مقالات

انسانی زندگی میں قلم کا نقش و اثر

نوع بشر کی زندگی کااہم ترین مرحلہ ، جیساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیاہے ، خط کاپیدا ہونا اور قلم کاکاغذ یاپتھر پرچلنا تھا ، یہ وہی وقت تھا کہ جس نے تاریخ کے دور کوماقبل تاریخ سے جُدا کردیا ۔ 
کاغذ کے صفحہ پر نوک قلم کی گردش بشر کی سرنوشت کو رقم کرتی ہے .لہٰذا انسانی معاشروں کی کامیابی اورشکست نوکِ قلم سے وابستہ ہے ۔
قلم علوم و معارف کامخافظ ،مفکّرین کے افکار کاپاسدار ،عُلماء کے فکر ی اتّصار کی کڑی اورنوعِ بشر کے ماضی وحال کے ارتباط کے لیے ایک پُل ہے . یہاں تک کہ آسمان وزمین کاارتباط بھی لوح وقلم کے ذ ریعہ ہی ہُوا ہے ۔ 
قلم ان انسانوں کوجوزمان ومکان کے لحاظ سے ایک دوسرے سے الگ زندگی بسرکرتے ہیں ، ایک دوسرے سے جوڑ دیتاہے .گویا تمام طول تاریخ اورتمام رُوئے زمین کے سب مفکّر ین نوعِ بشر کو ایک کتابخانہ عظیم میںدیکھ لیں گے ۔ 
قلم راز دار ِ بشر ہے ، خز انہ دارِ علُوم ہے ،قرونِ واعصار کے تجر بات کوجمع کرنے والاہے .اگرقرآن اس کی قسم کھاتاہے تواس کی وجہ یہی ہے. کیونکہ قسم ہمیشہ ایک بہت ہی عظیم اورقدر وقیمت رکھنے والی چیز کی کھائی جاتی ہے ۔ 
البتّہ "” قلم "” "”مایسطرون”” (تحر یروں ) کے لیے ایک وسیلہ ہے اورقرآن نے دونوں کی قسم کھائی ہے ، یعنی آلہ کی بھی اور آلہ کے محصول کی بھی ۔ 
بعض روایات میں آ یاہے : 
انّ اول ماخلق اللہ القلم 
پہلی چیزجو خدا نے خلق کی وہ قلم تھا ۔
اس حدیث کوشیعہ محدثین نے امام صادق علیہ السلام سدسے نقل کیاہے (١) نیز یہ اہل سنّت کی کتابوں میں بھی ایک مشہور خبر کے عنوان سے آ ئی ہے (٢)۔
ایک دوسری حدیث میں آ یاہے : 
پہلی چیز جس کو خدانے خلق کیاوہ ایک گوہرتھا ف( ٣)۔
بعض اخبار میں یہ بھی آ یاہے : 
"” ان اوّل ماخلق اللہ العقل "” ۔
پہلی چیز جسے خدا نے خلق فرمایا وہ عقل تھا ( ٤)۔ 
اس وصف کے تعلق کی طرف توجّہ جو "”گوہر "” "” قلم "” اور”” عقل "” کے درمیان ہے ،ان سب کے اوّل ہونے کے مفہوم کوواضح کردیتی ہے ۔ 
جوحدیث ہم نے اوپر امام صادق علیہ السلام سے نقل کی اس میںآ یاہے کہ خدا نے قلم کوپیدا کرنے کے بعد اس سے فرمایا : "” لکھ !”” اوراس نے جوکچھ تھااورجوقیامت کے دن تک ہوگا، سب لکھ دیا ۔
اگرچہ اِس روایت میں قلم سے قلم تقدیر اورقضا وقدر کی طرف اشارہ ہے ،لیکن چاہے جوکچھ بھی ہے بشر کی سرنوشت اوراس کے مقدّرات میں قلم کے نقش واثر کوواضح کرتی ہے ۔ 
پیشوا یان اسلام متعدد واحادیث میں اپنے اصحاب کوتا کید کیا کرتے تھے ، کہ وہ اپنے حافظے پر قناعت نہ کریں اوراحادیث ِ اسلامی اور علوم ِ الہٰی کو تشتہ ٔ تحریر میں لاکر آنے والے لوگوں کے لیے یاد گار کے طورپر چھوڑ جائیں ( ٥)۔ 
بعض عُلماء نے کہاہے : 
"” البیان بیانان : بیان اللسان ، وبیان البنان ، وبیان اللسان تدرسہ الا عوام ، وبیان الاقلام باق علی مر الایام "” ۔ 
"” بیان دوقسم کے ہو تے ہیں : زبان کابیان اورقلم کابیان ، زبان کابیان تو زمانہ اور سالوں کے گزرنے سے کہنہ اورپرانا ہوجاتا اور ختم ہوجاتاہے، لیکن قلموں کابیان ابدتک رہتاہے : ( ٦)۔ 
یہ بھی کیاگہاہے : 
"”ان قوام امور الدین و الدنیا بشیئین القلم والسیف والسیف تحت القلم””۔ 
"”دین و دنیا کے امور کی بنیاد دوچیزوں پر ہے . قلم وشمشیر ، شمشیر قلم کے زیرِ سایہ قرار پاتی ہے ( ٧)۔ 
اس معنی کوبعض شعرائے عرب نے اس طرح نظم کیاہے : 
کذاقضی اللہ للا قلام مذ بریت 
ان السیوف لھا مذ ا رھفت خدم 
خدانے قلم کے لیے اسی روز سے جب سے وہ بنا یاگیاہے اسی طرح مقدر کیاہے ۔ 
کہ تیز دھار تلوار یں اس کی خدمت گزار ہوں۔ 

 یہ تعبیر قلم کے چاقو کے ذ ریعہ تراشے جانے کی طرف نیز تلواروں کاابتداء کار سے قلم کی خدمت میں ہونے کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے (٨)۔ 
ایک دوسرا شاعر ، زیر بحث آیات کے استناد کے ساتھ اس سلسلہ میں کہتاہے : 
اذ ااقسم الا بطال یوماً بسیفھم 
وعدوہ مما یجلب المجد والکرم 
کفی قلم الکتاب فخراً ور فعة 
مدی الدھر ان اللہ اقسم بالقلم 
"” جس دن بہادر جنگجو لوگ اپنی تلواروں کی قسم کھائیں اورانہیں بزرگی اور افتخار کے اسباب میں سے شمار کریں تولکھنے والوں کے قلم کے لیے عالم کے تمام زمانوں میں ہی اعزاز اور سربلندی کافی ہے کہ خدانے قلم کی قسم کھا ئی ہے ( نہ کہ تلوار کی )( ٩)۔ 
واقعاً یہی بات ہے.کیونکہ فوجی کامیابیوں کی اگر قومی تمدّن کے ذریعہ ضمانت نہ ہو تووہ ہرگز پائیدار نہ ہوں گی . مُغلوں نے ایران کی تاریخ میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی لیکن چونکہ وہ ایک ایسی قوم تھی جس کاکوئی تمدّن نہیں تھا ، لہٰذا وہ جلدی ہی اسلام اور ایران کے تمدّن میں تحلیل ہوگئے اورانہوں نے اپنا راستہ بدل لیا۔ 
اگرچہ یہ بحث بڑی وسیع ہے لیکن اس بناء پر کہ ہم تفسیر کے راستہ سے باہر نہ ہوجائیں ،اس بحث کوپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک بہت ہی پُر معنی حدیث پرختم کرتے ہیں : 
"” ثلا ث تخرق الحجب ، وتنتھی الی مابین یدی اللہ : صریر اقلام العلماء ،و و طی اقدام المجا ھدین وصوت مغازل المحصنات "”۔ 
"” تین آوازیں ایسی ہیں جو حجابوں کوتوڑ کرخدا کی باعظمت بارگاہ میں پہنچ جاتی ہیں .لکھتے وقت عُلماء کے قلموں کے چلنے کی آواز ،میدان ِ جہاد میں مجاہدین کے قدموں کی چاپ ، اور پاک دامن عورتوں کے چرخوں کی آ واز "” ( ١٠)۔ 
البتّہ جوکچھ بیان ہُوا ہے یہ سب ان قلموں کے بارے میں ہے جوحق وعدالت کی راہ اورصراط مستقیم میں چلتی ہیں … لیکن مسموم ، زہریلے اور گمراہ کرنے والے توانسانی معاشروں کے لیے عظیم ترین بَلا اور بہت بڑا خطرہ ہوتے ہیں ۔ 

١۔ نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٣٧٩ حدیث ٩۔

٢۔ تفسیر فخر رازی ، جلد ٣٠ ،صفحہ ٧٨۔

٣۔ تفسیر فخر رازی ، جلد ٣٠ ،صفحہ ٧٨۔

٤۔ تفسیر فخر رازی ، جلد ٣٠ ،صفحہ ٧٨۔

٥۔ وسائل الشیعہ جلد١٨صفحہ ٥٦( حدیث ١٤، ١٦، ١٧، ١٨، ١٩، ٢٠)۔

٦۔ تفسیر مجمع البیان ، جلد ١٠،صفحہ ٣٣٢۔

٧۔ تفسیر مجمع البیان ، جلد ١٠،صفحہ ٣٣٢۔

٨۔ تفسیر مجمع البیان ، جلد ١٠،صفحہ ٣٣٢۔

٩۔ روح البیان ،جلد ١٠ ،صفحہ ١٠٢۔

١٠۔ الشہاب فی الحکم والآداب ،صفحہ ٢٠۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button