شمع زندگیمیڈیا گیلری

365۔ دوستی کی حفاظت

اِذَا احْتَشَمَ الْمُؤْمِنُ اِخَاهُ، فَقَدْ فَارَقَهٗ۔(نہج البلاغہ حکمت ۴۸۰)
بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔

انسان کی زندگی ایک دوسرے کے سہارے سے آگے بڑھتی ہے۔ کسی شخص کی زندگی کی کامیابی اور سکون میں دوسرے انسانوں کا بہت اثر ہوتا ہے۔ خونی رشتے کے بعد اساتذہ اور ان کے بعد دوست زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دوستی کی اہمیت ایک اہم موضوع ہے جس پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور امیر المؤمنینؑ کے بیان بھی بار ہا اس سلسلہ میں ذکر ہو چکے ہیں اور ان کے حقوق و فرائض کی وضاحت ہو چکی ہے۔

اس فرمان میں آپؑ دوستی کی حفاظت کے لیے ایک راہ واضح فرماتے ہوئے متوجہ کرتے ہیں کہ جدائی کے اسباب کو جانو تاکہ دوستی کو بچا سکو۔ آپؑ نے دوسرے بھائی یا دوست کو غضب ناک کرنے، شرمندہ کرنے اور خود کو اس سے برتر جاننے کو جدائی کا سبب قرار دیا ہے۔ دوست ملنے کی خواہش رکھتا ہے اور انسان کہے کہ میرے پاس وقت نہیں، دوست کی ضرورت ہے اور آدمی اس سے بے اعتنائی کرے، دوست سے کوئی غلطی ہوگئی اسے بار بار وہ غلطی یاد دلا کر شرمندہ کیا جائے، دوست کسی چیز سے نفرت کرتا ہے اور وہی چیز بار بار دہرا کر اسے غصہ دلایا جائے یہ وہ سب اسباب ہیں جو کبھی نہ کبھی دوستوں میں جدائی ڈلوا دیں گے۔

امیر المؤمنینؑ اس خطرے سے متنبہ کر کے دوستی کی حفاظت کے اصول بیان فرما رہے ہیں۔ البتہ کچھ دوست حقیقی ہوتے ہیں جن سے اعتماد اور بھروسا کا برتاؤ ہونا چاہیے اور کچھ ظاہری اٹھنے بیٹھنے اور ایک ساتھ کھانا کھا لینے یا سفر کر لینے والے ہوتے ہیں جنھیں ہاتھ ملانے والے دوست کہا جا سکتا ہے، ان سے اور قسم کا برتاؤ ہوگا۔ اس لیے دوست کو پہچانیں اور جب حقیقی دوست مل جائے تو اس دوستی کو مقدس رشتہ سمجھ کر نبھانے کی کوشش کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button