شمع زندگی

193۔ سچی راہنمائی

مَنْ حَذَّرَكَ كَمَنْ بَشَّرَكَ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۵۹)
جس نے تمہیں برائیوں سے ڈرایا گویا اس نے تمہیں اچھائی کی خوشخبری سنائی۔

انسان زندگی کے کئی کاموں میں دوسروں سے مدد لیتا ہے، اس طرح زندگی میں کئی بار دوسرے شخص کی طرف سے صحیح و غلط کی نشاندہی کی ضرورت پڑتی ہے۔ ماں باپ بچوں کو، استاد شاگردوں کو، راہنما عوام کو اور دوست دوست کوصحیح و غلط کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور یہ ذمہ داری نبھاہتے رہتے ہیں۔ یوں انسان دوسروں کے خبردار کرنے پر مشکلات سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

امیرالمومنینؑ یہی فرما رہے ہیں کہ جس شخص نے تمہیں خطرات سے آگاہ کیا اس نے تمھیں سرور و فرحت کی خبر سنا دی۔ یعنی تم خطرے اور نقصان سے بچ گئے جو واقعا ایک خوشخبری ہے۔ اب جس کی وجہ سے انسان خطرے سے بچے اسے اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ اسلام میں اس عمل کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عنوان سے فریضہ قرار دیا گیا ہے۔

امیرالمومنینؑ بار بار اس فریضے کی مختلف الفاظ میں اہمیت بتاتے ہیں۔خطرات سے آگاہ کرنے کا یہ عمل نصیحت بھی کہلاتا ہے، البتہ نصیحت کرنے والے کی پہچان یہ ہوگی کہ وہ تنہائی میں اور خوبصورت الفاظ میں غلطی سے آگاہ کرے گا۔ جو نصیحت کے روپ میں غلط کار ثابت کرنا چاہتا ہے وہ چوراہے پر نصیحت کرے گا اور کسی نے خوب کہا کہ آج کا سوشل میڈیا ایک چوراہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button