مقالات

حفظ زبان نہج البلاغہ کی نظر میں

حفظ زبان

مکتب نہج البلاغہ میں حفظ زبان پہ بہت تاکید کی گئی ہے انسان کا اچھا کلام اسکی شخصیت کی نشاندہی کر تا ہے انسان کو چاہیے کہ ہر کلام سے پہلے اس بات کی طرف توجہ کر ے کہ کیا کہناچاہتاہے دوسرے الفاظ میں پہلے تولے پھر بولے یہان اس ضمن میں امام علی کی نقل کی گئی کچھ حدیثیں نہج البلاغہ سے ذکرکر تا ہوں.

الف ۔ ‘جب تک تم بات نہیں کرو گے وہ تمہارے قبضہ میں ہے اور جیسے ہی زبان پہ لائی تم اسکے قبضہ میں ہو جاؤ گے پس اپنی زبان کو اسی طرح محفوظ رکھو جس طرح سونا چاندی کو مخزن میں رکھتے ہو”(حکمت ٣٧٢)

ب۔”من علم ان کلامہ من عملہ قل کلامہ الا فیما یعینہ ”(حکمت ٣٤٢)

‘جسے معلوم ہو تا ہے کہ کلام بھی عمل کا ایک حصہ ہے وہ ضرورت سے زیادہ کلام نہیں کر تا ہے’

ج۔”رب قول انفد من صول”(حکمت٣٨٨)

”کتنے ہی قول ایسے ہیں جو زخم سے بھی زیادہ گہرے ہوتے ہیں”

د۔”اللسان سبع ان خلی عنہ عقر”(حکمت٥٧)

‘زبان ایک درندہ ہے زرہ آزاد کیا جائے کاٹ کھائے گا’

اور بھی بہت سارے کلمات حفظ زبان پہ مولائے کائینات سے وارد ہوے ہیں جنکا ذکر کرنا طوالت کا سبب بنتا ہے جی ہاں نہج البلاغہ کی روشنی میں ضرورت سے زیادہ کلام کرنے والے کو بیوقوف کہا گیا ہے اور بالکل خاموش رہنے والے کی بھی مذمت کی گئی ہے بلکہ یہاں سوچ سمجھ کے کلام کر نے کی تاکید کی گئی ہے اور زبان پہ کنٹرول کرنے اور اسے ہر کوئی بھی صحیح اور ناصحیح بات کرنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہی زبا ن فساد اورہدایت کا سبب بنتی ہے آ ج کے دور میں یہ اخلاقی صفت نایاب ہی ہو چکی ہے تبھی تو انسان ہر دم پریشان صبح سے شام تک ایک دوسرے کے مسایل الجھنے اور سلجھنے میںلگا رہتا ہے ہمیں چاہیے کہ ان اقوال کو اپنے عمل میںلائے تاکہ یہ اخلاقی صفت دوبارہ ہمیںتازہ حیات سے بہرہ مندکرسکے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button