شمع زندگی

حکیمانہ اقوال

اِنَّ هٰذِهِ الْقُلُوبَ تَمَلُّ كَمَا تَمَلُّ الْاَبْدَانُ فَابْتَغُوْا لَهَا طَرَائِفَ الْحِكَمِ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۹۱)
یہ دل بھی اسی طرح اکتا جاتےہیں جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں لہذا ان کے لئے لطیف حکیمانہ نکات تلاش کرو۔

انسان کی ترقی و کمال میں دل کے سکون و اطمینان کو بہت دخل ہے۔ دل مطمئن ہو تو انسان مقصد کے حصول کے لئے بڑے بڑے قدم اٹھا سکتا ہے اور اعضاء و جوارح میں عمل و کوشش کا جذبہ جواں رہتا ہے۔ دل تھک جائے تو جد و جہد رُک جاتی ہے، بڑی بڑی کمپنیاں اور ادارے اپنے کارندوں کو فعال رکھنے کے لیے، دل خوش رکھنے کے مختلف پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ کھیلوں اور سیر و تفریح کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔

امیرالمومنینؑ نے انسانیت کے کمال کے سفر میں دل کی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے لطیف حکمتوں کا نسخہ تجویز فرمایاہے۔ یعنی دل کے سامنے وہ امور پیش کئے جائیں جن سے حقائق فطرت سامنے آئیں اور دل کو سکون ملے۔ آپ جہاں حکیمانہ کلمات کو بیان فرماتے ہیں وہیں کبھی مور کے پروں کے رنگوں کو تو کبھی چیونٹی کے ننھے سے جسم میں مکمل نظام حیات کا ذکر کرتے ہیں، یوں انسان کو خالق کی یاد دلاتے ہیں اور خالق خود فرماتا ہے میری یاد سے دل مطمئن ہو جاتے ہیں۔ جسم تھکے تو غذا یا کسی اور پسندیدہ چیز سے راحت مہیا کی جاتی ہے روح اکتا جائے تو فطرت کے مناظر، باغ کے مہکتے پھولوں، ان کی خوشبؤوں، پرندوں کے نغموں اور کامل انسانوں کے با کمال اقوال کو اس کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اسے سکون ملے اور کمال کا سفر جاری رہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button