
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
یہ عہد نامہ جسے اسلام کا دستور اساسی کہا جا سکتا ہے اس ہستی کا ترتیب دیا ہوا ہے جو قانون الٰہی کا سب سے بڑا واقف کار اور سب سے زیادہ اس پر عمل پیرا تھا۔ ان اوراق سے امیر المومنین علیہ السلام کے طرز جہانبانی کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کے پیش نظر صرف قانونِ الٰہی کا نفاذ اور اصلاح معاشرت تھا۔ نہ امن عامہ میں خلل ڈالنا، نہ لوٹ کھسوٹ سے خزانوں کا منہ بھرنا اور نہ توسیعِ سلطنت کیلئے جائز و ناجائز وسائل سے آنکھ بند کر کے سعی و کوشش کرنا۔
دنیوی حکومتیں عموماً اس طرح کا قانون بنایا کرتی ہیں جس سے زیادہ سے زیادہ حکومت کو فائدہ پہنچے اور ہر ایسے قانون کو بدلنے کی کوشش کیا کرتی ہیں جو اس کے مفاد سے متصادم اور اس کے مقصد کیلئے نقصان رساں ہو۔ مگر اس دستور و آئین کی ہر دفعہ مفادِ عمومی کی نگہبان اور نظام اجتماعی کی محافظ ہے۔ اس کے نفاذ و اجرا میں نہ خود غرضی کا لگاؤ ہے اور نہ مفاد پرستی کا شائبہ۔ اس میں اللہ کے فرائض کی نگہداشت اور بلاتفریق مذہب و ملت حقوقِ انسانیت کی حفاظت اور شکستہ حال و فاقہ کش افراد کی خبر گیری اور پسماندہ و افتادہ طبقہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی ہدایت ایسے بنیادی اصول ہیں جن سے حق و عدالت کے نشر، امن و سلامتی کے قیام اور رعیت کی فلاح بہبود کے سلسلہ میں پوری رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
جب ۳۸ھ میں مالک ابن حارث اشتر رحمہ اللہ مصر کی حکومت پر فائز ہوئے تو حضرتؑ نے یہ عہد نامہ ان کیلئے قلمبند فرمایا۔ مالک اشتر امیر المومنین علیہ السلام کے ان خواص اصحاب میں سے تھے جو استقلال و پامردی کے جوہر دکھا کر کامل وثوق و اعتماد اور اپنے اخلاق و کردار کو حضرتؑ کے اخلاق و کردار کے سانچے میں ڈھال کر انتہائی قرب و اختصاص حاصل کر چکے تھے، جس کا اندازہ حضرتؑ کے ان الفاظ سے کیا جا سکتا ہے کہ:
لَقَدْ كَانَ لِیْ مِثْلَ مَا كُنْتُ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ.
مالک میری نظروں میں ایسے ہی تھے جیسا میں رسول اللہ ﷺ کی نظروں میں تھا۔ [1]
چنانچہ انہوں نے بے لوث جذبۂ خدمت سے متاثر ہو کر جنگی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تمام معرکوں اور مہموں میں حضرتؑ کے دست و بازو ثابت ہوئے اور ہمت و جرأت کے وہ جوہر دکھائے کہ تمام عرب پر ان کی شجاعت کی دھاک بندھ گئی۔ اس غیر معمولی شجاعت کے ساتھ حلم و بردباری میں بھی بلند امتیاز کے حامل تھے۔ چنانچہ ورام ابن ابی فراس نے اپنے مجموعہ میں تحریر کیا ہے کہ: آپؑ ایک دفعہ ٹاٹ کا پیراہن پہنے اور ٹاٹ ہی کا عمامہ باندھے ہوئے بازار کوفہ میں سے گزر رہے تھے کہ ایک سر پھرے دوکاندار نے آپ کو اس وضع و لباس میں دیکھ کر کچھ گلے سڑے پتے اور شاخیں آپ کے اوپر پھینک دیں۔ مگر اس ناشائستہ حرکت سے آپ کی پیشانی پر نہ بل آیا اور نہ ہی نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا، بلکہ خاموشی کے ساتھ آگے بڑھ گئے کہ ایک شخص نے اس دوکاندار سے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ گستاخی تم نے کس کے ساتھ کی ہے؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں کہ یہ کون تھے۔ کہا کہ: یہ مالک اشتر تھے۔ یہ سن کر اس کے ہوش و حواس اڑ گئے اور اسی وقت ان کے پیچھے دوڑا تاکہ ان سے اس گستاخی و اہانت کی معافی مانگے۔ چنانچہ تلاش کرتا ہوا ایک مسجد میں پہنچا جہاں وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو یہ آگے بڑھ کر ان کے قدموں پر گر پڑا اور نہایت الحاح و زاری سے عفو کا طالب ہوا۔ آپ نے اس کے سر کو اوپر اٹھایا اور فرمایا کہ: خدا کی قسم! میں مسجد میں اس غرض سے آیا ہوں کہ تمہارے لئے بارگاہِ خداوندی میں دُعائے مغفرت کروں، میں نے تو تمہیں اسی وقت معاف کر دیا تھا اور امید ہے کہ اللہ بھی تمہیں معاف کر دے گا۔ یہ ہے اس نبرد آزما کا عفو و درگزر جس کے نام سے بہادروں کے زہرے آب ہوجاتے تھے اور جس کی تلوار نے شجاعانِ عرب سے اپنا لوہا منوا لیا تھا اور شجاعت کا اصلی جوہر یہی ہے کہ انسان غیظ و غضب کی تلخیوں میں ضبط سے کام لے اور ناگواریوں کو صبر و سکون کے ساتھ جھیل لے جائے چنانچہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ:
اَشْجَعُ النَّاسِ مَنْ غَلَبَ هَوَاهُ.
لوگوں میں بڑھ چڑھ کر شجاع وہ ہے جو ہوائے نفس پر غلبہ پائے۔ [2]
بہرحال ان خصوصیات و اوصاف کے علاوہ وہ نظم و انصرام مملکت کی بھی پوری صلاحیت رکھتے تھے۔ چنانچہ جب مصر میں عثمانی گروہ نے تخریبی جراثیم پھیلانا شروع کئے اور شر و فساد سے ملک کے نظم و نسق کو درہم برہم کرنا چاہا تو حضرتؑ نے محمد ابن ابی بکر کو وہاں کی حکومت سے الگ کر کے آپ ہی کے تقرر کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ وہ اس وقت نصیبین میں گورنر کی حیثیت سے مقیم تھے، مگر حضرتؑ نے انہیں طلب فرمایا کہ وہ نصیبین میں کسی کو اپنا نائب مقرر کر کے ان کے پاس پہنچیں۔ مالک نے اس فرمان کے بعدشبیب ابن عامر ازدی کو اپنی جگہ پر متعین کیا اور خود امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ گئے۔ حضرتؑ نے انہیں حکومت کا پروانہ لکھ کر مصر روانہ کیا اور اہل مصر کو ان کی اطاعت و فرمانبرداری کا تحریری حکم بھیجا۔
جب معاویہ کو اپنے جاسوسوں کے ذریعہ مالک اشتر کے تقرر کا علم ہوا تو وہ چکرا سا گیا۔ کیونکہ وہ عمرو ابن عاص سے یہ وعدہ کر چکا تھا کہ وہ اسے اس کی کارکردگیوں کے صلہ میں مصر کی حکومت دے گا اور اسے یہ توقع تھی کہ عمرو ابن عاص محمد ابن ابی بکر کو بآسانی شکست دے کر ان کے ہاتھ سے اقتدار چھین لے گا۔ مگر مالک اشتر کو مغلوب کر کے مصر کو فتح کرنے کا وہ تصور بھی نہ کر سکتا تھا، لہٰذا اس نے یہ تہیہ کر لیا کہ قبل اس کے کہ ان کے ہاتھوں میں اقتدار منتقل ہو، انہیں ٹھکانے لگا دے۔ چنانچہ اس نے شہر عریش کے ایک تعلقہ دار سے یہ سازباز کی کہ جب مالک مصر جاتے ہوئے عریش سے گزریں تو وہ کسی تدبیر سے انہیں ہلاک کر دے اور اس کے عوض اس کی جائیداد کا مالیہ وا گزار کردیا جائے گا۔ چنانچہ مالک اشتر جب اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ عریش پہنچے تو اس نے بڑی آؤ بھگت کی اور آپ کو مہمان ٹھہرانے پر مصر ہوا۔ آپ اس کی دعوت کو منظور فرماتے ہوئے اس کے ہاں فروکش ہوئے اور جب کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے شہد کے شربت میں زہر کی آمیزش کر کے آپ کے سامنے پیش کیا جس کے پیتے ہی زہر کا اثر شروع ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے تلواروں کے سایہ میں کھیلنے والا اور دشمن کی صفوں کو الٹ دینے والا خاموشی سے موت کی آغوش میں سو گیا۔
جب معاویہ کو اپنی اس دسیسہ کا ری میں کامیابی کی اطلاع ہوئی تو وہ مسرت سے جھوم اٹھا اور خوشی کا نعرہ لگاتے ہوئے کہنے لگا:
اَلَا وَ اِنَّ لِلّٰہِ جُنُوْدًا مِّنْ عَسَلٍ.
شہد بھی اللہ کا ایک لشکر ہے۔ [3]
اور پھر ایک خطبہ کے دوران میں کہا کہ:
كَانَ لِعَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ ؑ يَدَانِ يَمِيْنَانِ، فَقُطِعَتْ اِحْدَاهُمَا يَوْمَ صِفِّيْنَ وَ هُوَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَّ قَدْ قُطِعَتِ الْاُخْرَى الْيَوْمَ وَ هُوَ مَالِكٌ الْاَشْتَرُ.
علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے دو دست راست تھے: ایک صفین کے دن کٹ گیا اور وہ عمار یاسر تھے اور دوسرا بھی قطع ہو گیا اور وہ مالک اشتر تھے۔ [4]
حوالہ جات
[1] منہاج البراعۃ، ج 20، ص 162[2] معانی الاخبار، ص 195
[3] شرح ابن ابی الحدید، ج 7، ص 160
[4] شرح ابن ابی الحدید، ج 2، ص 76




