شمع زندگی

265۔ خاموشی

لَاخَيْرَ فِى الصَّمْتِ عَنِ الْحُكْمِ كَمَا اَنَّهٗ لَا خَيْرَ فِى الْقَوْلِ بِالْجَهْلِ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۱۸۲)
حکیمانہ بات سے خاموشی اختیار کرنے میں کوئی بھلائی نہیں جس طرح جہالت کی بات میں کوئی اچھائی نہیں۔

انسان کو دی گئی نعمتوں میں سے ایک نعمت کا نام زبان ہے اور زبان سے جاری ہونے والے کلام سے انسان حیوانوں سے الگ ہوتا ہے۔ اللہ نے بھی خلقت انسانی کے بعد سب سے پہلے بیان کی نعمت کا تذکرہ کیا۔ امیرالمومنینؑ اور دیگر حکماء نے اکثر مقامات پر انسان کی خاموشی و سکوت کی تعریف کی مگر آپ نے یہاں خاموشی کی مخالفت کی اور فرمایا کہ بعض مقامات پر بعض افراد کے لئے چپ رہنا اچھائی نہیں جیسا کہ کچھ افراد کے لیے بعض مقامات پر بولنے میں اچھائی نہیں۔

فرق یہ ہے کہ جب بات میں حکمت و دانائی پائی جائے، وہ کسی کی زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ بنے، کسی کے علم میں اضافے کا سبب، کسی کے دکھ کے درد کا مداوا، کسی کے حق کے ثبوت کے لئے سچی گواہی ہو، کسی کو مخلصانہ نصیحت و ہدایت ہو، کسی کو عقلمندانہ مشورہ ہو تو، ایسے مقامات پر خاموشی میں بھلائی نہیں وہاں بولنا لازم ہے اور اگر انسان ایسے مقام پر نہیں بولے گا تو بعض مقامات پر گناہ گار شمار ہوگا۔

اسی طرح اگر باتیں جہالت پر مبنی ہوں، یا کسی کی زندگی میں خلل کا سبب ہوں، جھوٹ، غیبت، تہمت، اہانت، جھوٹی گواہی، بے مقصد و بے ہودہ گفتگو ہو تو ایسے مقامات پر چپ بہتر ہے۔ ایسے مقام پر کوئی کلام کرے گا تو بعض کلام گناہ کے حساب میں شمار ہوں گے۔ یعنی بولنا یا چپ رہنا وقت اور محل کے اعتبار سے اچھائی یا برائی قرار پائے گا۔

البتہ جہاں حکمت ہو، بات کہنا فضیلت ہو گا، تو وہاں ان حکمت آمیز کلمات کو سننا بھی فضیلت ہو گا۔ انسان اگر صاحب فضیلت بننا چاہتا ہے تو اسے امیرالمومنینؑ کے حکمت بھرے اقوال کو سننا چاہئیں۔ انہیں جان کر اور ان پر عمل کرنے سے یقینا زندگی سنورے گی اور کامیابی نصیب ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button