شمع زندگی

299۔ سستی

مَنْ اَطَاعَ التَّوَانِيَ ضَيَّعَ الْحُقُوْقَ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۲۳۹)
جو شخص سستی و کاہلی کرتا ہے وہ حقوق کو ضائع و برباد کرتا ہے۔

کامیابی کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ انسان کی سستی و کاہلی ہے۔ جس کام کو جس وقت پر انجام دینا ہے، بغیر کسی عذر و مجبوری کے اُس میں تاخیر کرنا سستی کہلاتا ہے۔ آج کے کام کو کل پر چھوڑ دینا۔ کام کے دوران میں خود کو تھکا ہوا محسوس کرکے اُسے ادھورا چھوڑ دینا۔ یہ سب سستی و کاہلی کی نشانیاں ہیں۔ جو شخص وقت جیسی قیمتی دولت کو جان بوجھ کر ضائع کرتا ہے وہ یقیناً ناکام ہوتا ہے اور ہر کوئی اس کی مذمت کرتا ہے۔ موقع و مناسبت پر تھوڑی سی لا پرواہی کرے گا تو تھوڑے تھوڑے چھوڑے ہوئے کام جمع ہو کر بہت زیادہ ہو جائیں گے پھر اگر کرنا بھی چاہے تو ممکن ہے انجام نہ دے سکے۔ یوں اس سستی و کاہلی کی وجہ سے دوسروں کے لیے جو حقوق ادا کرنا تھے انھیں ضائع کر بیٹھتا ہے اور نتیجے میں اس کے اپنے حقوق ضائع ہو جاتے ہیں۔ کوئی ملازم اپنی ذمہ داری میں سستی کرتا ہے تو مالک کا جو حق تھا اسے اس نے ضائع کیا اور یہی سستی سبب بن سکتی ہے کہ کل اسے اپنی تنخواہ کے حق سے محروم ہونا پڑے۔

امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام اس فرمان میں سستی و کوتاہی کی کمزوری اور نقصان کی طرف متوجہ فرما رہے ہیں تاکہ ہر شخص اس بری عادت سے بچنے کی کوشش کرے۔ البتہ سست آدمی کو اِس مرض سے نجات کے لیے کسی مدد گار کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے سامنے زندگی کا کوئی بڑا مقصد رکھ کر اسے متحرک کر سکے اور اُس میں ہمت پیدا کر سکے۔ امیرالمومنینؑ وہی مدد گار ہیں جو اُنسان کو خواب غفلت سے جگا رہے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button