صحیفہ کاملہ

47۔ روزعرفہ کی دعا

(۴۷) وَ كَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ

فِیْ یَوْمِ عَرَفَةَ

دُعائے روزِ عرفہ:

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ، ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ، رَبَّ الْاَرْبَابِ، وَ اِلٰهَ كُلِّ مَاْلُوْهٍ، وَ خَالِقَ كُلِّ مَخْلُوْقٍ، وَ وَارِثَ كُلِّ شَیْ‏ءٍ، لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْ‏ءٌ، وَ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ عِلْمُ شَیْ‏ءٍ، وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْ‏ءٍ مُّحِیْطٌ، وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْ‏ءٍ رَقِیْبٌ.

سب تعریف اس اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، بارالٰہا! تیرے ہی لئے تمام تعریفیں ہیں، اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، اے بزرگی و اعزاز والے، اے پالنے والوں کے پالنے والے، اے ہر پرستار کے معبود، اے ہر مخلوق کے خالق، اور ہر چیز کے مالک و وارث، اس کے مثل کوئی چیز نہیں ہے، اور نہ کوئی چیز اس کے علم سے پوشیدہ ہے، وہ ہر چیز پر حاوی اور ہر شے پر نگران ہے۔

اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، الْاَحَدُ الْمُتَوَحِّدُ الْفَرْدُ الْمُتَفَرِّدُ.

تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، جو ایک اکیلا اور یکتا و یگانہ ہے۔

وَ اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، الْكَرِیْمُ الْمُتَكَرِّمُ، الْعَظِیْمُ الْمُتَعَظِّمُ، الْكَبِیْرُ الْمُتَكَبِّرُ.

اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں جو بخشنے والا اور انتہائی بخشنے والا، عظمت والا اور انتہائی عظمت والا اور بڑا اور انتہائی بڑا ہے۔

وَ اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، الْعَلِیُّ الْمُتَعَالِ، الشَّدِیْدُ الْمِحَالِ.

اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں جو بلند و برتر اور بڑی قوت و تدبیر والا ہے۔

وَ اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ، الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ.

اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں جو فیض رساں، مہربان اور علم و حکمت والا ہے۔

وَ اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ، الْقَدِیْمُ الْخَبِیْرُ.

اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، جو سننے والا، دیکھنے والا، قدیم و ازلی اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔

وَ اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، الْكَرِیْمُ الْاَكْرَمُ، الدَّآئِمُ الْاَدْوَمُ.

اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، جو کریم اور سب سے بڑھ کر کریم، اور دائم و جاوید ہے۔

وَ اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، الْاَوَّلُ قَبْلَ كُلِّ اَحَدٍ، وَ الْاٰخِرُ بَعْدَ كُلِّ عَدَدٍ.

اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، جو ہر شے سے پہلے، اور ہر شمار میں آنے والی شے کے بعد ہے۔

وَ اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، الدَّانِیْ فِیْ عُلُوِّهٖ، وَ الْعَالِیْ فِیْ دُنُوِّهٖ.

اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں جو (کائنات کے دسترس سے) بالا ہونے کے باوجود نزدیک اور نزدیک ہونے کے باوجود (فہم و ادراک سے) بلند ہے۔

وَ اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، ذُو الْبَهَآءِ وَ الْمَجْدِ، وَ الْكِبْرِیَآءِ وَ الْحَمْدِ.

اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں جو جمال و بزرگی اور عظمت و ستائش والا ہے۔

وَ اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، الَّذِیْۤ اَنْشَاْتَ الْاَشْیَآءَ مِنْ غَیْرِ سِنْخٍ، وَ صَوَّرْتَ مَا صَوَّرْتَ مِنْ غَیْرِ مِثَالٍ، وَ ابْتَدَعْتَ الْمُبْتَدَعَاتِ بِلَا احْتِذَآءٍ.

اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، جس نے بغیر مواد کے تمام چیزوں کو پیدا کیا، اور بغیر کسی نمونہ و مثال کے صورتوں کی نقش آرائی کی، اور بغیر کسی کی پیروی کئے موجودات کو خلعت وجود بخشا۔

اَنْتَ الَّذِیْ قَدَّرْتَ كُلَّ شَیْ‏ءٍ تَقْدِیْرًا، وَ یَسَّرْتَ كُلَّ شَیْ‏ءٍ تَیْسِیْرًا، وَ دَبَّرْتَ مَا دُوْنَكَ تَدْبِیْرًا.

تو ہی وہ ہے جس نے ہر چیز کا ایک اندازہ ٹھہرایا ہے، اور ہر چیز کو اس کے وظائف کی انجام دہی پر آمادہ کیا ہے، اور کائنات عالم میں سے ہر چیز کی تدبیر و کارسازی کی ہے۔

اَنْتَ الَّذِیْ لَمْ یُعِنْكَ عَلٰى خَلْقِكَ شَرِیْكٌ، وَ لَمْ یُوَازِرْكَ فِیْۤ اَمْرِكَ وَزِیْرٌ، وَ لَمْ یَكُنْ لَّكَ مُشَاهِدٌ وَّ لَا نَظِیْرٌ.

تو وہ ہے کہ آفرینش عالم میں کسی شریک کار نے تیرا ہاتھ نہیں بٹایا، اور نہ کسی معاون نے تیرے کام میں تجھے مدد دی ہے، اور نہ کوئی تیرا دیکھنے والا، اور نہ کوئی تیرا مثل و نظیر تھا۔

اَنْتَ الَّذِیْۤ اَرَدْتَّ فَكَانَ حَتْمًا مَّاۤ اَرَدْتَّ، وَ قَضَیْتَ فَكَانَ عَدْلًا مَّا قَضَیْتَ، وَ حَكَمْتَ فَكَانَ نِصْفًا مَّا حَكَمْتَ.

اور تو نے جو ارادہ کیا وہ حتمی و لازمی، اور جو فیصلہ کیا وہ عدل کے تقاضوں سے عین مطابق، اور جو حکم دیا وہ انصاف پر مبنی تھا۔

اَنْتَ الَّذِیْ لَا یَحْوِیْكَ مَكَانٌ، وَ لَمْ یَقُمْ لِسُلْطَانِكَ سُلْطَانٌ، وَ لَمْ یُعْیِكَ بُرْهَانٌ وَّ لَا بَیَانٌ.

تو وہ ہے جسے کوئی جگہ گھیرے ہوئے نہیں ہے، اور نہ تیرے اقتدار کا کوئی اقتدار مقابلہ کر سکتا ہے، اور نہ تو دلیل و برہان اور کسی چیز کو واضح طور پر پیش کرنے سے عاجز ہے۔

اَنْتَ الَّذِیْۤ اَحْصَیْتَ كُلَّ شَیْ‏ءٍ عَدَدًا، وَ جَعَلْتَ لِكُلِّ شَیْ‏ءٍ اَمَدًا، وَ قَدَّرْتَ كُلَّ شَیْ‏ءٍ تَقْدِیْرًا.

تو وہ ہے جس نے ایک ایک چیز کو شمار کر رکھا ہے، اور ہر چیز کی ایک مدت مقرر کر دی ہے، اور ہر شے کا ایک اندازہ ٹھہرا دیا ہے۔

اَنْتَ الَّذِیْ قَصُرَتِ الْاَوْهَامُ عَنْ ذَاتِیَّتِكَ، وَ عَجَزَتِ الْاَفْهَامُ عَنْ كَیْفِیَّتِكَ، وَ لَمْ تُدْرِكِ الْاَبْصَارُ مَوْضِعَ اَیْنِیَّتِكَ.

تو وہ ہے کہ تیری کنہ ذات کو سمجھنے سے واہمے قاصر، اور تیری کیفیت کو جاننے سے عقلیں عاجز ہیں، اور تیری کوئی جگہ نہیں ہے کہ آنکھیں اس کا کھوج لگا سکتیں۔

اَنْتَ الَّذِیْ لَا تُحَدُّ فَتَكُوْنَ مَحْدُوْدًا، وَ لَمْ تُمَثَّلْ فَتَكُوْنَ مَوْجُوْدًا، وَ لَمْ تَلِدْ فَتَكُوْنَ مَوْلُوْدًا.

تو وہ ہے کہ تیری کوئی حد و نہایت نہیں ہے کہ تو محدود قرار پائے، اور نہ تیرا تصور کیا جا سکتا ہے کہ تو تصور کی ہوئی صورت کے ساتھ ذہن میں موجود ہو سکے، اور نہ تیرے کوئی اولاد ہے کہ تیرے متعلق کسی کی اولاد ہونے کا احتمال ہو۔

اَنْتَ الَّذِیْ لَا ضِدَّ مَعَكَ فَیُعَانِدَكَ، وَ لَا عِدْلَ لَكَ فَیُكَاثِرَكَ، وَ لَا نِدَّ لَكَ فَیُعَارِضَكَ.

تو وہ ہے کہ تیرا کوئی مد مقابل نہیں ہے کہ تجھ سے ٹکرائے، اور نہ تیرا کوئی ہمسر ہے کہ تجھ پر غالب آئے، اور نہ تیرا کوئی مثل و نظیر ہے کہ تجھ سے برابری کرے۔

اَنْتَ الَّذِی ابْتَدَاَ وَ اخْتَرَعَ، وَ اسْتَحْدَثَ وَ ابْتَدَعَ، وَ اَحْسَنَ صُنْعَ مَا صَنَعَ.

تو وہ ہے جس نے خلق کائنات کی ابتدا کی، عالم کو ایجاد کیا اور اس کی بنیاد قائم کی، اور بغیر کسی مادہ و اصل کے اسے وجود میں لایا، اور جو بنایا اسے اپنی حسن صنعت کا نمونہ بنایا۔

سُبْحَانَكَ! مَاۤ اَجَلَّ شَاْنَكَ، وَ اَسْنٰى فِی الْاَمَاكِنِ مَكَانَكَ، وَ اَصْدَعَ بِالْحَقِّ فُرْقَانَكَ.

تو ہر عیب سے منزہ ہے! تیری شان کس قدر بزرگ، اور تمام جگہوں میں تیرا پایہ کتنا بلند، اور تیری حق و باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب کس قدر حق کو آشکارا کرنے والی ہے۔

سُبْحَانَكَ! مِنْ لَّطِیْفٍ مَّاۤ اَلْطَفَكَ، وَ رَءُوْفٍ مَّاۤ اَرْاَفَكَ، وَ حَكِیْمٍ مَّاۤ اَعْرَفَكَ.

تو منزہ ہے! اے صاحب لطف و احسان! تو کس قدر لطف فرمانے والا ہے، اے مہربان! تو کس قدر مہربانی کرنے والا ہے، اے حکمت والے! تو کتنا جاننے والا ہے۔

سُبْحَانَكَ! مِنْ مَّلِیْكٍ مَّاۤ اَمْنَعَكَ، وَ جَوَادٍ مَّاۤ اَوْسَعَكَ، وَ رَفِیْعٍ مَّاۤ اَرْفَعَكَ! ذُو الْبَهَآءِ وَ الْمَجْدِ وَ الْكِبْرِیَآءِ وَ الْحَمْدِ.

پاک ہے تیری ذات! اے صاحب اقتدار! تو کس قدر قوی و توانا ہے، اے کریم! تیرا دامن کرم کتنا وسیع ہے، اے بلند مرتبہ تیرا مرتبہ کتنا بلند ہے، تو حسن و خوبی، شرف و بزرگی، عظمت و کبریائی اور حمد و ستائش کا مالک ہے۔

سُبْحَانَكَ! بَسَطْتَّ بِالْخَیْرَاتِ یَدَكَ، وَ عُرِفَتِ الْهِدَایَةُ مِنْ عِنْدِكَ، فَمَنِ الْتَمَسَكَ لِدِیْنٍ اَوْ دُنْیَا وَجَدَكَ.

پاک ہے تیری ذات! تو نے بھلائیوں کیلئے اپنا ہاتھ بڑھایا ہے، تجھ ہی سے ہدایت کا عرفان حاصل ہوا ہے، لہٰذا جو تجھے دین یا دنیا کیلئے طلب کرے تجھے پا لے گا۔

سُبْحَانَكَ! خَضَعَ لَكَ مَنْ جَرٰى فِیْ عِلْمِكَ، وَ خَشَعَ لِعَظَمَتِكَ مَا دُوْنَ عَرْشِكَ، وَ انْقَادَ لِلتَّسْلِیْمِ لَكَ كُلُّ خَلْقِكَ!.

تو منزہ و پاک ہے! جو بھی تیرے علم میں ہے وہ تیرے سامنے سرنگوں، اور جو کچھ عرش کے نیچے ہے وہ تیری عظمت کے آگے سر بہ خم، اور جملہ مخلوقات تیری اطاعت کا جوا اپنی گردن میں ڈالے ہوئے ہے۔

سُبْحَانَكَ! لَا تُحَسُّ وَ لَا تُجَسُّ وَ لَا تُمَسُّ، وَ لَا تُكَادُ وَ لَا تُمَاطُ، وَ لَا تُنَازَعُ وَ لَا تُجَارٰى وَ لَا تُمَارٰى، وَ لَا تُخَادَعُ وَ لَا تُمَاكَرُ!.

پاک ہے تیری ذات! کہ نہ حواس سے تجھے جانا جا سکتا ہے، نہ تجھے ٹٹولا اور چھوا جا سکتا ہے، نہ تجھ پر کسی کا حیلہ چل سکتا ہے، نہ تجھے دور کیا جا سکتا ہے، نہ تجھ سے نزاع ہو سکتی ہے، نہ مقابلہ، نہ تجھ سے جھگڑا کیا جا سکتا ہے اور نہ تجھے دھوکا اور فریب دیا جا سکتا ہے۔

سُبْحَانَكَ! سَبِیْلُكَ جَدَدٌ، وَ اَمْرُكَ رَشَدٌ، وَ اَنْتَ حَیٌّ صَمَدٌ.

پاک ہے تیری ذات! تیرا راستہ سیدھا اور ہموار، تیرا فرمان سراسر حق و صواب، اور تو زندہ و بے نیاز ہے۔

سُبْحَانَكَ! قَولُكَ حُكْمٌ، وَ قَضَآؤُكَ حَتْمٌ، وَ اِرَادَتُكَ عَزْمٌ!.

پاک ہے تو! تیری گفتار حکمت آمیز، تیرا فیصلہ قطعی اور تیرا ارادہ حتمی ہے۔

سُبْحَانَكَ! لَا رَادَّ لِمَشِیَّتِكَ، وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِكَ!.

پاک ہے تو! نہ تو کوئی تیری مشیت کو رد کر سکتا ہے، اور نہ کوئی تیری باتوں کو بدل سکتا ہے۔

سُبْحَانَكَ! بَاهِرَ الْاٰیَاتِ، فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ، بَارِئَ النَّسَمَاتِ!.

پاک ہے تو! اے درخشندہ نشانیوں والے! اے آسمانوں کے خلق فرمانے والے! اور ذی روح چیزوں کے پیدا کرنے والے!۔

لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا یَّدُوْمُ بِدَوَامِكَ، وَ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا خَالِدًا بِنِعْمَتِكَ، وَ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا یُّوَازِیْ صُنْعَكَ، وَ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا یَّزِیْدُ عَلٰى رِضَاكَ، وَ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا مَّعَ حَمْدِ كُلِّ حَامِدٍ، وَ شُكْرًا یَّقْصُرُ عَنْهُ شُكْرُ كُلِّ شَاكِرٍ.

تیرے ہی لئے تمام تعریفیں ہیں، ایسی تعریفیں جن کی ہمیشگی تیری ہمیشگی سے سے وابستہ ہے، اور تیرے ہی لئے ستائش ہے، ایسی ستائش جو تیری نعمتوں کے ساتھ ہمیشہ باقی رہے اور تیرے ہی لئے حمد و ثنا ہے، ایسی جو تیرے کرم و احسان کے برابر ہو، اور تیرے ہی لئے حمد ہے، ایسی جو تیری رضا مندی سے بڑھ جائے، اور تیرے ہی لئے حمد و سپاس ہے، ایسی جو ہر حمد گزار کی حمد پر مشتمل ہو، اور جس کے مقابلہ میں ہر شکر گزار کا شکر پیچھے رہ جائے۔

حَمْدًا لَّا یَنبَغِیْۤ اِلَّا لَكَ، وَ لَا یُتَقَرَّبُ بِهٖۤ اِلَّاۤ اِلَیْكَ.

ایسی حمد جو تیرے علاوہ کسی کیلئے سزا وار نہ ہو، اور نہ تیرے سوا کسی کے تقرب کا وسیلہ بنے۔

حَمْدًا یُّسْتَدَامُ بِهِ الْاَوَّلُ، وَ یُسْتَدْعٰى بِهٖ دَوَامُ الْاٰخِرِ.

ایسی حمد جو پہلی حمد کے دوام کا سبب قرار پائے اور اس کے ذریعہ آخری حمد کے دوام کی التجا کی جائے۔

حَمْدًا یَّتَضَاعَفُ عَلٰى كُرُوْرِ الْاَزْمِنَةِ، وَ یَتَزَایَدُ اَضْعَافًا مُّتَرَادِفَةً.

ایسی حمد جو زمانہ کی گردشوں کے ساتھ بڑھتی جائے اور پے در پے اضافوں سے زیادہ ہوتی رہے۔

حَمْدًا یَّعْجِزُ عَنْ اِحْصَآئِهِ الْحَفَظَةُ، وَیَزِیْدُ عَلٰى مَاۤ اَحْصَتْهُ فِیْ كِتَابِكَ الْكَتَبَةُ.

ایسی حمد کہ نگبہانی کرنے والے فرشتے اس کے شمار سے عاجز آ جائیں، ایسی حمد کہ جو کاتبان اعمال نے تیری کتاب میں لکھ دیا ہے اس سے بڑھ جائے۔

حَمْدًا یُّوَازِنُ عَرْشَكَ الْمَجِیْدَ، وَ یُعَادِلُ كُرْسِیَّكَ الرَّفِیْعَ.

ایسی حمد جو تیرے عرش بزرگ کے ہم وزن اور تیری بلند پایہ کرسی کے برابر ہو۔

حَمْدًا یَّكْمُلُ لَدَیْكَ ثَوَابُهٗ، وَ یَسْتَغْرِقُ كُلَّ جَزَآءٍ جَزَاؤُهٗ.

ایسی حمد جس کا اجر و ثواب تیری طرف سے کامل اور جس کی جزا تمام جزاؤں کو شامل ہو۔

حَمْدًا ظَاهِرُهٗ وَفْقٌ لِّبَاطِنِهٖ، وَ بَاطِنُهٗ وَفْقٌ لِّصِدْقِ النِّیَّةِ.

ایسی حمد جس کا ظاہر باطن سے ہمنوا اور باطن صدق نیت سے ہم آہنگ ہو۔

حَمْدًا لَّمْ یَحْمَدْكَ خَلْقٌ مِّثْلَهٗ، وَ لَا یَعْرِفُ اَحَدٌ سِوَاكَ فَضْلَهٗ.

ایسی حمد کہ کسی مخلوق نے ویسی تیری حمد نہ کی ہو، اور تیرے سوا کوئی اس کی فضیلت و برتری سے آشنانہ ہو۔

حَمْدًا یُّعَانُ مَنِ اجْتَهَدَ فِیْ تَعْدِیْدِهٖ، وَ یُؤَیَّدُ مَنْ اَغْرَقَ نَزْعًا فِیْ تَوْفِیَتِهٖ.

ایسی حمد کہ جو اسے بکثرت بجالانے کیلئے کوشاں ہو اسے (تیری طرف سے) مدد حاصل ہو، اور جو اسے انجام تک پہنچانے کیلئے سعی بلیغ کرے اسے توفیق و تائید نصیب ہو۔

حَمْدًا یَّجْمَعُ مَا خَلَقْتَ مِنَ الْحَمْدِ، وَ یَنْتَظِمُ مَاۤ اَنْتَ خَالِقُهٗ مِن بَعْدُ.

ایسی حمد جو تمام اقسام حمد کی جامع ہو جنہیں تو موجود کر چکا ہے، اور ان اقسام کو بھی شامل ہو جنہیں تو بعد میں موجود کرے گا۔

حَمْدًا لَّا حَمْدَ اَقْرَبُ اِلٰى قَوْلِكَ مِنْهُ، وَ لَاۤ اَحْمَدَ مِمَّنْ یَّحْمَدُكَ بِهٖ.

ایسی حمد کہ اس سے بڑھ کر کوئی حمد تیری مراد سے قریب تر نہ ہو، اور جو شخص اس طرح کی حمد کرے اس سے بڑھ کر کوئی حمد گزار نہ ہو۔

حَمْدًا یُّوجِبُ بِكَرَمِكَ الْمَزِیْدَ بِوُفُوْرِهٖ، وَ تَصِلُهٗ بِمَزِیْدٍ بَعْدَ مَزِیْدٍ طَوْلًا مِّنْكَ‏.

ایسی حمد جو تیرے فضل و کرم سے اپنی فراوانی کے باعث افزائش نعمت کا سبب ہو، اور تو اپنے لطف و احسان سے اس کے ساتھ پیہم اضافہ کا سلسلہ قائم رکھے۔

حَمْدًا یَّجِبُ لِكَرَمِ وَجْهِكَ، وَ یُقَابِلُ عِزَّ جَلَالِكَ.

ایسی حمد جو تیری بزرگی ذات کے شایاں اور تیرے شرف جلال کے ہمدوش ہو۔

رَبِّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ، الْمُنْتَجَبِ الْمُصْطَفَى الْمُكَرَّمِ الْمُقَرَّبِ، اَفْضَلَ صَلَوَاتِكَ، وَ بَارِكْ عَلَیْهِ اَتَمَّ بَرَكَاتِكَ، وَ تَرَحَّمْ عَلَیْهِ اَمْتَعَ رَحَمَاتِكَ.

پرودگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر سب رحمتوں سے افضل و برتر رحمت نازل فرما، وہ محمدﷺ جو برگزیدہ، معزز و گرامی اور مقرب ہیں، اور ان پر اپنی کامل ترین برکتوں کا اضافہ فرما اور اپنی نفع رساں رحمتوں کے ساتھ ان پر رحم و کرم فرما۔

رَبِّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ، صَلَاةً زَاكِیَةً لَّا تَكُوْنُ صَلَاةٌ اَزْكٰى مِنْهَا، وَ صَلِّ عَلَیْهِ صَلَاةً نَّامِیَةً لَّا تَكُوْنُ صَلَاةٌ اَنْمٰى مِنْهَا، وَ صَلِّ عَلَیْهِ صَلَاةً رَّاضِیَةً لَّا تَكُوْنُ صَلَاةٌ فَوْقَهَا.

پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت فراواں نازل کر جس سے فراوانی میں کوئی رحمت نہ بڑھ سکے، اور ان پر ایسی بڑھنے والی رحمت نازل فرما جس سے زیادہ کوئی رحمت بڑھنے والی نہ ہو، اور ان پر ایسی پسندیدہ رحمت نازل فرما جس سے بالاتر کوئی رحمت نہ ہو۔

رَبِّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ، صَلَاةً تُرْضِیْهِ وَ تَزِیْدُ عَلٰى رِضَاهُ، وَ صَلِّ عَلَیْهِ صَلَاةً تُرْضِیْكَ و تَزِیْدُ عَلٰى رِضَاكَ لَهٗ، وَ صَلِّ عَلَیْهِ صَلَاةً لَّا تَرْضٰى لَهٗۤ اِلَّا بِهَا، وَ لَا تَرٰى غَیْرَهٗ لَهَاۤ اَهْلًا.

پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جو انہیں خوش و خوشنود کرے، اور ان کی خوشنودی سے بڑھ جائے، اور ان پر ایسی رحمت نازل فرما کہ تو ان کیلئے اس کے سوا کسی رحمت کو پسند نہ کرے، اور نہ ان کے علاوہ کسی کو اس رحمت کا سزاوار سمجھے۔

رَبِّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ صَلَاةً تُجَاوِزُ رِضْوَانَكَ، وَ یَتَّصِلُ اتِّصَالُهَا بِبَقَآئِكَ، وَ لَا یَنْفَدُ كَمَا لَا تَنْفَدُ كَلِمَاتُكَ.

پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما کہ تیری جانب سے جس رضا مندی کے وہ مستحق ہیں اس سے بڑھ جائے، اور اس کا پیوند تیرے بقا و دوام سے جڑا رہے، اور اس کا سلسلہ کہیں ختم نہ ہو جس طرح تیرے کلمے ختم نہ ہوں گے۔

رَبِّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ، صَلَاةً تَنْتَظِمُ صَلَوَاتِ مَلٰٓئِكَتِكَ وَ اَنبِیَآئِكَ وَ رُسُلِكَ وَ اَهْلِ طَاعَتِكَ، وَ تَشْتَمِلُ عَلٰى صَلَوَاتِ عِبَادِكَ مِنْ جِنِّكَ وَ اِنْسِكَ وَ اَهْلِ اِجَابَتِكَ، وَ تَجْتَمِعُ عَلٰى صَلَاةِ كُلِّ مَنْ ذَرَاْتَ، وَ بَرَاْتَ مِنْ اَصْنَافِ خَلْقِكَ.

پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جو تیرے فرشتوں، نبیوں، رسولوں اور اطاعت کرنے والوں کے درود و رحمت کو شامل ہو، اور تیرے بندوں میں سے جنوں، انسانوں اور تیری دعوت کو قبول کرنے والوں کے درود و سلام پر مشتمل ہو، اور تیری ہر قسم کی مخلوقات کہ جنہیں تو نے خلق کیا اور عالم وجود میں لایا سب کی رحمتوں پر حاوی ہو۔

رَبِّ صَلِّ عَلَیْهِ وَ اٰلِهٖ، صَلَاةً تُحِیْطُ بِكُلِّ صَلَاةٍ سَالِفَةٍ وَّ مُسْتَاْنَفَةٍ، وَ صَلِّ عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اٰلِهٖ، صَلَاةً مَّرْضِیَّةً لَّكَ وَ لِمَنْ دُوْنَكَ، وَ تُنْشِئُ مَعَ ذٰلِكَ صَلَوَاتٍ تُضَاعِفُ مَعَهَا تِلْكَ الصَّلَوَاتِ عِنْدَهَا، وَ تَزِیْدُهَا عَلٰى كُرُوْرِ الْاَیَّامِ زِیَادَةً فِیْ تَضَاعِیْفَ لَا یَعُدُّهَا غَیْرُكَ.

پروردگارا! آنحضرتﷺ پر اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جو گزشتہ و آیندہ سب رحمتوں کو محیط ہو، ان پر اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جو تیرے نزدیک اور تیرے علاوہ دوسروں کے نزدیک پسندیدہ ہو، اور ان رحمتوں کے ساتھ ایسی رحمتیں بھیجتا رہے کہ ان کے بھیجنے کے وقت تو پہلی رحمتوں کو دگنا کر دے، اور انہیں زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ دو چند کر کے اتنا بڑھاتا جائے کہ جنہیں تیرے علاوہ کوئی شمار نہ کر سکے۔

رَبِّ صَلِّ عَلٰۤى اَطَآئِبِ اَهْلِ بَیْتِهِ الَّذِیْنَ اخْتَرْتَهُمْ لِاَمْرِكَ، وَ جَعَلْتَهُمْ خَزَنَةَ عِلْمِكَ، وَ حَفَظَةَ دِیْنِكَ، وَ خُلَفَآئَكَ فِیْۤ اَرْضِكَ، وَ حُجَجَكَ عَلٰى عِبَادِكَ، وَ طَهَّرْتَهُمْ مِنَ الرِّجْسِ وَ الدَّنَسِ تَطْهِیْرًا بِاِرَادَتِكَ، وَ جَعَلْتَهُمُ الْوَسِیْلَةَ اِلَیْكَ، وَ الْمَسْلَكَ اِلٰى جَنَّتِكَ‏.

پروردگارا! ان کے اہل بیت اطہار علیہم السلام پر رحمت نازل فرما جنہیں تو نے امر (دین و شریعت) کیلئے منتخب فرمایا، اپنے علم کا خزینہ دار اور اپنے دین کا محافظ اور زمین میں اپنا خلیفہ و جانشین اور بندوں پر اپنی حجت بنایا، اور جنہیں اپنے ارادہ (ازلی) سے ہر قسم کی نجاست و آلودگی سے پاک و صاف رکھا، اور جنہیں اپنے تک پہنچنے کا وسیلہ، اور جنت تک آنے کا راستہ قرار دیا ہے۔

رَبِّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ، صَلَاةً تُجْزِلُ لَهُمْ بِهَا مِنْ نِّحَلِكَ وَ كَرَامَتِكَ، وَ تُكْمِلُ لَهُمُ الْاَشْیَآءَ مِنْ عَطَایَاكَ وَ نَوَافِلِكَ، وَ تُوَفِّرُ عَلَیْهِمُ الْحَظَّ مِنْ عَوَآئِدِكَ وَ فَوَآئِدِكَ.

پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جس کے ذریعے تو ان کیلئے اپنی بخشش و کرامت کو فراواں، اور ان کیلئے عطایا و انعامات کامل کرے، اور اپنے تحائف و منافع میں سے انہیں وافر حصہ بخشے۔

رَبِّ صَلِّ عَلَیْهِ وَ عَلَیْهِمْ صَلَاةً لَّاۤ اَمَدَ فِیْۤ اَوَّلِهَا، وَ لَا غَایَةَ لِاَمَدِهَا، وَ لَا نِهَایَةَ لِاٰخِرِهَا.

پروردگارا! ان پر اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر ایسی رحمت نازل فرما کہ نہ اس کی ابتدا کی کوئی مدت، نہ اس مدت کی کوئی انتہا اور نہ اس کا کوئی آخری کنارا ہو۔

رَبِّ صَلِّ عَلَیْهِمْ زِنَةَ عَرْشِكَ- وَ مَا دُوْنَهٗ، وَ مِلْ‏ءَ سَمٰوٰتِكَ وَ مَا فَوْقَهُنَّ، وَ عَدَدَ اَرَضِیْكَ، وَ مَا تَحْتَهُنَّ وَ مَا بَیْنَهُنَّ، صَلَاةً تُقَرِّبُهُمْ مِّنْكَ زُلْفٰى، وَ تَكُوْنُ لَكَ وَ لَهُمْ رِضًى، وَ مُتَّصِلَةً بِنَظَآئِرِهِنَّ اَبَدًا.

پروردگارا! ان پر ایسی رحمت نازل فرما کہ تیرے عرش اور جو کچھ زیر عرش ہے سب کے ہم وزن ہو، اور اس مقدار میں ہو کہ آسمانوں اور جو کچھ آسمانوں کے اوپر ہے سب کو بھر دے، اور زمینوں اور جو کچھ زمینوں کے نیچے اور ان کے اندر ہے ان کے شمار کے برابر ہو، ایسی رحمت جو انہیں تیرے تقرب کی منزل اعلیٰ پر پہنچا دے، اور تیرے لئے اور ان کیلئے سرمایہ خوشنودی ہو، اور اپنے ایسی دوسری رحمتوں سے ہمیشہ متصل رہے۔

اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ اَیَّدْتَّ دِیْنَكَ فِیْ كُلِّ اَوَانٍ بِاِمَامٍ اَقَمْتَهٗ عَلَمًا لِّعِبَادِكَ، وَ مَنَارًا فِیْ بِلَادِكَ بَعْدَ اَنْ وَّصَلْتَ حَبْلَهٗ بِحَبْلِكَ، وَ جَعَلْتَهُ الذَّرِیْعَةَ اِلٰى رِضْوَانِكَ، وَ افْتَرَضْتَ طَاعَتَهٗ، وَ حَذَّرْتَ مَعْصِیَتَهٗ، وَ اَمَرْتَ بِامْتِثَالِ اَوَامِرِهٖ، وَ الِانْتِهَآءِ عِنْدَ نَهْیِهٖ، وَ اَلَّا یَتَقَدَّمَهٗ مُتَقَدِّمٌ، وَ لَا یَتَاَخَّرَ عَنْهُ مُتَاَخِّرٌ، فَهُوَ عِصْمَةُ اللَّآئِذِیْنَ، وَ كَهْفُ الْمُؤْمِنِیْنَ، وَ عُرْوَةُ الْمُتَمَسِّكِیْنَ، وَ بَهَآءُ الْعٰلَمِیْنَ.

بار الٰہا! تو نے ہر زمانہ میں ایک ایسے امام کے ذریعہ اپنے دین کی تائید فرمائی ہے جسے تو نے اپنے بندوں کیلئے نشان راہ قرار دیا، اور شہروں میں منار ہدایت بنا کر قائم کیا، جبکہ تو نے اپنے پیمان اطاعت کو اس کے پیمان اطاعت سے وابستہ کر دیا، جسے اپنی رضا و خوشنودی کا ذریعہ قرار دیا، جس کی اطاعت فرض کر دی، جس کی نافرمانی سے ڈرایا، جس کے احکام کی بجا آوری اور جس کے منع کرنے پر باز رہنے کا حکم دیا، اور یہ کہ کوئی آگے بڑھنے والا اس سے آگے نہ بڑھے، اور کوئی پیچھے رہ جانے والا اس سے پیچھے نہ رہے، وہ پناہ طلب کرنے والوں کیلئے سرو سامان حفاظت، اہل ایمان کیلئے جائے پناہ، وابستگان دامن کیلئے مضبوط سہارا اور تمام جہان کی رونق و زیبائش ہے۔

اَللّٰهُمَّ فَاَوْزِعْ لِوَلِیِّكَ شُكْرَ مَاۤ اَنْعَمْتَ بِهٖ عَلَیْهِ، وَ اَوْزِعْنَا مِثْلَهٗ فِیْهِ، وَ اٰتِهٖ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطانًا نَّصِیْرًا، وَ افْتَحْ لَهٗ فَتْحًا یَّسِیْرًا، وَ اَعِنْهُ بِرُكْنِكَ الْاَعَزِّ، وَ اشْدُدْ اَزْرَهٗ، وَ قَوِّ عَضُدَهٗ، وَ رَاعِهٖ بِعَیْنِكَ، وَ احْمِهٖ بِحِفْظِكَ وَ انْصُرْهُ بِمَلٰٓئِكَتِكَ، وَ امْدُدْهُ بِجُنْدِكَ الْاَغْلَبِ، وَ اَقِمْ بِهٖ كِتَابَكَ وَ حُدُوْدَكَ وَ شَرَآئِعَكَ وَ سُنَنَ رَسُولِكَ،- صَلَوَاتُكَ اللّٰهُمَّ عَلَیْهِ وَ اٰلِهٖ-، وَ اَحْیِ بِهٖ مَاۤ اَمَاتَهٗ الظّٰالِمُوْنَ مِنْ مَّعَالِمِ دِیْنِكَ، وَ اجْلُ بِهٖ صَدَآءَ الْجَوْرِ عَنْ طَرِیْقَتِكَ، وَ اَبِنْ بِهِ الضَّرَّآءَ مِنْ سَبِیْلِكَ، وَ اَزِلْ بِهِ النَّاكِبِیْنَ عَنْ صِرَاطِكَ، وَ امْحَقْ بِهٖ بُغَاةَ قَصْدِكَ عِوَجًا، وَ اَلِنْ جَانِبَهٗ لِاَوْلِیَآئِكَ، وَ ابْسُطْ یَدَهٗ عَلٰۤى اَعْدَآئِكَ، وَ هَبْ لَنا رَاْفَتَهٗ وَ رَحْمَتَهٗ، وَ تَعَطُّفَهٗ وَ تَحَنُّنَهٗ، وَ اجْعَلْنَا لَهٗ سَامِعِیْنَ مُطِیْعِیْنَ، وَ فِیْ رِضَاهُ سَاعِیْنَ، وَ اِلٰى نُصْرَتِهٖ وَ الْمُدَافَعَةِ عَنْهُ مُكْنِفِیْنَ، وَ اِلَیْكَ وَ اِلٰى رَسُولِكَ- صَلَوَاتُكَ اللّٰهُمَّ عَلَیْهِ وَ اٰلِهٖ- بِذٰلِكَ مُتَقَرِّبِیْنَ.

بار الٰہا! اپنے ولی و پیشوا کے دل میں اس انعام پر جو اسے بخشا ہے ادائے شکر کا الہام فرما، اور اس کے وجود کے باعث ویسا ہی ادائے شکر کا جذبہ ہمارے دل میں پیدا کر، اور اسے اپنی طرف سے ایسا تسلط عطا فرما جس سے ہر طرح کی مدد پہنچے، اور اس کیلئے کامیابی و کامرانی کی راہ بآسانی کھول دے، اور اپنے مضبوط سہارے سے اس کی مدد فرما، اس کی پشت کو مضبوط، اور بازو کو قوی کر، اور اپنی نظر توجہ سے اس کی حفاظت اور اپنی نگہداشت سے اس کی حمایت فرما، اور اپنے فرشتوں کے ذریعہ اس کی مدد اور اپنے غالب آنے والے سپاہ و لشکر سے اس کی کمک فرما، اور اس کے ذریعہ اپنی کتاب اور حدود و احکام اور اپنے رسول (ان پر اے اللہ تیری طرف سے درود و رحمت ہو) کی روشوں کو قائم کر، اور ان کے ذریعہ ظالموں نے دین کے جن نشانات کو مٹا ڈالا ہے ازسر نو زندہ کر دے، اور ظلم و جور کے زنگ کو اپنی شریعت سے دور، اور اپنی راہ کی دشواریوں کو برطرف کر دے، اور جو لوگ تیرے راہ صواب سے رو گردانی کرنے والے ہیں انہیں ختم اور جو تیرے راہ راست میں کجی پیدا کرتے ہیں انہیں نیست و نابود کر دے، اور اسے اپنے دوستوں کیلئے نرم و بردبار قرار دے، اور دشمنوں (پر غلبہ و تسلط) کیلئے اس کے ہاتھوں کو کھول دے، اور ہمیں اس کی طرف سے رأفت و رحمت اور شفقت و مہربانی عطا فرما، اور اس کی بات پر کان دھرنے والا، اور اطاعت کرنے والا، اور اس کی خوشنودی کیلئے کوشاں رہنے والا، اور اس کی نصرت و تائید اور دشمنوں سے دفاع کے سلسلہ میں مدد دینے والا، اور اس وسیلہ سے تجھ سے اور تیرے رسول (اے خدا ان پر تیرا درود و سلام ہو) سے تقرب چاہنے والا قرار دے۔

اَللّٰهُمَّ وَ صَلِّ عَلٰۤى اَوْلِیَآئِهِمُ الْمُعْتَرِفِیْنَ بِمَقَامِهِمُ، الْمُتَّبِعِیْنَ مَنْهَجَهُمُ، الْمُقْتَفِیْنَ اٰثَارَهُمُ، الْمُسْتَمْسِكِیْنَ بِعُرْوَتِهِمُ، الْمُتَمَسِّكِیْنَ بِوِلَایَتِہِمُ، الْمُؤْتَمِّیْنَ بِاِمَامَتِهِمُ، الْمُسَلِّـمِیْنَ لِاَمْرِهِمُ، الْمُجْتَهِدِیْنَ فِیْ طَاعَتِهِمُ، الْمُنْتَظِرِیْنَ اَیَّامَهُمُ، الْمَادِّیْنَ اِلَیْهِمْ اَعْیُنَہُمُ، الصَّلَوَاتِ الْمُبَارَكَاتِ، الزَّاكِیَاتِ النَّامِیَاتِ، الْغَادِیَاتِ الرَّآئِحَاتِ. وَ سَلِّمْ عَلَیْهِمْ وَ عَلٰۤى اَرْوَاحِهِمْ، وَ اجْمَعْ عَلَى التَّقْوٰى اَمْرَهُمْ، وَ اَصْلِحْ لَهُمْ شُئُوْنَهُمْ، وَ تُبْ عَلَیْهِمْ، اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ، وَ خَیْرُ الْغَافِرِیْنَ، وَ اجْعَلْنَا مَعَهُمْ فِیْ دَارِ السَّلَامِ بِرَحْمَتِكَ یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ.

اے اللہ! ان کے دوستوں پر بھی رحمت نازل فرما جو ان کے مرتبہ و مقام کے معترف، ان کے طریق و مسلک کے تابع، ان کے نقش قدم پر گامزن، ان کے سر رشتہ دین سے وابستہ، ان کی دوستی و ولایت سے متمسک، ان کی امامت کے پیرو، ان کے احکام کے فرمانبردار، ان کی اطاعت میں سر گرم عمل، ان کے زمانہ اقتدار کے منتظر اور ان کیلئے چشم براہ ہیں، ایسی رحمت جو بابرکت، پاکیزہ اور بڑھنے والی اور ہر صبح و شام نازل ہونے والی ہو، اور ان پر اور ان کے ارواح (طیبہ) پر سلامتی نازل فرما، اور ان کے کاموں کو صلاح و تقویٰ کی بنیادوں پر قائم کر، اور ان کے حالات کی اصلاح فرما، اور ان کی توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا، اور سب سے بہتر بخشنے والا ہے، اور ہمیں اپنی رحمت کے وسیلہ سے ان کے ساتھ دارالسلام (جنت) میں جگہ دے، اے سب رحیموں سے زیادہ رحیم۔

اَللّٰهُمَّ هٰذَا یَوْمُ عَرَفَةَ یَوْمٌ شَرَّفْتَهٗ وَکَرَّمْتَہٗ وَ عَظَّمْتَهٗ، نَشَرْتَ فِیْهِ رَحْمَتَكَ، وَ مَنَنْتَ فِیْهِ بِعَفْوِكَ، وَ اَجْزَلْتَ فِیْهِ عَطِیَّتَكَ، وَ تَفَضَّلْتَ بِهٖ عَلٰى عِبَادِكَ.

پروردگارا! یہ روز عرفہ وہ دن ہے جسے تو نے شرف، عزت اور عظمت بخشی ہے، جس میں اپنی رحمتیں پھیلا دیں اور اپنے عفو و درگزر سے احسان فرمایا، اپنے عطیوں کو فراواں کیا اور اس کے وسیلہ سے اپنے بندوں پر تفضل فرمایا ہے۔

اَللّٰهُمَّ وَ اَنَا عَبْدُكَ الَّذِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ قَبْلَ خَلْقِكَ لَهٗ وَ بَعْدَ خَلْقِكَ اِیَّاهُ، فَجَعَلْتَهٗ مِمَّنْ هَدَیْتَهٗ لِدِیْنِكَ، وَ وَفَّقْتَهٗ لِحَقِّكَ، وَ عَصَمْتَهٗ بِحَبْلِكَ، وَ اَدْخَلْتَهٗ فِیْ حِزْبِكَ، وَ اَرْشَدْتَّهٗ لِمُوَالَاةِ اَوْلِیَآئِكَ، وَ مُعَادَاةِ اَعْدَآئِكَ.

اے اللہ! میں تیرا وہ بندہ ہوں جس پر تو نے اس کی خلقت سے پہلے اور خلقت کے بعد انعام و احسان فرمایا ہے، اس طرح کہ اسے ان لوگوں میں سے قرار دیا جنہیں تو نے اپنے دین کی ہدایت کی، اپنے ادائے حق کی توفیق بخشی، جن کی اپنی ریسماں کے ذریعہ حفاظت کی، جنہیں اپنی جماعت میں داخل کیا، اور اپنے دوستوں کی دوستی اور دشمنوں کی دشمنی کی ہدایت فرمائی ہے۔

ثُمَّ اَمَرْتَهٗ فَلَمْ یَاْتَمِرْ، وَ زَجَرْتَهٗ فَلَمْ یَنْزَجِرْ، وَ نَهَیْتَهٗ عَنْ مَّعْصِیَتِكَ فَخَالَفَ اَمْرَكَ اِلٰى نَهْیِكَ، لَا مُعَانَدَةً لَّكَ، وَ لَا اسْتِكْبَارًا عَلَیْكَ، بَلْ دَعَاهُ هَوَاهُ اِلٰى مَا زَیَّلْتَهٗ، وَ اِلٰى مَا حَذَّرْتَهٗ، وَ اَعَانَهٗ عَلٰى ذٰلِكَ عَدُوُّكَ وَ عَدُوُّهٗ، فَاَقْدَمَ عَلَیْهِ عَارِفًا بِوَعِیْدِكَ، رَاجِیًا لِّعَفْوِكَ، وَاثِقًا بِتَجَاوُزِكَ، وَ كَانَ اَحَقَّ عِبَادِكَ مَعَ مَا مَنَنْتَ عَلَیْهِ اَلَّا یَفْعَلَ.

باایں ہمہ تو نے اسے حکم دیا تو اس نے حکم نہ مانا، اور منع کیا تو وہ باز نہ آیا، اور اپنی معصیت سے روکا تو وہ تیرے حکم کے خلاف امر ممنوع کا مرتکب ہوا، یہ تجھ سے عناد اور تیرے مقابلہ میں تکبر کی رو سے نہ تھا، بلکہ خواہش نفس نے اسے ایسے کاموں کی دعوت دی جن سے تو نے روکا اور ڈرایا تھا، اور تیرے دشمن اور اس کے دشمن (شیطان ملعون) نے ان کاموں میں اس کی مدد کی، چنانچہ اس نے تیری دھمکی سے آگاہ ہونے کے باوجود تیرے عفو کی امید کرتے ہوئے اور تیرے درگزر پر بھروسا رکھتے ہوئے گناہ کی طرف اقدام کیا، حالانکہ ان احسانات کی وجہ سے جو تو نے اس پر کئے تھے تمام بندوں میں وہ اس کا سزاوار تھا کہ ایسا نہ کرتا۔

وَ هَاۤ اَنَا ذَا بَیْنَ یَدَیْكَ صَاغِرًا ذَلِیْلًا، خَاضِعًا خَاشِعًا خَآئِفًا، مُعْتَرِفًا بِعَظِیْمٍ مِّنَ الذُّنُوْبِ تَحَمَّلْتُهٗ، وَ جَلِیْلٍ مِّنَ الْخَطَایَا اجْتَرَمْتُهٗ، مُسْتَجِیْرًا بِصَفْحِكَ، لَآئِذًا بِرَحْمَتِكَ، مُوْقِنًاۤ اَنَّهٗ لَا یُجِیْرُنِیْ مِنْكَ مُجِیْرٌ، وَ لَا یَمْنَعُنِیْ مِنْكَ مَانِعٌ.

اچھا پھر میں تیرے سامنے کھڑا ہوں بالکل خوار و ذلیل، سراپا عجز و نیاز اور لرزاں و ترساں، ان عظیم گناہوں کا جن کا بوجھ اپنے سراٹھایا ہے، اور ان بڑی خطاؤں کا جن کا ارتکاب کیا ہے، اعتراف کرتا ہوا، تیرے دامن عفو میں پناہ چاہتا ہوا، اور تیری رحمت کا سہارا ڈھونڈتا ہوا، اور یہ یقین رکھتا ہوا کہ کوئی پناہ دینے والا (تیرے عذاب سے) مجھے پناہ نہیں دے سکتا، اور کوئی بچانے والا (تیرے غضب سے) مجھے بچا نہیں سکتا۔

فَعُدْ عَلَیَّ بِمَا تَعُوْدُ بِهٖ عَلٰى مَنِ اقْتَرَفَ مِنْ تَغَمُّدِكَ، وَ جُدْ عَلَیَّ بِمَا تَجُوْدُ بِهٖ عَلٰى مَنْ اَلْقٰى بِیَدِهٖۤ اِلَیْكَ مِنْ عَفْوِكَ، وَ امْنُنْ عَلَیَّ بِمَا لَا یَتَعَاظَمُكَ اَنْ تَمُنَّ بِهٖ عَلٰى مَنْ اَمَّلَكَ مِنْ غُفْرَانِكَ.

لہٰذا (اس اعتراف گناہ و اظہار ندامت کے بعد) تو میری پردہ پوشی فرما جس طرح گنہگاروں کی پردہ پوشی فرماتا ہے، اور مجھے معافی عطا کر جس طرح ان لوگوں کو معافی عطا کرتا ہے جنہوں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا ہو، اور مجھ پر اس بخشش و آمرزش کے ساتھ احسان فرما کہ جس بخشش و آمرزش سے تو اپنے امیدوار پر احسان کرتا ہے تو تجھے بڑی نہیں معلوم ہوتی۔

وَ اجْعَلْ لِّیْ فِیْ هٰذَا الْیَوْمِ نَصِیْبًا اَنَالُ بِهٖ حَظًّا مِّنْ رِضْوَانِكَ، وَ لَا تَرُدَّنِیْ صِفْرًا مِّمَّا یَنْقَلِبُ بِهِ الْمُتَعَبِّدُوْنَ لَكَ مِنْ عِبَادِكَ، وَ اِنِّیْ وَ اِنْ لَّمْ اُقَدِّمْ مَا قَدَّمُوْهُ مِنَ الصَّالِحَاتِ، فَقَدْ قَدَّمْتُ تَوْحِیْدَكَ وَ نَفْیَ الْاَضْدَادِ وَ الْاَنْدَادِ وَ الْاَشْبَاهِ عَنْكَ، وَ اَتَیْتُكَ مِنَ الْاَبْوَابِ الَّتِیْۤ اَمَرْتَ اَنْ تُؤْتٰى مِنْهَا، وَ تَقَرَّبْتُ اِلَیْكَ بِمَا لَا یَقْرُبُ اَحَدٌ مِّنْكَ اِلَّا بِالتَّقَرُّبِ بِهٖ.

اور میرے لئے آج کے دن ایسا حظ و نصیب قرار دے کہ جس کے ذریعہ تیری رضا مندی کا کچھ حصہ پا سکوں، اور تیرے عبادت گزار بندے جو ( اجر و ثواب کے) تحائف لے کر پلٹے ہیں مجھے ان سے خالی ہاتھ نہ پھیر، اگرچہ وہ نیک اعمال جو انہوں نے آگے بھیجے ہیں میں نے آگے نہیں بھیجے، لیکن میں نے تیری وحدت و یکتائی کا عقیدہ اور یہ کہ تیرا کوئی حریف، شریک کار اور مثل و نظیر نہیں ہے پیش کیا ہے، اور انہی دروازوں سے جن دروازوں سے تو نے آنے کا حکم دیا ہے آیا ہوں، اور ایسی چیز کے ذریعہ جس کے بغیر کوئی تجھ سے تقرب حاصل نہیں کر سکتا تقرب چاہا ہے۔

ثُمَّ اَتْبَعْتُ ذٰلِكَ بِالْاِنَابَةِ اِلَیْكَ، وَ التَّذَلُّلِ وَ الِاسْتِكَانَةِ لَكَ، وَ حُسْنِ الظَّنِّ بِكَ، وَ الثِّقَةِ بِمَا عِنْدَكَ، وَ شَفَعْتُهٗ بِرَجَآئِكَ الَّذِیْ قَلَّ مَا یَخِیْبُ عَلَیْهِ رَاجِیْكَ، وَ سَئَلْتُكَ مَسْئَلَةَ الْحَقِیْرِ الذَّلِیْلِ، الْبَآئِسِ الْفَقِیْرِ الْخَآئِفِ الْمُسْتَجِیْرِ، وَ مَعَ ذٰلِكَ خِیْفَةً وَّ تَضَرُّعًا، وَ تَعَوُّذًا وَّ تَلَوُّذًا، لَا مُسْتَطِیْلًا بِتَكَبُّرِ الْمُتَكَبِّرِیْنَ، وَ لَا مُتَعَالِیًا بِدَالَّةِ الْمُطِیْعِیْنَ، وَ لَا مُسْتَطِیْلًا بِشَفَاعَةِ الشَّافِعِیْنَ، وَ اَنَا بَعْدُ اَقَلُّ الْاَقَلِّیْنَ، وَ اَذَلُّ الْاَذَلِّیْنَ، وَ مِثْلُ الذَّرَّةِ اَوْ دُوْنَهَا.

پھر تیری طرف رجوع و بازگشت، تیری بارگاہ میں تذلل و عاجزی، اور تجھ سے نیک گمان، اور تیری رحمت پر اعتماد کو طلب تقرب کے ہمراہ رکھا ہے، اور اس کے ساتھ ایسی امید کا ضمیمہ بھی لگا دیا ہے جس کے ہوتے ہوئے تجھ سے امید رکھنے والا محروم نہیں رہتا، اور تجھ سے اسی طرح سوال کیا ہے جس طرح کوئی بے قدر، ذلیل ،شکستہ حال، تہی دست، خوف زدہ اور طلبگارِ پناہ سوال کرتا ہے، اور اس حالت کے باوجود میرا یہ سوال خوف، عجز و نیاز مندی، پناہ طلبی اور امان خواہی کی رو سے ہے، نہ متکبروں کے تکبر کے ساتھ برتری جتلاتے، نہ اطاعت گزاروں کے (اپنی عبادت پر) فخر و اعتماد کی بنا پر اتراتے اور نہ سفارش کرنے والوں کی سفارش پر سربلندی دکھاتے ہوئے اور میں اس اعتراف کے ساتھ تمام کمتروں سے کمتر، خوار و ذلیل لوگوں سے ذلیل تر، اور ایک چیونٹی کے مانند بلکہ اس سے بھی پست تر ہوں۔

فَیَا مَنْ لَّمْ یُعَاجِلِ الْمُسِیْٓئِیْنَ، وَ لَا یَنْدَهُ الْمُتْرَفِیْنَ، وَ یَا مَنْ یَّمُنُّ بِاِقَالَةِ الْعَاثِرِیْنَ، وَ یَتَفَضَّلُ بِاِنْظَارِ الْخَاطِئِیْنَ.

اے وہ جو گنہگاروں پر عذاب کرنے میں جلدی نہیں کرتا اور نہ سرکشوں کو (اپنی نعمتوں سے) روکتا ہے! اے وہ جو لغزش کرنے والوں سے درگزر فرما کر احسان کرتا ہے اور گنہگاروں کو مہلت دے کر تفضل فرماتا ہے!

اَنَا الْمُسِیْٓ‏ءُ الْمُعْتَرِفُ الْخَاطِئُ الْعَاثِرُ، اَنَا الَّذِیْ اَقْدَمَ عَلَیْكَ مُجْتَرِئًا، اَنَا الَّذِیْ عَصَاكَ مُتَعَمِّدًا، اَنَا الَّذِی اسْتَخْفٰى مِنْ عِبَادِكَ وَ بَارَزَكَ، اَنَا الَّذِیْ هَابَ عِبَادَكَ وَ اَمِنَكَ، اَنَا الَّذِیْ لَمْ یَرْهَبْ سَطْوَتَكَ، وَ لَمْ یَخَفْ بَاْسَكَ، اَنَا الْجَانِیْ عَلٰى نَفْسِهٖ، اَنَا الْمُرْتَهَنُ بِبَلِیَّتِهٖ، اَنَا القَلِیْلُ الْحَیَآءِ، اَنَا الطَّوِیلُ الْعَنَآءِ.

میں وہ ہوں جو گنہگار گناہ کا معترف، خطاکار اور لغزش کرنے والا ہوں، میں وہ ہوں جس نے تیرے مقابلہ میں جرأت سے کام لیتے ہوئے پیش قدمی کی، میں وہ ہوں جس نے دیدہ دانستہ گناہ کئے، میں وہ ہوں جس نے (اپنے گناہوں کو) تیرے بندوں سے چھپایا اور تیرے سامنے کھلم کھلا مخالفت کی، میں وہ ہوں جو تیرے بندوں سے ڈرتا رہا اور تجھ سے بے خوف رہا، میں وہ ہوں جو تیری ہیبت سے ہراساں اور تیرے عذاب سے خوف زدہ نہ ہوا، میں خود ہی اپنے حق میں مجرم اور بلا و مصیبت کے ہاتھوں میں گروی ہوں، میں ہی شرم و حیا سے عاری اور طویل رنج و تکلیف میں مبتلا ہوں۔

بِحَقِّ مَنِ انْتَجَبْتَ مِنْ خَلْقِكَ، وَ بِمَنِ اصْطَفَیْتَهٗ لِنَفْسِكَ، بِحَقِّ مَنِ اخْتَرْتَ مِن بَرِیَّتِكَ، وَ مَنِ اجْتَبَیْتَ لِشَاْنِكَ، بِحَقِّ مَنْ وَّصَلْتَ طَاعَتَهٗ بِطَاعَتِكَ، وَ مَنْ جَعَلْتَ مَعْصِیَتَهٗ كَمَعْصِیَتِكَ، بِحَقِّ مَنْ قَرَنْتَ مُوَالَاتَهٗ بِمُوَالَاتِكَ، وَ مَنْ نُّطْتَ مُعَادَاتَهٗ بِمُعَادَاتِكَ.

میں تجھے اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جسے تو نے مخلوقات میں سے منتخب کیا، اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جسے تو نے اپنے لئے پسند فرمایا، اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جسے تو نے کائنات میں سے برگزیدہ کیا اور جسے اپنے احکام (کی تبلیغ) کیلئے چن لیا، اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جس کی اطاعت کو اپنی اطاعت سے ملا دیا اور جس کی نافرمانی کو اپنی نافرمانی کے مانند قرار دیا، اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جس کی محبت کو اپنی محبت سے مقرون اور جس کی دشمنی کو اپنی دشمنی سے وابستہ کیا ہے۔

تَغَمَّدْنِیْ فِیْ یَوْمِیْ هٰذَا بِمَا تَتَغَمَّدُ بِهٖ مَنْ جَارَ اِلَیْكَ مُتَنَصِّلًا، وَ عَاذَ بِاسْتِغْفَارِكَ تَآئِبًا، وَ تَوَلَّنِیْ بِمَا تَتَوَلّٰى بِهٖۤ اَهْلَ طَاعَتِكَ، وَ الزُّلْفٰى لَدَیْكَ وَ الْمَكَانَةِ مِنْكَ، وَ تَوَحَّدْنِیْ بِمَا تَتَوَحَّدُ بِهٖ مَنْ وَّفٰى بِعَهْدِكَ، وَ اَتْعَبَ نَفْسَهٗ فِیْ ذَاتِكَ، وَ اَجْهَدَهَا فِیْ مَرْضَاتِكَ، وَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِتَفْرِیْطِیْ فِیْ جَنبِكَ، وَ تَعَدِّیْ طَوْرِیْ فِیْ حُدُوْدِكَ، وَ مُجَاوَزَةِ اَحْكَامِكَ، وَ لَا تَسْتَدْرِجْنِیْ بِاِمْلَآئِكَ لِیْ، اسْتِدْرَاجَ مَنْ مَّنَعَنِیْ خَیْرَ مَا عِنْدَهٗ، وَ لَمْ یَشْرَكْكَ فِیْ حُلُوْلِ نِعْمَتِهٖ بِیْ.

مجھے آج کے دن اس دامن رحمت میں ڈھانپ لے جس سے ایسے شخص کو ڈھانپتا ہے جو گناہوں سے دست بردار ہو کر تجھ سے نالہ و فریاد کرے، اور تائب ہو کر تیرے دامنِ مغفرت میں پناہ چاہے، اور جس طرح اپنے اطاعت گزاروں اور قرب و منزلت والوں کی سر پرستی فرماتا ہے اسی طرح میری سرپرستی فرما، اور جس طرح ان لوگوں پر جنہوں نے تیرے عہد کو پورا کیا، تیری خاطر اپنے کو تعب و مشقت میں ڈالا اور تیری رضامندیوں کیلئے سختیوں کو جھیلا، خود تن تنہا احسان کرتا ہے اسی طرح مجھ پر بھی تن تنہا احسان فرما، اور تیرے حق میں کوتاہی کرنے، تیرے حدود سے متجاوز ہونے، اور تیرے احکام کے پس پشت ڈالنے پر میرا مؤاخذہ نہ کر، اور مجھے اس شخص کے مہلت دینے کی طرح مہلت دے کر رفتہ رفتہ اپنے عذاب کا مستحق نہ بنا جس نے اپنی بھلائی کو مجھ سے روک لیا، اور سمجھتا یہ ہے کہ بس وہی نعمت کا دینے والا ہے، یہاں تک کہ تجھے بھی ان نعمتوں کے دینے میں شریک نہ سمجھا ہو۔

وَ نَبِّهْنِیْ مِنْ رَّقْدَةِ الْغَافِلِیْنَ، وَ سِنَةِ الْمُسْرِفِیْنَ، وَ نَعْسَةِ الْمَخْذُوْلِیْنَ، وَ خُذْ بِقَلْبِیْ اِلٰى مَا اسْتَعْمَلْتَ بِهِ الْقَانِتِیْنَ، وَ اسْتَعْبَدْتَّ بِهِ الْمُتَعَبِّدِیْنَ، وَ اسْتَنْقَذْتَ بِهِ الْمُتَهَاوِنِیْنَ.

مجھے غفلت شعاروں کی نیند، بے راہرؤوں کے خواب اور حرماں نصیبوں کی غفلت سے ہوشیار کر دے، اور میرے دل کو اس راہ عمل پر لگا جس پر تو نے اطاعت گزاروں کو لگایا ہے، اور اس عبادت کی طرف مائل فرما جو عبادت گزاروں سے تو نے چاہی ہے، اور ان چیزوں کی ہدایت کر جن کے وسیلہ سے سہل انگاروں کو رہائی بخشی ہے۔

وَ اَعِذْنِیْ مِمَّا یُبَاعِدُنِیْ عَنْكَ، وَ یَحُوْلُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ حَظِّیْ مِنْكَ، وَ یَصُدُّنِیْ عَمَّاۤ اُحَاوِلُ لَدَیْكَ، وَ سَهِّلْ لِیْ مَسْلَكَ الْخَیْرَاتِ اِلَیْكَ، وَ الْمُسَابَقَةَ اِلَیْهَا مِنْ حَیْثُ اَمَرْتَ، وَ الْمُشَاحَّةَ فِیْهَا عَلٰى مَاۤ اَرَدْتَ.

اور جو باتیں تیری بارگاہ سے دور کر دیں اور میرے اور تیرے ہاں کے حظ و نصیب کے درمیان حائل اور تیرے ہاں کے مقصد و مراد سے مانع ہو جائیں ان سے محفوظ رکھ، اور نیکیوں کی راہ پیمائی اور ان کی طرف سبقت، جس طرح تو نے حکم دیا ہے اور ان کی بڑھ چڑھ کر خواہش جیسا کہ تو نے چاہا ہے، میرے لئے سہل و آسان کر۔

وَ لَا تَمْحَقْنِیْ فِیْمَنْ تَمْحَقُ مِنَ الْمُسْتَخِفِّیْنَ بِمَاۤ اَوْعَدْتَّ، وَ لَا تُهْلِكْنِیْ مَعَ مَنْ تُهْلِكُ مِنَ الْمُتَعَرِّضِیْنَ لِمَقْتِكَ، وَ لَا تُتَبِّرْنِیْ فِیْمَنْ تُتَبِّرُ مِنَ الْمُنْحَرِفِیْنَ عَنْ سُبُلِكَ،‏ وَ نَجِّنِیْ مِنْ غَمَرَاتِ الْفِتْنَةِ،وَ خَلِّصْنِیْ مِنْ لَّهَوَاتِ الْبَلْوٰى، وَ اَجِرْنِیْ مِنْ اَخْذِ الْاِمْلَآءِ، وَ حُلْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ عَدُوٍّ یُّضِلُّنِیْ، وَ هَوًى یُّوْبِقُنِیْ، وَ مَنْقَصَةٍ تَرْهَقُنِیْ.

اور اپنے عذاب و وعید کو سبک سمجھنے والوں کے ساتھ کہ جنہیں تو تباہ کرے گا مجھے تباہ نہ کرنا، اور جنہیں دشمنی پر آمادہ ہونے کی وجہ سے ہلاک کرے گا ان کے ساتھ مجھے ہلاک نہ کرنا، اور اپنی سیدھی راہوں سے انحراف کرنے والوں کے زمرہ میں کہ جنہیں تو برباد کرے گا مجھے برباد نہ کرنا، اور فتنہ و فساد کے بھنور سے مجھے نجات دے، اور بلا کے منہ سے چھڑا لے، اور زمانۂ مہلت (کی بداعمالیوں) پر گرفت سے پناہ دے، اور اس دشمن کے درمیان جو مجھے بہکائے، اور اس خواہش نفس کے درمیان جو مجھے تباہ و برباد کرے، اور اس نقص و عیب کے درمیان جو مجھے گھیر لے، حائل ہو جا۔

وَ لَا تُعْرِضْ عَنِّیْۤ اِعْرَاضَ مَنْ لَّا تَرْضٰى عَنْهُ بَعْدَ غَضَبِكَ، وَ لَا تُؤْیِسْنِیْ مِنَ الْاَمَلِ فِیْكَ،فَیَغْلِبَ عَلَیَّ الْقُنُوْطُ مِنْ رَّحْمَتِكَ، وَ لَا تَمْنَحْنِیْ بِمَا لَا طَاقَةَ لِیْ بِهٖ، فَتَبْهَظَنِیْ مِمَّا تُحَمِّلُنِیْهِ مِنْ فَضْلِ مَحَبَّتِكَ، وَ لَا تُرْسِلْنِیْ مِنْ یَدِكَ اِرْسَالَ مَنْ لَّا خَیْرَ فِیْهِ، وَ لَا حَاجَةَ بِكَ اِلَیْهِ، وَ لَاۤ اِنَابَةَ لَهٗ، وَ لَا تَرْمِ بِیْ رَمْیَ مَنْ سَقَطَ مِنْ عَیْنِ رِعَایَتِكَ، وَ مَنِ اشْتَمَلَ عَلَیْهِ الْخِزْیُ مِنْ عِنْدِكَ، بَلْ خُذْ بِیَدِیْ مِنْ سَقْطَةِ الْمُتَرَدِّیْنَ، وَ وَهْلَةِ الْمُتَعَسِّفِیْنَ، وَ زَلَّةِ الْمَغْرُوْرِیْنَ، وَ وَرْطَةِ الْهَالِكِیْنَ.

اور جیسے اس شخص سے کہ جس پر غضب ناک ہونے کے بعد تو راضی نہ ہو رخ پھیر لیتا ہے اسی طرح مجھ سے رخ نہ پھیر، اور جو امیدیں تیرے دامن سے وابستہ کئے ہوئے ہوں ان میں مجھے بے آس نہ کر کہ تیری رحمت سے یاس و ناامیدی مجھ پر غالب آجائے، اور مجھے اتنی نعمتیں بھی نہ بخش کہ جن کے اٹھانے کی میں طاقت نہیں رکھتا کہ تو فراوانی محبت سے مجھ پر وہ بار لاد دے جو مجھے گرانبار کر دے، اور مجھے اس طرح اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑ دے جس طرح اسے چھوڑ دیتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہ ہو، اور نہ تجھے اس سے کوئی مطلب ہو اور نہ اس کیلئے توبہ و بازگشت ہو اور مجھے اس طرح نہ پھینک دے جس طرح اسے پھینک دیتا ہے جو تیری نظر توجہ سے گر چکا ہو اور تیری طرف سے ذلّت و رسوائی اس پر چھائی ہوئی ہو، بلکہ گِرنے والوں کے گرنے سے اور کجرؤوں کے خوف و ہراس سے اور فریب خوردہ لوگوں کے لغزش کھانے سے اور ہلاک ہونے والوں کے ورطہ ہلاکت میں گرنے سے میرا ہاتھ تھام لے۔

وَ عَافِنِیْ مِمَّا ابْتَلَیْتَ بِهٖ طَبَقَاتِ عَبِیْدِكَ وَ اِمَآئِكَ، وَ بَلِّغْنِیْ مَبَالِغَ مَنْ عُنِیْتَ بِهٖ، وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ، وَ رَضِیْتَ عَنْهُ، فَاَعَشْتَهٗ حَمِیْدًا، وَ تَوَفَّیْتَهٗ سَعِیْدًا، وَ طَوِّقْنِی طَوْقَ الْاِقْلَاعِ عَمَّا یُحْبِطُ الْحَسَنَاتِ، وَ یَذْهَبُ بِالْبَرَكَاتِ، وَ اَشْعِرْ قَلْبِیَ الِازْدِجَارَ عَنْ قَبَآئِحِ السَّیِّئَاتِ، وَ فَوَاضِحِ الْحَوْبَاتِ، وَ لَا تَشْغَلْنِیْ بِمَا لَاۤ اُدْرِكُهٗۤ اِلَّا بِكَ عَمَّا لَا یُرْضِیْكَ عَنِّیْ غَیْرُهٗ، وَ انْزِعْ مِنْ قَلْبِیْ حُبَّ دُنْیَا دَنِیَّةٍ تَنْهٰى عَمَّا عِنْدَكَ، وَ تَصُدُّ عَنِ ابْتِغَآءِ الْوَسِیْلَةِ اِلَیْكَ، وَ تُذْهِلُ عَنِ التَّقَرُّبِ مِنْكَ، وَ زَیِّنْ لِّیَ التَّفَرُّدَ بِمُنَاجَاتِكَ بِاللَّیْلِ وَ النَّهَارِ، وَ هَبْ لِیْ عِصْمَةً تُدْنِیْنِیْ مِنْ خَشْیَتِكَ، وَ تَقْطَعُنِیْ عَنْ رُّكُوْبِ مَحَارِمِكَ، وَ تَفُكَّنِیْ مِنْ اَسْرِ الْعَظَآئِمِ.

اور اپنے بندوں اور کنیزوں کے مختلف طبقوں کو جن چیزوں میں مبتلا کیا ہے ان سے مجھے عافیت و سلامتی بخش، اور جنہیں تو نے مورد عنایت قرار دیا، جنہیں نعمتیں عطا کیں، جن سے راضی و خوشنود ہوا، جنہیں قابل ستائش زندگی بخشی اور سعادت و کامرانی کے ساتھ موت دی، ان کے مراتب و درجات پر مجھے فائز کر، اور وہ چیزیں جو نیکیوں کو محو اور برکتوں کو زائل کر دیں ان سے کنارہ کشی اس طرح میرے لئے لازم کر دے جس طرح گردن میں پڑا ہوا طوق، اور برے گناہوں اور رسوا کرنے والی معصیتوں سے علیحدگی و نفرت کو میرے دل کیلئے اس طرح ضروری قرار دے جس طرح بدن سے چمٹا ہوا لباس، اور مجھے دنیا میں مصروف کر کے کہ جسے تیری مدد کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا ان اعمال سے کہ جن کے علاوہ تجھے کوئی اور چیز مجھ سے خوش نہیں کر سکتی، روک نہ دے، اور اس پست دنیا کی محبت کہ جو تیرے ہاں کی سعادت ابدی کی طرف متوجہ ہونے سے مانع اور تیری طرف وسیلہ طلب کرنے سے سد راہ اور تیرا تقرب حاصل کرنے سے غافل کرنے والی ہے، میرے دل سے نکال دے، اور میرے لئے شب و روز تیری مناجات کیلئے تنہائی کو خوش نما بنا دے، اور مجھے وہ ملکہ عصمت عطا فرما جو مجھے تیرے خوف سے قریب، ارتکاب محرمات سے الگ اور کبیرہ گناہوں کے بندھنوں سے رہا کر دے۔

وَ هَبْ لِیَ التَّطْهِیْرَ مِنْ دَنَسِ الْعِصْیَانِ، وَ اَذْهِبْ عَنِّیْ دَرَنَ الْخَطَایَا، وَ سَرْبِلْنِیْ بِسِرْبَالِ عَافِیَتِكَ، وَ رَدِّنِیْ رِدَآءَ مُعَافَاتِكَ، وَ جَلِّلْنِیْ سَوَابِغَ نَعْمَآئِكَ، وَ ظَاهِرْ لَدَیَّ فَضْلَكَ وَ طَوْلَكَ،‏ وَ اَیِّدْنِیْ بِتَوْفِیْقِكَ وَ تَسْدِیْدِكَ، وَ اَعِنِّیْ عَلٰى صَالِحِ النِّیَّةِ، وَ مَرْضِیِّ الْقَوْلِ، وَ مُسْتَحْسَنِ الْعَمَلِ، وَ لَا تَكِلْنِیْۤ اِلٰى حَوْلِیْ وَ قُوَّتِیْ دُوْنَ حَوْلِكَ وَ قُوَّتِكَ.

اور مجھے گناہوں کی آلودگی سے پاکیزگی عطا فرما، اور معصیت کی کثافتوں کو مجھ سے دور کر دے، اور اپنی عافیت کا جامہ مجھے پہنا دے، اور اپنی سلامتی کی چادر اوڑھا دے، اور اپنی وسیع نعمتوں سے مجھے ڈھانپ لے، اور میرے لئے اپنے عطایا و انعامات کا سلسلہ پیہم جاری رکھ، اور اپنی توفیق و راہ حق کی راہ نمائی سے مجھے تقویت دے، اور پاکیزہ نیت، پسندیدہ گفتار اور شائستہ کردار کے سلسلہ میں میری مدد فرما، اور اپنی قوت و طاقت کے بجائے مجھے میری قوت و طاقت کے حوالے نہ کر۔

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ تَبْعَثُنِیْ لِلِقَآئِكَ، وَ لَا تَفْضَحْنِیْ بَیْنَ یَدَیْ اَوْلِیَآئِكَ، وَ لَا تُنْسِنِیْ ذِكْرَكَ، وَ لَا تُذْهِبْ عَنِّیْ شُكْرَكَ، بَلْ اَلْزِمْنِیْهِ فِیْۤ اَحْوَالِ السَّهْوِ عِنْدَ غَفَلَاتِ الْجَاهِلِیْنَ لِاٰلَآئِكَ، وَ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اُثْنِیَ بِمَاۤ اَوْلَیْتَنِیْهِ، وَ اَعْتَرِفَ بِمَاۤ اَسْدَیْتَهٗ اِلَیَّ.

اور جس دن مجھے اپنی ملاقات کیلئے اٹھائے مجھے ذلیل و خوار اور اپنے دوستوں کے سامنے رسوا نہ کرنا، اور اپنی یاد میرے دل سے فراموش نہ ہونے دے، اور اپنا شکر و سپاس مجھ سے زائل نہ کر، بلکہ جب تیری نعمتوں سے بے خبر، سہو و غفلت کے عالم میں ہوں میرے لئے ادائے شکر لازم قرار دے، اور میرے دل میں یہ بات ڈال دے کہ جو نعمتیں تو نے بخشی ہیں ان پر حمد و توصیف، اور جو احسانات مجھ پر کئے ہیں ان کا اعتراف کروں۔

وَ اجْعَلْ رَغْبَتِیْۤ اِلَیْكَ فَوْقَ رَغْبَةِ الرَّاغِـبِیْنَ، وَ حَمْدِیْۤ اِیَّاكَ فَوْقَ حَمْدِ الْحَامِدِیْنَ، وَ لَا تَخْذُلْنِیْ عِنْدَ فَاقَتِیْۤ اِلَیْكَ، وَ لَا تُهْلِكْنِیْ بِمَاۤ اَسْدَیْتُهٗۤ اِلَیْكَ، وَ لَا تَجْبَهْنِیْ بِمَا جَبَهْتَ بِهِ الْمُعَانِدِیْنَ لَكَ.

اور اپنی طرف میری توجہ کو تمام توجہ کرنے والوں سے بالاتر، اور میری حمد سرائی کو تمام حمد کرنے والوں سے بلند تر قرار دے، اور جب مجھے تیری احتیاج ہو تو مجھے اپنی نصرت سے محروم نہ کرنا، اور جن اعمال کو تیری بارگاہ میں پیش کیا ہے ان کو میرے لئے وجہ ہلاکت نہ قرار دینا، اور جس عمل و کردار کے پیش نظر تو نے اپنے نافرمانوں کو دھتکارا ہے یوں مجھے اپنی بارگاہ سے دھتکار نہ دینا۔

فَاِنِّیْ لَكَ مُسَلِّمٌ، اَعْلَمُ اَنَّ الْحُجَّةَ لَكَ، وَ اَنَّكَ اَوْلٰى بِالْفَضْلِ، وَ اَعْوَدُ بِالْاِحْسَانِ، وَ اَهْلُ التَّقْوٰى‏، وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ، وَ اَنَّكَ بِاَنْ تَعْفُوَ اَوْلٰى مِنْكَ بِاَنْ تُعَاقِبَ، وَ اَنَّكَ بِاَنْ تَسْتُرَ اَقْرَبُ مِنْكَ اِلٰۤى اَنْ تَشْهَرَ.

اس لئے کہ میں تیرا مطیع و فرمانبردارہوں، اور یہ جانتا ہوں کہ حجت و برہان تیرے ہی لئے ہے، اور تو فضل و بخشش کا زیادہ سزا وار اور لطف و احسان کے ساتھ فائدہ رساں اور اس لائق ہے کہ تجھ سے ڈرا جائے، اور اس کا اہل ہے کہ مغفرت سے کام لے، اور اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ سزا دینے کے بجائے معاف کر دے، اور تشہیر کرنے کے بجائے پردہ پوشی تیری روش سے قریب تر ہے۔

فَاَحْیِنِیْ حَیَاةً طَیِّبَةً تَنْتَظِمُ بِمَاۤ اُرِیْدُ، وَ تَبْلُغُ مَاۤ اُحِبُّ مِنْ حَیْثُ لَا اٰتِیْ مَا تَكْرَهٗ، وَ لَاۤ اَرْتَكِبُ مَا نَهَیْتَ عَنْهُ، وَ اَمِتْنِیْ مِیتَةَ مَنْ یَّسْعٰى نُوْرُهٗ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ عَنْ یَّمِیْنِهٖ.

تو پھر مجھے ایسی پاکیزہ زندگی دے جو میرے حسب دلخواہ امور پر مشتمل اور میری دل پسند چیزوں پر منتہی ہو، اس طرح کہ جس کام کو تو ناپسند کرے اسے بجا نہ لاؤں، اور جس سے منع کرے اس کا ارتکاب نہ کروں، اور مجھے اس شخص کی سی موت دے جس کا نور اس کے آگے اور اس کے داہنی طرف چلتا ہو۔

وَ ذَلِّلْنِیْ بَیْنَ یَدَیْكَ، وَ اَعِزَّنِیْ عِنْدَ خَلْقِكَ، وَ ضَعْنِیْۤ اِذَا خَلَوْتُ بِكَ، وَ ارْفَعْنِیْ بَیْنَ عِبَادِكَ، وَ اَغْنِنِیْ عَمَّنْ هُوَ غَنِیٌّ عَنِّیْ، وَ زِدْنِی اِلَیْكَ فَاقَةً وَ فَقْرًا. وَ اَعِذْنِیْ مِنْ شَمَاتَةِ الْاَعْدَآءِ، وَ مِنْ حُلُوْلِ الْبَلَآءِ، وَ مِنَ الذُّلِّ وَ الْعَنَآءِ.

اور مجھے اپنی بارگاہ میں عاجز و نگوں سار اور لوگوں کے نزدیک باوقار بنا دے، اور جب تجھ سے تخلیہ میں راز و نیاز کروں تو مجھے پست و سرافگندہ اور اپنے بندوں میں بلند مرتبہ قرار دے، اور جو مجھ سے بے نیاز ہو اس سے مجھے بے نیاز کر دے اور میرے فقر و احتیاج کو اپنی طرف بڑھا دے، اور دشمنوں کے خندۂ زیر لب، بلاؤں کے ورود اور ذلت و سختی سے پناہ دے۔

تَغَمَّدْنِیْ فِیْمَا اطَّلَعْتَ عَلَیْهِ مِنِّیْ، بِمَا یَتَغَمَّدُ بِهِ الْقَادِرُ عَلَى الْبَطْشِ لَوْ لَا حِلْمُهٗ، وَ الْاٰخِذُ عَلَى الْجَرِیْرَةِ لَوْ لَاۤ اَنَاتُهٗ، وَ اِذَاۤ اَرَدْتَّ بِقَوْمٍ فِتْنَةً اَوْ سُوْٓءًا فَنَجِّنِیْ مِنْهَا لِوَاذًا بِكَ، وَ اِذْ لَمْ تُقِمْنِیْ مَقَامَ فَضِیْحَةٍ فِیْ دُنْیَاكَ، فَلَا تُقِمْنِیْ مِثْلَهٗ فِیْۤ اٰخِرَتِكَ‏، وَ اشْفَعْ لِیْ اَوَآئِلَ مِنَنِكَ بِاَوَاخِرِهَا، وَ قَدِیْمَ فَوَآئِدِكَ بِحَوَادِثِهَا، وَ لَا تَمْدُدْ لِیْ مَدًّا یَّقْسُوْ مَعَهٗ قَلْبِیْ، وَ لَا تَقْرَعْنِیْ قَارِعَةً یَّذْهَبُ لَهَا بَهَآئِیْ، وَ لَا تَسُمْنِیْ خَسِیْسَةً یَّصْغُرُ لَهَا قَدْرِیْ، وَ لَا نَقِیْصَةً یُّجْهَلُ مِنْ اَجْلِهَا مَكَانِیْ.

اور میرے ان گناہوں کے بارے میں کہ جن پر تو مطلع ہے اس شخص کے مانند میری پردہ پوشی فرما کہ اگر اس کا حلم مانع نہ ہوتا تو وہ سخت گرفت پر قادر ہوتا، اور اگر اس کی روش میں نرمی نہ ہوتی تو وہ گناہوں پر مؤاخذہ کرتا، اور جب کسی جماعت کو تو مصیبت میں گرفتار یا بلا و نکبت سے دو چار کرنا چاہے تو در صورتیکہ میں تجھ سے پناہ طلب ہوں اس مصیبت سے نجات دے، اور جبکہ تو نے مجھے دنیا میں رسوائی کے مؤقف میں کھڑا نہیں کیا تو اسی طرح آخرت میں بھی رسوائی کے مقام پر کھڑا نہ کرنا، اور میرے لئے دنیوی نعمتوں کو اخروی نعمتوں سے اور قدیم فائدوں کو جدید فائدوں سے ملا دے، اور مجھے اتنی مہلت نہ دے کہ اس کے نتیجہ میں میرا دل سخت ہو جائے، اور ایسی مصیبت میں مبتلا نہ کر جس سے میری عزت و آبرو جاتی رہے، اور ایسی ذلّت سے دوچار نہ کر جس سے میری قدرو منزلت کم ہو جائے، اور ایسے عیب میں گرفتار نہ کر جس سے میرا مرتبہ و مقام جانا نہ جا سکے۔

وَ لَا تَرُعْنِیْ رَوْعَةً اُبْلِسُ بِهَا، وَ لَا خِیْفَةً اُوْجِسُ دُوْنَهَا، اجْعَلْ هَیْبَتِیْ فِیْ وَعِیْدِكَ، وَ حَذَرِیْ مِنْ اِعْذَارِكَ وَ اِنْذَارِكَ، وَ رَهْبَتِیْ عِنْدَ تِلَاوَةِ اٰیَاتِكَ.

اور مجھے اتنا خوف زدہ نہ کر کہ میں مایوس ہو جاؤں، اور ایسا خوف نہ دلا کہ ہراساں ہو جاؤں، میرے خوف کو اپنی وعید و سرزنش میں اور میرے اندیشہ کو تیرے عذر تمام کرنے اور ڈرانے میں منحصر کر دے، اور میرے خوف و ہراس کو آیات (قرآنی) کی تلاوت کے وقت قرار دے۔

وَ اعْمُرْ لَیْلِیْ بِاِیْقَاظِیْ فِیْهِ لِعِبَادَتِكَ، وَ تَفَرُّدِیْ بِالتَّهَجُّدِ لَكَ، وَ تَجَرُّدِیْ بِسُكُوْنِیْۤ اِلَیْكَ، وَ اِنْزَالِ حَوَآئِجِیْ بِكَ، وَ مُنَازَلَتِیْۤ اِیَّاكَ فِیْ فَكَاكِ رَقَبَتِیْ مِنْ نَّارِكَ، وَ اِجَارَتِیْ مِمَّا فِیْهِ اَهْلُهَا مِنْ عَذَابِكَ.

اور مجھے اپنی عبادت کیلئے بیدار رکھنے، خلوت و تنہائی میں دُعا و مناجات کیلئے جاگنے، سب سے الگ رہ کر تجھ سے لو لگانے، تیرے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرنے، دوزخ سے گلو خلاصی کیلئے بار بار التجا کرنے اور تیرے اس عذاب سے جس میں اہل دوزخ گرفتار ہیں پناہ مانگنے کے وسیلہ سے میری راتوں کو آباد کر۔

وَ لَا تَذَرْنِیْ فِیْ طُغْیَانِیْ عَامِهًا، وَ لَا فِیْ غَمْرَتِیْ سَاهِیًا حَتّٰى حِیْنٍ، وَ لَا تَجْعَلْنِیْ عِظَةً لِّمَنِ اتَّعَظَ، وَ لَا نَكَالًا لِّمَنِ اعْتَبَرَ، وَ لَا فِتْنَةً لِّمَنْ نَّظَرَ، وَ لَا تَمْكُرْ بِیْ فِیْمَنْ تَمْكُرُ بِهٖ، وَ لَا تَسْتَبْدِلْ بِیْ غَیْرِیْ، وَ لَا تُغَیِّرْ لِیَ اسْمًا، وَ لَا تُبَدِّلْ لِیْ جِسْمًا، وَ لَا تَتَّخِذْنِیْ هُزُوًا لِّخَلْقِكَ، وَ لَا سُخْرِیًّا لَّكَ، وَ لَا تَبَعًاۤ اِلَّا لِمَرْضَاتِكَ، وَ لَا مُمْتَهَنًاۤ اِلَّا بِالِانْتِقَامِ لَكَ.

اور مجھے سرکشی میں سرگردان چھوڑ نہ دے، اور نہ غفلت میں ایک خاص وقت تک غافل و بے خبر پڑا رہنے دے، اور مجھے نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے نصیحت، عبرت حاصل کرنے والوں کیلئے عبرت اور دیکھنے والوں کیلئے فتنہ و گمراہی کا سبب نہ قرار دے، اور مجھے ان لوگوں میں جن سے تو (ان کے مکر کی پاداش میں) مکر کرے گا شمار نہ کر، اور (انعام و بخشش کیلئے) میرے عوض دوسرے کو انتخاب نہ کر، میرے نام میں تغیر اور جسم میں تبدیلی نہ فرما، اور مجھے مخلوقات کیلئے مضحکہ اور اپنی بارگاہ میں لائق استہزا نہ قرار دے، مجھے صرف ان چیزوں کا پابند بنا جن سے تیری رضا مندی وابستہ ہے، اور صرف اس زحمت سے دو چار کر جو (تیرے دشمنوں سے) انتقام لینے کے سلسلہ میں ہو۔

وَ اَوْجِدْنِیْ بَرْدَ عَفْوِكَ، وَ حَلَاوَةَ رَحْمَتِكَ، وَ رَوْحِكَ وَ رَیْحَانِكَ، وَ جَنَّةِ نَعِیْمِكَ، وَ اَذِقْنِیْ طَعْمَ الْفَرَاغِ لِمَا تُحِبُّ بِسَعَةٍ مِّنْ سَعَتِكَ، وَ الِاجْتِهَادِ فِیْمَا یُزْلِفُ لَدَیْكَ وَ عِنْدَكَ، وَ اَتْحِفْنِیْ بِتُحْفَةٍ مِّنْ تُحَفَاتِكَ.

اور اپنے عفو و درگزر کی لذت اور رحمت، راحت و آسائش گل و ریحان اور جنت نعیم کی شیرینی سے آشنا کر، اور اپنی وسعت و تونگری کی بدولت ایسی فراغت سے روشناس کر جس میں تیرے پسندیدہ کاموں کو بجا لا سکوں، اور ایسی سعی و کوشش کی توفیق دے جو تیری بارگاہ میں تقرب کا باعث ہو، اور اپنے تحفوں میں سے مجھے نت نیا تحفہ دے۔

وَ اجْعَلْ تِجَارَتِیْ رَابِحَةً، وَ كَرَّتِیْ غَیْرَ خَاسِرَةٍ، وَ اَخِفْنِیْ مَقَامَكَ، وَ شَوِّقْنِیْ لِقَآءَكَ، وَ تُبْ عَلَیَّ تَوْبَةً نَّصُوْحًا، لَا تُبْقِ مَعَهَا ذُنُوْبًا صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً، وَ لَا تَذَرْ مَعَهَا عَلَانِیَةً وَّ لَا سَرِیْرَةً.

اور میری اخروی تجارت کو نفع بخش اور میری بازگشت کو بے ضرر قرار دے، اور مجھے اپنے مقام و موقف سے ڈرا اور اپنی ملاقات کا مشتاق بنا، اور ایسی سچی توبہ کی توفیق عطا فرما کہ جس کے ساتھ میرے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو باقی نہ رکھے، اور کھلی اور ڈھکی معصیتوں کو محو کر دے۔

وَ انْزِعِ الْغِلَّ مِنْ صَدْرِی لِلْمُؤْمِنِیْنَ، وَ اعْطِفْ بِقَلْبِیْ عَلَى الْخَاشِعِیْنَ، وَ كُنْ لِّیْ كَمَا تَكُوْنُ لِلصَّالِحِیْنَ، وَ حَلِّنِیْ حِلْیَةَ الْمُتَّقِیْنَ، وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسانَ صِدْقٍ فِی الْغَابِرِیْنَ، وَ ذِكْرًا نَّامِیًا فِی الْاٰخِرِیْنَ، وَ وَافِ بِیْ عَرْصَةَ الْاَوَّلِیْنَ، وَ تَمِّمْ سُبُوْغَ نِعْمَتِكَ عَلَیَّ، وَ ظَاهِرْ كَرَامَاتِهَا لَدَیَّ، وَ امْلَاْ مِنْ فَوَآئِدِكَ یَدِیْ.

اور اہل ایمان کی طرف سے میرے دل سے کینہ و بغض کو نکال دے، اور انکسار و فروتنی کرنے والوں پر میرے دل کو مہربان بنا دے، اور میرے لئے تو ایسا ہو جا جیسا نیکو کاروں کیلئے ہے، اور پرہیزگاروں کے زیور سے مجھے آراستہ کر دے، اور آیندہ آنے والوں میں میرا ذکر خیر اور بعد میں آنے والی نسلوں میں میرا ذکر روز افزوں برقرار رکھ، اور سابقون الاولون کے محل و مقام میں مجھے پہنچا دے، اور فراخی نعمت کو مجھ پر تمام کر، اور اس کی منفعتوں کا سلسلہ پہیم جاری رکھ، اپنی نعمتوں سے میرے ہاتھوں کو بھر دے اور اپنی گراں قدر بخششوں کو میری طرف بڑھا دے۔

وَ سُقْ كَرَآئِمَ مَوَاهِبِكَ اِلَیَّ، وَ جَاوِرْ بِیَ الْاَطْیَبِیْنَ مِنْ اَوْلِیَآئِكَ فِی الْجِنَانِ الَّتِیْ زَیَّنْتَهَا لِاَصْفِیَآئِكَ، وَ جَلِّلْنِیْ شَرَآئِفَ نِحَلِكَ فِی الْمَقَامَاتِ الْمُعَدَّةِ لِاَحِبَّآئِكَ، وَ اجْعَلْ لِّیْ عِنْدَكَ مَقِیْلًا اٰوِیْۤ اِلَیْهِ مُطْمَئِنًّا، وَ مَثَابَةً اَتَبَوَّؤُهَا، وَ اَقَرُّ عَیْنًا.

اور جنت میں جسے تو نے اپنے برگزیدہ بندوں کیلئے سجایا ہے مجھے اپنے پاکیزہ دوستوں کا ہمسایہ قرار دے، اور ان جگہوں میں جنہیں اپنے دوستداروں کیلئے مہیا کیا ہے مجھے عمدہ و نفیس عطیوں کے خلعت اوڑھا دے،اور میرے لئے وہ آرامگاہ کہ جہاں میں اطمینان سے بے کھٹکے رہوں اور وہ منزل کہ جہاں میں ٹھہروں اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کروں، اپنے نزدیک قرار دے

وَ لَا تُقَایِسْنِیْ بِعَظِیْمَاتِ الْجَرَآئِرِ، وَ لَا تُهْلِكْنِیْ ﴿یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآىِٕرُۙ۝﴾، وَ اَزِلْ عَنِّیْ كُلَّ شَكٍّ وَّ شُبْهَةٍ، وَ اجْعَلْ لِّیْ فِی الْحَقِّ طَرِیْقًا مِّنْ كُلِّ رَحْمَةٍ، وَ اَجْزِلْ لِّیْ قِسَمَ الْمَوَاهِبِ مِنْ نَّوَالِكَ، وَ وَفِّرْ عَلَیَّ حُظُوْظَ الْاِحْسَانِ مِنْ اِفْضَالِكَ.

اور مجھے میرے عظیم گناہوں کے لحاظ سے سزا نہ دینا اور جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے مجھے ہلاک نہ کرنا، ہر شک و شبہ کو مجھ سے دور کر دے، اور میرے لئے ہر سمت سے حق تک پہنچنے کی راہ پیدا کر دے، اور اپنی عطا و بخشش کے حصے میرے لئے زیادہ کر دے، اور اپنے فضل سے نیکی و احسان سے حظ فراواں عطا کر۔

وَ اجْعَلْ قَلْبِیْ وَاثِقًا بِمَا عِنْدَكَ، وَ هَمِّیْ مُسْتَفْرَغًا لِّمَا هُوَ لَكَ، وَ اسْتَعْمِلْنِیْ بِمَا تَسْتَعْمِلُ بِهٖ خَالِصَتَكَ، وَ اَشْرِبْ قَلْبِیْ عِنْدَ ذُهُوْلِ الْعُقُوْلِ طَاعَتَكَ، وَ اجْمَعْ لِیَ الْغِنٰى وَ الْعَفَافَ، وَ الدَّعَةَ وَ الْمُعَافَاةَ، وَ الصِّحَّةَ وَ السَّعَةَ، وَ الطُّمَاْنِیْنَةَ وَ الْعَافِیَةَ.

اور اپنے ہاں کی چیزوں پر میرا دل مطمئن اور اپنے کاموں کیلئے میری فکر کو یک سو کر دے، اور مجھ سے وہی کام لے جو اپنے مخصوص بندوں سے لیتا ہے، اور جب عقلیں غفلت میں پڑ جائیں اس وقت میرے دل میں اطاعت کا ولولہ سمو دے، اور میرے لئے تو نگری، پاکدامنی، آسائش، سلامتی، تندرستی، فراخی، اطمینان اور عافیت کو جمع کر دے۔

وَ لَا تُحْبِطْ حَسَنَاتِیْ بِمَا یَشُوْبُهَا مِنْ مَّعْصِیَتِكَ، وَ لَا خَلَوَاتِیْ بِمَا یَعْرِضُ لِیْ مِنْ نَّزَغَاتِ فِتْنَتِكَ، وَ صُنْ وَّجْهِیْ عَنِ الطَّلَبِ اِلٰۤى اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ، وَ ذُبَّنِیْ عَنِ الْتِمَاسِ مَا عِنْدَ الْفَاسِقِیْنَ، وَ لَا تَجْعَلْنِیْ لِلظّٰلِمِیْنَ ظَهِیْرًا، وَ لَا لَهُمْ عَلٰى مَحْوِ كِتَابِكَ یَدًا وَّ نَصِیْرًا، وَ حُطْنِیْ مِنْ حَیْثُ لَاۤ اَعْلَمُ حِیَاطَةً تَقِیْنِیْ بِهَا.

اور میری نیکیوں کو گناہوں کی آمیزش کی وجہ سے اور میری تنہائیوں کو ان مفسدوں کے باعث جو از راہ امتحان پیش آتے ہیں تباہ نہ کر، اور اہل عالم میں سے کسی ایک کے آگے ہاتھ پھیلانے سے میری عزت و آبرو کو بچائے رکھ، اور ان چیزوں کی طلب و خواہش سے جو بدکرداروں کے پاس ہیں مجھے روک دے، اور مجھے ظالموں کا پشت پناہ نہ بنا، اور نہ (احکام) کتاب کے محو کرنے پر ان کا ناصر و مددگار قرار دے، اور میری اس طرح نگہداشت کر کہ مجھے خبر بھی نہ ہونے پائے، ایسی نگہداشت کہ جس کے ذریعہ تو مجھے (ہلاکت و تباہی ) سے بچالے جائے۔

وَ افْتَحْ لِیْۤ اَبْوَابَ تَوْبَتِكَ، وَ رَحْمَتِكَ وَ رَاْفَتِكَ، وَ رِزْقِكَ الْوَاسِعِ، اِنِّیْۤ اِلَیْكَ مِنَ الرَّاغِـبِیْنَ، وَ اَتْمِمْ لِیْۤ اِنْعَامَكَ، اِنَّكَ خَیْرُ الْمُنْعِمِیْنَ، وَ اجْعَلْ بَاقِیَ عُمُرِیْ فِی الْحَجِّ وَ الْعُمْرَةِ ابْتِغَآءَ وَجْهِكَ۔

اور میرے لئے توبہ و رحمت، لطف و رأفت اور کشادہ روزی کے دروازے کھول دے، اس لئے کہ میں تیری جانب رغبت و خواہش کرنے والوں میں سے ہوں، اور میرے لئے اپنی نعمتوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا دے، اس لئے کہ تو انعام و بخشش کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے، اور میری بقیہ عمر کو حج و عمرہ اور اپنی رضا جوئی کیلئے قرار دے۔

یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ، وَ صَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاهِرِیْنَ، وَ السَّلَامُ عَلَیْهِ وَ عَلَیْهِمْ اَبَدَ الْاٰبِدِیْنَ.

اے تمام جہانوں کے پالنے والے! رحمت نازل کرے اللہ محمدﷺ اور ان کی پاک و پاکیزہ آلؑ پر اور ان پر، اور ان کی اولاد پر ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام ہو۔

–٭٭–

یہ دُعا ’’دُعائے عرفہ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ ’’عرفہ‘‘ کے معنی میں فی الجملہ اختلاف ہے:

چنانچہ بعض کے نزدیک ’’عرفہ‘‘، عرفات ہی کا دوسرا نام ہے جو مکہ معظمہ سے ۱۲ میل کے فاصلہ پر ایک وسیع میدان ہے جہاں حجاج نہم ذی الحجہ کو (ظہر سے) غروب آفتاب تک وقوف کرتے ہیں۔ گویا اس میدان کا ہر ٹکڑا عرفہ ہے اور ان ٹکڑوں کا مجموعہ ’’عرفات‘‘ ہے۔ اسے ’’عرفات‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہاں ملک ملک کے باشندے جمع ہوتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ یا اس لئے کہ یہ ’’عرف الدیک‘‘ (مرغ کی کلغی) سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ مرغ کی کلغی بلند اور نمایاں ہوتی ہے، اسی طرح عرفات بھی مکہ کی سرزمین سے کچھ بلندی پر واقع ہوا ہے۔

اور بعض کے نزدیک ’’عرفہ‘‘ دن کا نام اور ’’عرفات‘‘ مقام کا نام ہے۔ چنانچہ طبرسی رحمہ اللہ نے مجمع البیان میں تحریر کیا ہے:

وَ عَرَفَاتٌ اسْمٌ لِّلْبُقْعَةِِ الْمَعْرُوْفَةِ يَجِبُ الْوُقُوْفُ بِهَا فِی الْحَجِّ وَ يَوْمُ عَرَفَةَ يَوْمُ الْوُقُوْفِ بِهَا.

’’عرفات‘‘ اس مشہور جگہ کا نام ہے جہاں حج کے موقع پر وقوف ضروری ہے اور اس روز وقوف کو ’’روز عرفہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ [۱]

فیروز آبادی نے قاموس میں تحریر کیا ہے:

وَ يَوْمُ عَرَفَةَ: التَّاسِعُ مِنْ ذِی الْحِجَّةِ، وَ عَرَفَاتٌ: مَوْقِفُ الْحَاجِِّ ذٰلِكَ الْيَوْمَ عَلَى اثْنَيْ عَشَرَ مِيْلاً مِّنْ مَّكَّةَ.

نہم ذی الحجہ روز عرفہ ہے اور مکہ سے ۱۲ میل کے فاصلہ پر وہ موقف جہاں اس دن وقوف کیا جاتا ہے عرفات ہے۔ [۲]

اس قول کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو ’’عرفہ‘‘ کی وجہ تسمیہ کے سلسلہ میں ابن عباس سے منقول ہے کہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذی الحجہ کی آٹھویں شب کو خواب دیکھا کہ وہ اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں "فَاَصْبَحَ يُرَوِّيْ يَوْمَهٗ اَجْمَعَ اَیْ يَتَفَكَّرُ اَ هُوَ اَمْرٌ مِّنَ اللّهِ اَمْ لَا؟ فَسُمِّیَ بِذٰلِكَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ” : جب صبح کو بیدار ہوئے تو تمام دن اس پر غور کرتے رہے کہ یہ حکم الٰہی ہے یا نہیں؟ اس سوچ بچار کی وجہ سے آٹھویں ذی الحجہ کا نام ’’یوم ترویہ‘‘ ہو گیا (اور ترویہ کے معنی سوچ بچار اور غور و فکر کے ہوتے ہیں)۔ "ثُمَّ رَاٰى فِی اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَمَّا اَصْبَحَ عَرَفَ اَنَّهٗ مِنَ اللّهِ فَسُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ” : دوسری رات کو پھر یہی خواب دیکھا۔ جب صبح ہوئی تو پوری طرح جان لیا کہ حکم خدا یہی ہے۔ اس عرفان کی وجہ سے نویں ذی الحجہ کا نام ’’روز عرفہ ہو گیا‘‘۔[۳]

’’روز عرفہ‘‘ وہ مبارک و مسعود دن ہے جس میں خداوند عالم کی طرف رجوع ہوا جائے تو وہ گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

مَنْ لَّمْ يُغْفَرْ لَهٗ فِیْ شَهْرِ رَمَضَانَ لَمْ يُغْفَرْ لَهٗۤ اِلٰى قَابِلٍ اِلَّاۤ اَنْ يَّشْهَدَ عَرَفَةَ.

جس شخص کے گناہ ماہ رمضان میں بخشے نہیں جاتے اس کے گناہ آیندہ ماہ رمضان تک نہیں بخشے جائیں گے، مگر یہ کہ وہ روزِ عرفہ کا شرف حاصل کرے۔ [۴]

اسی دن مسلمان اطراف و اکناف عالم سے سمٹ کر مکہ معظمہ میں جمع ہوتے ہیں اور فریضہ حج بجا لاتے ہیں۔

حج کی تین قسمیں ہیں: ،،حج افراد‘‘، ’’حج قران‘‘ اور ’’حج تمتع‘‘۔

’’حج اِفراد‘‘ اور ’’حج قِران‘‘ ان لوگوں کیلئے ہے جو مکہ یا مکہ کے اطراف و جوانب کے رہنے والے ہیں۔ جس میں ایک ہی دفعہ احرام باندھا جاتا ہے اور اس کے بعد عرفات میں وقوف اور مشعر الحرام میں کہ جو مکہ اور عرفات کے درمیان واقع ہے قیام اور طلوع آفتاب کے بعد منیٰ میں کہ جو مشعر الحرام اور مکہ کے درمیان واقع ہے قربانی کرنا ہوتی ہے اور سر منڈوایا جاتا ہے اور جمرہ عقبہ پر کنکریاں پھینکی جاتی ہیں، پھر مکہ میں خانہ کعبہ کا طواف ، صفا و مروہ کے درمیان سعی، طواف النساء اور پھر منیٰ میں رمی جمرات کے بعد حج تمام کیا جاتا ہے۔

اور ’’حج تمتع‘‘ ان لوگوں کیلئے ہے جو مکہ اور اطراف مکہ کے حدود کے رہنے والے نہ ہوں۔ اس میں پہلی مرتبہ عمرۂ تمتع کی نیت سے احرام باندھا جاتا ہے اور طواف کعبہ، نماز طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کے بعد بالوں اور ناخنوں کا کاٹنا ہوتا ہے اور اس کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے اور آٹھ ذی الحجہ کو حج کی نیت سے مکہ ہی میں احرام باندھا جاتا ہے اور حج کے اعمال بجا لائے جاتے ہیں۔ حج تمتع کی مشروعیت میں کسی کو کلام نہیں۔ اور جو اس کے وجوب کے قائل نہیں ہیں انہیں بھی اس کے صحیح و درست ہونے سے انکار نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن مجید اور کتب صحاح میں اس کا صراحةً ذکر ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْہَدْيِ۝۰ۚ﴾

جو شخص حج تمتع کا عمرہ بجا لائے تو جیسی قربانی میسر آئے کرے۔ [۵]

اور عمران ابن حصین سے منقول ہے کہ:

نَزَلَتْ اٰيَةُ الْمُتْعَةِ فِیْ كِتَابِ اللّٰهِ- يَعْنِىْ مُتْعَةَ الْحَجِّ – وَ اَمَرَنَا بِهَا رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ، ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ اٰيَةٌ تَنْسَخُ اٰيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُوْلُ اللّٰهِﷺ حَتّٰى مَاتَ، قَالَ رَجُلٌ بِرَاْيِهٖ بَعْدُ مَا شَآءَ.

حج تمتع کی آیت قرآن مجید میں وارد ہوئی ہے اور پیغمبر اکرم ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا تھا۔ پھر ایسی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی جو حج تمتع کو منسوخ کر دے اور نہ پیغمبرﷺ نے مرتے دم تک اس سے کبھی روکا۔ البتہ بعد میں ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔(صحيح مسلم، ج۱، ص۴۷۴)

نووی نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے کہ اس سے مراد حضرت عمر ہیں جنہوں نے بعض مصالح کی بنا پر اس سے منع کر دیا۔ اور حضرت عثمان بھی اسی منع پر کار بند رہے۔ مگر امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام حکم خدا و عمل پیغمبرؐ کے مطابق حج تمتع ہی بجا لاتے رہے اور حضرت عثمان نے روکنا چاہا تو آپؑ نے فرمایا کہ میں کسی کے کہنے پر سنت پیغمبرؐ کو چھوڑ نہیں سکتا۔ چنانچہ محمد بن اسماعیل بخاری نے تحریر کیا ہے:

قَالَ اخْتَلَفَ عَلِیٌّ وَّ عُثْمَانُ وَ هُمَا بِعُسْفَانَ فِی الْمُتْعَةِ، فَقَالَ عَلِیٌّ: مَا تُرِيْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَنْهٰى عَنْ اَمْرٍ فَعَلَهٗ رَسُوْلُ اللهِﷺ، فَقَالَ عُثْمَانُ دَعْنِیْ عَنْكَ.

(راوی کا بیان ہے کہ) حضرت علی علیہ السلام اور حضرت عثمان نے مقام عسفان میں حج تمتع کے بارے میں اختلاف کیا۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہارا مطلب کیا ہے کہ تم اس کام سے منع کرتے ہو جس کو آنحضرت ﷺ نے کیا۔ حضرت عثمان نے (لا جواب ہو کر) کہا کہ: یہ بحث جانے دیجیے۔(صحیح بخاری، پ۶، ص۸۲)

بہرحال حج ایک ایسا فریضہ ہے جس سے انسان کی زندگی پر اثر پڑتا اور اس کے افکار و اعمال میں ضبط و انضباط پیدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حج کے سلسلہ میں جو خواہشات ترک کئے جاتے ہیں اس سے صبر و تحمل اور ضبط نفس کی مشق ہوتی ہے جو برائیوں سے محفوظ رہنے کا پیش خیمہ ہے۔ اور سفر کی سختیوں اور صعوبتوں کو جھیلنے سے سستی و سہل انگاری، مستعدی و آمادگی سے بدل جاتی ہے اور دل و دماغ میں ایسے تاثرات پیدا ہوتے ہیں جو ایک طرف مبدا سے وابستہ کرتے ہیں تو دوسری طرف معاد کا تصور تازہ کرتے ہیں۔

چنانچہ جب انسان میقات پر پہنچ کر احرام باندھتا ہے اور زبان سے "لَبَّيْکَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْکَ، لَبَّيْکَ لَا شَرِيْکَ لَکَ لَبَّيْکَ۔۔۔”: (حاضر ہوں بار الہا! میں حاضر ہوں، حاضر ہوں تو لاشریک ہے میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔۔۔) [۶] کہتا ہے تو یہ تصور بھی پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح آج احرام لپیٹے گھر بار اور اہل و عیال کو چھوڑ کر اس کی آواز پر لبیک کہہ رہا ہے، اسی طرح ایک دن وہ ہو گا جب احرام کے بجائے کفن لپیٹے اس دنیا سے منہ موڑ کر داعیٔ موت کی پکار پر لبیک کہے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔

اور جب احرام باندھے ہوئے عرفات میں پہنچتا ہے تو یہ منظر دیکھنے میں آتا ہے کہ تا حد نگاہ لوگوں کا جمگھٹا جن کا پہناوا ایک، لباس ایک، وضع قطع ایک، نہ غربت و امارت کا امتیاز، نہ چھوٹے اور بڑے کا فرق، سب دست بہ دُعا۔ ہر ایک کی زبان پر توبہ و استغفار، ہر ایک اپنے گناہوں پر پشیمان اور عفو و آمرزش کا طلبگار، ہر ایک امید و بیم کے سنگھم پر ایستادہ، ہر شخص فریاد کناں، ہر شخص گھبرایا ہوا اور سہما ہوا،ایک کو دوسرے کی خبر نہیں، نفسا نفسی کا عالم، اس پر گرمی کا تڑاقہ، لوؤں کا زور، جھلسا دینے والے باد سموم کے جھونکے، نہ سر چھپانے کی جگہ نہ سایہ کرنے کی اجازت، جسے دیکھ کر حشر کا نقشہ آنکھوں کے سامنے کھنچ جاتا ہے۔

اور جب اس مرحلہ سے فارغ ہو کر مشعر الحرام کی طرف آتا ہے تو دھوپ سے سنولایا ہوا چہرہ، شاداب اور دھڑکتا ہوا دل مطمئن اس لئے کہ حرم میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی جو نجات و کامرانی کیلئے ایک نیک فال ہے۔

پھر مشعر الحرام سے منیٰ میں آتا ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تاسی میں رمی جمرات کرتا ہے، کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مقام پر شیطان پر پتھر مارے تھے۔ تو گویا وہ اپنے اس عمل سے شیطان کو اپنے سے ہنکاتا اور دور کرتا ہے۔

پھر قربانی کرتا ہے۔ یہ عمل نفس امارہ کو کچلنے اور نفسانی خواہشات کو ذبح کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

وَ اذْبَحْ حَنْجَرَةَ الْهَوٰى وَ الطَّمَعِ عِنْدَ الذَّبِيْحَةِ.

ذبح کے وقت نفسانی خواہشات اور حرص و طمع کا گلا کاٹ دو۔ [۷]

پھر خانہ کعبہ کا طواف کرتا ہے تو اس طوافِ ظاہری سے طواف باطنی کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح کہ جسم مادی گھر کا طواف کرتا ہے اور قلب و روح رب البیت کے گرد طواف کرتے ہیں۔

پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتا ہے تو گویا اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑتا اور اس کی جانب بڑھتا ہے کہ اگر پہلی مرتبہ رحم نہیں کرے گا تو دوسری مرتبہ، آخر کب تک اس کی رحمت جوش میں نہ آئے گی اور حیرانی و سراسیمگی کو اپنے دامن میں پناہ نہ دے گی۔

اور سنگ اسود کو بوسہ دیتا ہے تو گویا یہ پیمان کرتا ہے کہ اب اسی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھوں گا جسے قدرت نے نصب کیا ہو، چاہے وہ پتھر ہی کیوں نہ ہو۔

اگر حج ان احساسات کو بیدار نہ کرے تو وہ ایک بے روح عمل ہے جو انسان کے اخلاق و اعمال میں تبدیلی پیدا نہیں کر سکتا۔

[٭٭٭٭٭]

[۱]۔ مجمع البیان، ج ۲ ص ۵۲۵

[۲]۔ القاموس المحیط، ج ۱، ص ۱۰۸۰، فصل العین

[۳]۔ ریاض السالکین، ج ۲، ص ۲۷۱

[۴]۔ الکافی، ج ۴، ص ۶۶

[۵]۔ سورۃ بقرہ، آیت ۱۹۶

[۶]۔ تلبیہ کی مکمل عبارت یہ ہے: لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْك، لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ۔

[۷]۔ مصباح الشریعہ، ص ۴۹

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button