شمع زندگی

190۔ مشورہ

لَا ظَهِيرَ كَالْمُشَاوَرَةِ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۵۴)
مشورے جیسا کوئی مدد گار نہیں۔

انسانی زندگی کی ترقی و کمال کی بہت سی سیڑھیاں ہیں اُن میں ایک معاون و مدد گار سیڑھی مشورہ ہے۔ انسان ایک معاشرتی مخلوق ہے اور دوسرے افراد سے کٹ کر رہنا، یا خود کو دوسروں سے بلند تر سمجھنا اور خود پسندی کی مرض میں مبتلا ہونا اس کے کمال کے لئے رکاوٹ کا سبب ہے۔

امیرالمومنینؑ کے اس فرمان کے مطابق اگر کوئی کمال تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے دوسروں کی آراء و افکار سے استفادہ کرنا چاہیے۔ اس طرح ایک تو وہ خود کو سب کچھ اور سب سے اعلٰی سمجھنے کی غفلت سے باہر آجائے گا اور دوسرا یہ کہ مشورے سے کئی نئی راہیں اس کے لئے روشن ہوں گی اور وہ کئی خطاؤں سے محفوظ رہے گا۔ ایک آدمی جب اپنی طبیعت کے مطابق کسی کام کو انجام دینا چاہتا ہے تو اسے اس کے منفی پہلو بہت کم نظر آتے ہیں اور وہ حقیقت کے مطابق فیصلہ نہیں کر سکتا۔ یوں اسے غلطیوں اور ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ لیکن اگر ان لوگوں سے مشورہ کرے جو اس سے الگ سوچ رکھتے ہیں تو وہ حقیقت کو بہتر انداز سے سمجھ سکتا ہے۔ انسانی ترقی کے لئے امیرالمومنینؑ نے مشورے کو بار ہا مختلف انداز سے پیش فرمایا ہے، مثلاً جس سے مشورہ کیا جائے اس کی شرائط بیان کی ہیں کہ وہ عاقل، سچا، راز دار، حق گو، بہادر اور خیر خواہ ہونا چاہیے تاکہ اس کے مشورے کو اطمینان سے قبول کیا جا سکے۔ انسان دوسروں کو مشورے میں شامل کر کے اپنے اشتباہات کو کم کر سکتا ہے اور یوں مشورہ ترقی کی منزلوں کو طے کرنے میں بہترین مددگار قرار پا سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button