمال  کےرہوار پر سوار ہو کر میں قعِر مذلت سے نکل کرراہِ فرار اختیار کر رہا ہوں۔

اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جملے میرے سامنے ایسے چہروں کے ساتھ منکشف ہوتے ہیں جو تندخو ہوتے ہیں جن کی ڈاڑھیں واضح ہوتی ہیں جن کی روحیں چیتوں کی مانند ہوتی ہے اورگِدھوں کے چُنگل جیسی ہوتی ہے جو حملے کے لیے گھات لگائے ہوئے ہیں اور جھپٹنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں جنہوں نے مکروفریب کے لیے اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں اورپھر ایسا محسوس ہوتا ہے گویا اس نے دلوں کو بےجا خواہشات سے بچا لیا ہے اوران تیروں کے نشانوں سے قلوب کو محفوظ کر لیا ہے اور فَاسِد تمنّاؤں اور باطل آرا کا قَلع قَمع کر دیا ہے اور ایسا لمحہ بھی آتا ہے کہ میں مشاہدہ کرتا ہوں کہ ایک نورانی عقل ہے، جو جسمانی نفوس سے  مُشَابَہَتْ نہیں  رکھتی وہ الہی سواری سے جدا ہوئی ہے اور انسانی روح سے آکرمُتَصِّل ہو گئی ہے اور اس نے فِطرت کے پردوں کو چاک کرکے اندھیروں اور ظلمتوں سے نکال کر مَلکُوتِ اعلیٰ تک پہنچا دیا ہے اور اسے نُمو عَطا کر کے نورِ روشن کی جلوہ گاہ تک رَسَائی دلادی ہے اور اُسے تَلبِیس و تَشْکِیک کے شُبْہَات سے نجات دلاکر تَقْدِیْسکے پہلو کو بسانے کے لئے وہاں ٹھہرا دیا ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکمت و دانائی کے ایسے خطیب کو سن رہا ہوں جو کلمہ کی سَرفَرازی کی صدا دے رہا ہے اور اُمّت کے اَمر کی سرپرستی کے لئے کوشاں ہے اور انھیں درست مقامات کی نشاندہی کر رہا ہے اور شکوک و شبہات کے مقامات و منازل سےآگاہ کر رہا ہے اور اضطراب کی پھسلن سےانہیں مُتَنَبّہ کر رہا ہے اور سیاست کی باریک بینیوں کی جانب ان کی رہنمائی کر رہا ہے۔ انھیں ذَہَانَت و فَطَانَتْ کی راہیں دکھا رہا ہے اور انھیں ریاست کےحَجلہ تک بلندی اور رِفْعَت عطا کرتا ہےاور تدبیر کے کنگروں تک انہیں بلند کرتا ہے اور ان کے خوب صورت منازل تک انھیں پہنچاتا ہے۔

یہ جلیل القدر کتاب وہ مجموعہ ہے جسے سید شریف الرضی رحمۃ اللہ نے سیدنا و مولانا امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجھہ کے کلام سے منتخب کیا ہے، متفرق چیزوں کو یکجا کیا ہے اور اس کا نام نامی اور اسم گرامی نہج البلاغہ رکھا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی دوسرا نام اس مفہوم کی جانب رہنمائی کرتا ہواور زیادہ موزوں ہو۔ میرے بس میں نہیں ہے کہ میں اس کتاب کی توصیف اُس سے بڑھ کر کرو ں اِس کتاب کا نام جس کی طرف رہنمائی کر رہا ہے اور نہ ہی میں اس کتاب کے فضائل و محامد بیان کرنے کے لیے اس سے بڑھ کر کچھ لا سکتا ہوں جو اس کتاب کا انتخاب کرنے والے سید رضی لائے ہیں جیسا کہ آپ "مقدمۃ الکتاب” میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں وگرنہ فطرت کے تقاضوں اور مافی الذّمہ جو کچھ ہے اس کے مطابق ہم سب پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم صاحب نہج البلاغہ کی معرفتِ جَمیلہ حاصل کریں اور اس اِحسان پر مُحسن کا شکریہ ادا کریں اس لیے کہ نہج البلاغہ نے ہمیں جو ہدایتیں اور رہنمائی فراہم کی ہیں ہم اس کے مُحتاج ہیں۔ جیسے فصاحت کے فنون اور بلاغت کے اُسلوب اس لیے کہ حضرت علی علیہ السلام  اپنے کلام کے ذریعے جس مقصد کا حصول چاہتے ہیں وہ انہیں میسر آ گیا۔ یہاں تک کہ رَسَائِی کی فکر کی کوئی ایسی گزرگاہ نہیں جسے انھوں نے عبور نہ کیا ہو۔  کیونکہ کتاب نہج البلاغہ کی عبارتیں ہمارے دور سے کافی پہلے کی ہیں اور ہماری نسل کے لوگ زبان وبیان کی اصل سے آشنا نہیں۔ ہم (حضرت علی علیہ السلام) کے کلام میں ایسے غَرَائِبَات دیکھتےہیں جن میں کسی قسم کی اجنبیت نہیں اور تراکیب کی وہ خوبیاں دیکھتے ہیں جس میں کسی طرح کی تَعْقِیْد نہیں، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مطالعہ کرنے والے کا فہم بعض مُتَفَرّق الفاظ کے مفہوم کو سمجھنے سے قَاصِر رہ جاتا ہے اور کچھ جملوں کے مضامین سے ناآشنا ہوتا ہے ایسا نہیں ہے کہ الفاظ میں کسی قسم کی کمزوری ہے یا معنیٰ میں کوئی نَقْص ہے بلکہ یہ سراسر سمجھنے والے کا قصور وفتور ہے۔

اور میں نے اس مقصد کے لیے کچھ مفرد الفاظ کی تشریح کر دی اور کچھ جملوں کی تفسیر بیان کردی ہے اور کچھ اشارات متعین کر دیے ہیں کہ صاحبِ ضرورت جہاں چاہے  ٹھہر کر اپنی اِستِطَاعَت کے مطابق اپنا مدّعا پالے اور اپنا ہَدف حاصل کر لے۔ پھر اسی وجہ سے رغبت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ میں کتاب کی طرف رجوع کر کے اس کا بالاستیعاب مطالعہ کروں اور مجھ پر جو معانی و مفاہیم منکشف ہوں ان سے قربت حاصل کر لوں اور کچھ مفرد الفاظ کی تشریح کردوں اور چند جملوں کی تفسیر بیان کر دوں اور کچھ اشارات کی تعیین کر دوں۔

ضرورت کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئےاپنے ارادے کی تکمیل کے لیے اور اپنی بساط کے مطابق میں نے مختصر سی وضاحت کردی ہے۔ اور اس سلسلے میں مشہور فرہنگ و لغات اور اخبار صحیحہ کی معروف کتب پر میں نے اعتماد کیا ہے اور امامت کے مسئلہ میں یا اس پر جرح و تعدیل کے لیے امام علیہ السلام کے نظریے سے تَعَرُّض نہیں کیا ہے بلکہ مطالعہ کرنے والے کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے کہ مَذَاھب کے معلوم اصولوں کی طرف تَوَّجْہ مَبذُول کرکے اس کے بارے میں وہ خود فیصلہ کریں۔ اور ایسی احادیث کو مدنظر رکھیں جو اس کی شہادت دے رہی ہوں۔میں نے عبارت کی تفسیر اور اشارت کی توضیح سے پہلوتہی نہیں کی ہے بس میرا مقصد تو ان اُمور کو محفوظ رکھنا ہے جنھیں میں بیان کر رہا ہوں اور ان باتوں کا تذکرہ کرنا ہے جو میرے حافظے میں  محفوظ ہیں تاکہ نسیان سے بچا جائے اور جو گرد و غبار اُڑ رہا ہے اس سےمحفوظ رہا جاسکے۔ اور میں اصل کتاب سے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ بلند و بالا عبارتوں میں جو معانی و مفاہیم سَبْک و طَریقہ ہے اُسلوب ہے اور کلام کی اَقسام ہیں ان سے واقفیت حاصل کر لوں اور میں خود اپنےلیے اور عربی زبان کے جاننے والوں میں سے جو بھی اس تک رسائی حاصل کر لے اس کے لیے میں اس امر کا خواہاں ہوں۔

اور جلیل القدر علماء کی ایک جماعت نے کتاب نہج البلاغہ کی تشریح کی جانب توجّہ مبذول کی ہے اور اُن میں سے ہر ایک نے ان اسرار و رموز کو نہایت طول دے کر بیان کرنا چاہا ہے جن پر یہ کتاب مشتمل ہے۔اور ان میں سے ہر ایک کا مقصد ایک مذہب کی تایید اور خاص مَشْرَب کی تقویت ہے۔ اس کے علاوہ مجھے میسر نہیں ہوا اور نہ ہی کسی بھی شرح کے حصے میں آیا سوائے ان چند چیزوں کے جنھیں بطون کتب میں ان سے منقول پایا ہے میں نے ان کی رائے سے اگر اس سلسلے میں موافقت کی ہے تو یہ محض اتفاقی معاملہ تھا اور اگر میں نے ان کی مخالفت کی تو میرے خیال میں جو بات درست ہے میں نے اسے اختیار کیا ہے میں نے نہج البلاغہ کی جو تعلیقات کی ہیں انھیں میں دیگر شرحوں کی طرح شرح تصوّر نہیں کرتا اور نہ ہی دیگر کتب کی طرح کوئی الگ کتاب مُتَصَور کرتا ہوں۔بلکہ نہج البلاغہ کے لئے رہنمائی کا ایک وسیلہ اور اس کے اطراف و جوانب سیر کرنے کا ایک پرچم ہے اور مجھے امید واثق ہے کہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے اس میں اختصار کے ساتھ ساتھ اس زمانے کے جوانوں کے لیے فائدے کا سامان فراہم ہو۔میں نے دیکھا کہ جوانانِ عصر طلب و جستجو کی راہوں پر کھڑے ہوئے ہیں اور عربی زبان سے اپنے مقصد کے حصول کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں وہ اپنی ذات کے لیے عربی کے سلیقوں اور لُغات کی عبارتوں کو ڈھونڈھ رہے ہیں ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ خطاب کرنے والی زبان ہو اور تحریر کرنے والا قلم ہو۔ نئے لکھنے والوں نے یعنی عہد جدید کے لکھاڑیوں نے جو مُرَاسلَات اور مقامات تحریر کیے ہیں یا مُتَاخّرِین یعنی بعد میں آنے والوں نے اپنی تحریروں میں ان کی تقلید کی ہے نئی نسل کے نوجوان ایسے وسائل کے مُتَلاَشی ہیں جن کے ذریعے تمام تحریروں کا مطالعہ کر سکیں۔

نئے لکھنے والوں نے اپنی تحریروں میں ان امور کی رِعایت نہیں کی ہے۔ البتہ ان کی تحریروں میں الفاظ کی بناوٹ ہے،قَوافی کی سَجاوٹ ہے،مُسَجّع اور مُقَفیٰ عبارات کی بھرمار ہے، لفظی محاسن اور اسی جیسی دیگر خوبیاں ہیں جن کا نام انہوں نے فنون بدیعہ(جدید فنون) رکھ دیا ہے۔ ان کی عبارتیں مَعانیِ جَلیلہ اور مَطالِبِ وَقِیعہ اور اَسَالِیبِ رَفِیعہ سے خالی اور عاری ہیں۔زبان عربی میں جواس نوعیت کے کچھ کلام ہیں ان میں ہر کلام شامل نہیں ہے بلکہ اگر اس نوعیت کے کلام کو جدا کر دیا جائے تو یہ قول کے طَبَقَات میں سب سے ادنیٰ مقام رکھتا ہے۔ الفاظ کے آخر میں سَجاوٹ ایسا زیور نہیں ہے جو اُسے مُتَوسط درجے تک رفعت عطا کر دے۔ اگر وہ ایسی عبارات سے اجتناب کرکے صاحبانِ زبان سے جو کچھ وارد ہوا ہے اس کی مُدَارَسَت پر مائل ہو جاتے بالخُصوص اُن کے اَعلیٰ طبقے کی جانب تو جن مطالب و مقاصد کی جانب ان کی گردنیں اُٹھی ہوئی ہیں، متلاشی ہیں وہ ان کی حفاظت کرلیتے اور اسے قبول کرنے کے قابل ہو جاتے۔

ہر صاحبِ لغت عربی اس بات کا قائل ہے کہ امام علی بن ابی طالب کا کلام اشرفِ کلام ہے،ابلغ کلام ہے کلامِ باری عز اسمہ اور کلامِ نبی اکرم ﷺ کے بعدسب سے زیادہ اشرف  اور ابلغ ہے۔ اس میں مواد کی فراوانی  اُسلوب کی رِفعت ہے، یہ کلام بلند و بالا معانی ومطالب کاایک حسین مجموعہ ہے پس جو حضرات نفیس لغت کے طَالب و مُتَلاشی ہیں ان کے لیے نہایت مناسب اور موزوں ہے اور جو درجہ بدرجہ اس میدان میں بلندی اور ترقی کے خواہاں ہیں انھیں چاہیے کہ اس کتاب کو اپنی اہم محفوظات میں شامل کر لیں اور جو آثار ان تک پہنچنے ہیں انھیں افضل گردانیں۔ اور ان کے معانی و مفاہیم سے کماحقہٗ آشنائی پیدا کر لیں کہ ان کی غرض و غایت کیا ہے؟ اور ان الفاظ کے معانی پر غور کریں جن پر وہ دلالت کر رہے ہیں۔ تاکہ وہ اس وسیلے سے افضل ترین مقاصد تک رسائی حاصل کریں اور بہترین نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے اپنے عمل میں کامیابی اور ان کے اعمال میں کامرانی کا مُلتَجی ہوں اور خواھاں ہوں کہ مجھے اور ان کو ان کی آرزوئیں، آشائیں اور تمنائیں حاصل ہو جائیں۔

اور مطالعہ کرنے والوں کے لیے ہم بالاختصار شریف رضی جو جامعِ کتاب "نھج البلاغہ” ہیں ان کے نسب اور ان سے تعلق رکھنے والی کچھ باتیں بیان کریں گے۔

وہ ابوالحسن محمد بن ابی احمد حسین بن موسیٰ بن محمد بن موسیٰ بن ابراھیم بن موسیٰ بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علی زین العابدین الحسین بن علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجھہ ہیں۔

اُن کی والدہ گرامی فاطمہ بنت الحسین بن الحسن النّاصر صاحبِ دیلم ابن علی بن الحسن بن علی بن عمر بن علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔

شریف رضی  359 ہجری کو پیدا ہوئے اور حصول علم میں مشغول ہو گئے اور انھوں نے فقہ اور فرائض اور علم و ادب میں اہلِ زمانہ پر تَفَوُق حاصل کرلیا۔

صاحبِ یتیمہ نے کہا ہے "کہ وہ (شریف رضی) آج کے دور میں ابنائے زمانہ میں سب سے لَائق و فَائق اور سَادَاتِ عِراق میں نَجیبُ الطَّرَفَین اور شَرافت کے زیور سے آراستہ اور ظاہری ادب اور آداب اور شَائستگی سے پیَراستہ روشن فضیلتوں کے حامل اور خوبیوں اور محاسن سے بھرپور ہیں اپنے والد گرامی کے بعد ان کی زندگی میں ہی  سنہ388ہجری کے بعد وہ طالبیین کی نَقابت و رِیاست کے مُتَولّی ہوگئے تھے اور نَقابت کے علاوہ وہ تمام امور انجام دینے لگے جو ان کے پدرِ بزرگوار انجام دیا کرتے تھے اور یہ لوگوں کے حقوق کی نگرانی اور لوگوں کے فیصلے کرنا اور بلندی ِمقام کی یہ کیفیت تھی خَلیفہ القادر باللہ عَباسی اَحمد بن مقتدرسے مخاطب ہو کر اسے نصیحت کرتے ہیں ایک طویل قصیدے میں فخریہ انداز میں فرماتے ہیں اور خود کو خلیفہ وقت کے مُسَاوی قرار دیتے ہیں:

 عَطفاً أَميرَ المُؤمِنينَ فَإِنَّنا اے مومنوں کے امیر تمھارا سلوک مہربانی کا ہونا چاہیے کیونکہ
في دَوحَةِ العَلياءِ لا نَتَفَرَّقِ بلندیوں کے شجرے میں ہم دونوں متفرق نہیں ہیں
ما بَينَنا يَومَ الفَخارِ تَفاوُتٌ فخر و مباہات کے موقع پر ہمارے درمیان کوئی فرق نہیں
أَبَداً كِلانا في المَعالي مُعرِقُ ہرگز ہرگز اس لئے کہ ہم دونوں بلندیوں میں ایک ہی خانوادے کے افراد ہیں
إِلّا الخِلافَةَ مَيَّزَتكَ فَإِنَّني سوائے خلافت کے جس نے تم کو ممتاز بنایا ہے بس فرق اتنا ہے
أَنا عاطِلٌ مِنها وَأَنتَ مُطَوَّقُ میں اس سے آزاد ہو اور تمھارے گلے میں گلے میں خلافت کا طوق پڑا ہوا ہے

روایت بیان کی گئی ہے کہ قادر نے ان اشعار کو سننے کے بعد کہا تھا:

علی رغم انفک یا شریف  اے شریف جیسا کہ کہ تم سمجھ رہے ہو ویسا ہی ہے

اور ان کے بہترین اشعار میں بھی اسی سے ملتی جلتی باتیں ہیں وہ فرماتے ہیں:

رَمْتَ المَعالي فَاِمتَنَعنَ يَزَل تم نے بلندیوں کا قصد کیا توکیا تم سے رک گئیں
وَلَم أَبَداً يُمانِعُ عاشِقاً مَعشوقُ اور شروع نہیں ہوئیں عاشق و معشوق میں نزاع ہوتا رہا
وَصَبَرتُ حَتّى نِلتُهُنَّ وَلَم أَقُل میں نے صبر سے کام لیا یہاں تک کہ وہ مجھ تک پہنچ گئیں اور میں نے نہیں کہا
ضَجَراً دَواءُ الفارِكِ التَطليقُ دور ہو جاؤ ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی اور جو عورت شوہر کو ناپسند کرتی ہو تو ایسی عورت کی دوا سوائے طلاق اور کچھ نہیں

سید رضی نے دسویں سال کے بعد شعر گوئی کا آغاز کردیا تھا۔ صاحب یتیمہ فرماتے ہیں کہ وہ طالبیین کے سب سے بڑے شاعر تھے جو گزر چکے اور جو آنے والے ہیں اور اگر تم یہ کہو گےیہ قریش کے بڑے شاعر تھے تو یہ بات بھی مبنی بر صدق ہوگی اور ان کے کسی توصیف کنندہ نے کہا ہے کہ وہ (شریف رضی) بلند پایہ شاعر تھے ان کی نظم میں فَصاحت الفاظ کی جَزالت و ضَخَامت تھی وہ قادرُ الکلام شاعر اور اور فن شاعری میں فائق تھے اور اگر نسب بیان کرنے میں آہ و بکا کا ارادہ ہو تو اس میں حیران کن امور بیان کرتے تھے اور اگر مدح و ثنا میں بھاری بھرکم الفاظ استعمال کرنا چاہتے تھے تو بغیر کسی تگ و دو کے اس مقصد کو حاصل کرلیتے تھے اور اگر کسی کا مرثیہ لکھنا چاہتے تھے تو سب پر سبقت لے جاتے تھے اور دیگر شعراء ان کے سامنے  دم بخود رہ جاتے تھے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ بہترین نثر نگاربھی تھے، کاتب بڑے رسا تھے ان کی عبارت میں مَتَانت ہوتی تھی اور بلند و بالا مَطالب ہُوا کرتے تھے۔

ان کے اشعار کی جَمَع آوری کی جانب بہت سے لوگوں نے سعی کی ہے جن میں سب سے عمدہ مجموعہ ابی حکیم حیری کا ہے یہ بہت بڑا دیوان ہے جس کی چار جلدیں ہیں جیسا کہ صاحب یتیمہ نے ذکر کیا ہے اور ان کی ایک اور کتاب  ہےجو قرآن عظیم  کے معانی پرمشتمل ہے۔ لوگوں کا قول ہے کہ یہ کتاب عدیم المثال ہے اور اس کے ذریعے شریف رضی کی نحو لغت اور اصول دین میں وسیع معلومات کا پتا چلتا ہے اور ان کی ایک اور اہم کتاب مجازات القرآن ہے۔ شریف رضی بلند ہمت تھے جس کے ذریعے وہ نہایت عظیم الشان امور انجام دیا کرتے تھے جبکہ اس میں ان کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوتا تھا۔ وہ اس کام کے لیے ڈٹ جاتے اور اسے کر گزرتے تھے وہ نہایت پاک دامن اور اپنی پاک دامنی میں نہایت شدید تھے جو انتہا تک پہنچی ہوئی تھی وہ نہ تو کسی سے صِلہ چاہتے تھے اور نہ ہی انعام قبول فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ بنوبُویہ نے انھیں  انعام و اکرام سے نوازنا چاہا مگر شریف رضی نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا  یہاں تک کہ انھوں نے اپنے والد کو ملنے والے انعام و اکرام کوبھی واپس کر دیا البتہ تکریم و تعظیم اوراپنے پیروکاروں اور ساتھیوں عزت و عظمت پر راضی تھے۔

ابو حامد محمد بن اسفرائینی فقیہ شافعی نے بیان کیا ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ میں ایک دن فخرالملک ابی غالب محمد بن خلف محمد بن بہاءُالدّولہ کے وزیر اور اس کے بیٹے سلطان الدّولہ کے پاس تھا کہ اتنے میں سید رضی ابو الحسین (ہم جن کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں) وہاں تشریف لےآئے وزیر نے ان کی تعظیم و تکریم کی اور تجلیل و توقیر کی اور وہ جن امور اور باتوں میں مصروف تھا ان سب سے قطع نظر کرکے پوری طرح  ان کی جانب متوجہ ہو کر محوِ گفتگو ہو گیا یہاں تک کہ وہ واپس تشریف لے گئے پھر اس کے بعد ہی مرتضیٰ ابوالقاسم "شریف رضی” کے بڑے بھائی تشریف لائے تو وزیر نے ان کی ویسی تعظیم و توقیر نہ کی بلکہ وہ جن تحریروں کو پڑھ رہا تھا تھا کے پڑھنے میں مصروف رہا سید مرتضیٰ تھوڑی دیر بیٹھے اس سے کسی معاملے کو دریافت کیا وزیر نے ان کا مسئلہ حل کر دیا اور پھر وہ واپس چلے گئے۔ابوحامد فرماتے ہیں کہ میں نے وزیر سے کہا خدا تمھارا بھلا کرے یہ مرتضیٰ جو فقیہ متکلم اور صاحب علوم و فنون ہیں اور وہ ہر اعتبار سے سید رضی سے افضل و اعلیٰ ہیں اور ابو الحسن (سید رضی) تو صرف شاعر ہیں(تم نے ان کے مُقابل میں اُن کا زیادہ احترام کیوں کیا؟)۔ اس نے جواب دیا کہ تمام لوگ جب روانہ ہو جائیں گے اور خلوت ہوگی تو میں تمھارے سوال کا جواب دوں گا۔

ابو حامد نے کہا میں واپس جانے کے لیے تیار بیٹھا تھااور میں وہاں مزید نہ ٹھہر سکا۔ دوبارہ میری ضرورت مجھےوزیر کے دربار میں لےگئی یہاں تک کہ جب لوگ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ اور اس کے اکثر خدام چلے گئے بس یا تو میں تھا یا اس کا ایک مخصوص خادم تھا اس نے اپنے خادم سے کہا کہ ذرا وہ خط لے کر آؤ جو میں نے تمھیں کچھ دن پہلے فلاں جگہ رکھنے کے لیے دئے تھے خادم وہ خط لے آیا تو وزیر نے کہا یہ سید عزیز کا خط ہے جس میں اس نے تحریر کیا ہے کہ اس کے گھر ایک بیٹے کی ولادت ہوئی ہے تو میں نے سید رضی کی خدمت میں ایک ہزار دینار روانہ کئے اور یہ کہا کہ یہ قابلہ (دایہ) کے لیے ہیں اس لیے کہ یہ طریقہ جاری و ساری ہے کہ دوست خوشی کے ایسے مواقع پر دوستوں کو اس طرح کا تحفہ بھیجتےرہتے ہیں۔ سید رضی نے وہ دینار واپس کردیے اور یہ خط لکھ کر بھیجا لو تم خود اسے پڑھ لو۔ جب میں نے خط پڑھا تو وہ معذرت نامہ تھا کہ دینار کیوں واپس بھیج رہے ہیں۔ اس خط میں یہ لکھا ہوا تھا ہم اہل بیت وہ ہیں کہ ہمارے احوال سے اجنبی قابلہ (دایہ) مطّلع نہیں ہوتی ہماری خواتین کو جب ضرورت ہوتی ہے تو ہماری بڑی بوڑھیاں یہ فریضہ انجام دیتی ہیں اور وہ نہ تو اجرت قبول کرتی ہیں اور نہ ہی کوئی صلہ چاہتی ہیں۔ جہاں تک مرتضیٰ کا تعلق ہے تو ہم لوگوں نے کچھ علاقوں میں جاگیریں تقسیم کی تھیں اور انھیں ایک نہر کی کھدائی میں تصرّف میں لانا چاہتے تھے جو نہرعیسیٰ کے نام سے مشہور ہے تو داھریہ کے علاقے میں وہ شریف مرتضیٰ کی ملکیت میں آ گئی جس کی قیمت 20 درہم تھی جو ایک دینار کے مساوی ہے۔ شریف مرتضی نے اس بارے میں ایک خط تحریر کیا تھا جو سو سطروں پر مشتمل ہے جس میں عاجزی، انکساری، چاپلوسی، خوشامد، طلب و درخواست ہے کہ یہ 20 درہم معاف کر دیے جائیں اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ تو فخرالملک نے کہا اب فیصلہ تم ہی کرو کہ کون زیادہ تعظیم و تجلیل و تکریم کا مستحق  ہے یہ عالم مُتکِلم یگانہ فقیہ جس کی دلی کیفیت یہ ہے یا وہ شاعر جو اپنے شعر کی وجہ شہرہ آفاق ہے جس کے دل کی یہ حالت ہے۔ میں نے جواب دیا اللہ ہمارے آقا وزیر کی توفیق میں اضافہ کرے جس نے بخدا معاملہ کو صحیح مقام پر رکھا ہوا ہے اور جو جس کا حق دار تھا اس سے ویسا ہی سلوک کیا ہے۔

سید رضی کی وفات محرم الحرام سنہ404ہجری ہوئی اور انھیں ان کے گھر میں دفن کیا گیا جو کرخ میں مسجد انباریین کہلاتا ہے اور ان کے برادر عزیز مرتضیٰ اشکبار امام موسیٰ الکاظم علیہ السلام کے روضہ اقدس پر تشریف لے گئے اس لیے کہ وہ اپنے بھائی کا تابوت اور دفن و کفن برداشت نہیں کر سکتے تھے اور وزیر فخرالملک ابو غالب نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور دن کے آخری حصے میں بنفس نفیس وہ امام موسی الکاظم علیہ السلام کے روضہ مقدس میں تشریف لےگئے اور سید مرتضیٰ کو اپنے ساتھ گھر لے آئے۔ شریف رضی کے بھائی شریف مرتضیٰ نے ان کی وفات کے موقع پر جو مرثیہ پڑھا ان میں سے کچھ اشعار یہ تھے۔

يا لَلرّجالِ لفَجْعَةٍ جَذَمَتْ يدي کیا کہنا ایسی ہستیوں کا جن کی ناگہانی موت نے میرے ہاتھوں کو بے حس و حرکت بنا دیا ہے
وددتُها ذهبتْ عليّ براسي اور میں خواہش مند تھا کہ مکمل طور سے  اسے فراموش کر دوں
ما زلتُ أحذر وِرْدَها حتّى أتَتْ میں اس کے قدوم سے خوف زدہ تھا یہاں تک کہ وہ موت آ گئی
فحسوتُها في بعض ما أنا حاسِ اس میں سے کچھ تلخ گھونٹ تھوڑا تھوڑا کر کے پیتا رہا جب تک پی سکتا تھا
ومطلتُها زمناً ولمّا صَمَّمَتْ اور ایک عرصے تک میں ٹال مٹول سے کام لیتا رہا لیکن جب میں نے پختہ ارادے کیے
لم يَثْنِها مَطْلي وطولُ مِكاسي تو میرا ٹال مٹول سے کام لینا اسے عہدے سے نہ ہٹا سکا اور نہ ہی لمبی فخر و مباہات کسی کام آئی
لا تُنِكرا من فيض دمعِيَ عبرةً تم میری اشک فشانی پر نگاہِ تعجب  سےنہ دیکھو
فالدّمعُ خيرُ مساعدٍ ومواسي اس لیے کہ آنسوبے قابو ہوتے ہیں اور غم وھم کو بُھلانے میں مددگار ہوتے ہیں
واهاً لعُمركَ من قصيرٍ طاهرٍ اللہ نے تمھاری حیات جس کی مدّت کم تھی اسے پاک و پاکیزہ طریقے سے گزار دی
ولربَّ عُمْرٍ طال بالأرجاسِ اکثر طویل زندگیاں نہ جانے کِن کِن آلودگیوں سے ہو کر گزرتی ہیں

اِبنِ خَلکَان نے کچھ اَفاضل کی زبانی بیان کیا ہے کہ انھوں نے ایک مجموعے میں یہ دیکھا تھا کہ کوئی ادیب شریف رضی (ہم جن کے حالات زندگی بیان کر رہے ہیں)  ان کےگھر سُرّمن رای سے گزرا اور وہ اس گھر کو پہچانتا نہ تھا۔مرورِ زمانہ کے ساتھ گھر پُرانا ہوچکا تھا، اس کا رنگ روپ ختم ہو گیا تھا اور اس کی زیب و زینت جاتی رہی تھی البتہ اس کے کچھ نشانات اس کی تازگی اور اس کے حسن کو نمایاں کر رہے تھے وہ شخص زمانے کی گردشوں اورحادثات کے واقع ہو جانے پر حیران و ششدر تھا اور شریف رضی کے یہ اشعار پڑھ رہا تھا:

وَلَقَد مَرَرتُ عَلى دِيارِهِمُ اور یقیناً میں گزرا ان کے موسم بہار کی رہائش گاہ پر
وَطُلولُها بِيَدِ البِلى نَهبُ اور اس کے کھنڈرات سے گزرا جنھیں مرورِ زمانہ نے بوسیدہ کردیا ہے لوٹ لیا ہے
فَوَقَفتُ حَتّى ضَجَّ مِن لَغَبٍ تو میں نے گریہ کیا یہاں تک کہ کمزوری کے سبب سواری سے سر ٹکرا
نِضوي وَلَجَّ بَعُذَّلي الرَكبُ کر زخمی ہو گیا اور میری علالت پر میری سواری بڑبڑانے لگا
وَتَلَفَّتَت عَيني فَمُذ خَفِيَت اور میری آنکھ اس سے منحرف ہو گئی پس جب وہ  ٹیلے میری نگاہوں سے مخفی ہو گئے
عَنها الطُلولُ تَلَفَّتَ القَلبُ  تو میرا دل اس سے  وابسطہ ہوا اور لپٹ کر رہ گیا

جب وہ اجنبی ادیب گھر کی خستگی دیکھ کر یہ اشعار پڑھ رہا تھا تو ایک شخص وہاں سے گزرا اور اس ادیب سے دریافت کیا: کیا تم جانتے ہو یہ گھر کس کا ہے؟  ادیب نے جواب دیا: نہیں ۔تو وہ شخص بولا کہ اس گھر کا مالک وہ ہے تم جس کے اشعار پڑھ رہے ہو یعنی شریف رضی۔ دونوں شخص اس حسنِ اتفاق پر انگشت بدنداں رہ گئے۔

شریف رضی کے مناقب و فضائل پر اگر ہم علماء کی روایت نقل کریں اور ان کا اِحصا کرنا چاہیں تو بات بہت لمبی ہو جائے گی۔ ہمارا مُدّعا تو بس یہ تھا کہ قاری کو ان کی سیرت کے کچھ گوشوں سے آشنا کر دیں۔

واللہ اعلم

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button