مکتوبات

مکتوب (۷۸)

(٧٨) وَ مِنْ كِتَابٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ

مکتوب (۷۸)

اِلٰۤی اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ

ابو موسیٰ اشعری کے نام

جَوَابًا فِیْۤ اَمْرِ الْحَكَمَيْنِ، ذَكَرَهٗ سَعِیْدُ بْنُ یَحْیَى الْاُمَوِىُّ فِیْ كِتَابِ «الْمَغَازِیْ»:

حکمین کے سلسلے میں ان کے ایک خط کے جواب میں۔ (اسے سعید ابن یحییٰ اموی نے اپنی کتاب المغازی میں درج کیا ہے):

فَاِنَّ النَّاسَ قَدْ تَغَیَّرَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ عَنْ كَثِیْرٍ مِّنْ حَظِّهِمْ، فَمَالُوْا مَعَ الدُّنْیَا، وَ نَطَقُوْا بِالْهَوٰى، وَ اِنِّیْ نَزَلْتُ مِنْ هٰذَا الْاَمْرِ مَنْزِلًا مُّعْجِبًا، اجْتَمَعَ بِهٖۤ اَقْوَامٌ اَعْجَبَتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ، فَاِنِّیْۤ اُدَاوِیْ مِنْهُمْ قَرْحًا، اَخَافُ اَنْ یَّكُوْنَ عَلَقًا.

کتنے ہی لوگ ہیں جو آخرت کی بہت سی سعادتوں سے محروم ہو کر رہ گئے، وہ دنیا کے ساتھ ہو لئے، خواہشِ نفسانی سے بولنے لگے۔ میں اس معاملہ کی وجہ سے ایک حیرت و استعجاب کی منزل میں ہوں کہ جہاں ایسے لوگ اکٹھے ہو گئے ہیں جو خود بینی اور خود پسندی میں مبتلا ہیں۔ میں ان کے زخم کا مداوا تو کر رہا ہوں مگر ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ منجمد خون کی صورت اختیار کر کے لا علاج نہ ہو جائے۔

وَ لَیْسَ رَجُلٌ ـ فَاعْلَمْ ـ اَحْرَصَ عَلٰى جَمَاعَةِ اُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺوَ -اُلْفَتِهَا مِنِّیْ، اَبْتَغِیْ بِذٰلِكَ حُسْنَ الثَّوَابِ، وَ كَرَمَ- الْمَاٰبِ، وَ سَاَفِیْ بِالَّذِیْ وَاَیْتُ عَلٰى نَفْسِیْ، وَ اِنْ تَغَیَّرْتَ عَنْ صَالِحِ مَا فَارَقْتَنِیْ عَلَیْهِ.

تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مجھ سے زیادہ کوئی شخص بھی اُمتِ محمدؐ کی جماعت بندی اور اتحادِ باہمی کا خواہشمند نہیں ہے، جس سے میری غرض صرف حسن ثواب اور آخرت کی سرفرازی ہے۔ میں نے جو عہد کیا ہے اسے پورا کر کے رہوں گا۔ اگرچہ تم اس نیک خیال سے کہ جو مجھ سے آخری ملاقات تک تمہارا تھا، اَب پلٹ جاؤ۔

فَاِنَّ الشَّقِیَّ مَنْ حُرِمَ نَفْعَ مَاۤ اُوْتِیَ مِنَ الْعَقْلِ وَ التَّجْرِبَةِ.

یقیناً وہ بدبخت ہے کہ جو عقل و تجربہ کے ہوتے ہوئے اس کے فوائد سے محروم رہے۔

وَ اِنِّیْ لَاَعْبَدُ اَنْ یَّقُوْلَ قَآئِلٌۢ بِبَاطِلٍ، وَ اَنْ اُفْسِدَ اَمْرًا قَدْ اَصْلَحَهُ اللّٰهُ، فَدَعْ مَا لَا تَعْرِفُ، فَاِنَّ شِرَارَ النَّاسِ طَآئِرُوْنَ اِلَیْكَ بِاَقَاوِیْلِ السُّوْٓءِ، وَ السَّلَامُ.

میں تو اس بات پر پیچ و تاب کھاتا ہوں کہ کوئی کہنے والا باطل بات کہے، یا کسی ایسے معاملے کو خراب ہونے دوں کہ جسے اللہ درست کر چکا ہو۔ لہٰذا جس بات کو تم نہیں جانتے اُس کے درپے نہ ہو۔ کیونکہ شریر لوگ بری باتیں تم تک پہنچانے کیلئے اُڑ کر پہنچا کریں گے۔ والسلام۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button