شمع زندگی

221۔ زہد

لَا زُهْدَ كَالزُّهْدِ فِى الْحَرَامِ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۱۱۳)
حرام سے بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد نہیں۔

مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں، یہ اللہ نے بتا دیا ہے۔ اب خالق نے جن کاموں سے منع کیا ہے ان کا انجام دینا حرام کہلاتا ہے اور جب منع کیا تو اس سے رک جانا زہد ہے۔ اللہ نے جس چیز سے منع کیا ہے اسے انجام دینے میں انسان کا کسی نہ کسی اعتبار سے گھاٹا ہے، اسی لئے منع کیا ہے۔ ان منع کی ہوئی چیزوں میں سے بڑی تعداد کا تعلق دوسرے انسانوں سے ہے۔ دوسروں کی بے احترامی سے منع کیا، انھیں نقصان پہنچانے سے منع کیا، ناجائز قتل کرنے سے منع کیا، کسی کا مال لے لینے سے منع کیا۔

اب زہد فقط سادہ لباس پہن لینا اور مخصوص کھانا کھا لینا نہیں، انسان حضرت سلیمان نبیؑ کی طرح تخت پر بیٹھ کر بھی زاہد ہو سکتا ہے۔ زہد یہ ہے کہ جس سے اللہ نے منع کیا اس سے رک جائے بلکہ بعض اوقات جس سے اللہ نے نہیں روکا دوسرے انسانوں کی خاطر اس سے رک جانا، یہ کمال زہد و عظمت انسانیت ہے۔ قرآن نے کچھ بندوں کی تعریف میں فرمایاہے: ’’وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلىٰ‏ حُبِّهٖ مِسْکِیْنًا وَ یَتِیْمًا وَ اَ سِیْرًا‘‘ کھانے کی اپنی خواہش کے باوجود مسکین، یتیم، اسیر کو کھانا کھلا دیتے ہیں۔ انسان کامل کے لئے خود کھانا اتنا باعث مسرت نہیں ہوتا جتنا دوسروں کو کھلانا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button