مقالات

نہج البلاغہ سے عصر حاضر کے لیے رہنمائی

مقالہ نگار: غلام رسول ولایتی

چکیدہ

عصرِ حاضر میں سائنسی و صنعتی ترقی کے باوجود انسان شدید فکری اور روحانی بحرانوں کا شکار نظر آتا ہے۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ بحرانِ معنا ہے، جس کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کے مقصد اور قدر و قیمت کے بارے میں شدید ابہام کا شکار ہو گیا ہے۔ مادہ پرستی اور الحادی افکار نے انسانی فکر کو ماورائی حقیقتوں سے دور کرکے زندگی کو محض مادی خواہشات تک محدود کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تنہائی، اضطراب اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ زیرِ نظر مقالہ نہج البلاغہ کی تعلیمات کی روشنی میں اس بحران کا جائزہ لیتا ہے اور یہ واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات انسانی زندگی کے مقصد، دنیا کی حقیقت اور آخرت کی تیاری کے بارے میں کس طرح گہری رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ نہج البلاغہ میں بیان کردہ اصول، جیسےانسانی و حیوانی زندگی میں فرق، دنیا کی ناپائیداری کا شعور، آخرت کے لیے سرمایہ جمع کرنا اور زاہدانہ طرزِ زندگی اختیار کرنا، انسان کو زندگی کے حقیقی معنی سے آشنا کرتے ہیں اور اسے مادی وابستگیوں کے فکری اور نفسیاتی اثرات سے آزاد کر سکتے ہیں۔ اس طرح نہج البلاغہ کی تعلیمات سے عصر حاضر کے بحرانِ معنا کے حل کے لیے رہنمائی ملتی ہے۔

تعارف

نہج البلاغہ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے خطبات، مکتوبات اور حکیمانہ اقوال کا وہ گراں قدر مجموعہ ہے جو انسانی زندگی کے لیے ایک منشورکی حیثیت رکھتا ہے۔ عصرِ حاضر کے انسان کا ذہن مادی اور الحادی افکار، نظریات اور تصورات کی زد میں ہے اور یہ یلغار تاحال جاری ہے۔ فتنوں کے اس دور کے لیے امیر المومنینؑ کے کلام میں وہ رہنمائی موجود ہے جس سے علمی استخراج کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ زیرِ نظر مقالہ ”نہج البلاغہ سے دورِ حاضر کے فکری مسائل کے لیے رہنمائی“ کے عنوان کے تحت آپؑ کے ارشادات کی روشنی میں عصری الجھنوں کا حل تلاش کرنے کی ایک علمی کوشش ہے۔

عصرِ حاضر متعدد مسائل کا شکار ہے جن میں فکری، ذہنی اور روحی بحران سرفہرست ہیں۔ دورِ جدید کا انسان کئی باطنی اور روحانی امراض میں مبتلا نظر آتا ہے، جن میں بحرانِ معنا (Crisis of meaning)، معنا کا فقدان، شکوک و شبہات کا طوفان، مادیت اور روحانیت کے مابین افراط و تفریط، اور انسانی حقوق کی پامالی جیسے سنگین مسائل شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام کے حقیقی چہرے کی پہچان، نظامِ عدل و حکمرانی، انتظامی بدعنوانی اور تربیتی زوال جیسے مسائل بھی قابلِ توجہ ہیں جن کا حل نہج البلاغہ کے حکیمانہ افکار میں پوشیدہ ہے۔ زیرِ نظر مقالہ، اگرچہ مسائل کی طویل فہرست کا احاطہ کرنے کی گنجائش نہیں رکھتا، تاہم عصرِ حاضر کے کلیدی اور سنگین ترین فکری بحرانوں میں سے ایک کو نہج البلاغہ کے تناظر میں زیرِ بحث لائے گا، وہ ہے معاصر انسانی زندگی میں معنا کا بحران۔

عصرِ حاضر علمی ارتقاء اور الحادی اثرات کا تناظر

عصرِ حاضر اپنی سائنسی پیش رفت، ٹیکنالوجی کی ہمہ گیریت اور مصنوعی ذہانت کے انقلاب کے باعث ماضی کے تمام ادوار سے ممتاز ہے۔ اگرچہ یہ دور معلومات کے ایک لامتناہی سیلاب کا حامل ہے، لیکن تاریخ کا یہ قاعدہ ہے کہ جب سیلاب اپنے جوبن پر ہوتا ہے تو وہ مٹی اور خس و خاشاک کے ساتھ ساتھ قیمتی اثاثوں کو بھی بہا لے جاتا ہے۔

بدقسمتی سے، جہاں ان جدید علوم کی ترویج میں مغربی استعمار نے کلیدی کردار ادا کیا، وہیں ان سائنسی علوم کے آڑمیں استعمار نے مادہ پرستی اور الحادکی لہروں کو بھی برآمد کیا۔ ملحد مفکرین اور مادہ پرست دانشوروں نے سائنس کو بطورِ مذہب دین کے خلاف استعمال کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس بذاتِ خود مذہب سے متصادم نہیں ہے، بلکہ یہ نظامِ کائنات کی تفہیم کا ایک ذریعہ ہے۔ تاہم استعماری اور سیاسی عزائم کے تحت ایسی تبلیغات کی گئیں جنھوں نے انسانی ذہن کو ماورائی حقیقت سے کاٹ کر محض مادے کی قید میں محصور کر دیا۔

جب سیاسی و سماجی جبر کے ذریعے لوگوں سے ان کی مذہبی شناخت چھینی گئی اور مادہ پرستی نے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی، تو انسانی معاشرت میں ہمہ جہت بحرانوں نے جنم لیا۔ یہ فکری خلفشار محض مغرب تک محدود نہ رہا بلکہ اسلامی ممالک کے سماجی ڈھانچے بھی اس کی زد میں آ گئے۔ ان حالات نے جہاں معاشی، سیاسی اور اقتصادی مسائل پیدا کیے، وہیں کچھ ایسے گہرے روحانی مسائل بھی پیدا کیے جنہوں نے انسانی روح کو مضطرب کر دیا۔ان میں سے ایک اہم مسئلہ بحرانِ معنا ہے جو معاصر انسان کے شدید روحانی اضطراب کا سبب بن چکا ہے۔

بحرانِ معنا

معنا سے مراد الفاظ کا لغوی مفہوم نہیں بلکہ انسانی زندگی کا مقصد، ہدف اور غایت ہے۔ (1) بعض مفکرین نے اس اصطلاح سے ارزشِ حیات بھی مراد لی ہے۔ درحقیقت زندگی کا مقصد اور زندگی کی قدر و قیمت اکثر مواقع پر ایک دوسرے سے جدا نہیں رہتے، کیونکہ جس چیز کو انسان اپنی زندگی کا مقصد قرار دیتا ہے، اسی سے اس کی زندگی کی قدر و قیمت بھی متعین ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان ہمیشہ کسی نہ کسی مقصد، ہدف اور معنی کی تلاش میں رہتا ہے۔

جدید فکری مباحث میں معنائے زندگی کا مسئلہ خاص طور پر انیسویں صدی کے بعد نمایاں ہوا۔ بعض محققین کے مطابق اس اصطلاح کو فلسفیانہ اور ادبی مباحث میں پہلی بار تھامس کارلائل نے انیسویں صدی میں نمایاں طور پر استعمال کیا۔ بعد ازاں مختلف مفکرین اور ماہرینِ نفسیات نے اس موضوع پر تفصیلی تحقیقات کیں۔ (2)

اسی سلسلے میں آسٹریائی ماہرِ نفسیات وکٹر ای فرینکل کی تحقیقات خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ فرینکل نے اپنی مشہور کتاب میں ہٹلر کے اذیتی کیمپوں میں قید انسانوں کے تجربات کو بیان کیا ہے۔ یہ وہ مقامات تھے جہاں انسان اپنی زندگی کی امید تک کھو بیٹھتے تھے۔ مسلسل اذیت، بھوک، خوف اور موت کے سائے نے قیدیوں کو اس حد تک مایوس کر دیا تھا کہ خودکشی کا خیال اکثر لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے لگا تھا۔ فرینکل نے اس ماحول میں ایک اہم مشاہدہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ بعض قیدی انتہائی سخت حالات کے باوجود زندہ رہنے کی امید نہیں چھوڑتے تھے، جبکہ بہت سے دوسرے لوگ جلد ہی مایوسی کا شکار ہو جاتے تھے۔ (3) اس فرق کی وجہ تلاش کرتے ہوئے فرینکل اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ لوگ جو کسی معنی یا مقصد کے ساتھ زندہ تھے، وہ شدید مشکلات کے باوجود زندگی کا ساتھ نہیں چھوڑتے تھے۔ اسی بنیاد پر فرینکل نے یہ نظریہ پیش کیا کہ معنا کی تلاش انسان کی زندگی کی بنیادی محرک ہے۔ انہوں نے اسی تصور کی بنیاد پر ایک نفسیاتی طریقۂ علاج پیش کیا جسے لوگوتھراپی (Logotherapy) کہا جاتا ہے، جس کا مقصد انسان کو اس کی زندگی کے معنی اور مقصد سے آگاہ کرنا ہے۔ (4)

جدید صنعتی معاشرہ بظاہر انسانی زندگی کی مادی ضروریات کو بڑی حد تک پورا کر چکا ہے۔ آج کے انسان کے پاس وہ وسائل، سہولیات اور آسائشیں موجود ہیں جو ماضی کے انسان کے لیے ناقابلِ تصور تھیں۔ لیکن اس مادی فراوانی کے باوجود انسان کی باطنی حالت ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ۲۰۱۹ء میں دنیا بھر میں تقریباً 280 ملین افراد ڈپریشن کا شکار تھے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ شدید ذہنی دباؤ اور بے معنویت کا احساس بہت سے لوگوں کو خودکشی جیسے انتہائی اقدام کی طرف لے جاتا ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق ہر سال لاکھوں افراد خودکشی کے باعث اپنی جان گنوا دیتے ہیں اور نوجوانوں میں یہ موت کی بڑی وجوہات میں شمار ہونے لگی ہے۔ (5)

یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جدید انسان کے پاس جینے کے لیے وسائل تو بہت ہیں، مگر جینے کا حقیقی معنی اس سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ مادّی ترقی نے انسانی زندگی کو سہولت تو فراہم کی ہے، لیکن اس نے انسان کے وجودی سوالات کا جواب فراہم نہیں کیا۔ نتیجتاً انسان ایک ایسے نفسیاتی اور روحانی خلا کا شکار ہو گیا ہے جس میں تنہائی، اضطراب اور افسردگی جیسے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ معاصر دنیا میں انسان کے پاس زندگی گزارنے کے اسباب تو وافر ہیں، لیکن زندگی کی حقیقت کے بارے میں شدید ابہام پایا جاتا ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کی اصل حقیقت اور مقصد سے غافل ہو جاتا ہے تو ثانوی اور مادی امور اس کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ یہی تبدیلی بالآخر بحرانِ معنا کو جنم دیتی ہے۔

نہج البلاغہ اور بحران معنا کا حل

نہج البلاغہ میں انسانی زندگی کے مقصد، دنیا کی حقیقت اور آخرت کی منزل کے بارے میں آپؑ کے گہربار کلمات موجود ہیں۔ اس میں ایسے متعدد اصول بیان ہوئے ہیں جو عصر حاضر کے بحرانِ معنا کا مؤثر حل پیش کرتے ہیں۔

انسانی زندگی اور دنیا کا تصور ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اس لیے زندگی کے معنی کو سمجھنے کے لیے دنیا کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ عصرِ حاضر کا انسان جس بحران کا شکار ہے، اس کا بنیادی سبب کائنات کو محض ایک مادی حقیقت سمجھ لینا ہے۔ جب انسان دنیا کو اپنا کل وقتی مقصد بنا لیتا ہے، تو مادی وسائل کی کمی یا ناکامی اسےکرب میں مبتلا کر دیتی ہے۔ بہت درد دیتی ہے لیکن جو اس دنیا کو ایک گزرگاہ کے طور پر سمجھتا ہواور زاہدانہ نگاہ رکھتا ہو وہ اسے گزر گاہ سمجھ کر گزر جاتا ہے۔ اس پر کوئی مشکل بھی آئے تو اسے زود گزر سمجھتا ہے اور آخرت کی لمبی زندگی میں اس کا اجر ملنے کی توقع رکھتے ہیں۔

انسانی زندگی کی حقیقت

”مَا خُلِقْتُ لِيَشْغَلَنِي أَكْلُ الطَّيِّبَاتِ كَالْبَهِيمَةِ الْمَرْبُوطَةِ هَمُّهَا عَلَفُهَا … وَتَلْهُو عَمَّا يُرَادُ بِهَا“ (6)
”میں اس لیے پیدا نہیں ہوا کہ لذیذ غذاؤں کا کھانا مجھے اپنی طرف مشغول کر لے، اس بندھے ہوئے جانور کی طرح جس کی ساری فکر اس کا چارہ ہوتی ہے … اور وہ اس مقصد سے غافل رہتا ہے جس کے لیے اسے رکھا گیا ہے۔“

امیرالمؤمنین علیہ السلام اس جملے میں انسان اور حیوان کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کرتے ہیں اور اسی کے ذریعے زندگی کے حقیقی مقصد کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ بندھا ہوا جانور اپنی زندگی کا مقصد نہیں جانتا اس کی تمام توجہ صرف چارے پر مرکوز ہوتی ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اسے کیوں رکھا گیا ہے اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اسی طرح اگر انسان بھی اپنی زندگی کو صرف جسمانی لذتوں، کھانے پینے اور مادی آسائشوں تک محدود کر لے تو وہ اپنے انسانی مقام سے گر کر محض حیوانی سطح پر آ جاتا ہے۔

یہ تعلیم دراصل بحرانِ معنا کے مسئلے سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ جب انسان زندگی کے اعلیٰ مقصد کو بھول جاتا ہے تو اس کی پوری توجہ ثانوی اور مادی امور پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ آسائش، لذت اور مادی کامیابی حاصل کرنا ہے۔ لیکن جب یہی چیزیں زندگی کا اصل مقصد بن جائیں تو انسان کے اندر ایک خلا پیدا ہوتا ہے، کیونکہ مادی لذتیں انسانی روح کی گہری ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتیں۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام اس کلام کے ذریعے انسان کو متنبہ کرتے ہیں کہ اس کی تخلیق کا مقصد صرف جسمانی ضروریات کی تکمیل نہیں بلکہ ایک بلند تر معنوی مقصد ہے۔ انسان کو عقل، شعور اور ارادہ اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ اپنے وجود کی حقیقت کو پہچانے اور اپنے اعمال کو ایک بامقصد سمت میں منظم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ روایات میں بار بار انسان کو خود آگاہی کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کی زندگی صرف مادی خواہشات کی تکمیل کے لیے نہیں بلکہ ایک اعلیٰ مقصد کے لیے ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ پھر دنیا کی آسائشیں اس کے لیے مقصد نہیں رہتیں بلکہ ایک وسیلہ بن جاتی ہیں۔

یوں امیرالمؤمنین علیہ السلام کا یہ کلام انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ اگر وہ اپنی زندگی کو صرف لذتوں اور مادی خواہشات کے گرد محدود کر دے تو وہ اپنے حقیقی مقام سے محروم ہو جائے گا۔ لیکن اگر وہ اپنے وجود کے مقصد کو پہچان لے تو اس کی زندگی ایک بامعنی اور بامقصد سفر میں تبدیل ہو جاتی ہے جو اسے حیوانی سطح سے بلند کر کے ایک حقیقی انسانی زندگی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

زندگیِ دنیا عارضی سمجھنا

”فَإِنَّهَا عِنْدَ ذَوِي الْعُقُولِ كَفَيْءِ الظِّلِّ، بَيْنَا تَرَاهُ سَابِغًا حَتَّى قَلَصَ“ (7)
”عقلمندوں کے نزدیک دنیا سایہ کی مانند ہے ابھی اسے پھیلا ہوا دیکھتے ہو اور اچانک وہ سکڑ جاتا ہے۔“

یہ تشبیہ دراصل معنائے زندگی کی بنیاد کو واضح کرتی ہے۔ سایہ ہمیشہ عارضی اور متغیر ہوتا ہے۔ وہ سورج کے ساتھ بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے اور کسی لمحے بھی مستقل نہیں رہتا۔ اگر کوئی شخص سایہ کو اصل حقیقت سمجھ لے تو وہ دھوکے میں مبتلا ہو جائے گا۔ اسی طرح دنیا بظاہر مستحکم اور وسیع نظر آتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ ایک عارضی مرحلہ ہے جو تیزی سے گزر جاتا ہے۔

عقل مند انسان دنیا کو مطلق مقصد نہیں بناتا بلکہ اسے ایک وسیلہ سمجھتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی حقیقی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ یہی نکتہ دراصل بحرانِ معنا کے حل کی بنیاد بنتا ہے۔ عصر حاضر کا انسان اس لیے اضطراب اور بے معنویت کا شکار ہے کہ اس نے دنیا کو آخری مقصد سمجھ لیا ہے۔ جب مادی کامیابی ہی زندگی کا معیار بن جائے تو ناکامی، محرومی یا نقصان انسان کو شدید ذہنی اور روحانی بحران میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ لیکن جو شخص دنیا کو ایک عارضی سایہ سمجھتا ہے، اس کے لیے کامیابی اور ناکامی دونوں کی حیثیت بدل جاتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ زندگی ایک مختصر مرحلہ ہے جس کے بعد ایک وسیع اور دائمی حقیقت موجود ہے۔

اسی زاویے سے دیکھا جائے تو امیرالمؤمنین علیہ السلام کا یہ کلام انسان کو زندگی کی قدر و قیمت بھی سکھاتا ہے۔ اگر دنیا سایہ ہے تو زندگی کی اصل قدر مادی کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ انسان اس مختصر فرصت کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ آیا وہ اسے محض خواہشات کی تکمیل میں ضائع کر دیتا ہے یا اسے اخلاقی و معنوی کمال کے حصول کا ذریعہ بناتا ہے۔

یوں نہج البلاغہ کی نگاہ میں دنیا کی حقیقت اس کا ناپائدار ہونا ہے۔ یہ انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ اس عارضی زندگی کو اصل مقصد نہ سمجھے بلکہ اسے اس ابدی سفر کی تیاری کے طور پر دیکھے جس کی منزل آخرت ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو زندگی کی مشکلات، محرومیاں اور آزمائشیں بھی ایک نئے معنی اختیار کر لیتی ہیں، کیونکہ وہ انہیں ایک عارضی مرحلہ سمجھ کر صبر اور امید کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔

حقیقی دنیا کے لیے سرمایہ جمع کرنا

”خُذْ مَا يَبْقَى لَكَ مِمَّا لاَ تَبْقَى لَهُ وَ تَيَسَّرْ لِسَفَرِكَ“ (8)
”اس فانی دنیا میں سے وہ چیز اپنے لیے حاصل کرو جو تمہارے لیے باقی رہنے والی ہے، اور اپنے سفر کے لیے تیاری کرو۔“

یہ قول دراصل دنیا اور آخرت کے تعلق کو نہایت دقیق انداز میں واضح کرتا ہے جو بحرانِ معنا کے مسئلے کو سمجھنے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں امیرالمؤمنین علیہ السلام دنیا کو ایک فانی سرمایہ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ دنیا اپنی ذات میں باقی رہنے والی نہیں ہے، انسان بھی یہاں ہمیشہ نہیں رہتا۔ لیکن اس کے باوجود دنیا بالکل بے فائدہ بھی نہیں ہے، کیونکہ یہی دنیا وہ میدان ہے جہاں انسان ایسے اعمال انجام دے سکتا ہے جو اس کے لیے ہمیشہ باقی رہیں گے۔ گویا دنیا خود باقی نہیں رہتی، مگر دنیا میں کیا گیا عمل باقی رہ سکتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ اس فانی چیز میں سے وہ حصہ لے لو جو تمہارے لیے دائمی سرمایہ بن جائے۔

یہ جملہ ارزشِ حیات کو بھی واضح کرتا ہے۔ اگر دنیا کو آخری منزل سمجھ لیا جائے تو زندگی کی قدر صرف مادی کامیابیوں تک محدود ہو جاتی ہے۔ لیکن امیرالمؤمنین علیہ السلام کی تعلیم یہ ہے کہ دنیا کو ایک سرمایہ گاہ سمجھو جہاں انسان ایسے اعمال جمع کر سکتا ہے جو ابدی زندگی میں اس کے کام آئیں گے۔ اس طرح دنیا کی حیثیت ایک کھیتی کی مانند ہو جاتی ہے جس کی فصل آخرت میں حاصل ہوگی۔

اسی قول کے دوسرے حصے میں زندگی کو ایک سفر سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہاں مستقل قیام کے لیے نہیں آیا ہے۔ عقل مند مسافر وہ ہوتا ہے جو راستے میں عارضی چیزوں میں اس قدر مشغول نہ ہو جائے کہ اپنی اصل منزل کو بھول جائے۔ وہ سفر کے لیے ضروری زادِ راہ تیار کرتا ہے اور منزل کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتا ہے۔ اس طرح نہج البلاغہ کے مطابق دنیا ایک عارضی مرحلہ ہے اور انسان کو اپنی اصل منزل یعنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ جب انسان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو زندگی کے نشیب و فراز اس کے لیے زیادہ پریشان کن نہیں رہتے۔معاصر انسان اس لیے اضطراب کا شکار ہے کہ اس نے دنیا کو منزل سمجھ لیا ہے۔ جب مادی کامیابی ہی زندگی کا معیار بن جائے تو ناکامی، محرومی اور مشکلات انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہیں۔ لیکن اگر انسان یہ سمجھ لے کہ دنیا ایک عارضی مرحلہ ہے اور اصل زندگی اس کے بعد ہے، تو اس کی زندگی کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ وہ دنیا کے وسائل کو مقصد نہیں بلکہ وسیلہ سمجھنے لگتا ہے۔

یوں امیرالمؤمنین علیہ السلام کا یہ مختصر جملہ انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ دنیا کی فانی حقیقت کے باوجود اسے ضائع نہ کیا جائے بلکہ اسے ایسے اعمال کے لیے استعمال کیا جائے جو ابدی زندگی میں انسان کے لیے باقی رہیں۔ یہی وہ بصیرت ہے جو زندگی کو حقیقی معنی عطا کرتی ہے اور انسان کو مادہ پرستی کے اندھیرے سے نکال کر ایک بامقصد اور باارزش زندگی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

زاہدانہ زندگی گزارنا

”مَنْ زَهِدَ فِي الدُّنْيَا اسْتَهَانَ بِالْمُصِيبَاتِ“ (9)
”جو شخص دنیا میں زہد اختیار کر لیتا ہے وہ مصیبتوں کو ہلکا سمجھنے لگتا ہے۔“

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس مختصر جملے میں انسانی نفسیات کا ایک گہرا قانون بیان کیاہے۔ دراصل مصیبت بذاتِ خود انسان کو نہیں توڑتی بلکہ اس چیز کے کھو جانے کا احساس انسان کو توڑ دیتا ہے جسے وہ اپنی زندگی کی اصل بنیاد سمجھ بیٹھتا ہے۔ جب انسان اپنی خوشی، کامیابی اور عزت کو دنیا کی ناپائیدار چیزوں سے وابستہ کر لیتا ہے تو ان میں سے کسی ایک کے چھن جانے سے اس کی پوری زندگی بکھری ہوئی محسوس ہونے لگتی ہے۔ مال کا کم ہو جانا، مقام و منصب کا ختم ہو جانا یا خواہشات کا پورا نہ ہونا انسان کے لیے ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ لیکن جس شخص نے دنیا کو اس کی حقیقی حیثیت کے ساتھ پہچان لیا ہو اور دل کو اس کی وابستگی سے آزاد کر لیا ہو، اس کے لیے حالات کا بدل جانا اتنا بھاری نہیں رہتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام چیزیں عارضی ہیں۔ اسی لیے جب کوئی نقصان پیش آتا ہے تو وہ اسے زندگی کے فطری بہاؤ کا حصہ سمجھتا ہے، نہ کہ ایسا سانحہ جو اس کی پوری دنیا کو تباہ کر دے۔ اس طرح زہد انسان کے اندر ایک ایسی نفسیاتی استقامت پیدا کرتا ہے جو اسے حالات کے اتار چڑھاؤ سے ٹوٹنے نہیں دیتی۔

یہاں زہد کا مطلب دنیا کو ترک کر دینا نہیں بلکہ دل کو اس کی غلامی سے آزاد کرنا ہے۔ ایسا شخص دنیا میں رہتا ہے، کام بھی کرتا ہے، کماتا بھی ہے، لیکن اس کا دل ان چیزوں کے ساتھ اس طرح وابستہ نہیں ہوتا کہ ان کے چھن جانے سے وہ مکمل نڈھال ہو جائے۔ اس کا اصل سہارا کسی بلند تر حقیقت سے وابستہ ہوتا ہے، اسی لیے دنیا کے جھٹکے اسے اتنا متزلزل نہیں کرتے۔

یوں امیرالمؤمنین علیہ السلام کا یہ جملہ ہمیں بتاتا ہے کہ زہد دراصل زندگی سے فرار کا نام نہیں بلکہ زندگی کے صحیح معنا کو سمجھنے کا نام ہے۔ جو شخص دنیا کو اس کی حقیقی حیثیت کے ساتھ پہچان لیتا ہے وہ نہ دنیا کے فریب میں گرفتار ہوتا ہے اور نہ اس کے نقصانات سے ٹوٹتا ہے۔ یہی بصیرت انسان کو باطنی سکون اور معنوی استحکام عطا کرتی ہے، اور یہی وہ تعلیم ہے جو عصرِ حاضر کے انسان کو مادہ پرستی اور وجودی اضطراب کے بحران سے نکال سکتی ہے۔

خلاصہ

عصرِ حاضر میں سائنسی و صنعتی ترقی کے باوجود انسان فکری اور روحانی بحرانوں کا شکار ہے، جن میں سے ایک اہم مسئلہ بحرانِ معنا ہے۔ مادہ پرستی اور الحادی افکار کے پھیلاؤ نے انسانی زندگی کو محض مادی ضروریات اور خواہشات تک محدود کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کے حقیقی مقصد سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اس مقالے میں اس بحران کا جائزہ لے کر یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے ارشادات، انسانی زندگی کے مقصد اور معنویت کے بارے میں بہترین رہنمائی کرتے ہیں۔

نہج البلاغہ کی تعلیمات کے مطابق دنیا عارضی ہے اور اسے انسان کی آخری منزل کے بجائے ایک گزرگاہ سمجھنا چاہیے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے کلام میں انسان کو اپنی زندگی کو محض مادی لذتوں تک محدود نہ کرنے، دنیا کو آخرت کے لیے سرمایہ بنانے اور زاہدانہ طرزِ زندگی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس طرح نہج البلاغہ انسان کو زندگی کے حقیقی مقصد کی طرف متوجہ کر کے اسے مادہ پرستی اور وجودی اضطراب سے نجات کا راستہ دکھاتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ نہج البلاغہ کی تعلیمات عصرِ حاضر کے بحرانِ معنا کے حل کے لیے ایک جامع فکری و اخلاقی رہنمائی پیش کرتی ہے۔

حوالہ جات

[1] مصطفی ملکیان، جزوه تدریس (ایران، 1382) ، ص 18
[2] T. J. Mawson، خداباوری و معنای زندگی، ترجمہ ریحانہ بی‌آزاران (تہران: انتشارات پارسیک، 1401 ش)، ص 18
[3] Viktor E. Frankl، تلاشِ معانی، ترجمہ زویا (کراچی: داؤد پبلشرز، 2019) ،ص 9
[4] ایضا، ص 94
[5] World Health Organization، “Depression,” accessed March 3, 2026، https://www.who.int/health-topics/depression
[6] امام علیؑ، نہج البلاغہ، ترجمہ و شرح فیض الاسلام ، علی نقی (تہران: انتشارات فقیہ، 1368 ش) ، مکتوب 45
[7] ایضا، خطبہ 62
[8] ایضا، خطبہ 214
[9] ایضا، حکمت 30

اس بارے میں مزید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button