شمع زندگی

262۔ ضد

اَللَّجَاجَةُ تَسُلُّ الرَّاْيَ۔ (نہج البلاغہ حکمت ۱۷۹)
ضد انسان کو صحیح فکر اور رائے سے روک دیتی ہے۔

انسانی زندگی کی کامیابی کے رازوں میں سے ایک اہم راز غور و فکر اور سوچ بچار ہے۔ جو چیز بھی سوچ بچار میں رکاوٹ بنتی ہے گویا زندگی کی کامیابی میں رکاوٹ ہے۔ امیرالمومنینؑ نے یہاں ضد اور ہٹ دھرمی کو صحیح فکر سے دور چلے جانے کا سبب قرار دیا ہے۔

ہٹ دھرم آدمی خود کو سب سے زیادہ سمجھدار اور اپنی رائے کو سب سے اہم سمجھتا ہے اور جہالت و نادانی اسے اجازت نہیں دیتی کہ وہ اس کے منفی و مثبت پہلوؤں پر غور کر کے کوئی صحیح نتیجہ نکالے۔ وہ بغیر دلیل کے اپنی ذات یا قوم و قبیلہ اور عزیز و اقارب کی طرف داری پر اڑ جائے گا۔

کسی ایک بات پر اڑ جانے والا آدمی نہ خود سوچتا ہے اور نہ دوسروں کی سوچ اور مشورے سے استفادہ کرتا ہے۔ ضد اسے اندھا و بہرہ کر دیتی ہے۔

نقل کرتے ہیں کہ حضرت خضرؑ و موسیؑ جب سیکھنے اور سکھانے کے لمبے سفر (کہ جس کا ذکر قرآن میں تفصیل سے پایا جاتا ہے) کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے تو حضرت موسیؑ نے درخواست کی کہ مجھے نصیحت کریں۔ ایک نصیحت یہ تھی کہ غلطی پر اصرار و ضد سے بچو۔ بعض حکیم کہتے ہیں انسان اگر کامیابی چاہتا ہے تو چار چیزوں سے دور رہے جلدبازی، سستی، ضد، بڑائی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button