
﷽
یہ مقالہ نہج البلاغہ کی روشنی میں حکومت اور سیاست کے بنیادی اصولوں کا تحقیقی و تجزیاتی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس میں حضرت علی علیہ السلام کی سیاسی فکر، نظامِ حکومت، عدلِ اجتماعی، اخلاقی اقدار اور عوامی خدمت کے تصورات کا مطالعہ کیا گیا ہے۔
فہرست مندرجات
[1] خلاصہ[2] تمہید
[3] حکومت کا مقصد
[4] حکومت بطور امانت
[5] عوام کے حقوق، احتساب اور نگرانی
[6] اشرافی برتری کی نفی
[7] سیاست اور اخلاق
[8] معاشی عدل اور طبقاتی توازن
[9] نتیجہ
[10] سفارشات
[11] حوالہ جات
1۔ خلاصہ
اسلامی فکر میں حکومت اور سیاست کا مقصد محض اقتدار کا حصول نہیں بلکہ انسانی معاشرے میں عدل، نظم اور اجتماعی فلاح کا قیام ہے۔ اسلام نے حکمرانی کو ایک اخلاقی اور دینی ذمہ داری قرار دیا ہے جس کا بنیادی مقصد معاشرے میں انصاف کو قائم کرنا اور مظلوموں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات کو ایک بنیادی مقام حاصل ہے۔ ان کے خطبات، خطوط اور اقوال کا مجموعہ نہج البلاغہ اسلامی سیاسی فکر کا ایک نہایت اہم ماخذ سمجھا جاتا ہے۔
نہج البلاغہ میں حکومت کی نوعیت، حکمران کی ذمہ داریوں، عدل و انصاف کے قیام، عوام کے حقوق، مشاورت اور معاشی توازن جیسے اصول بڑی وضاحت اور گہرائی کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کی سیاسی فکر کا امتیاز یہ ہے کہ وہ اقتدار کو مقصد نہیں بلکہ ایک ذریعہ سمجھتے ہیں جس کے ذریعے معاشرے میں حق کو قائم اور باطل کو ختم کیا جا سکے۔
یہ مقالہ نہج البلاغہ کی روشنی میں حکومت اور سیاست کے بنیادی اصولوں کا تحقیقی و تجزیاتی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس میں حضرت علیؑ کی سیاسی فکر، نظامِ حکومت، عدلِ اجتماعی، اخلاقی اقدار اور عوامی خدمت کے تصورات کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ مقالے میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حضرت علیؑ نے ایسے سیاسی نظام کی بنیاد رکھی جو انصاف، دیانت، مساوات اور فلاحِ عامہ جیسے اصولوں پر قائم ہے، اور جو موجودہ دور کے سیاسی و سماجی مسائل کے حل میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
2۔ تمہید
نہج البلاغہ کےخطبہ 40 میں امام علی علیہ السلام سے منقول ہے: ”لوگوں کے لیے ایک حاکم کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ اچھا ہو یا برا“۔
انسانی معاشرے کی تنظیم کے لیے حکومت اور ریاست کا وجود ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں فلسفیوں اور مفکرین نے حکومت کے مختلف نظریات پیش کیے ہیں۔ یونانی فلسفہ میں افلاطون نے ایک مثالی ریاست کا تصور پیش کیا جبکہ ارسطو نے حکومت کی مختلف اقسام کا تجزیہ کیا۔ جدید سیاسی فکر میں لاک، روسو اور مونٹسکیو نے ریاست اور اقتدار کے اصولوں کو نئے زاویوں سے بیان کیا۔
اسلامی فکر میں حکومت کا تصور ان نظریات سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس کی بنیاد اخلاقی ،دینی اور انسانی اقدار کے اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ قرآن کریم میں عدل، امانت اور مشاورت کو حکمرانی کے بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔ یہی اصول ہمیں حضرت علی علیہ السلام کی تعلیمات میں عملی صورت میں نظر آتے ہیں۔
نہج البلاغہ حضرت علی علیہ السلام کے خطبات، خطوط اور حکیمانہ اقوال کا مجموعہ ہے جسے چوتھی صدی ہجری میں علامہ سید شریف رضی علیہ الرحمہ نے مرتب کیا۔ یہ کتاب اسلامی ادب اور فکر کا ایک بیش بہا سرمایہ ہے۔ اس میں نہ صرف روحانی اور اخلاقی تعلیمات موجود ہیں بلکہ سیاسی اور سماجی اصول بھی بڑی گہرائی کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔
حضرت علیؑ کی سیاسی فکر کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں اقتدار کو اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ ان کے نزدیک حکومت کا مقصد عوام پر تسلط قائم کرنا نہیں بلکہ معاشرے میں انصاف اور فلاح کو فروغ دینا ہے۔
3۔ حکومت کا مقصد
1948 میں جب اقوام متحدہ نے) Universal Declaration of Human Rights انسانی حقوق کا عالمی منشور(منظور کیا تو دنیا بھر کے سیاسی مفکرین کے سامنے ایک بنیادی سوال نمایاں ہوا،ریاست آخر کس مقصد کے لیے وجود میں آتی ہے؟ کیا وہ محض طاقت کے نظم کو برقرار رکھنے کا ایک ادارہ ہے، یا انسانی وقار اور انصاف کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ایک اجتماعی نظام؟ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی نوعیت کا سوال اسلامی تاریخ میں اس وقت شدت کے ساتھ سامنے آیا جب پہلی صدی ہجری میں خلافت ایک بڑے سیاسی بحران سے گزر رہی تھی۔ جنگ جمل اور جنگ صفین کے بعد اسلامی معاشرہ شدید تقسیم اور اضطراب کا شکار ہو چکا تھا۔ ایسے حالات میں آپؑ نے حکومت کے مقصد کے بارے میں ایک ایسا اصولی مؤقف پیش کیا جو بعد کے سیاسی فلسفے میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
آپؑ نے نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں واضح کرتے ہیں کہ اقتدار کی جدوجہد کا اصل مقصد ذاتی غلبہ نہیں بلکہ معاشرے میں اصلاح اور انصاف کا قیام ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنِ الَّذِي كَانَ مِنَّا مُنَافَسَةً فِي سُلْطَانٍ، وَلَا الْتِمَاسَ شَيْءٍ مِنْ فُضُولِ الْحُطَامِ، وَلَكِنْ لِنَرُدَّ الْمَعَالِمَ مِنْ دِينِكَ، وَنُظْهِرَ الإِصْلَاحَ فِي بِلَادِكَ، فَيَأْمَنَ الْمَظْلُومُونَ مِنْ عِبَادِكَ، وَتُقَامَ الْمُعَطَّلَةُ مِنْ حُدُودِكَ. (1)
ترجمہ: بار الٰہا! تو خوب جانتا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہم سے (جنگ و پیکار کی صورت میں) ظاہر ہوا اِس لئے نہیں تھا کہ ہمیں تسلط و اقتدار کی خواہش تھی یا مال دنیا کی طلب تھی، بلکہ یہ اس لئے تھا کہ ہم دین کے نشانات کو (پھر ان کی جگہ پر) پلٹائیں اور تیرے شہروں میں امن و بہبودی کی صورت پیدا کریں تاکہ تیرے ستم رسیدہ بندوں کو کوئی کھٹکا نہ رہے اور تیرے وہ احکام (پھر سے) جاری ہو جائیں جنہیں بیکار بنا دیا گیا ہے۔
اس بیان میں ریاست کے مقصد کو چار بنیادی عناصر میں بیان کیا گیا ہے: دینی و اخلاقی اصولوں کی بحالی، معاشرتی اصلاح، مظلوموں کا تحفظ اور قانون و عدل کا نفاذ۔
نہج البلاغہ کی سیاسی فکر کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ریاست کو محض اقتدار کے ادارے کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اسے ایک اخلاقی ذمہ داری اور سماجی توازن کے نظام کے طور پر سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے آپ بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ حکومت کی حقیقی کامیابی عوامی فلاح اور انصاف کے قیام میں ہے۔ ایک اور مقام پر آپؑ فرماتے ہیں:
فإِنَّ فِي الْعَدْلِ سَعَةً، وَمَنْ ضَاقَ عَلَيْهِ الْعَدْلُ فَالْجَوْرُ عَلَيْهِ أَضْيَقُ. (2)
ترجمہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے میں وسعت ہے اور جسے عدل کی صورت میں تنگی محسوس ہو اُسے ظلم کی صورت میں اور زیادہ تنگی محسوس ہو گی۔
اس مختصر جملے میں دراصل ایک گہرا سیاسی اصول بیان کیا گیا ہے کہ عدل ریاستی استحکام کی بنیاد ہے۔ اگر حکومت انصاف کے اصول کو نظر انداز کرے تو سماجی توازن بگڑ جاتا ہے اور ظلم کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے۔ یہی تصور جدید سیاسی فلسفے میں قانون کی بالادستی (Rule of Law) اور عدل پر مبنی حکمرانی کے اصولوں کی صورت میں سامنے آتا ہے، جہاں ریاست کا بنیادی مقصد طاقت کا ارتکاز نہیں بلکہ قانون کی برتری اور شہری حقوق کا تحفظ سمجھا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں حضرت علی علیہ السلام نے حکمران کی ذمہ داری کو ایک اخلاقی امانت کے طور پر بیان کیا ہے۔ حضرت حارث ہمدانی کو لکھے گئے اپنے مشہور خط میں آپؑ واضح فرماتے ہیں:
وَ اكْظِمِ الْغَیْظَ، وَ تَجَاوَزْ عِنْدَ الْمَقْدِرَةِ، وَ احْلُمْ عِنْدَ الْغَضَبِ، وَ اصْفَحْ مَعَ الدَّوْلَةِ تَكُنْ لَّكَ الْعَاقِبَةُ. (3)
ترجمہ:غصہ کو ضبط کر و، اور اختیار و اقتدار کے ہوتے ہوئے عفو و درگزر سے کام لو، اور غصہ کے وقت بردباری اختیار کرو اور دولت و اقتدار کے ہوتے ہوئے معاف کرو تو انجام کی کامیابی تمہارے ہاتھ رہے گی۔
اس ہدایت میں ریاستی طاقت کے استعمال کا ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے کہ حکومت کو عوام کے ساتھ سختی اور جبر کے بجائے ہمدردی اور ذمہ داری کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ اگر اس اصول کو جدید ریاستی نظریات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تصور انسان مرکز طرزحکمرانی (Human-Centered Governance) کے قریب محسوس ہوتا ہے، جس میں ریاست کا مقصد شہریوں کی فلاح، وقار اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو حضرت علی علیہ السلام کا یہ تصور اس دور کے سیاسی حالات میں غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔ پہلی صدی ہجری میں خلافت کی سیاست زیادہ تر طاقت کی کشمکش میں تبدیل ہو چکی تھی، مگر آپؑ نے اس ماحول میں بھی ریاست کے مقصد کو اخلاقی اور سماجی اصولوں کے ساتھ وابستہ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ نہج البلاغہ میں ریاست کا تصور محض حکمرانی کے فن تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی فلسفے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس فلسفے کے مطابق ریاست کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ معاشرے میں انصاف قائم کرے، کمزور طبقات کو تحفظ دے اور اجتماعی زندگی کو ایسے اصولوں پر استوار کرے جو انسانی وقار اور سماجی توازن کو برقرار رکھ سکیں۔
4۔ حکومت بطور امانت
کیا اقتدار صرف طاقت کا مظاہرہ ہے یا عوام کی بھلائی کی ذمہ داری؟ حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حکومت کو ذاتی اختیار کے بجائے عوام کی امانت قرار دیتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں:
وَإِنَّ عَمَلَكَ لَيْسَ لَكَ بِطُعْمَةٍ وَلَكِنَّهُ فِي عُنُقِكَ أَمَانَةٌ. (4)
ترجمہ: یہ عہدہ تمہارے لئے کوئی آزوقہ نہیں ہے، بلکہ وہ تمہاری گردن میں ایک امانت (کا پھندا) ہے اور تم اپنے حکمران بالا کی طرف سے حفاظت پر مامور ہو۔
آپؑ کی تعلیمات کی روشنی میں اقتدار کا حقیقی مقصد صرف انتظامی اختیار یا طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ اخلاقی، سماجی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ حکمران کے فیصلے، ریاستی وسائل کا استعمال اور قوانین کی عملداری ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کی بھلائی، انسانی وقار اور معاشرتی استحکام کے لیے ہونی چاہیے۔
حال ہی میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملوں کو اقتدار کے ناجائز استعمال کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جہاں حکمران طبقات نے عوامی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر طاقت کو ذاتی یا اسٹریٹجک مقاصد کے لیے بروئے کار لایا۔ اسی طرح تاریخ میں بھی برطانیہ اور فرانس جیسے نوآبادیاتی طاقتوں کے طرزِ عمل سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ریاستی قوت اکثر عوامی فلاح کے بجائے بالادست طبقات کے مفادات کے تابع رہی ہے۔ نہج البلاغہ کے دیگر مقامات میں بھی اسی اصول کی تائید ملتی ہے کہ اقتدار کی اصل غایت عوام کی خدمت اور عدل کا قیام ہے، نہ کہ طاقت کا شخصی یا گروہی استحصال۔چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں:
فَاَنْصِفُوا النَّاسَ مِنْ اَنْفُسِكُمْ وَ اصْبِرُوْا لِحَوَآئِجِهِمْ، فَاِنَّكُمْ خُزَّانُ الرَّعِیَّةِ، وَ وُكَلَآءُ الْاُمَّةِ، وَ سُفَرَآءُ الْاَئِمَّةِ. (5)
ترجمہ:لوگوں سے عدل و انصاف کا رویہ اختیار کرو اور ان کی خواہشوں پر صبر و تحمل سے کام لو۔ اس لئے کہ تم رعیت کے خزینہ دار، اُمت کے نمائندے اور اقتدار اعلیٰ کے فرستادہ ہو۔
اس ہدایت سے اقتدار کے استعمال میں جواب دہی اور شفافیت کے اصول کو واضح ہوتے ہیں، یعنی حکمران اپنے ہر عمل کے لیے خدا اور عوام دونوں کے سامنے جواب دہ ہے اور اس کا ہر اختیار امانت کی حیثیت رکھتا ہے۔ جدید سیاسی فلسفے میں بھی یہی اصول تسلیم کیا گیا ہے۔ جان راولز نے اپنی معروف کتاب اے تھیوری آف جسٹس میں واضح کیا کہ ریاست کی اخلاقی بنیاد عوام کے حقوق، انصاف اور مساوات پر قائم ہونی چاہیے، اور حکمران کی ذمہ داری عوام کی بھلائی اور اجتماعی فلاح کو یقینی بنانا ہے۔ (6)
5۔ عوام کے حقوق، احتساب اور نگرانی
حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں عوام کے حقوق اور حکمران کی جواب دہی کو ریاست کے بنیادی ستون کے طور پر نمایاں اہمیت دی ہے۔ آپؑ والی آذر بائیجان اشعث ابن قیس کے نام ایک خط میں فرماتے ہیں؛
لَیْسَ لَكَ اَنْ تَفْتَاتَ فِیْ رَعِیَّةٍ، وَ لَا تُخَاطِرَ اِلَّا بِوَثِیْقَةٍ. (7)
ترجمہ:تمہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ رعیت کے معاملہ میں جو چاہو کر گزرو۔ خبردار! کسی مضبوط دلیل کے بغیر کسی بڑے کام میں ہاتھ نہ ڈالا کرو۔
آپؑ کا یہ ارشاد واضح کرتا ہے کہ حکمران کے ہر عمل اور اختیار کے لیے جواب دہی لازمی ہے۔ اقتدار صرف ذاتی مفاد یا طاقت کے لیے نہیں بلکہ عوام کی بھلائی، ان کے حقوق کے تحفظ اور معاشرتی اصلاح کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔
نہج البلاغہ کے ایک اور مقام پر، حضرت علیؑ نے حضرت مالک اشتر کو مصر کا گورنر مقرر کرتے ہوئے ہدایت دی کہ ؛
سَعِ النَّاسَ بِوَجْهِكَ، وَ مَجْلِسِكَ وَ حُكْمِكَ، وَ اِیَّاكَ وَ الْغَضَبَ، فَاِنَّهٗ طَیْرَةٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ. (8)
ترجمہ: لوگوں سے کشادہ روئی سے پیش آؤ۔ اپنی مجلس میں لوگوں کو راہ دو۔ حکم میں تنگی روا نہ رکھو۔ غصہ سے پرہیز کرو، کیونکہ یہ شیطان کیلئے شگونِ نیک ہے۔
حکمران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعمال کو نہ صرف قانون اور شریعت کے مطابق پرکھے بلکہ عوام کے حقوق کے معیار پر بھی جانچے۔
اسی طرح رابرٹ اے ڈاہل (Robert A. Dahl) اپنی کتاب آن ڈیموکریسی میں بیان کرتے ہیں کہ ایک مضبوط اور جمہوری ریاست میں حکمران کی نگرانی اور عوامی شفافیت ضروری ہے تاکہ اختیارات کا غلط استعمال نہ ہو۔ (9)
عالمی سطح پر بھی اس تصور کی اہمیت تسلیم شدہ ہے۔اقوام متحدہ کی دستاویز انسانی حقوق کا عالمی منشور میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر انسان کو بنیادی حقوق حاصل ہیں اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان حقوق کا تحفظ کرے اور حکمران ہر سطح پر عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔ (10)
مزید برآں نہج البلاغہ میں آپؑ نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ عوام کے حقوق کے تحفظ میں حکمران کی ہمدردی اور انصاف پسندی لازمی ہیں، آپؑ فرماتے ہیں:
وَ اٰمُرُهٗ اَنْ لَّا یَجْبَهَهُمْ، وَ لَا یَعْضَهَهُمْ. (11)
ترجمہ:اور میں انہیں حکم دیتا ہوں کہ وہ لوگوں کو آزردہ نہ کریں، اور نہ انہیں پریشان کریں۔
یہ ہدایت ریاست میں عوام کے حقوق کے تحفظ کو اخلاقی اور سماجی دونوں سطحوں پر مضبوط بناتی ہے اور حکمران کو یاد دلاتا ہے کہ اقتدار محض انتظامی اختیار نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور ان کے حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری ہے۔
نہج البلاغہ کا یہ تصور (Modern Governance Frameworks)جدید طرزِ حکمرانی کے نظریات سے ہم آہنگ نظر آتا ہے، جہاں حکومت کی مشروعیت اور استحکام عوام کی شمولیت، شفافیت اور حکومتی جواب دہی پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ نظریہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اقتدار کی حقیقی قوت عوام کے حقوق اور اجتماعی بھلائی کے تحفظ میں پوشیدہ ہے، اور ہر حکومتی اختیار کو امانت اور حساب کے معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔
6۔ اشرافی برتری کی نفی
حضرت علی علیہ السلام طبقاتی برتری یا نسبی امتیاز کو انسانی معاشرے میں عدل اور مساوات کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ آپؑ نے حارث ہمدانی کو بصرہ میں اپنا قائم مقام مقرر کرتے وقت فرمایا:
اَنْصِفِ اللّٰهَ وَ اَنْصِفِ النَّاسَ مِنْ نَفْسِكَ، وَ مِنْ خَاصَّةِ اَهْلِكَ، وَ مَنْ لَّكَ فِیْهِ هَوًى مِّنْ رَّعِیَّتِكَ، فَاِنَّكَ اِلَّا تَفْعَلْ تَظْلِمْ. (12)
ترجمہ: اپنی ذات کے بارے میں اور اپنے خاص عزیزوں اور رعایا میں سے اپنے دل پسند افراد کے معاملے میں حقوق اللہ اور حقوق الناس کے متعلق بھی انصاف کرنا۔ کیونکہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ظالم ٹھہرو گے۔
حکمران کے لیے صرف فنی یا انتظامی قابلیت کافی نہیں ہوتی، بلکہ اخلاقی بصیرت، شفافیت، ہمدردی اور عوام کے ساتھ انصاف پسندی بھی ضروری ہیں۔ اقتدار کی یہ ذمہ داری عوام کی بھلائی، معاشرتی اصلاح اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے ہے، نہ کہ ذاتی خواہشات یا محض سیاسی طاقت کے حصول کے لیے۔
مزید برآں، آپؑ نے اپنے ایک خط صراحتاً میں بھی اس بات پر زور دیا ہے،لہٰذا آپؑ فرماتے ہیں:
وَأَشْعِرْ قَلْبَكَ الرَّحْمَةَ لِلرَّعِيَّةِ وَالْمَحَبَّةَ لَهُمْ وَاللُّطْفَ بِهِمْ. (13)
ترجمہ: رعایا کیلئے اپنے دل کے اندر رحم و رافت اور لطف و محبت کو جگہ دو۔
واضح رہے کہ حکمران کی اخلاقی صفات میں ہمدردی، شفقت اور عوام کے ساتھ معاملات میں نرمی شامل ہونی چاہیے، تاکہ ریاستی نظام میں عدل اور اصلاح قائم رہ سکے۔ اسی طرح آپؑ تاکید کے ساتھ فرماتےہیں:
اَطْلِقْ عَنِ النَّاسِ عُقْدَةَ كُلِّ حِقْدٍ، وَ اقْطَعْ عَنْكَ سَبَبَ كُلِّ وِتْرٍ، وَ تَغَابَ عَنْ كُلِّ مَا لَا یَضِحُ لَكَ. (14)
ترجمہ:لوگوں سے کینہ کی ہر گرہ کو کھول دو، اور دشمنی کی ہر رسی کاٹ دو، اور ہر ایسے رویہ سے جو تمہارے لئے مناسب نہیں بے خبر بن جاؤ۔
یعنی حکمران کی فہم و فراست اور اخلاقی بصیرت عوام کے حقوق کے تحفظ اور ریاست کے استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
جدید سیاسی فلسفہ اور سماجیات میں بھی اسی اصول کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے ۔ مائیکل مین (Michael Mann)کے مطابق اپنی کتاب دی سورسز آف سوشل پاورمیں ریاست کے استحکام اور عوامی اعتماد کے لیے حکمران کی اخلاقی اختیار (Moral Authority) اتنی ہی اہم ہوتی ہے جتنی اس کی انتظامی صلاحیت۔ اگر حکمران اخلاقی معیار پر پورا نہ اترے تو اس کی انتظامی قابلیت بھی ناکافی ثابت ہو سکتی ہے (15)۔ اسی طرح جان راولز اپنی کتاب اے تھیوری آف جسٹس میں واضح کرتے ہیں کہ ایک عادلانہ اور اخلاقی ریاست کی بنیاد حکمران کی اخلاقی بصیرت، انصاف پسندی اور عوام کے حقوق کے تحفظ پر قائم ہوتی ہے۔ (16)
علاوہ ازیں، نہج البلاغہ میں حکمران کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو عملی زندگی میں برقرار رکھے،چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں:
اِیَّاكَ وَ الْاِعْجَابَ بِنَفْسِكَ وَ الثِّقَةَ بِمَا یُعْجِبُكَ مِنْهَا وَ حُبَّ الْاِطْرَآءِ.(17)
ترجمہ:ا وردیکھو! خود پسندی سے بچتے رہنا، اور اپنی جو باتیں اچھی معلوم ہوں ان پر اترانا نہیں، اور نہ لوگوں کے بڑھا چڑھا کر سراہنے کو پسند کرنا۔
یہ ارشادات اخلاقی قیادت اور حکمرانی میں شفافیت کے اصول کو اجاگر کرتےہیں، جہاں حکمران کے اعمال صرف قانونی اعتبار سے نہیں بلکہ اخلاقی معیار اور عوامی بھلائی کے تناظر میں بھی پرکھے جاتے ہیں۔
7۔ سیاست اور اخلاق
حضرت علی علیہ السلام کے نزدیک سیاست اور اخلاق کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ نہج البلاغہ میں فرمایا گیا ہے:
فَاخْفِضْ لَهُمْ جَنَاحَكَ، وَاَلِنْ لَهُمْ جَانِبَكَ، وَابْسُطْ لَهُمْ وَجْهَكَ، وَ اٰسِ بَیْنَهُمْ فِی اللَّحْظَةِ وَ النَّظْرَةِ. (18)
ترجمہ:لوگوں سے تواضع کے ساتھ ملنا، ان سے نرمی کا برتاؤ کرنا، کشادہ روئی سے پیش آنا اور سب کو ایک نظر سے دیکھنا۔
حکومتی اختیار کا مقصد صرف نظم قائم کرنا یا انتظامی فیصلے کرنا نہیں، بلکہ عدل اور احسان کے ذریعے انسانی وقار، اجتماعی بھلائی اور معاشرتی اصلاح کو فروغ دینا ہے۔ یہاں حضرت علی علیہ السلام حکمران کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ ہر سیاسی فیصلہ اخلاق، انصاف اور عوام کی بھلائی کے معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ سیاست اور اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔
نہج البلاغہ میں دیگر مقامات پر بھی اسی اصول پر زور دیا گیا ہے، آپؑ فرماتے ہیں:
وَ اعْلَمْ اَنَّهٗ لَیْسَ شَیْءٌ بِاَدْعٰۤى اِلٰى حُسْنِ ظَنِّ رَاعٍۭ بِرَعِیَّتِهٖ، مِنْ اِحْسَانِهٖۤ اِلَیْهِمْ، وَ تَخْفِیْفِهِ الْمَؤٗنَاتِ عَلَیْهِمْ، وَ تَرْكِ اسْتِكْرَاهِهٖۤ اِیَّاهُمْ عَلٰى مَا لَیْسَ لَہٗ قِبَلَهُمْ، فَلْیَكُنْ مِّنْكَ فِیْ ذٰلِكَ اَمْرٌ یَّجْتَمِعُ لَكَ بِهٖ حُسْنُ الظَّنِّ بِرَعِیَّتِكَ، فَاِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ یَقْطَعُ عَنْكَ نَصَبًا طَوِیْلًا، وَ اِنَّ اَحَقَّ مَنْ حَسُنَ ظَنُّكَ بِهٖ لَمَنْ حَسُنَ بَلَآؤُكَ عِنْدَهٗ، وَ اِنَّ اَحَقَّ مَنْ سَآءَ ظَنُّكَ بِهٖ لَمَنْ سَآءَ بَلَآؤُكَ عِنْدَهٗ. (19)
ترجمہ:اور اس بات کو یاد رکھو کہ حاکم کو اپنی رعایا پر پورا اعتماد اسی وقت کرنا چاہیے جب کہ وہ ان سے حسن سلوک کرتا ہو، اور ان پر بوجھ نہ لادے، اور انہیں ایسی ناگوار چیزوں پر مجبور نہ کرے جو اِن کے بس میں نہ ہوں۔ تمہیں ایسا رویہ اختیار کرنا چاہیے کہ اس حسنِ سلوک سے تمہیں رعیت پر پورا اعتماد ہو سکے، کیونکہ یہ اعتماد تمہاری طویل اندرونی الجھنوں کو ختم کر دے گا اور سب سے زیادہ تمہارے اعتماد کے وہ مستحق ہیں جن کے ساتھ تم نے اچھا سلوک کیا ہو، اور سب سے زیادہ بے اعتمادی کے مستحق وہ ہیں جن سے تمہارا برتاؤ اچھا نہ رہا ہو۔
اخلاق کے بغیر سیاسی اختیار عوام کی خدمت کے مقصد میں ناکام ہو جاتا ہے۔ مزید برآں آپؑ فرماتے ہیں:
وَ لَا یَرْغَبَ عَنْهُمْ تَفَضُّلًۢا بِالْاِمَارَةِ عَلَیْهِمْ، فَاِنَّهُمُ الْاِخْوَانُ فِی الدِّیْنِ، وَ الْاَعْوَانُ عَلَی اسْتِخْرَاجِ الْحُقُوْقِ. (20)
ترجمہ: اور نہ ان سے اپنے عہدے کی برتری کی وجہ سے بے رخی برتیں، کیونکہ وہ دینی بھائی اور زکوٰۃ و صدقات کے برآمد کرنے میں معین و مددگار ہیں۔
ان اقوال سے حکمران کی ذمہ داری کا ایک پہلو اجاگر ہوتا ہے کہ سیاسی اختیار کو محض طاقت یا تسلط کے طور پر نہیں بلکہ عدل، احسان اور اخلاقی قیادت کے ذریعے عوام کی خدمت کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
جدید سیاسی فلسفہ میں یہ اصول اخلاقی حکمرانی اور انسان مرکزطرزِ حکمرانی (Human-Centered Governance) کے تصور سے ہم آہنگ ہے، جہاں ریاست کی مشروعیت، حکمرانی کی اثر پذیری اور عوامی اعتماد کا انحصار اخلاقی قیادت اور عدل پر ہوتا ہے۔ امرتیہ سین اپنی کتاب دی آئیڈیا آف جسٹس میں اس امر پر زور دیتے ہیں کہ انصاف کا حقیقی مقصد محض ادارہ جاتی ترتیب نہیں بلکہ عوام کی عملی فلاح اور انسانی آزادیوں کا تحفظ ہے۔ ان کے نزدیک ایک کامیاب سیاسی نظام وہی ہے جو مساوات، شفافیت اور انسانی وقار کو یقینی بنائے۔
اسی طرح فرانسس فوکویاما اپنی کتاب پولیٹیکل آرڈر اینڈ پولیٹیکل ڈیکے میں بیان کرتے ہیں کہ سیاسی اداروں کی مضبوطی صرف انتظامی ڈھانچے سے ممکن نہیں بلکہ عوامی اعتماد، قانون کی بالادستی اور حکمران طبقے کی اخلاقی ذمہ داری بھی اس کی بنیادی شرائط ہیں۔ ان کے مطابق جب اقتدار اخلاقی اصولوں سے دور ہو جائے تو ریاستی ادارے کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ (21)
8۔ معاشی عدل اور طبقاتی توازن
معاشی عدل اور طبقاتی توازن ریاست کے استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک بنیادی عنصر ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں:
اَلَا وَ اِنَّ حَقَّ مَنْ قِبَلَكَ وَ قِبَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ قِسْمَةِ هٰذَا الْفَیْءِ سَوَآءٌ. (22)
ترجمہ: دیکھو! وہ مسلمان جو میرے اور تمہارے پاس ہیں، اس مال کی تقسیم کے برابر کے حصہ دار ہیں۔یعنی اسلامی حکومت کے سائے میں سب برابر ہیں اور کسی کو کسی پر ترجیح نہیں ہے۔
دولت اور وسائل کی تقسیم میں عدل اور احسان کے اصول اپنانا حکمران کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ نہج البلاغہ میں آپؑ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ریاست کے وسائل کو صرف حکمران یا کسی مخصوص طبقے کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ تمام طبقات کی بھلائی اور معاشرتی توازن کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
مزید برآں آپؑ فرماتے ہیں:
اِیَّاكَ وَ الِاسْتِئْثَارَ بِمَا النَّاسُ فِیْهِ اُسْوَةٌ، وَ التَّغَابِیَ عَمَّا یُعْنٰى بِهٖ مِمَّا قَدْ وَضَحَ لِلْعُیُوْنِ، فَاِنَّهٗ مَاْخُوْذٌ مِّنْكَ لِغَیْرِكَ، وَ عَمَّا قَلِیْلٍ تَنْكَشِفُ عَنْكَ اَغْطِیَةُ الْاُمُوْرِ، وَ یُنْتَصَفُ مِنْكَ لِلْمَظْلُوْمِ. (23)
ترجمہ: دیکھو! جن چیزوں میں سب لوگوں کا حق برابر ہوتا ہے اسے اپنے لئے مخصوص نہ کر لینا، اور قابل لحاظ حقوق سے غفلت نہ برتنا جو نظروں کے سامنے نمایاں ہوں، کیونکہ دوسروں کیلئے یہ ذمہ داری تم پر عائد ہے۔ اور مستقبل قریب میں تمام معاملات پر سے پردہ ہٹا دیا جائے گا اور تم سے مظلوم کی داد خواہی کر لی جائے گی۔
آپؑ کے اس قول اس حقیقت کو واضح ہوتی ہے کہ معاشرتی اور اقتصادی نابرابری ریاستی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے، اور حکمران کا فرض ہے کہ وہ غریب اور امیر کے درمیان توازن قائم رکھے تاکہ معاشرہ متوازن اور پُرامن رہے۔
ارسطو نے اپنی کتاب سیاست میں بیان کیا کہ معاشرتی توازن اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ریاست کے استحکام کے لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح جان راولز بھی اپنی کتاب اے تھیوری آف جسٹس میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اقتصادی اور سماجی انصاف کی بنیاد پر ریاست کو وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانی چاہیے تاکہ طبقاتی تفریق سے پیدا ہونے والے سماجی تصادم سے بچا جا سکے۔
عالمی اصول بھی معاشی عدل اور طبقاتی توازن کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف United Nations Sustainable Development Goals (SDGs) خصوصاً ریاستوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقتصادی اور سماجی نابرابری کو کم کریں اور معاشرتی انصاف کو فروغ دیں۔
معاشی عدل اور طبقاتی توازن نہ صرف اسلامی ریاست کے اصولوں میں شامل ہیں بلکہ جدید سیاسی فلسفہ، اقتصادی انصاف اور بین الاقوامی اصولوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہیں۔ یہ تصور حکمران کو یاد دلاتا ہے کہ دولت کی تقسیم، سماجی انصاف اور معاشرتی استحکام میں اخلاق اور عدل بنیادی معیار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
9۔ نتیجہ
نہج البلاغہ کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے حکمرانی کو محض اقتدار کے لیے نہیں بلکہ عدل، اخلاق اور عوامی خدمت کے لیے وضع کیا۔ نہج البلاغہ میں حکمران کی ذمہ داری عوام کے حقوق کا تحفظ، شفافیت، ہمدردی اور معاشرتی اصلاح پر زور دینے کے ساتھ معاشی عدل اور طبقاتی توازن کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اقتدار کی حقیقی طاقت عوام کی بھلائی، قانون کی بالادستی اور اجتماعی فلاح میں مضمر ہے۔ یوں یہ تعلیمات ایک ایسا جامع سیاسی اصول پیش کرتی ہیں جو حکمرانی کو اخلاق، انصاف اور انسانی وقار کے معیار سے ہم آہنگ کرتی ہیں۔ عصر حاضر میں بھی حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہج البلاغہ کی رہنمائی سے طرزِ حکومت اپنائیں تاکہ عوامی اعتماد، عدل و انصاف اور سماجی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
10۔ سفارشات
موجودہ دور میں مغربی سیاسی فکر کے ایک بڑے حصے نے سیاست کو محض اقتدار، مفاد اور سیاسی حکمتِ عملی تک محدود کر دیا ہے، یہاں تک کہ بعض مغربی مفکرین نے سیاست کو عملی دھوکا دہی اور طاقت کے کھیل کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔ اس کے برعکس نہج البلاغہ سیاست کو اخلاق، عدل، خدمتِ خلق اور انسانی وقار کے ساتھ وابستہ کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی تعلیمات اور خصوصاً نہج البلاغہ کی روشنی میں عصری تقاضوں کے مطابق جدید اسلوب میں ایسی کتب، تحقیقی مقالات اور علمی مواد تیار کیے جائیں جو موجودہ نسل کی فکری اور ذہنی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔ اس کے ذریعے نہ صرف مسلم نوجوانوں کو اسلامی سیاسی فکر کی حقیقی روح سے آگاہ کیا جا سکے گا بلکہ مغربی نوجوانوں تک بھی اسلام کا عادلانہ، اخلاقی اور انسان دوست تصورِ سیاست مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے گا، تاکہ سیاست کو دوبارہ اخلاق، انصاف اور انسانی خدمت کے اصولوں کے ساتھ جوڑا جا سکے۔
11۔ حوالہ جات
[1] نہج البلاغہ، خطبہ ۱۲۹ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴، ص۲۷۰[2] نہج البلاغہ،خطبہ ۱۵ ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴، ص ۱۰۸
[3] نہج البلاغہ، مکتوب ۶۹ ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴، ص۵۹۲
[4] نہج البلاغہ، مکتوب ۵ ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۴۸۰
[5] نہج البلاغہ، مکتوب ۵۱ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۵۵۰
[6] John Rawls, A Theory of Justice, Harvard University Press, Cambridge, 1971, pp. 52–65
[7] نہج البلاغہ، مکتوب ۵ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۴۸۱
[8] نہج البلاغہ، مکتوب ۷۶ ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۵۹۸
[9] Robert A. Dahl, On Democracy, Yale University Press, New Haven, 1998, pp. 36–45
[10] United Nations, Universal Declaration of Human Rights, United Nations General Assembly, Paris, 1948
[11] نہج البلاغہ، مکتوب ۲۶ ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۵۰۰
[12] نہج البلاغہ، مکتوب ۵۳ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۵۵۴
[13] نہج البلاغہ، مکتوب ۵۳ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۵۵۳
[14] نہج البلاغہ، مکتوب ۵۳ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۵۵۶
[15] Michael Mann, The Sources of Social Power, Volume I: A History of Power from the Beginning to A.D. 1760, Cambridge University Press, Cambridge, 1986, pp. 22–29
[16] John Rawls, A Theory of Justice, Harvard University Press, Cambridge, 1971, pp. 3–19.
[17] نہج البلاغہ، مکتوب ۵۳ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۵۷۴
[18] نہج البلاغہ، مکتوب ۲۷ ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۵۰۱
[19] نہج البلاغہ، مکتوب ۵۳ ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۵۵۷
[20] نہج البلاغہ، مکتوب ۲۶ ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص ۵۰۰
[21] Francis Fukuyama, Political Order and Political Decay: From the Industrial Revolution to the Globalization of Democracy, Farrar, Straus and Giroux, New York, 2014, pp. 23–35
[22] نہج البلاغہ، مکتوب ۴۳ ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۵۳۸
[23] نہج البلاغہ، مکتوب ۵۳ ترجمہ از علامہ مفتی جعفر حسینؒ، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ پاکستان، دسمبر ۲۰۲۴،ص۵۷۵




