مقالات

رب سے تعلق

مَنْ أَصْلَحَ سَرِيرَتَهُ أَصْلَحَ اللَّهُ عَلَانِيَتَهُ ، وَ مَنْ عَمِلَ لِدِينِهِ كَفَاهُ اللَّهُ أَمْرَ دُنْيَاهُ ، وَ مَنْ أَحْسَنَ فِيمَا بَيْنَهُ وَ بَيْنَ اللَّهِ ، أَحْسَنَ اللَّهُ مَا بَيْنَهُ وَ بَيْنَ النَّاسِ.(حکمت:۴۲۳)

ترجمہ: جو اپنے اندرونی حالات کو درست رکھتا ہے خدا اس کے ظاہر کو بھی درست کر دیتا ہے۔ اور جو دین کے لیے سرگرم عمل ہوتا ہے، اللہ اس کے دنیا کے کاموں کو پورا کر دیتا ہے اور جو اپنے اور اللہ کے درمیان خوش معاملگی رکھتا ہے۔ خدا اس کے اور بندوں کے درمیان کے معاملات ٹھیک کر دیتا ہے۔۔

ایک ضعیف وکمزور اور محتاج و مجبورانسان اُس قادر ِمطلق اور غنی و بے نیاز ذات سے کیسے تعلق رکھے؟ قرآن مجید میں ربِ کریم نے اس تعلق کی راہیں تفصیل سےبیان فرمائی ہیں اور جناب امیر المؤمنینؑ نے باربار اس کی وضاحت فرمائی،اس تعلق ورابطہ کا سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنی کمزوری کو پہچانے اور اس کے کرم کو سمجھے۔امام علیؑ حمدِ الہی انجام دیتے ہوئے اس مرحلہ کو طے کراتے ہیں ،کوئی شخص چاہتا ہے کہ اللہ کو پہچانے تاکہ اس سے تعلق قائم کر سکے تو علیؑ کی حمد الہی کی صدائیں سنے۔

پہلے خطبہ میں ارشاد فرمایا ’’تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے‘‘ فورا دوسرے جملے میں فرمایا:’’جس کی مدح و ثنا تک بولنے والے کی رسائی نہیں ہے‘‘(خطبہ:۱)

اُس کی حمد وثنا ءمیں بھی بے بسی کا اقرار خود اس سے تعلق قائم کرنے کا سبب بن جاتا ہے،پھر کریم اللہ حمد و ثناء کے طریقے بتانے کے بہانے بندے سے تعلق قائم کرتا ہے اور حمد کا پورا سورہ نازل فرما دیتا ہے۔پھر فرماتا ہے مجھ سے تعلق رکھنا چاہتا ہے تو یہ جو حمد کا میں نے طریقہ بتایا ہے اسے نماز کی صورت میں ہر روز دہراتا رہا کر میرا اور تیرا تعلق قائم رہے گا۔

مولاعلیؑ فرماتے ہیں:

دینے پر بھی تیری ہی حمد ،دے کر لے لینے پر بھی تیری حمد،صحت و شفا پر بھی تیری حمد اور مرض و ابتلا پر بھی تیری حمد۔(خطبہ:۱۵۸)

اس رب سے تعلق رکھنا بڑا آسان ہے ۔ہر کام سے پہلے اس سے پوچھ لیں کیا اس پر تو راضی ہےاگر فرمائے ہاں تو کر لیں اگر روک دے تو رک جائیں ، جو وہ فیصلہ کرے اس پر راضی رہےیہی اس سے تعلق کا راز ہے۔

امامؑ فرماتے ہیں:

رَضِينَا عَنِ اللَّهِ قَضَاءَهُ ، وَ سَلَّمْنَا لِلَّهِ أَمْرَهُ (خطبہ:۳۷)

ترجمہ: ہم اللہ کے فیصلوں پر راضی ہیں اور اس کے امر کے سامنے سرِ تسلیم خم ہیں۔

پروردگارا !ہمیں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی صداؤں پر لبیک کہنے کی توفیق دے اور اپنی ذات سے اسی وسیلہ کے ذریعہ تعلق محکم فرما۔(الہی اٰمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button