شمع زندگیمیڈیا گیلری

363۔ اہل علم کی ذمہ داری

مَا اَخَذَ اللهُ عَلٰى اَهْلِ الْجَهْلِ اَنْ يَتَعَلَّمُوْا، حَتّٰى اَخَذَ عَلٰی اَهْلِ الْعِلْمِ اَنْ يُعَلِّمُوْا۔ (نہج البلاغہ حکمت ۴۷۸)
اللہ نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے سکھانے کا عہد نہیں لے لیا۔

انسان کی زندگی میں ہر شخص کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں اگر ہر کوئی اپنی ذمہ داریاں ادا کرے تو افراد کی زندگی بھی اور اقوام کی زندگیاں بھی کامیابی اور سکون سے گزریں گی۔ اکثر ناکامیوں کا سبب یہ ہوتا ہے کہ افراد اپنی ذمہ داریاں دوسروں کے کندھوں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ امیرالمؤمنینؑ نے یہاں جاننے اور نہ جاننے والوں کی ذمہ داریاں معین کی ہیں۔

فرمایا پہلی ذمہ داری عالم یا جاننے والے کی ہے کہ وہ دوسروں کو سکھائے اور پھر نہ جاننے والے کا فریضہ ہے کہ وہ سیکھے۔ یہاں علم و عالم سے مراد فقط دین کے مسائل جاننے والا نہیں بلکہ دین کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ضروریات پوری کرنے والے ہر جاننے والے کو شامل ہے۔ ڈاکٹر، معمار، کاشتکار، تاجر، سیاست دان سب کو شامل ہے۔ ہر استاد اور شاگرد کے لیے یہ کلیہ بہت واضح ہے۔ صاحب ہنر اپنے ہنر کو نعمت سمجھ کر اپنے فریضے کے طور پر دوسروں تک پہنچائے۔

بلکہ بعض بزرگان کے بقول استاد دوسروں میں علم کی پیاس اور سیکھنے کی تڑپ پیدا کرے تو یہ ایک کمال ہو گا اور اس ذمہ داری کی ادائگی ہو گی۔ پھر شاگرد پیاس محسوس کر کے ہنر مند کے پاس سیکھے تو یہ شاگرد کی ذمہ داری کی ادائگی ہو گی۔ امیرالمؤمنینؑ نہج البلاغہ میں ایک جگہ پر پیغمبر اکرمؐ کا تعارف اس طبیب کے طور پر کراتے ہیں جو اپنے طب کے اوزار اٹھائے ہوئے مریضوں کی تلاش میں ہے۔ اگر صاحبان علم و ہنر میں سکھانے کا یہ جذبہ پیدا ہو جائے اور اللہ نے سکھانے کا جو عہد ان سے لیا ہے وہ پورا کریں تو معاشرہ بدل سکتا ہے۔

ایک مقام پر امیرالمؤمنینؑ فرماتے ہیں: دین اور دنیا کی مضبوطی چار قسم کے آدمیوں کی وجہ سے ہے: عالم جو اپنے علم کو استعمال کرتا اور کام میں لاتا ہے اور جاہل جو علم حاصل کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ جب عالم اپنے علم کو استعمال میں نہیں لائے گا اور ضائع کرے گا تو جاہل اس علم کو سیکھنے میں عار محسوس کرے گا۔ یعنی ہر طرف سے ذمہ داریاں ادا ہوں گی تو زندگی کامیاب اور پر سکون ہوگی اور قوم ترقی کرے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button