صحیفہ کاملہ

41۔ پردہ پوشی و نگہداشت کی دعا

(۴۱) وَ كَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ

فِی طَلَبِ السِّتْرِ وَ الْوِقَایَةِ

پردہ پوشی اور حفظ و نگہداشت کیلئے یہ دُعا پڑھتے:

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ، وَ اَفْرِشْنِیْ مِهَادَ كَرَامَتِكَ، وَ اَوْرِدْنِیْ مَشَارِعَ رَحْمَتِكَ، وَ اَحْلِلْنِیْ بُحْبُوْحَةَ جَنَّتِكَ، وَ لَا تَسُمْنِیْ بِالرَّدِّ عَنْكَ، وَ لَا تَحْرِمْنِیْ بِالْخَیْبَةِ مِنْكَ.

بار الٰہا! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور میرے لئے اعزاز و اکرام کی مسند بچھا دے، مجھے رحمت کے سرچشموں پر اتار دے، وسط بہشت میں جگہ دے، اور اپنے ہاں سے ناکام پلٹا کر رنجیدہ نہ کر، اور اپنی رحمت سے ناامید کر کے حرماں نصیب نہ بنا دے۔

وَ لَا تُقَاصَّنِیْ بِمَا اجْتَرَحْتُ وَ لَا تُنَاقِشْنِیْ بِمَا اكْتَسَبْتُ، وَ لَا تُبْرِزْ مَكْتُوْمِیْ، وَ لَا تَكْشِفْ مَسْتُورِیْ، وَ لَا تَحْمِلْ عَلٰى مِیْزَانِ الْاِنْصَافِ عَمَلِیْ، وَ لَا تُعْلِنْ عَلٰى عُیُوْنِ الْمَلَاِ خَبَرِیْ، اَخْفِ عَنْهُمْ مَا یَكُوْنُ نَشْرُهٗ عَلَیَّ عَارًا، وَ اطْوِ عَنْهُمْ مَا یُلْحِقُنِیْ عِنْدَكَ شَنَارًا.

میرے گناہوں کا قصاص نہ لے، اور میرے کاموں کا سختی سے محاسبہ نہ کر، میرے چھپے ہوئے رازوں کو ظاہر نہ فرما، اور میرے مخفی حالات پر سے پردہ نہ اٹھا، اور میرے اعمال کو عدل و انصاف کے ترازو پر نہ تول، اور اشراف کی نظروں کے سامنے میری باطنی حالت کو آشکارا نہ کر، جس کا ظاہر ہونا میرے لئے باعث ننگ و عار ہو وہ ان سے چھپائے رکھ، اور تیرے حضور جو چیز ذلت و رسوائی کا باعث ہو وہ ان سے پوشیدہ رہنے دے۔

شَرِّفْ دَرَجَتِیْ بِرِضْوَانِكَ، وَ اَكْمِلْ كَرَامَتِیْ بِغُفْرَانِكَ، وَ انْظِمْنِیْ فِیْۤ اَصْحَابِ الْیَمِیْنِ، وَ وَجِّهْنِیْ فِیْ مَسَالِكِ الْاٰمِنِیْنَ، وَ اجْعَلْنِیْ فِیْ فَوْجِ الْفَآئِزِیْنَ، وَ اعْمُرْ بِیْ مَجَالِسَ الصّٰلِحِیْنَ، اٰمِیْنَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ.

اپنی رضا مندی کے ذریعہ میرے درجہ کو بلند اور اپنی بخشش کے وسیلہ سے میری بزرگی و کرامت کی تکمیل فرما، اور ان لوگوں کے گروہ میں مجھے داخل کر جو دائیں ہاتھ سے نامۂ اعمال لینے والے ہیں، اور ان لوگوں کی راہ پر لے چل جو (دنیا و آخرت میں) امن و عافیت سے ہمکنار ہیں، اور مجھے کامیاب لوگوں کے زمرہ میں قرار دے، اور نیکو کاروں کی محفلوں کو میری وجہ سے آباد و پر رونق بنا، میری دُعا کو قبول فرما، اے تمام جہانوں کے پروردگار۔

–٭٭–

جو شخص گناہ کو گناہ سمجھتا ہے وہ فطرةً یہ چاہتا ہے کہ اس کے گناہ پر پردہ پڑا رہے اور کسی کو اس کے گناہ پر اطلاع نہ ہو اور نہ کوئی اسے ارتکابِ معصیت کرتے ہوئے دیکھے۔ یہ پردہ داری کی خواہش اس کی دلیل ہے کہ وہ گناہوں کو قابل نفرت سمجھتا ہے اور اس کے اظہار و اعلان میں شرم محسوس کرتا ہے اور یہ شرم مبدا و معاد کے تصور اور کوتاہی کے احساس کا نتیجہ ہے۔ جب انسان اس جذبہ کے زیر اثر اپنے گناہ کو چھپانا چاہتا ہے تو قدرت بھی ایسے اسباب مہیا کر دیتی ہے جو اس کی پردہ پوشی میں معین ثابت ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی خداوند عالم اس کے گناہوں پر پردہ ڈالے گا اور دوسروں کی نگاہوں میں اسے ذلیل و سبک نہ ہونے دے گا۔ اور جس طرح دنیا میں اس کی پردہ پوشی کی ہے اسی طرح آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

اِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيٰمَةِ تَجَلَّى اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ لِعَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ فَيُوْقِفُهٗ عَلٰى ذُنُوْبِهٖ ذَنْبًا ذَنْبًا، ثُمَّ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَهٗ لَا يُطْلِعُ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ مَلَكًا مُّقَرَّبًا وَّ لَا نَبِيًّا مُّرْسَلًا، وَ يَسْتُرُ عَلَيْهِ مَا يَكْرَهُ اَنْ يَّقِفَ عَلَيْهِ اَحَدٌ، ثُمَّ يَقُوْلُ لِسَيِّئَاتِهٖ كُوْنِیْ حَسَنَاتٍ.

جب قيامت کا دن ہو گا اور بندہ ٔمومن کیلئے جلوہ الٰہی کا ظہور ہو گا تو اللہ سبحانہ اس کے گناہوں میں سے ایک ایک گناہ پر اسے مطلع کرے گا، پھر اسے بخش دے گا اور اس کے گناہوں پر نہ کسی مقرب فرشتے کو اور نہ کسی نبی مرسل کو آگاہ کرے گا۔ اور جن چیزوں پر کسی کا مطلع ہونا وہ پسند نہ کرتا تھا انہیں پوشیدہ رہنے دے گا۔ پھر اس کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا۔ [۳]

اور جو شخص علانیہ اپنے گناہوں کو بیان کرتا ہے یا اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کا گناہ ڈھکا چھپا رہے یا کھل جائے تو وہ نظر مرحمت باری سے محروم رہتا ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

اَلْمُذِيْعُ بِالسَّيِّئَةِ مَخْذُوْلٌ وَّ الْمُسْتَتِرُ بِالسَّيِّئَةِ مَغْفُوْرٌ لَّهٗ.

گناہوں کا اعلان کرنے والا محروم رہے گا اور چھپانے والا بخش دیا جائے گا۔ [۴]

گناہ کو چھپانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان گناہوں میں بے باک نہیں ہونے پاتا۔ اور جب دوسرے اس کے گناہوں کے مخفی ہونے کی وجہ سے اس سے حسن ظن رکھتے ہیں تو وہ بھی یہ چاہے گا کہ ارتکاب معاصی سے باز رہے تا کہ دوسروں کا حسن ظن باقی رہ سکے۔

[٭٭٭٭٭]

[۱]۔ عیون اخبار الرضا، ج ۲، ص ۳۳

[۲]۔ الکافی، ج ۲، ص ۴۲۸

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button