شمع زندگی

244۔ علم و مال میں فرق

وَالْمَالُ تَنْقُصُهُ النَّفَقَةُ، وَالْعِلْمُ يَزْكُوْ عَلَى الْاِنْفَاقِ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۱۴۷)
مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے لیکن علم صرف کرنے سے بڑھتا ہے۔

انسان کے لیے دیرپا، باعزت اور محفوظ سرمائے کا نام علم ہے۔ امیرالمؤمنینؑ نے اس فرمان میں سات طریقوں سے علم کی اہمیت بتائی ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے مگر علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ تجربات سے ثابت ہے کہ لکھنے پڑھنے سے علم اتنا نہیں بڑھتا جتنا پڑھانے سے بڑھتا ہے۔ پڑھانے سے ایک تو پڑھانے والے کا اپنا علم پختہ ہوتا ہے، اسے پڑھاتے ہوئے نئی نئی چیزیں پتا چلتی ہیں اور دوسرا جن کو سکھاتا ہے وہ شاگرد بھی اس کی وجہ سے صاحب علم ہوئے تو یہ علم بڑھ گیا۔ یوں سیکھنے سکھانے کا طریقہ علم کو بڑھاتا رہے گا شاگردوں کے شاگرد بنتے رہیں گے علم بڑھتا رہے گا۔

امیرالمؤمنینؑ نے ان دو جملوں میں علم کو تقسیم کرنے کی تشویق و رغبت دلائی اور یوں آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا دیکھو یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے، کاش اس کے اٹھانے والے مل جاتے۔ اس جملے میں علم حاصل کرنے والوں کو رغبت دلائی کہ کسی کے پاس علم پاؤ تو سیکھو۔ آج بھی اگر معلم سکھانے کو عبادت سمجھے اور سیکھنے والا سیکھنے کی طلب محسوس کرے تو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ سکھانے والا سکھانے اور شاگردوں کی پرورش کرنے کا پیاسا ہو اور سیکھنے والا ایسے معلم کا قدردان ہو، جہاں دونوں جمع ہوں گے وہ مرکز علم ہوگا۔ اب اس علم سے مراد کون سا علم ہے۔ بہت سی آراء بیان ہوئی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ علم جو انسان کو اس کی پہچان کروا دے اور اس کی ضروریات اور وظائف سے آگاہ کر دے، وہ مفید علم ہے۔ وہ علم جو خود انسان کے لیے زندگی کی راہیں روشن کرے اور دوسروں کے لیے چراغ بن جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button